Tel. 07152-243585, 240315
Al-Risala, July 2004, pp. 65–35
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں مجھے انسٹی ٹیوٹ کے گسٹ ہاؤس (کمرہ نمبر ۱۲) میں ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ گسٹ ہاؤس میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ وہ نہایت سادہ اور اسی کے ساتھ نہایت صاف ستھرا تھا۔ وہ اس لحاظ سے بنایا گیا تھا کہ ہوا اور دھوپ پوری طرح ملتی رہے۔ اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی سرسبز دنیا اس کی خصوصیت میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ یہاں کسی قسم کا شور نہ تھا۔ البتہ کبھی کبھی چڑیوں کی آواز قدرتی نغمہ کے طور پر سنائی دیتی تھی۔
۲۳ نومبر کی صبح کے سشن میں مشہور سوشل ریفارمر جسٹس چندر شیکھر دھرم ادھکاری (Justice Chandrashekhar S. Dharmadhikari) کا افتتاحی لکچر تھا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کے سوال پر روشنی ڈالی۔
انھوں نے امن کو مذہب کا خلاصہ بتایا۔ تقریر کے بعد اُن سے کھانے کی میز پر مزید گفتگو میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوازم امن کا مذہب ہے اور اسلام جہاد کا مذہب۔ مگر یہ تاثر سرتا سر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام مکمل طور پر امن کا مذہب ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ لوگ خدا کو پہچانیں۔ لوگوں کے اندر خدا کی معرفت آئے۔ لوگ اس طرح خدا کی عبادت کریں جیسے کہ وہ اُس کو دیکھ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی اسلام کا اصل نشانہ ہے۔ اور اس قسم کا نشانہ صرف فکری اور روحانی کوششوں کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہ پوری طرح پر امن جدوجہد کا متشددانہ جدوجہد کا اس نشانہ سے کوئی تعلق نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ متشددانہ طریقہ کار اس قسم کے ربانی مقصد کے حصول میں ایک رکاوٹ ہے،
وہ کسی بھی درجہ میں اُس کے لیے مفید نہیں۔ انہوں نے اس بات کو بہت غور سے سُنا اور اپنی گہری پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اُن کو اسلام کے مزید مطالعہ کے لیے ایک انگریزی کتاب بھی دی گئی۔ ۲۳ نومبر کو دو پہر بعد کے سشن میں فلسفہ کے پروفیسر ڈاکٹر ایس اے اپادھیائے کی تقریر تھی۔ وہ ایک معمر آدمی ہیں۔ انھوں نے ہندو فلاسفی کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی سفید لمبی داڑھی کو دیکھ کر مجھے سرسید کی داڑھی یاد آئی۔ اس قسم کی داڑھی مدن موہن مالویہ کی بھی تھی جو سرسید کے ہم عصر تھے۔ مشہور مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی نے اپنا یہ شعر کہا تھا:
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی ڈاکٹر موصوف نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان کا خلاصہ یہ تھا۔ امن کا راز وحدانیت کے تصور میں ہے۔ میری مراد جذباتی وحدانیت سے ہے نہ کہ جسمانی وحدانیت سے۔ امن صرف اس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے کہ دوسرے کی اقدار کو سمجھا جائے اور اس کو مانا جائے۔ Peace lies in ultimate oneness, emotional oneness not physical oneness. It can be achieved by understanding the values of others. پروفیسر اپادھیائے کا کمرہ میرے کمرہ سے ملا ہوا تھا۔ چنانچہ ان سے کئی بار ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران میں نے کہا کہ ہندو مفکرین اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہندو نظریہ کے مطابق، ادویت واد امن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیوں کہ اس میں ادوئی بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ ادویت واد کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور انسان دونوں ایک ہی حقیقت کے مظاہر ہیں۔ مگر ہم جو سماجی امن چاہتے ہیں اس کا تعلق انسان اور انسان کے درمیان اتحاد سے ہے، نہ کہ خدا اور انسان کے درمیان اتحاد سے۔ ادویت واد کا تصور ایک الہیاتی فلسفہ ہے، اس کا انسانوں کے درمیان امن کے قیام سے کوئی تعلق نہیں۔ انسانوں کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے ہمیں انسانی مساوات کا نظریہ درکار ہے، نہ کہ انسان اور خدا کے درمیان یگانگت کا نظریہ۔
۲۳ نومبر کی شام کا کھانا یہاں کے گسٹ ہاؤس میں کھایا گیا۔ کھانا میرے ذوق کے عین نہایت سادہ اور نہایت صاف ستھرا۔ روغن اور مسالہ سے بالکل پاک اور قرآنی اصطلاح
میں طعام واحد‘ کا نمونہ۔ کھانے کے دوران کانفرنس کے شرکاء سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ صاحب نے بتایا کہ ہندو طریقہ میں کھانا شروع کرتے ہوئے کیا پڑھا جاتا ہے ۔ یہ کچھ سنسکرت کے الفاظ تھے جس کا مضمون انھوں نے یہ بتایا:
I am the gastric fire, staying in every human body. I am associated with ingoing and outgoing breath; I digest all the four types of food. اسلام میں ایسے موقع پر جس چیز کی تلقین کی گئی ہے وہ سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ آدمی یہ کہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم اور کھانا ختم کرنے کے بعد کہے: الحمد للہ الذی اطعمنی و سقانی وجعلنی من المسلمین۔
یہاں کے پرسکون ماحول میں رات کو اچھی نیند آئی۔ ۲۴ نومبر کی صبح کو ۵ بجے بستر سے اٹھا اور وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی ۔ دعا میں یہ الفاظ زبان پر آئے ۔ اللهم انت الصاحب فی السفر وانت الخليفة في الاهل۔
