No just cause can be advanced by terrorism.
Al-Risala, July 2004, pp. 58–59
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ نہایت درست بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ متشددانہ طریق کار ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جن
مقامات پر متشددانہ طریق کار چلایا جا رہا ہے اس کی مثال اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے بالکل کافی ہے۔ بھی کیوں ایسا ہے کہ لوگ اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ واقعہ کا نصف آخر دیکھ کر رائے بناتے ہیں۔ وہ اس کے نصف اول کو شامل کر کے اپنی رائے نہیں بناتے۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ تطفیف ہے، اور تطفیف خدا کے دین میں جائز نہیں۔ یعنی ایک ٹررسٹ گروہ نے بم پھینک کر یا خود کش بمباری کر کے فریق ثانی کو جو نقصان پہنچایا اس کا وہ ذکر نہیں کرتے۔ البتہ فریق ثانی نے جوابی طور پر جو متشددانہ کارروائی کی اس کا وہ خوب چرچا کرتے ہیں۔ یہی یکطرفہ روش ہے جس نے لوگوں کو حقیقت پسندانہ سوچ سے محروم کر دیا ہے۔
یہ سطریں میں ٹرین میں ۲۳ نومبر کو صبح دس بجے لکھ رہا تھا۔ عین اسی وقت بیتول (Betul) کا ریلوے اسٹیشن سامنے سے گزرا۔ وہاں ٹرین چند منٹ کے لئے رکی۔ یہ ریلوے اسٹیشن دیکھ کر ۱۹۴۷ سے پہلے کا زمانہ یاد آیا جب کہ محمد علی جوہر بیتول کے جیل میں نظر بند کئے گئے تھے اور پھر وہاں سے رہا ہوئے۔ اور پھر بیتول کی نسبت سے اخباروں اور جلسوں میں کافی چرچا ہوا تھا۔ جیل کی اس نظر بندی کا تعلق ٹررزم سے تو نہ تھا، لیکن وہ سیاسی ایکسٹریمزم ضرور تھی۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، اس قربانی کا کوئی بھی فائدہ نہ ملت کو حاصل ہوا، نہ ملک کو۔ بیتول ریاست مدھیہ پردیش میں یہاں یہ گوند (Gond) سلطنت کا مرکز تھا اور یہاں چودھویں صدی کی تاریخی عمارتوں کے کھنڈر بھی موجود ہیں۔
اخبار کے صفحہ اول پر جو خبریں تھیں ان میں سے ایک خبر کا عنوان یہ تھا— مہاراشٹر کی ایک مسجد میں بم دھماکہ سے ۳۵ آدمی زخمی: