Al-Risala · July 2004

35 hurt in mosque blast in Maharashtra

Al-Risala, July 2004, pp. 59–65

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ اس بم دھماکے کے بعد غصہ میں بھرے ہوئے مجمع نے دکانوں اور سواریوں کو جلا نا شروع کر دیا۔

یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال عام طور پر یہ ہے کہ انھوں نے برداشت

کی صفت کھودی ہے۔ وہ معمولی سی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں اور لڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ کو صبر و تحمل کے ساتھ لینا اور پرامن طریقہ کار کے ذریعہ اس کو حل کرنا جیسے مسلمانوں کو آتا ہی نہیں۔ مسلمانوں کے اس مزاج کی تمام تر ذمہ داری ان کے دانشوروں اور رہنماؤں پر ہے۔ نے انتہائی غلط طور پر یہ کیا کہ مسلمانوں کے اندر فخر کی نفسیات پیدا کر دی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے جوش کے ساتھ کہا تھا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اسلام میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کیا ہے: Muslims have rediscovered their pride in Islam. اسی فخر کی نفسیات کا نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنے خلاف معمولی سی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے فخر پسندانہ مزاج کی بنا پر تحمل و برداشت کو اپنی بے عزتی سمجھ لیتے ہیں۔ معاملہ کو عزت اور بے عزتی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ نفسیات عین وہی ہے جس کو قرآن میں حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے۔

پر بھنی کی جس مسجد میں مذکورہ دھماکہ ہوا اس کا نام محمدی مسجد بتایا گیا ہے۔ مگر بم دھماکہ کے بعد جس رد عمل کا مظاہرہ کیا گیا وہ سراسر محمدی کردار کے خلاف تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معروف سنت یہ ہے کہ ہر واقعہ کی تحقیق کی جائے (الحجرات ٦)۔ تحقیق کے بغیر کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ ہو کر کوئی جوابی کارروائی نہ کی جائے بلکہ جو کچھ کیا جائے وہ نتائج کو سامنے رکھ کر سوچے سمجھے انداز میں کیا لوگوں کے ساتھ معافی اور درگزر کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ مسئلہ کو خاموش تدبیر کے ذریعہ حل کیا جائے، نہ کہ ہنگامہ آرائی کے ذریعہ۔ مگر یہ کیسی عجیب صورت حال ہے کہ نام لینے کے لیے تو لوگ محمد پر فخر کرتے ہیں مگر وہ محمدؐ کی سنت کو اختیار نہیں کرتے۔

ٹائمس آف انڈیا کا ایڈیٹوریل ٹررزم کے موضوع پر تھا۔ اس کی نسبت سے اس کے آغاز میں برٹش فارن سکریٹری مسٹر جیک سٹرا (Jack Straw) کا ایک قول نقل کیا گیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ ہم جو کہ مہذب دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں، ایک عالمی خطرہ کا سامنا کر رہے ہیں اور ہمیں اس خطرہ کا

سامنا عالمی انداز میں کرنا چاہئے:

We who represent the civilized world are facing a global threat and we have to deal with it in a global way. موجودہ زمانہ میں امریکہ کے خلاف نفرت اور تشدد کا جو مسئلہ پیدا ہوا اس کا سبب اصلاً تہذیب کی نمائندگی نہیں ہے بلکہ اپنی تہذیب کو متشددانہ طور پر رائج کرنا ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک فریق اگر ایسے طریق کار سے تشدد کا عنصر نکال دے تو اپنے آپ یہ مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ اس کی ایک مثال جاپان کی صورت میں آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں جاپان نے پہلے تشدد کیا، اس کے بعد وہ خود جوابی تشدد کا شکار ہوا۔ مگر جنگ کے بعد جاپان نے معکوس عمل (reverse course) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اپنی طرف سے تشدد کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد وہاں تشدد بھی ختم ہو گیا۔

ہندوستان ٹائمس (۲۲ نومبر ۲۰۰۳) کے صفحہ ۱۳ پر ایک رپورٹ کے ساتھ ایک مسجد کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ یہ لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد کی تصویر تھی۔ تصویر میں دکھائی دے رہا تھا کہ بڑی تعداد میں مسلمان سجدے کی حالت میں زمین پر اپنا سر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جمعۃ الوداع کی نماز کا منظر تھا۔ تصویر یہاں شائع کی جارہی ہے۔

مسجد کی یہ تصویر دیکھ کر مجھے ایک بات یاد آئی۔ لکھنؤ ایک بڑا شہر ہے۔ مسلمان کافی تعداد میں یہاں رہتے ہیں۔ مگر لکھنؤ میں غالباً شیعہ روایات کی بنا پر جامع مسجد کے نام سے کوئی مسجد نہیں ہے۔ مسلمانوں نے کئی بار کوشش کی کہ لکھنؤ میں ایک بڑی جامع مسجد تعمیر کی جائے۔ اس تحریک میں مولانا علی میاں جیسے ممتاز لوگ بھی شریک تھے مگر اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔

دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے جب کہ لکھنؤ کے قریب واقع بابری مسجد کا ہنگامہ جاری تھا اور حالات غیر یقینی صورت اختیار کئے ہوئے تھے۔ اس وقت یوپی کے چیف منسٹر اور دوسرے ہندو لیڈروں نے یہ پیش کش کی کہ اگر مسلمان بابری مسجد کے ری لوکیشن (relocation) پر راضی ہو جائیں تو ہم ان کے لیے موجودہ مسجد سے بہت زیادہ بڑی مسجد دوسری جگہ پر بنادیں گے۔ اور اس سلسلہ میں ان کا بھر پور

تعاون کریں گے۔ اس وقت بعض اعتدال پسند افراد نے یہ تجویز پیش کی کہ مسلمان اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے یہ کریں کہ وہ لکھنؤ میں ایک بڑی جامع مسجد اور اسلامک سنٹر تعمیر کر لیں۔ مگر اس وقت مسلم رہنما اتنے جوش میں تھے کہ انھوں نے اس قسم کی تجویز پر سوچنے سے انکار کر دیا۔ اب جیسا کہ معلوم ہے، ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ ۶ دسمبر سے یہاں اس معاملہ پر یہ انگریزی قول صادق آتا تھا—لوہے پر ہتھوڑا اس وقت مارو جب کہ وہ گرم ہو: Strike the iron when it is hot میں نے بابری مسجد کو ۱۹۷۳ سے پہلے اس وقت بھی دیکھا ہے جب کہ وہ ایک بھاری بھرکم سنگی تعمیر کی صورت میں کھڑی تھی اور ۱۹۹۲ کے بعد بھی دیکھا ہے جب کہ وہ ایک عارضی مندر (make-shift mandir) میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اب وہاں ماضی کا کوئی بھی نشان موجود نہیں۔ دوسال پہلے جب میں ایودھیا گیا تھا تو ایک شخص نے مسلمانوں کے دعوے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت ہے۔ یہاں کا مشہور فارمولا یہ ہے: قبضہ سچا دعویٰ جھوٹا۔

ہماری کیبن میں ایک خاتون اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ یہ بھوپال کی نیلو فر خاں وہ بھوپال کی ایک رئیس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اور آج کل گارمنٹ کا بزنس کر رہی ہیں۔ ان کو اور ان کی والدہ کو ہم نے اپنے یہاں کے چھپے ہوئے دو انگریزی پمفلٹ Spirituality in Islam پڑھنے کے لئے دئے۔ ان کی ماں نے یہ پمفلٹ پورا پڑھ ڈالا۔ مگر نیلو فر خاں نے چند منٹ پمفلٹ کو دیکھا اس کے بعد اس کو الگ رکھ دیا اور پھر انگریزی کی ایک موٹی کتاب نکالی۔ یہ ایک ناول تھا جس کا نام وہ اس ناول کو دیر تک پڑھتی رہیں۔ بوڑھی خاتون نے اپنی عمر ۷۵ سال بتائی۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے سینئر ہوں اور میر عمر ہجری کلینڈر کے لحاظ سے ۸۰ سال سے زیادہ ہو رہی ہے۔ انھیں تعجب ہوا۔ مذکورہ خاتون کمزور دکھائی دے رہی تھیں۔ مگر میں اللہ کے فضل سے بظاہر بالکل متعدل حالت میں تھا۔ چنانچہ خاتون نے میرے بارے میں کہا کہ آپ کے اوپر عمر کا کوئی اثر نہیں۔ بھی پوری طرح مستعد (agile) نظر آتے ہیں۔

خاتون نے میری نقل و حرکت کو دیکھ کر اپنی بیٹی سے کہا— یہ بڑھاپے کی اس عمر میں بھی کتنے

حدیث میں آتا ہے کہ نظر لگنا برحق ہے (العین حق) نظر لگنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آدمی نے بری نیت سے ایسا کہا ہو۔ مخلص آدمی کی بھی نظر لگ سکتی ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کہنے والا جب اس قسم کا کوئی جملہ کہے تو وہ اس کے ساتھ ماشاء اللہ یا اس مفہوم کا کوئی اور جملہ ضرور شامل کرے۔ بغیر اس اضافہ کے اگر کوئی جملہ بولا جائے تو اُس سے نظر لگنے کا امکان باقی رہے گا۔ نظر اصلاً حاسدانہ جملہ پر لگتی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اندر سے حاسد نہ ہو اور وہ ایسا جملہ بولے جو بظاہر حاسدانہ ہو تب بھی اس کا امکان رہے گا کہ اُس کی نظر لگ جائے۔

ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اب مسلمانوں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اب ان کے اندر تشدد کا مزاج ختم ہو رہا ہے اور اب وہ امن کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے مگر اسلامی نقطہ نظر سے وہ بہت زیادہ اہم اس لئے کہ اسلام کے نزدیک اُس امن پسندی کی اہمیت ہے جس کو ایک اصولی موقف (principled behaviour) کے طور پر اختیار کیا جائے ۔ جو موقف حالات کے دباؤ کے تحت پیدا ہو وہ ابن الوقتی (expediency) ہے۔ ایسی روش سے مسلمانوں کو مادی فائدہ تو ہو سکتا ہے مگر اس کی کوئی اسلامی قدر و قیمت نہیں۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے لوگ آج کل امن کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی ہفت روزہ ریڈینِس (۴ اکتوبر ۲۰۰۳) میں موجودہ امیر جماعت کی ایک تقریر چھپی ہے۔ اس تقریر میں وہ کہتے ہیں کہ انتقامی طرز کی ذہنیت اور بندوق اور تشدد مسلم امت کا کوئی مسئلہ حل کرنے والی نہیں:

یہ ایک ادھوری بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے جماعت اسلامی ان تمام متشددانہ واقعات کو جہاد بتاتی رہی ہے جو مختلف علاقوں کے مسلمان اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا نام نہاد میڈیا (بشمول ریڈینس) ان تمام واقعات کی تبریر(justification) میں مشغول رہا ہے۔ اب اگر جماعت اسلامی (یا اس طرح کے دوسرے لوگ) امن کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ لمبے مدت سے وہ جس چیز کو جہاد بتاتے رہے وہ جہاد نہیں تھا بلکہ وہ فساد تھا۔ جب تک وہ اپنی پچھلی غلطی کا کھلا اعتراف نہ کریں انہیں امن پسندی کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ اس معاملہ میں اپنی غلطی کا اعتراف کئے بغیر خاموشی سے اپنی پالیسی بدلنا اور امن کی باتیں کرنا قرآن کی اس آیت کا مصداق ہے: يحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا۔ ایسی چیز کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کے وہ مستحق نہیں۔

۲۳ نومبر کو ۲ بجے ہماری گاڑی سیوا گرام ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ یہاں پلیٹ فارم پر مس کالرا اور ڈاکٹر جوزف موجود تھے۔ مس کالرا میکسکو سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے میں نے ان کا پورا نام پوچھا تو انھوں نے ایک کاغذ پر اپنا نام لکھ کر دیا جو پوری ایک سطر پر پھیلا ہوا تھا۔ مس کالرا گاندھین فلسفی کے مطالعہ کے لئے یہاں آئی تھیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ میکسکو سے انڈیا آئی ہیں۔ آپ نے دونوں ملکوں میں کیا فرق دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی فرق صرف زبان کا ہے۔ باقی دوسری چیزوں میں دونوں ملکوں میں کافی یکسانیت نظر آتی ہے۔ سیوا گرام کا ریلوے اسٹیشن ایک چھوٹا ریلوے اسٹیشن ہے مگر وہ کافی خوبصورت اور صاف ستھرا نظر آیا۔ ہر طرف ہریالی اور درخت نظر آ رہے تھے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں گاندھی سنٹر کی وجہ سے فارنر کافی آتے ہیں۔ اس بنا پر اس کی حیثیت ایک ٹورسٹ سنٹر جیسی ہو گئی ہے۔ سے نکل کر ہماری گاڑی آگے روانہ ہوئی تو دوبارہ ایک خوبصورت منظر ہمارے سامنے تھا۔ میں سیوا گرام واقع ہے۔ یہاں گو پوری کے نام سے ایک خوبصورت گاؤں بسایا گیا ہے۔ ستھری سڑکوں کے کنارے، صاف ستھرے مکانات جگہ جگہ نظر آئے۔ مکان کے چاروں طرف کھلی

زمینیں تھیں جن میں درخت اور پودے اگے ہوئے تھے۔ اس قسم کا گاؤں“ مجھے پہلی بار یہاں دکھائی ہماری گاڑی چلتی ہوئی وہاں پہنچی جہاں وہ ادارہ قائم ہے جس نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس ادارے کا نام و پتہ یہ ہے:

Institute of Gandhian Studies, Gopuri, 442114 (Wardha)

Printed page