اس کے بعد چہل قدمی کے لئے باہر نکلا۔ چاروں طرف نہایت سر سبز دنیا پھیلی ہوئی تھی۔ کا ماحول تھا جس میں کبھی کبھی صرف چڑیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ اس پر فضا اور پر سکون ماحول میں ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک ٹہلتا رہا۔ میرے لئے اس قسم کی چہل قدمی بیک وقت دو چیزوں کا سبب جسمانی ورزش اور روحانی انسپریشن ۔ فطرت پر غور کرتے ہوئے میرے ذہن میں کائنات کا وہ پورا نقشہ آگیا جو فلکیاتی سائنس نے دریافت کیا ہے۔ سر سبز زمین کا استثنائی کرہ ، سورج کے گرد سیاروں کی گردش کا ایک حیرت انگیز نظام ، اس شمسی نظام کی وسیع تر کہکشاں میں گردش، پھر ایک بلین کہکشاؤں کا لا تعداد ستاروں کے ساتھ وسیع خلا میں گردش کرنا۔ اس قسم کی باتیں سوچتے ہوئے میری زبان سے نکلا۔ خدایا تو کتنا عظیم ہے۔ خدایا تو اپنی بے پایاں قدرت سے میری نصرت فرما۔ صبح کے وقت جب میں انسٹی ٹیوٹ کے وسیع کیمپس میں ٹہل رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ تھوڑی دیر کے بعد اور بھی کچھ لوگ نکل کر باہر آئے اور وہاں ٹہلنے لگے۔ مگر ہر ایک مکمل طور پر خاموش تھا۔
ایک میرے پاس سے خاموشی کے ساتھ گزرتا رہا۔ یہی صبح کی چہل قدمی کا صحیح طریقہ ہے۔ صبح کی چہل قدمی کا لازمی جز ءخاموشی ہے۔ خاموشی کوئی سادہ چیز نہیں۔ مومن کے لیے خاموشی خدا سے ہم کلام ہونے کا لمحہ ہے۔ (یناجی ربہ) فطرت کے مناظر کے ماحول میں آدمی پر یہی لمحات گزرنے ایسے ماحول میں اگر آپ دوسرے لوگوں سے بات کرتے رہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ خدا کی دنیا میں پہنچ کر بھی خدا سے قریب نہ ہو سکے، آپ اب بھی انسانوں ہی سے جڑے ہوئے ہیں، آپ اب بھی انسانوں میں جی رہے ہیں۔ آپ خدا میں جینے والے نہیں بنے۔
۲۳ نومبر کے ٹائمْس آف انڈیا (بمبئی ایڈیشن) میں اس کے پہلے صفحہ پر ایک نمایاں تصویر چھپی ہوئی تھی۔ تصویر میں دکھائی دے رہا تھا کہ ادھیڑ عمر کی ایک برقعہ پوش عورت نے قرآن کی تلاوت کی اور پھر اس کو بند کر کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگی۔ اس کے پاس بیٹھا ہوا تقریباً چار سال کا ایک بچہ مخصوص انداز میں اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس تصویر کے نیچے یہ کیپشن درج تھا: A child watches his aunt pray during the Ramazan fast at powai on Sunday. اس قسم کی تصویریں مثلاً قوالی کی محفلیں، عید میلاد النبی کا جلوس، تعزیہ کا جلوس وغیرہ اکثر میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ میں نے سوچا کہ قرآن یا دعا کی اسپرٹ کبھی میڈیا میں نہیں آتی۔ البتہ کچھ ظاہری چیزیں ضرور اس میں بار بار نمایاں ہوتی رہتی ہیں۔ اس پر غور کرتے ہوئے ایک بات سمجھ موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے کیمرہ کا زمانہ ہے۔ کیمرہ اور رنگین چھپائی نے صحافت میں ایک نئی کشش پیدا کر دی ہے۔ ہر اخبار کا حسن اسی کیمرہ اور رنگین چھپائی پر منحصر ہے۔ مگر کیمرہ ایک ایسا آلہ ہے جو داخلی اسپرٹ کی تصویر کشی نہیں کر سکتا۔ وہ صرف ظاہری چیزوں ہی کی تصویر کشی کر سکتا ہے۔ پر عملاً یہ ہوا ہے کہ اسلام کا کلچرل پہلو ہر طرف نمایاں ہورہا ہے۔ اور اسلام کا معنوی پہلو کہیں بھی نمایاں نہیں کیا جا رہا ہے۔ حالاں کہ اسلام کے کلچرل پہلو کی اہمیت صرف اضافی ہے اور اس کے معنوی پہلو کی اس کا نتیجہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ہوا ہے کہ لوگوں کی نظر میں اسلامی زندگی کا خارجی یا
ظاہری پہلو اہم بن گیا ہے اور اسلام کا داخلی پہلو عملاً غیر اہم ہو کر رہ گیا ہے۔
یہی معاملہ موجودہ زمانہ میں مسلم اداروں کا بھی ہوا ہے۔ جس ادارہ یا جماعت سے پاس ایسے درودیوار ہوں جو کیمرہ کی نگاہ میں آسکتے ہوں تو ایسے ادارے اپنی تصویروں کے ذریعہ لوگوں کو اہم معلوم ہونے لگتے ہیں اور جن اداروں کے پاس کیمرہ کی پکڑ میں آنے والی شاندار بلڈنگیں نہیں ہیں وہ عوام کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے، خواہ وہاں حقیقت کے اعتبار سے کتنا ہی زیادہ بڑا کام ہو رہا ہو۔ ایک پروفیسر صاحب اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے انگریزی میں ایک خوبصورت تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ سچائی کو پانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ناقابل مفاہمت سنجیدگی (uncompromising sincerity) ہے۔ لوگ عام طور پر یہ کرتے ہیں کہ وہ کہیں نہ کہیں دوسری چیزوں سے مفاہمت کرتے ہیں۔ اس لئے وہ سچائی کو دریافت کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مگر اس خوبصورت تقریر کے بعد جب وہ کھانے کی میز پر آئے تو یہاں بالکل برعکس منظر تھا۔ کھانے کی میز پر کئی تعلیم یافتہ لوگ اکٹھا تھے۔ مگر میں نے دیکھا کہ مذکورہ پروفیسر اور ان کی بیوی نے کسی اور کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ یہ دونوں بلند آواز سے بولتے اور بات بات پر قہقہہ لگاتے ۔ کھانے کی میز ان دونوں کی وجہ سے شور کی میز بن گئی۔ مزید یہ کہ ان کی باتوں کا موضوع کوئی علمی بات نہ تھی بلکہ وہ بالکل سرسری قسم کی باتیں تھیں۔ مثلاً ایک سفر میں جب یہ شوہر اور بیوی ریلوے اسٹیشن پر آئے تو وہ غلطی سے دوسری گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اس طرح کے مختلف تجربات کو بیان کر کے میاں اور بیوی قہقہہ لگاتے رہے۔ ان کا یہ قہقہہ اس وقت ختم ہوا جب کہ وہ کھانے کے فراغت کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سمجھ میں آئی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : انما اخاف علی امتی کل منافق يتكلم بالحكمة ويعمل بالجور ۔ یعنی مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس منافق انسان سے ہے جو حکمت کی بات کرے مگر اُس کا عمل اُس کے خلاف ہو۔ اس حدیث میں جس انسان کا ذکر کیا گیا ہے وہ انسان مسلمانوں کے اندر بھی پائے جاتے
