Relevance of Sufism in the Post-9/11 World
Al-Risala, June 2004, pp. 32–40
By Maulana Wahiduddin Khan
خط میں کہا گیا تھا کہ مضمون میں یہ بتایا جائے کہ کیا صوفی ازم مغرب اور اسلام کے درمیان دوری کو ختم کر سکتا ہے:
اس موضوع پر مطلوب مضمون تیار کر کے انہیں ۷ جنوری ۲۰۰۴ کو بھیج دیا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ دوری نام نہاد سیاسی اسلام نے پیدا کی ہے اور صوفی اسلام بلاشبہ اس دوری کو ختم کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ صوفی ازم کو جدید تقاضوں کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اس آرٹیکل کو بی بی سی کی ویب سائٹ (bbc.co.uk) پر شائع کیا گیا۔
۸ ست سری، نئی دہلی میں ۱۵ ہزار گز کے ایریا میں جدید طرز پر ایک ہولسٹک سنٹر (Holistic Centre) بنایا گیا ہے۔ اس کے چیرمین ڈاکٹر بی کے مودی ہیں۔ اس کے افتتاح کے طور پر ۲ جنوری ۲۰۰۴ کو بڑے پیمانہ پر اس کے ہال میں ایک فنکشن کیا گیا۔ مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندہ کے طور پر بلایا گیا۔ وہاں انہوں نے مختلف مذہب کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے اسلام کے ریفرنس میں امن اور روحانیت کی اہمیت بیان کی۔ یہ کہی گئی کہ اسلام مکمل معنوں میں امن کا مذہب ہے۔ اسلام کے نام پر تشدد کرنے سے کوئی تشدد اسلامی نہیں بن جاتا۔ تشدد بہر حال میں برا ہے۔ تشدد سے کبھی کوئی بہتر نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ ۹ اٹلی کی ایک مذہبی تنظیم ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: Association Culture Yogarmonia - اس کا صدر دفتر نوالے(Noale)میں (Noale) میں ہے۔ اس کے چیرمین اٹمبری ماریو (Atombri Morio) ہیں۔ اس تنظیم کے سات ذمہ داروں کا ایک وفد اپنے چیرمین کی قیادت میں ۵ جنوری ۲۰۰۳ کو اسلامی مرکز آیا اور تقریباً دو گھنٹہ رہا۔ انہوں نے اسلام اور روحانیت کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی بات کی۔ آخر میں انہیں ایک مسنون دعا سنائی گئی اس کو انہوں نے بہت پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دعا کو ہم اپنے اجتماعات میں پڑھیں گے۔ اُن کی فرمائش کے مطابق، یہ دعا تین طریقہ پر لکھ کر اُنہیں دی گئی۔ عربی متن، عربی الفاظ کو رومن رسم الخط میں اور پوری دعا کا انگریزی ترجمہ۔ وہ دعا یہ تھی: اللهم انت السلام و منك
السلام و الیک يرجع السلام۔ ربنا حينا بالسلام و ادخلنا دارك دارالسلام۔ تبارکت ربنا و تعالیت یا ذا الجلال والاکرام۔
اسلامی مرکز کے تحت کچھ نئی کتابیں چھپی ہیں۔ ایک انگریزی کتاب کا نام ہے: ان سرچ آف اور ایک اردو کتاب کا نام ہے: مطالعہ حدیث۔
ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے جو جلد ہی شائع ہوگی۔ تقریباً دوسو صفحہ کی اس کتاب کا نام حکمت اس میں قرآن اور حدیث کے حوالہ سے اسلام کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک نئی کتاب تیار ہو کر زیر طبع ہے۔ یہ کتاب دوسو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے۔ عورت معمارِ انسانیت۔