ہیں اور غیر مسلموں کے اندر بھی۔ میرے تجربہ کے مطابق، اس روش کے سب سے بڑے مصداق وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ زمانہ میں دانشور (intellectuals) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو ترقیاں ہوئی ہیں اُن میں سے ایک ترقی یہ ہے کہ لوگ خوبصورت الفاظ بولنے کے ماہر بن گئے ان لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اُن کے دل میں نہ درد ہوتا ہے اور نہ سنجیدگی۔ مگر وہ ایسی خوبصورت باتیں کرتے ہیں جن کو سننے والے دلچسپی کے ساتھ سنیں، اور نشر کرنے والے دلچسپی کے ساتھ اُن کو نشر کریں۔
ایک پروفیسر صاحب نے امن کی اہمیت پر تقریر کرتے ہوئے ایک عجیب بات کہی۔ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سارے جہان میں امن ہو___ آسمان میں امن، جانوروں میں امن، پیڑ پودوں میں امن اور خود امن میں امن:
We want the sky to be peaceful, the animal to be peaceful, the plants to be peaceful. We want even peace to be peaceful. شاید تقریر کی یہی قسم ہے جس کو تقریر برائے تقریر کہا گیا ہے۔ اُن کی اس تقریر میں الفاظ کی دھوم تو تھی مگر معنوی اعتبار سے اس کا کوئی مفہوم نکالنا مشکل تھا۔
۲۴ نومبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر کئی ہندو اسکالرس سے ملاقات ہوئی۔ ناشتہ حسب معمول نہایت سادہ اور صاف ستھرا تھا۔
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ مگر جو چیز غیر فطری ہے وہ یہ ہے کہ اختلاف منفی ذہنیت میں تبدیل ہو جائے اور ایک دوسرے سے دور کر دے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ چھوٹے بچے آپس میں کھیلتے ہیں تو بار باران کے درمیان وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو ہم اختلاف (difference) کہتے ہیں۔ مگر اختلاف کے باوجود ان کے باہمی تعلق میں کوئی فرق یہ بچے فطرت کے سفیر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اختلاف میں کوئی حرج نہیں۔ حرج کی بات یہ ہے کہ اختلاف آگے بڑھ کر غصہ بن جائے۔ اختلاف اس وقت تک ایک جائز انسانی فعل ہے جب
تک وہ صرف اختلاف رہے۔ مگر اس وقت وہ ایک شیطانی فعل بن جاتا ہے جب کہ اختلاف مزید بڑھ کر غصہ اور نفرت کی صورت اختیار کرلے۔
۲۴ نومبر کی صبح کے سشن میں ڈاکٹر نتین ویاس (Nitin Vyas) کا لکچر تھا۔ ان کا تعلق بڑودہ انھوں نے بدھ ازم کا فلسفہ بیان کیا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ جو میری سمجھ میں آیا وہ یہ تھا کہ بدھا کی خاص توجہ انسان کے مصائب (suffering) پر تھی۔ بدھا کا اصل موضوع انسان تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بدھا کی توجہ کا مرکز انسان تھا نہ کہ کوئی فوق الفطری وجود:
Buddha’s concern was merely man rather than any kind of supernatural being. ان کی تقریر میں غور سے سنتا رہا پھر میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ گوتم بدھ کو پیغمبر ان کا خیال ہے کہ گوتم بدھ دراصل ذوالکفل کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ مگر بظاہر یہ نظریہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے۔ گوتم بدھ کی اہمیت اس اعتبار سے یقیناً قابل قدر ہے کہ انھوں نے اخلاقی اقدار (moral values) کو پوری وضاحت اور پوری اہمیت کے ساتھ بیان کیا۔ مگر جہاں تک پیغمبری کی بات ہے وہ کم از کم موجودہ صورت میں ناقابل فہم ہے۔ پیغمبری کی ساری حیثیت یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کا نمائندہ ہے۔ خدا کے تصور کے بغیر پیغمبر کا تصور ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں گوتم بدھ اگر پیغمبر تھے تو کسی نہ کسی صورت میں ان کے یہاں خدا کا تصور ملنا چاہئے تھا۔ پیغمبر کی صورت میں یہ ناممکن تھا کہ وہ ایک بے خدا مذہب (godless religion) کے بانی بن جائیں۔
موجودہ گاندھیئن انسٹی ٹیوٹ میں ایک سادہ مگر خوبصورت ہال بنا ہوا ہے۔ وہاں میں پہنچا تو گیٹ کے باہر جوتے اور چپل نہایت ترتیب کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ اس مقصد کے لئے وہاں کوئی نگراں نہیں تھا۔ آنے والے مرد یا عورت خود ہی اپنے جوتے اتار کر ترتیب کے ساتھ رکھتے اور اندر داخل ہو جاتے۔ سامعین میں بیشتر لوگ نوجوان تھے مگر کہیں بھی شور یا قہقہہ یا زور زور سے بولنے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ حتی کہ ایک صاحب اپنا بچہ لائے تھے جو غالباً چار یا پانچ سال کا تھا۔
میں یہ بچہ اپنے ماں باپ کے ساتھ تھا۔ اندر باہر بھی آتا جاتا لیکن اس کی بھی آواز سنائی نہیں دی۔ حقیقت یہ ہے کہ گاندھین انسٹی ٹیُوٹ پورا کا پورا سائلنس کلچر (silence culture) کا نمونہ نظر آتا یہاں کے فطری ماحول میں درخت اگر غیر متحرک سکوت کا نمونہ تھے تو یہاں کے مرد اور عورت متحرک سکوت کا نمونہ۔
یہاں کا ہال جس میں اجتماع کی نشستیں ہوئیں اس کی ایک چیز خاص طور پر مجھے پسند آئی۔ کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ چاروں طرف سے دھوپ اور ہوا اس میں داخل ہو رہی تھی۔ عام دستور یہ ہے کہ ہال میں ائر کنڈیشنر لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس ائر کنڈیشننگ کی قیمت یہ ہوتی ہے کہ ہال کو چاروں طرف سے بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ ہال اس قسم کے مصنوعی اہتمام سے پاک تھا۔ وہ گویا فطرت کے ماحول میں فطری انداز پر بنا ہوا ایک خوبصورت کھلا ہوا ہال تھا۔ وہ اپنے آپ میں ایک خاموش یہ پیغام کہ فطرت کے اُسلوب پر زندگی گزارو اور زندگی میں سچا سکون حاصل کرو۔ ۲۴ نومبر کو دوپہر سے پہلے کے سشن میں وقفہ کے بعد دوبارہ ڈاکٹر نیتن ویاس کی تقریر جاری تقریر کے دوران انھوں نے ایک بات یہ کہی کہ جین ازم اور بدھ ازم دونوں اہنسا وادی ہیں۔ دونوں پرامن مذہب کی حیثیت رکھتے ہیں:
Jainism & Buddhism both are against violence. Both are peaceful religion. اس کو سننے کے بعد میں نے غور کیا کہ کیا وجہ ہے کہ جب بھی امن پسند مذاہب کی فہرست بنائی جاتی ہے تو اس میں اسلام کا نام شامل نہیں کیا جاتا۔ جب کہ اسلام میرے مطالعہ کے مطابق، سب سے بڑا امن پسند مذہب ہے۔
اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ دوسرے مذہبی نظام عدم تشدد کی تلقین مطلق معنوں میں کرتے ہیں جو غیر فطری ہے اور نا ممکن ہے۔ جب کہ اسلام بھی عدم تشدد کا مذہب ہے مگر وہ فطری حدود میں عدم تشدد کی بات کرتا ہے، نہ کہ غیر فطری حدود میں جو کہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس بنا پر
لوگوں کو ایک قسم کے مذہبی نظام میں مصنوعی خوش نمائی دکھائی دیتی ہے جب کہ دوسرے قسم کے مذہبی نظام میں انہیں یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ وہ اگر چہ امن کا پیغام دیتا ہے لیکن اس کا پیغام امن مطلق معنوں میں نہیں ہے۔
حالاں کہ یہ صرف ایک کہنے کی بات ہے۔ کیوں کہ مطلق اہنسا کا نظریہ صرف نظریہ ہے، وہ عملاً قابلِ اختیار ہی نہیں۔ موجودہ دنیا کو انسان نے نہیں بنایا ہے بلکہ اُس کا بنانے والا خدا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں وہی اصول قابلِ عمل ہے جو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ہو۔ جو اصول تخلیقی نقشہ سے مطابقت نہ کرے وہ موجودہ دنیا میں قابلِ عمل ہی نہیں۔ اس لیے وہ درست بھی نہیں۔
یہ نظریہ دراصل ماقبل سائنس دور (pre-scientific era) کی پیداوار ہے۔ پچھلے زمانہ میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ زندگی صرف انسان اور حیوان میں ہوتی ہے۔ اس لیے اُس نے مذکورہ نظریہ بنا لیا۔ اب سائنس نے بتایا ہے کہ زندگی ہر چیز میں ہے۔ پانی، دودھ، سبزی، پھل، یہاں تک کہ ہوا میں بھی نا قابلِ مشاہدہ زندگی موجود ہے۔ کوئی آدمی جب بھی ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے تو وہ بہت سی زندگیوں کو ہلاک کرتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص موجودہ دنیا میں زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت میں مطلق اہنسا کا نظریہ مان کر کوئی شخص اپنے آپ کو زندگی سے محروم تو کر سکتا ہے مگر وہ اس دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اسلام کا نظریہ ہی قابلِ عمل نظریہ ہے۔ کیوں کہ وہ ضرورت کے اصول پر مبنی ہے۔ مطلق اہنسا کا نظریہ ایک مفروضہ پر مبنی ہے اس لیے وہ قابلِ عمل ہی نہیں۔ ۲۴ نومبر کو دو پہر کے کھانے کے بعد حسب معمول کھانا شرکاء کانفرنس کے ساتھ کھایا۔ کے دوران لوگوں سے مختلف باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے مشہور قصہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ گرو نا نک نے مکہ کا سفر کیا تھا اور وہاں کی مسجد میں گئے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ قصہ سکھ لوگ ضرور بیان کرتے ہیں مگر مسلم ریکارڈ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت گرو نا نک کوئی مشہور شخصیت نہیں بنے تھے اس لئے مسلم تاریخ میں اس کا تذکرہ ہونا ضروری نہیں۔ میں نے کہا کہ مگر دوسرا
سوال یہ ہے کہ گرو نانک کے اس سفر کا مقصد کیا تھا۔ کیوں کہ سکھ روایات میں بھی ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ وہ حج کی ادائیگی کے لئے وہاں گئے تھے۔ اگر یہ مانا جائے کہ وہ حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے وہاں گئے تھے تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان تھے۔ اور اگر اس کو نہ مانا جائے تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان کے اس سفر کا مقصد کیا تھا۔ اگر یہ سفر کوئی مذہبی سفر تھا تو اس تجربہ کا ذکر اُن کی لکھی ہوئی کتاب میں ہونا جب کہ ایسا نہیں ۔ ایسی حالت میں یہی کہا جائے گا کہ سفر کا یہ قصہ محض ایک افسانہ ہے، نہ کہ کوئی واقعہ۔
۲۴ نومبر کی شام کو جب میں اپنے کمرہ میں تھا تو دو آدمی ملاقات کے لئے آئے۔ ان کے نام یہ تھے: افضال مصطفیٰ خاں (سول انجینئر) محمد اعجاز اعظمی۔ یہ دونوں واردھا میں رہتے ہیں۔ نے کہا کہ ہم آپ کو ٹی وی پر بار بار سنتے رہے ہیں اور آپ کی کچھ تحریریں بھی پڑھی ہیں۔ معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں تو ہم آپ سے ملنے کے لئے آگئے۔ انھوں نے ملت کی زبوں حالی کی بات کی۔ نے کہا کہ دوسروں کی شکایت کرنے سے کچھ فائدہ نہیں۔ آپ یہ فیصلہ کیجئے کہ خود آپ کو اس سلسلہ میں کیا کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ کام کا ایک طریقہ وہ ہے جس میں بہت جلد بیڑا اٹھا ہو جاتی ہے ۔ دیکھنے میں وہ بڑا کام نظر آتا ہے مگر اس طرح کے کام کی کوئی اہمیت نہیں۔ مؤثر اور نتیجہ خیز کام صرف یہ ہے کہ فرد فرد کو خطاب کیا جائے ۔ فرد فرد کے اندر ذہنی تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے۔ آدمی کا ذہن بنتا ہے۔ اور پھر جب زیادہ لوگوں کے ذہن بن جاتے ہیں تو وہ سماج بنتا ہے جس کو صالح سماج کہا جاتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کام کرنے میں تو بہت زیادہ دیر لگے گی۔ میں نے کہا کہ آپ جس عوامی طریق کار کو کام سمجھتے ہیں وہ تو کئی نسل سے مسلمانوں کے اندر جاری ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج بھی آپ جیسے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ابھی کام کی ضرورت ہے۔ اگر عوامی طریق کار صحیح طریق کار ہوتا تو اب اس کا نتیجہ سامنے آ جانا چاہیے تھا۔ مگر جب کہ ابھی بھی بے شمار ہنگاموں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ دکھائی نہیں دیتا تو یہ ماننا ہوگا کہ جو کام کیا گیا وہ سرے سے کام ہی نہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ آپ کے بارہ میں لوگ کہتے ہیں کہ آپ مسلم دشمن طاقتوں کے آلۂ کار ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس الزام کا ثبوت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بتاتے ہیں کہ آپ اُن لوگوں کے جلسوں میں جاتے ہیں۔ اُن کے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ حالاں کہ مسلم دشمن طاقتوں سے ہم کو دور رہنا چاہئے۔
میں نے کہا کہ یہ الزام صرف غلط فہمی پر قائم ہے۔ چوں کہ موجودہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہیں، وہ صرف قومی ذہن کے تحت سوچنا جانتے ہیں۔ اس لیے وہ ہمارے مشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ یہ ہے کہ ہمارا مشن دعوت الی اللہ کا مشن ہے۔ ہم خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانا چاہتے ظاہر ہے کہ یہ کام ’’مسلم وار تحریک‘‘ کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ مسلم وار تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کی اصلاح کا کام ہو سکتا ہے، نہ کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام۔ داعی ہر ایک کو انسان کی صورت میں دیکھتا ہے۔ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ انسانوں کو دوست اور دشمن کے الگ الگ خانوں میں تقسیم کرے۔ وہ کچھ لوگوں کو بطور خود مسلم دوست بتا کر اُن سے قریب ہو اور کچھ لوگوں کو بطور خود مسلم دشمن قرار دے کر اُن سے دور ہو جائے۔ چوں کہ موجودہ مسلمانوں کا ذہن دعوتی ذہن نہیں ہے اس لیے وہ مسلم وار تحریک کی اہمیت کو فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ اگر اُن کے اندر دعوتی ذہن ہوتا تو وہ جان لیتے کہ اس مقصد کے لیے ہمیں ہندو وار تحریک، کرسچین وار تحریک، حتی کہ یہود وار تحریک چلانا چاہئے۔ ہم نے اپنے مشن کے تحت اسلام پر تعارفی لٹریچر بڑی تعداد میں چھاپا ہم اس لٹریچر کو غیر مسلموں تک پہنچانے کی مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اس دعوتی کوشش کا ایک جزء یہ ہے کہ جب دوسرے مذہب کے لوگ کوئی پروگرام کرتے ہیں اور مجھ کو بلاتے ہیں تو میں وہاں جاتا ہوں اور موضوع کی نسبت سے وہاں اسلام کا تعارف پیش کرتا ہوں۔
یہاں میں نے جو تقریر کی ہے اُس کا ٹیپ موجود ہے۔ آپ اُس کو سنیے اور دیکھیے کہ میں نے یہاں کیا کہا ہے۔ حالاں کہ آپ جانتے ہیں کہ یہاں کے اجتماع میں سارے غیر مسلم لوگ تھے۔ ایک ہندو خاتون جو کانفرنس میں شریک تھیں انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ نماز
کیسے پڑھی جاتی ہے۔ ان کا نام کو کلّا اپادھیائے تھا۔ وہ پروفیسر ایس اے اپادھیائے کی بیوی تھیں۔ بمبئی سے آئی تھیں (Tel. 23803811)
۲۴ نومبر کی شام کو وہ میرے کمرے میں آئیں۔ میں نے وضو کیا اور ان کے سامنے دو رکعت نماز بلند آواز سے پڑھی۔ وہ بہت غور سے اس کو دیکھتی رہیں اور اس سے کافی متاثر ہوئیں۔ اسلام پر کتابیں پڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کو ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی چند انگریزی کتابیں دی اسی طرح اور بھی کئی لوگوں کو کتابیں دی گئیں۔ مثلاً ڈاکٹر نتین ویاس جو بڑودہ یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹ آف فلاسفی کے ہیڈ ہیں۔
۲۴ نومبر کی شام کو ڈاکٹر مودی سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ وہ اس گاندھیائی ادارہ کے گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ گاندھی روایات کے مطابق، خود اپنے کاتے ہوئے سوت کا کپڑا پہنتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ روزانہ صبح کو ایک گھنٹہ سوت کاتنے کا کام کرتے اس طرح ایک مہینہ کے کاتے ہوئے اس سوت سے ان کا ایک جوڑا کپڑا (کرتا اور پاجامہ) تیار ہو جاتا ہے۔ انھوں نے اپنا ماڈرن طرز کا چرچا بھی دکھایا۔ وہ اپنا کاتا ہوا سوت کھادی بھنڈار میں دے دیتے ہیں اور وہاں سے انھیں بُنا ہوا کپڑا مل جاتا ہے۔ ڈاکٹر مودی نہایت سادہ زندگی گزارتے میں نے دیکھا کہ اُن کے گھر میں ضرورت کی چیزوں کے سوا کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ گھر میں کوئی خادم بھی نہیں تھا۔ وہ اپنا ہر کام خود کرتے تھے۔ اُن کے بولنے کا انداز نرمی اور تواضع سے بھرا ہوا تھا۔ بڑائی کا کوئی احساس میں نے ان کے اندر نہیں پایا۔ اُن کے بیان کے مطابق، یہ گاندھیائی تعلیم کا نتیجہ تھا۔
مجھ کو نماز پڑھتے دیکھ کر ایک ہندو نے کہا کہ آپ لوگ مکہ مدینہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان چوں کہ اپنی عبادت کا مرکز مکہ مدینہ بنائے ہوئے ہیں، اس لئے ان کی وفاداری بھی مکہ مدینہ سے جڑی ہوئی ہے اور ان کے اندر حب الوطنی کا جذبہ صحیح معنوں میں پیدا نہیں ہونے پاتا۔ میں نے کہا کہ نماز کا قبلہ مکہ مدینہ یا عرب کا ملک نہیں ہے بلکہ کعبہ ہے جو کہ ایک