برادر محترم اے ۔ ایس شیخ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۱ مارچ ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر آپ سے بات ہوئی۔ آپ نے کہا کہ اجودھیا کے مسئلہ کا حل کیا آپ نے بتایا کہ آج کل مسلمان اس معاملہ کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ ان کی جان اور مال اور عزت سب داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے لے کر اب تک ہزاروں مسلمان مارے جا چکے ہیں۔ مال اور جائداد کا نقصان اتنا زیادہ ہوا ہے جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ان سب تباہیوں کے باوجود یہ مسئلہ اب تک ختم نہ ہو سکا بلکہ وہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان حالات میں اسلام ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔ اس ایک مسئلہ کی وجہ سے دس سال سے زیادہ مدت سے یہاں کے مسلمان سخت تباہی سے دوچار ہیں مگر ابھی تک کسی عالم نے اس مسئلہ کا شرعی حل نہیں بتایا۔
میں عرض کروں گا کہ اصل مسئلہ شرعی حل کی موجودگی کا نہیں ہے بلکہ شرعی حل کو قبول کرنے کا آج کل کے مسلمان اس مسئلہ پر اتنا زیادہ جذباتی ہو گئے ہیں کہ وہ شرعی حل کو سننے اور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حالانکہ دوسرے تمام مسائل کی طرح اس مسئلہ کا بھی شرعی حل موجود ہے اور عملاً عرب دنیا میں اس کو اختیار کیا جا چکا ہے۔
اس سلسلہ میں میں دو باتیں عرض کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ کسی مسئلہ کا حل عملی حالات کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے، نہ کہ نظری معیار کے اعتبار سے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے کے حالات میں اس مسئلہ کا ایک سادہ حل موجود تھا اور وہ حل حضرت عمر کے الفاظ میں یہ تھا: أميتوا الباطل بالصمت عنه (باطل کو ہلاک کرو اس کے بارے میں چپ رہ کر)۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے اگر مسلمان یہ کرتے کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو سڑکوں پر نہ لاتے۔ وہ اس مسئلہ پر جلسہ جلوس، ریلی اور مارچ کا طریقہ اختیار نہ ان کے جذباتی لیڈر اس قسم کی تقریریں نہ کرتے کہ بابری مسجد کو چھو کر تو دیکھو۔
اس وقت یہ سب نہ کرتے اور خاموشی کی سیاست اختیار کرتے تو بابری مسجد کا مسئلہ ایک بستی کا صرف چھوٹا سا مسئلہ رہتا۔ ایسا کبھی نہ ہوتا کہ وہ پورے ملک کا مسئلہ بنے اور سارے ہندوؤں کے لئے قومی انَّا کا سوال بن جائے۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر اگر اس قسم کی حکیمانہ سیاست چلائی جاتی تو بابری مسجد کبھی نہ ٹوٹتی جیسا کہ اس سے پہلے ساڑھے چار سو سال تک وہ نہیں ٹوٹی تھی۔
مگر اب جب کہ ہمارے جذباتی لیڈروں کی غیر حکیمانہ سیاست کے نتیجہ میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھادی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کا ملبہ ہٹا کر وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا۔ حالت میں صورت حال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ اب ہمیں بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے اس معاملہ میں شریعت کا حکم دریافت کرنا چاہئے۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے اس معاملہ میں یہ معمول کا ایک مسئلہ تھا۔ مگر اب وہ ایک غیر معمولی مسئلہ بن چکا ہے۔ اور اب صرف غیر معمولی قانون کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اس غیر معمولی صورت حال کو قرآن میں اضطرار (البقرہ ۱۷۳) کہا گیا ہے، یعنی مجبوری کی حالت۔ متفقہ شرعی مسئلہ کے مطابق، جب مجبوری کی حالت آجائے تو حرام بھی اہل اسلام کے لئے حلال ہو جاتا ہے۔ اسی شرعی اصول کی بنا پر اسلامی فقہ میں وہ مشہور مسئلہ بنا ہے جس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ عام طور پر ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان (زماں اور مکاں کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) اسی طرح فقہ کا یہ مسلمہ اصول ہے: الضرورات تبیح المحظورات ۔ یہ ایک عالمی اصول ہے اور جدید قانون میں اس کو قانونِ ضرورت (law of necessity) کہا جاتا ہے۔ اسی قانون ضرورت کے تحت موجودہ زمانہ میں سعودی عرب، مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں سیکڑوں کی تعداد میں مسجدیں اپنی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ بنائی گئی ہیں، جس کو عام طور پر ری لوکیشن (re-location) کہا جاتا ہے۔ عرب ملکوں میں مسجد کی تبدیلی مقام کا یہ عمل زیادہ تر شہری منصوبہ بندی (city planning) کی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں ہندوستان کا مسئلہ اور بھی زیادہ شدید ضرورت کی
حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں جان و مال کی تباہی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے جو تمام ضرورتوں سے زیادہ شدید ایسی حالت میں علماء کو چاہیے کہ وہ متفقہ طور پر یہ اعلان کر دیں کہ اس معاملہ میں ضرورت شدید کی صورت پیدا ہوگئی ہے اور اب شرعی طور پر یہ جائز ہوگیا ہے کہ اجودھیا کی مسجد کا مقام تبدیل کر دیا جائے تا کہ مسلمانوں کی جان ومال اور عزت محفوظ ہو سکے اور ملک میں امن وامان قائم ہو سکے۔ کچھ مسلم دانشوروں کی طرف سے اس نزاع کا یہ حل پیش کیا گیا ہے کہ بابری مسجد کو ری لوکیٹ (re-locate) کر دیا جائے۔ اس طرح یہ نزاع اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ مگر مسجد کا مسئلہ ایک خالص دینی اور شرعی مسئلہ ہے۔ اس لئے یہ مسئلہ صرف اس وقت ختم ہوسکتا ہے جب کہ اس کے اس حل کو علماء کی طرف سے پیش کیا جائے ۔ غیر علماء کے بیانات اس مسئلہ کا قابل قبول حل نہیں بن سکتے۔ یہاں اس معاملہ کا ایک اور پہلو قابل ذکر ہے۔ قرآن میں اضطرار کا حکم جس سیاق میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی موقع پر آدمی کو حلال خوراک حاصل نہ ہو اور اس کے لئے بھوک سے موت کا خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ حرام مثلاً خنزیر یا مردار کا گوشت کھا سکتا ہے۔ علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ ایسے موقع پر جان بچانے کے لئے اکل حرام کا معاملہ رخصت نہیں ہے بلکہ وہ عزیمت ہے۔ ایسے موقع پر نہ کھانا ایک گناہ کا فعل ایسے اضطرار کے موقع پر اکل حرام واجب ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر نہ کھانا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے جو کسی کے لئے جائز نہیں۔ ایسے موقع پر اگر وہ نہ کھائے تو یہ اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے جو گناہ کبیرہ کا درجہ رکھتا ہے۔ جب اکل حرام ضروری ہو جائے تو وہ آدمی کے لئے رخصت نہیں بلکہ عزیمت بن جاتا اگر ایسے موقع پر وہ نہ کھائے تو وہ گنہگار ہوگا۔ مسروق تابعی نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص مردار کھانے پر مجبور ہو جائے اور وہ اس کو نہ کھائے اور اسی حالت میں مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا: بَل رُبَّمَا يَأثم بترك التناول (روح المعانی) وَهُهُنا يَتَحَقَّقُ معنى الوجوب (تفسیر الرازی) ولا خلاف انه لا يَجُوزُ له قَتْلُ نَفْسِهِ بامساك عن الأكل و انه مامور بالأكل على وجه الوجوب (تفسير القرطبي) لو ترك الأكل تلف نفسه تلك اكبر المعاصی (تفسیر القرطبي) وقال الطبری
لیس عند الضرورة رخصة بل ذلك عزيمة واجبة و لو امتنع من الاكل كان عاصياً (البحر المحيط) و قال مسروق بَلَغَنِی أنه من اضطرّ الى الميتة فلم يأكل حتى مات دخل النار كأنه اشار الى أنه قاتل نفسه بتركه ما أباحَ اللّٰهُ له (البحر المحيط) هذا يقتضى أن أكل الميتة للمضطر عزيمة لا رخصة (تفسير ابن كثير)