اُسٹرکچر ہے، نہ کہ جغرافی خطہ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ہندوستانی جغرافیہ کے بجائے عرب کے جغرافیہ کو اپنا قبلہ بنائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سرے سے جغرافی مسئلہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے پتھر کی ایک مسجد بنائی تھی جس کو کعبہ کہا جاتا ہے جو اب تک وہاں موجود ہے۔ قدیم سنگی اُسٹرکچر، نہ کہ کوئی جغرافی خطہ، مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ہے۔ میں نے کہا کہ وفاداری ایک الگ چیز ہے اور عبادت اُس سے الگ دوسری چیز۔ تعلق وطن سے ہوتا ہے اور عبادت کا تعلق خدا سے۔ وطن اور خدا دونوں ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ دونوں دو مختلف موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ وطن وہ زمینی خطہ ہے جہاں کوئی شخص پیدا ہوا اور وہاں زندگی گزارے۔ وطن سے محبت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر اپنے وطن کے لیے ہوتا ہے۔ ہندوستان کے ہندو ہندوستان سے وطنی محبت رکھتے ہیں مگر جن ہندوؤں کا تعلق دوسرے ملکوں سے ہے اُن کے دلوں میں ان دوسرے ملکوں کے لیے وطنی محبت پائی جاتی ہے۔ یہ ایک انسانی فطرت کا معاملہ ہے، اور اس معاملہ میں ہندو اور مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
عبادت خدا سے تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ خدا سے تعلق ایک برتر انسانی جذبہ ہے۔ اْس کا تعلق کسی ملک یا کسی زمینی خطہ سے نہیں۔ حتیٰ کہ ایک شخص چاند یا مریخ پر ہو تو وہاں بھی اُس کو خدا کی یاد آئے گی اور وہاں بھی وہ خدا کے آگے اپنا سر جھکانے کو اپنا مقدس فرض سمجھے گا۔ خدا نہ صرف کسی ملک سے بلکہ ساری زمین اور پوری کائنات سے بلند ہے۔ کعبہ سے مسلمانوں کا جو تعلق ہے وہ الگ نوعیت کا ایک تعلق ہے، وطنی وفاداری سے اْس کو مشابہت نہیں دی جاسکتی۔
مشہور صحافی مسٹر خوشونت سنگھ ہندوستان ٹائمس میں اپنا ایک ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ دلچسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ہندوستان ٹائمس کے شمارہ ۲۲ نومبر ۲۰۰۳ میں ان کا کالم اس عنوان کے ساتھ تھا:
اس میں انھوں نے بتایا تھا کہ ایک بار مشہور لیڈر مسٹر وی پی سنگھ ان کے گھر پر تھے۔ سنگھ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ خدا میں عقیدہ رکھتے ہیں (Do you believe in God) انھوں نے جواب دیا کہ نہیں (I do not) مسٹر خوشونت سنگھ نے کہا کہ پھر آپ گڈ لک چارم (goodluck charm) کے طور پر یہ انگوٹھی کیوں پہنے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہی لوگ پہنتے ہیں جو اوپر والی طاقت کو مانتے مسٹر وی پی سنگھ نے کہا کہ وہ تو میرے لڑکے نے دیا تھا اس لئے میں نے پہن لیا۔ میں نے اس واقعہ پر غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ بہت سے لوگ جو خدا کے وجود کا اعتراف نہیں کرتے مگر وہ کسی نہ کسی طور پر ایسا عمل کرتے ہیں جس سے وہ امید رکھتے ہیں کہ انھیں کامیابی حاصل اصل یہ ہے کہ خدا کے انکار کے باوجود انسان مستقل طور پر احساسِ عجز (helplessness) کا شکار رہتا ہے۔ اسی احساسِ عجز کی تلافی کے لئے وہ اس قسم کی چیزیں کرنے لگتا ہے جس کا ایک نمونہ مذکورہ واقعہ میں دکھائی دیتا ہے۔
جہاں تک مذکورہ قسم کی انگوٹھی کا تعلق ہے، وہ صرف تو ہم پرستی (superstition) کا ایک معاملہ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ خدا کے بدل کے طور پر کسی نہ کسی قسم کی تو ہم پرستی کا شکار ہو جاتے وہ اپنے عجز کی تلافی کے لیے توہم پرستانہ عقائد کا سہارا لے لیتے ہیں۔ خدا کا انکار کر کے وہ کسی غیر خدا کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں۔ یہی خدا کو نہ ماننے والوں کی عام حالت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو واردھامیں رہتے ہیں ملنے کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے مختلف باتیں کیں۔ ایک بات یہ تھی کہ آج کل کے بچے بہت ہوشیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میرا چھ سال کا لڑکا شام کو بائیسکل لے کر نکلا۔ اندھیرا شروع ہو چکا تھا اس لئے میں نے بچے سے کہا کہ دیکھو سنبھال کر بائیسکل چلانا۔ کوئی ساتھ چلنے کے لئے کہے تو اس کے ساتھ مت بچے نے جواب دیا کہ میں کوئی پاگل ہوں ۔ وہ کوئی میرا دوست ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمھارے ہی دماغ کا اسکرو ڈھیلا ہو گیا ہے۔
یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ آج کل کے زمانہ میں کس طرح بڑوں کی عزت کا تصور ختم ہو گیا
اور دوسرے یہ کہ چھ سال کے بچے نے جس انداز میں اپنے باپ کا جواب دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نئی نسل میں جو کلچر فروغ پا رہا ہے وہ آزادی کے نام پر انارکی کا کلچر ہے۔ مذکورہ صاحب نے جب اپنے بیٹے کے بارے میں یہ بات بتائی تو اُن کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے، نہ کہ درد کے آثار۔ گویا اُنہیں اس پر فخر تھا کہ میرا بیٹا اتنا زیادہ بولڈ ہے۔ کے ماں اور باپ اپنے بیٹے کی محبت میں اتنا زیادہ گرفتار ہو چکے ہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے کی ہر بات اچھی لگتی ہے۔ حالاں کہ اگر یہی بات ان کے بیٹے کے سوا کوئی اور کہے تو وہ فورا غصہ ہو کر اُس سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ میرے نزدیک یہ بیٹے کی محبت نہیں ہے بلکہ وہ بیٹے کے ساتھ یہ بیٹے کے مزاج کو بگاڑنا ہے۔ ظاہر ہے کہ بچہ جب بڑا ہو کر باہر کی دنیا میں جائے گا تو کوئی دوسرا شخص اُس کی اس قسم کی باتوںکو برداشت نہیں کر سکتا۔ اُس وقت اُس کو یا تو منافق بننا پڑے گا یا وہ لوگوں سے لڑبھڑ کر اپنے آپ کو تباہ کرلے گا۔