اس شرعی مسئلہ کا انطباق اگر بابری مسجد کے مسئلہ پر کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ مسئلہ اس ضرورت شدیدہ کی حد تک پہنچ چکا ہے جہاں اب تبدیلی مقام صرف ایک جواز کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہ وجوب کے درجہ کو پہنچ چکا ہے۔ ایسا نہ کرنا مسلمانوں کو مسلسل جان اور مال کے عظیم خطرہ میں مبتلا کرنا جب نقصان اس سنگین حالت تک پہنچ جائے تو اس وقت اس مسئلہ کا مذکورہ حل اختیار نہ کرنا شریعت سے انحراف ہوگا ، نہ کہ اس کو اختیار کرنا۔
اجودھیا کے مسئلہ کے معاملہ میں قانونی انصاف اور قانونی بے انصافی کی بحث نکالنا کوئی دانشمندی کی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی معاملہ جب سنگین نزاکت کے اس مرحلہ تک پہنچ جائے جیسا کہ اجودھیا کا معاملہ پہنچ چکا ہے تو قانونی انصاف کا حصول عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں انتخاب (choice) قانونی بے انصافی اور جان و مال کی حفاظت کے درمیان بن جاتا ہے، نہ کہ قانونی انصاف اور قانونی بے انصافی کے درمیان۔ یہ معاملہ جس انتہائی شدید حالت تک پہنچادیا گیا ہے، اب مسلمانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایک قانونی بے انصافی کو گوارا کریں یا پوری قوم کی جان و مال کو انتہائی سنگین خطرہ میں ڈال دیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص اپنے ذاتی معاملہ میں یہی کرتا ہے کہ اس طرح کے موقع پر وہ جان و مال کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے قانونی یا منطقی بے انصافی کو برداشت کرلیتا پھر اس عمومی مسلک کو اجودھیا کے معاملہ میں بھی کیوں نہ اختیار کر لیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو صلح حدیبیہ کی گئی وہ اس معاملہ میں ایک رہنما مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ معاہدہ فریق ثانی کی جن یک طرفہ شرطوں پر ہوا وہ واضح طور پر ایک ناانصافی کا
مگر آپ نے اس نا انصافی کو چھوٹی برائی (lesser evil) سمجھ کر قبول فرما لیا۔ کیونکہ اگر آپ اُس وقت اس بظاہر نا انصافی کو قبول نہ فرماتے اور نظری انصاف پر اصرار کرتے تو قتل وخون کی نوبت آتی جو یقینا زیادہ بڑی برائی (greater evil) کی حیثیت رکھتی تھی ۔ یہ ایک سنت رسول ہے جو وقتی نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس سنت میں اگلے زمانہ کے تمام مسلمانوں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اس سلسلہ میں یہ اندیشہ ایک بے بنیاد اندیشہ ہے کہ اگر ایک مسجد کے معاملہ میں سمجھوتہ کر لیا گیا تو بقیہ مسجدوں کے معاملہ میں بھی اسی قسم کے سمجھوتے کا دروازہ کھل جائے گا۔ قرآن اس قسم کے اندیشہ کو بے بنیاد بتاتا ہے (الانفال ٦٢) ملک کے حالات بھی اس اندیشہ کی تائید نہیں کرتے۔ کے تحفظ کے ایکٹ (1991 Places of Worship Act) میں یہ قانونی ضمانت دی گئی ہے کہ بابری مسجد کو چھوڑ کر بقیہ تمام مسجدوں کو ان کی ۱۹۴۷ کی حالت (status quo) پر باقی رکھا جائے بنارس اور متھرا اور دوسری جگہ کے ہندوؤں نے متفقہ طور پر یہ تجاویز منظور کی ہیں کہ مندر ۔ تحریک کو ان کے شہروں میں نہ لایا جائے۔ بابری مسجد ڈھانے کے غیر قانونی فعل کو ہندو عوام نے پسند اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۹۳ اور پھر ۲۰۰۲ کے اتر پردیش کے ریاستی الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوؤں کے ووٹ اتنے کم ملے کہ وہ دوبارہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہی، وغیرہ۔ اجودھیا کا معاملہ اتنا زیادہ نازک بن چکا ہے کہ اگر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ صد فی صد مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دے تب بھی اس سے اصل مسئلہ حل ہونے والا نہیں، بلکہ اندیشہ ہے کہ وہ شدید تر نہ ہو جائے۔ سخت اندیشہ ہے کہ اس کے بعد عام ہندوؤں کا ذہن یہ بن جائے کہ انڈیا کا سیکولرزم مسلمانوں کے موافق ہے اور ہندوؤں کے خلاف ۔ اس لئے جس طرح پاکستان کو اسلامی ریاست بنا دیا گیا اسی طرح انڈیا میں بھی ہندو ریاست کا اعلان کر دیا جائے۔ اگر ہندوؤں میں اس طرح کا عمومی ذہن بنا دیا گیا تو اس کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کا وہی حال ہو جائے گا جو پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کا عملاً ہو چکا ہے (لا قدر الله )
آخری بات یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ کسی ایک مسجد کی تعمیر نو کا مسئلہ نہیں ہے
بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ خود اسلام کی تعمیر نو کا مسئلہ ہے۔ پہلے مسئلہ کے مقابلہ میں دوسرا مسئلہ ہزاروں گنا زیادہ بڑا اور اہم ہے۔ اس بارے میں یقینی طور پر دورائے نہیں ہوسکتی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی نئی تعمیر صرف معتدل حالات میں ہوسکتی ہے۔ نزاع اور ٹکراؤ کے ماحول میں اس قسم کا مثبت کام نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو ہمیں تعلیم یافتہ بنانا ہے ہمیں ان کے اندر اتحاد کی فضا قائم کرنا ہے۔ ہمیں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ، نئی تعلیم گاہیں قائم کرنا ہے۔ ہمیں جدید معیار کے مطابق، اسلامی صحافت وجود میں لانا ہے۔ ہمیں برادران وطن تک ان کی اپنی زبانوں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ ہمیں اسلامی خطوط پر مسلم معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ مسلمانوں کے معاشی پچھڑے پن کو دور کرنا ہے۔ ہمیں مسلم نوجوانوں کے اندر مثبت طرزِ فکر لانا ہے، وغیرہ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعمیر و استحکام کے لئے اس قسم کے بہت سے ضروری کام ہیں جو ابھی تک اپنی ابتدائی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ سنہ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں کو وہ معتدل حالات نہ مل سکے جس میں مثبت تعمیر کا کام کیا جاتا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم اس معاملہ میں پوری طرح باشعور ہو جائیں۔ ہم یک طرفہ طور پر ذمہ داری لیتے ہوئے ٹکراؤ اور نزاع کے ماحول کو ختم کر دیں تا کہ تعمیر و استحکام کا وہ کام ہو سکے جواب تک نہ ہو سکا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ تعداد ۲۲ کروڑ ۶۳ لاکھ ہے (دینک بھاسکر، بھوپال، ۱۷ اکتوبر ۲۰۰۱)۔ اس کے مطابق، ہندوستان میں اس وقت کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، حتیٰ کہ انڈونیشیا سے بھی زیادہ۔ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ابھی تک ایک غیر اہم ملت بنی ہوئی اس کا واحد سبب یہ ہے کہ انہیں کام کرنے کا معتدل ماحول اب تک حاصل نہ ہو سکا۔ کو خود اس کی ذمہ داری لیتے ہوئے یک طرفہ بنیاد پر نارملائزیشن کا عمل جاری کرنا چاہئے۔ اس قسم کا ماحول سب سے زیادہ مسلمانوں کے لئے مفید ہے۔ اس لئے تنہا انہی کو یہ کام کرنا ہے۔ یہ کام صبر اور تحمل اور اعراض کی پالیسی کے ذریعہ ہی انجام دیا جا سکتا ہے، اس کے بغیر سازگار ماحول کا قیام ممکن نہیں۔