یہاں مختلف مقامات کے اسکالرس اور پروفیسرز آئے تھے۔ اُن کی باتیں کانفرنس کے اجلاس میں سننے کو ملیں ۔ تاہم ذاتی گفتگو کا موقع زیادہ تر کھانے اور چائے کی میز پر ہوتا تھا۔ مگر میرے جیسے آدمی کے لیے کسی گفتگو کو نتیجہ تک پہنچانا بہت مشکل تھا۔ اس لیے کہ یہ لوگ بار بار فرضی مثالوں کی زبان میں بات کرتے تھے۔ جب کہ میرے نزدیک فرضی مثال سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً دو ہندو پروفیسر سے میں نے کہا کہ عام طور پر ہندو اسکالرس کا کہنا ہے کہ ہندوازم ایک ابدی تلاش کا نام ہے۔ اس میں کوئی فل اسٹاپ نہیں۔ اس میں بس کاما ہی کاما ہے۔ میں نے پوچھا کہ ہر تلاش کی ایک منزل پھر ہندوازم کی تلاش کی منزل کیوں اب تک نہیں آئی۔ جب کہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوازم دنیا کا قدیم ترین مذہب ہے۔ حتیٰ کہ ان کے مطابق ، نامعلوم مدت سے یہ تلاش جاری ہے۔ چاہتی ہے اور یقین منزل کے بغیر کبھی نہیں آتا۔
انھوں نے اس کا جواب تمثیل کی زبان میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ چڑیا آسمان میں اڑتی ہے۔ مگر وہ کبھی آسمان کی حد تک نہیں پہنچتی۔ وہ جس دائرہ میں اڑ رہی ہے وہی گویا اس کی منزل ہے۔
جواب بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہے۔ اس لئے کہ میرا سوال فکر کے سفر کے بارے میں تھا۔ کا سفر بلا روک جاری رہنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جب کہ انھوں نے چڑیا کی مثال دی جو جسمانی سفر کی ایک مثال ہے۔ جسمانی سفر بلا شبہ محدود دائرہ میں جاری ہوتا ہے۔ مگر فکری سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے، وہ سارے کاما سے گزر کر فل اسٹاپ تک پہنچ سکتا ہے۔
۲۴ نومبر ۲۰۰۳ کا دن اسلام کے لئے خاص تھا۔ اس میں میں واحد اسپیکر تھا۔ ترتیب اس طرح بنائی گئی کہ دوپہر سے پہلے کے سیشن میں میں نے اسلام پر ایک تعارفی تقریر کی جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ دوپہر بعد کا سیشن سوال و جواب کے لئے رکھا گیا تھا۔ حاضرین کی طرف سے اسلام پر مختلف قسم کے سوالات کئے گئے جن کے میں نے جواب دئے۔
اپنی تقریر میں میں نے پہلے قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلام کا سادہ تعارف پیش کیا۔ کے بعد یہ بتایا کہ فنڈ منٹلزم وہی چیز ہے جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ (extremism) کو اسلام میں ہلاکت خیز برائی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام کے مطابق، پرامن سماج بنانے کا فارمولا کیا ہے۔
سوال و جواب کے سشن میں لوگوں نے کافی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔
ایک سوال یہ تھا کہ میڈیا کے مطابق، اسلامی مدرسوں میں ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہاں ٹررست تیار کئے جاتے ہیں۔ میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں خود مدرسہ کا ایک پروڈکٹ ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدرسہ کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ کم ازکم انڈیا میں مجھے کوئی ایسا مدرسہ معلوم نہیں جہاں مدرسہ کے نظام کے تحت ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہو۔ میں کیسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں، اس کا اندازہ مجھ کو دیکھ کر آپ کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ صرف مذہبی تعلیم کے لئے ہے۔ وہاں کے نصاب یا وہاں کے نظام کا کوئی بھی تعلق اس چیز سے نہیں جس کو آج کل ٹررزم کہا جاتا ہے۔
ایک نوجوان نے کہا کہ ہم نے کتاب میں پڑھا ہے کہ اسلام کے پیغمبر نے خود حملہ کیا اور لڑائی کی پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ایک امن پسند انسان تھے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ بات کس کتاب میں پڑھی ہے۔ وہ کسی کتاب کا نام نہ بتا سکے۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات واقعہ کے خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ خود کسی کے اوپر ان کی پالیسی ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر فریق ثانی کی طرف سے جارحیت ہو تو اپنے بچاؤ کے لئے جنگ کی جاسکتی ہے۔ آپ نے دفاعی جنگ بھی اس وقت کی جب کہ اس کے سوا کوئی اور صورت باقی نہیں رہی تھی۔ مگر جہاں تک خود اپنی طرف سے حملہ کرنے کی بات ہے تو پیغمبر نے نہ ایسا کبھی کیا اور نہ انہوں نے اس کی تعلیم دی۔
میں نے اپنی تقریر میں آغازِ اسلام کی مختصر تاریخ بتائی۔ پیغمبر اسلام کے مکی دور اور مدنی دور کا قرآن اور حدیث سے متعارف کرنے کی کوشش کی۔ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا۔ آخر میں میں نے کہا کہ اسلام کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں میں آپ اسلام کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ ایسا ہرگز نہ کریں کہ مسلمان جو کچھ کرتے ہیں اُس کو دیکھ کر سمجھ لیں کہ اسی کا نام اسلام ہے۔ دوپہر بعد کا پروگرام سوال وجواب کے لیے تھا۔ اس میں شرکاء نے اپنے اپنے سوالات اسلام کے بارہ میں پیش کیے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک سوال اور ایک جواب کے اصول پر سختی سے کاربند کسی نے بھی میرے جواب کے بعد دوبارہ سوال کرنے کی کوشش نہیں کی۔
ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان اپنے عقیدہ کے مطابق، ہندوؤں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نارمل تعلقات کیسے قائم ہو سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، ہندو یا دوسرے مذہبی گروہ کافر نہیں ہیں بلکہ وہ انسان ہیں۔ قرآن میں بار بار لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اے انسان، اور اے انسانو، کے الفاظ آئے ہیں۔ پیغمبر کے اصحاب پیغمبر کی وفات کے بعد عرب کے باہر ایشیاء اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ ہر جگہ اُنھوں نے یہ کیا
کہ وہاں کے باشندے خود اپنے آپ کو جو نام دیے ہوئے تھے وہی نام اصحاب پیغمبر نے بھی انہیں دیا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، رومی کو رومی، مجوس کو مجوس، بدھسٹ (بوذا) کو بدھسٹ، وغیرہ۔ یہی اس معاملہ میں اسلام کا طریقہ ہے۔ ہندوستان میں مختلف مذہبوں کے ماننے والے لوگ اسلام کے مطابق، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہر گروہ کو اُسی نام سے پکاریں جو اُن کا اختیار کردہ نام ہے۔ مثلاً ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی، جینی، وغیرہ۔ مسلمانوں کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ ان گروہوں کو کافر کے لفظ سے پکاریں۔ یہی اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم ہے۔
گاندھیائی سینٹر میں میری تقریر کے بعد جو سوالات ہوئے وہ زیادہ تر اسی قسم کے سوالات تھے جو دوسرے غیر مسلم اجتماعات میں کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بابری مسجد، برقعہ، مدرسوں میں عسکری تربیت اسی قسم کا تجربہ مجھے مسلمانوں کے اجتماعات میں بھی ہوا۔ مسلمانوں کے اجتماع میں جب میں تقریر کرتا ہوں اور اس کے بعد سوال کا وقفہ دیا جاتا ہے تو وہاں بھی زیادہ تر ایک ہی قسم کے سوالات کئے مثلاً بابری مسجد، فرقہ وارانہ فساد، بندے ماترم، مسلم پرسنل لا وغیرہ۔ میں نے سوچا کہ آخر لوگ یکساں قسم کے سوالات کیوں کرتے ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا راز اخبارات ہیں۔ اور غیر مسلم دونوں اخباروں کے ذریعہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ اخباروں میں عام طور پر جو باتیں آتی رہتی ہیں وہی باتیں ان کے ذہن میں ہوتی ہیں اور انہی کے بارے میں وہ سوال کرتے ہیں۔ ذہنی ارتقاء کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
۲۵ نومبر کو دوپہر سے پہلے کے سشن میں ڈاکٹر ہمنت شاہ (Hemant Shah) کا لکچر تھا۔ انھوں نے جین ازم کے فلسفہ پر اپنا لکچر دیا۔ ان کے لکچر میں تقریر کم تھی اور معلومات زیادہ۔ اپنی تقریر میں کہا کہ جین ازم کے مطابق، واحد مطلق علم یہ ہے کہ کوئی علم مطلق نہیں۔ According to Jainism, only absolute knowledge is that no knowledge is absolute. سامی مذاہب کے فلاسفر اکثر ایسی ہی بات کرتے ہیں۔ یہ بات کہنے میں تو بہت اچھی ہے مگر
حقیقت کے اعتبار سے وہ خوبصورت الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ مذہب سچائی کی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ تلاش صرف تلاش ہے تو ایسے مذہب یا ایسے فلسفۂ تلاش کی کیا ضرورت۔ پھر تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ انسان کو چشمہ میں بہتے ہوئے تنکے کی طرح چھوڑ دیا جائے اور سرے سے یہ سوچا ہی نہ جائے کہ اس تنکے کی کوئی منزل ہے یا کوئی منزل ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تلاش حق خود تلاش حق کی نفی ہے۔ کیوں کہ انسان سب سے زیادہ جس چیز کو چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ میرے لئے سچائی کیا ہے۔ جب انسان اس سب سے زیادہ مطلوب بات کو نہ جان سکے تو خود انسانی وجود عملاً بے معنی ہو جاتا ہے۔ پھر یہ بات نا قابل فہم بن جاتی ہے کہ دنیا میں انسان کے لئے مادی غذا تو بھر پور طور پر موجود ہو مگر اس کی فکری اور روحانی غذا موجود نہ ہو جب کہ فکری اور روحانی غذا ہی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انھوں نے ایک اور بات یہ کہی کہ سماج میں سارا جھگڑا اس کا ہے کہ آپ یہ مانیں کہ سچائی صرف آپ کے پاس ہے، دوسرے کے پاس نہیں۔ انھوں نے اس کے بجائے تعدد حقیقت (manyness of reality) کے نظریہ کی وکالت کی۔ نے کہا کہ جب ہم یہ مان لیں کہ دوسرا بھی برحق ہو سکتا ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہوگا : If you say that others may also be right then where is that jhagra. مگر یہ محض ایک مفروضہ ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ تعدد حقیقت پر عقیدہ رکھنے والے خود بھی آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ حتی کہ ایک دوسرے کو گولی مار دیتے ہیں۔ یہ باہمی جھگڑا کورواور پانڈو سے لے کر آج تک جاری ہے۔ تعدد حقیقت کا کوئی بھی پر چار اس جھگڑے کو ختم نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ جھگڑا ہو نہ یا جھگڑا نہ ہونے کے اسباب دوسرے ہیں۔ تعدد حقیقت یا تو حد حقیقت کے نظریات سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔
۲۵ نومبر کو دو پہر بعد کے سشن میں ڈاکٹر ہیمنت شاہ کی تقریر تھی۔ انھوں نے جین ازم کے نقطۂ نظر سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ
پیس قائم کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز برداشت (restraint) ہے۔ والے کو پیس آف مائنڈ ملتا ہے جو کہ جین ازم میں انسانی ترقی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ کہنا صحیح ہے کہ برداشت سے پیس حاصل ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کوئی برداشت کیوں کرے۔ برداشت میں کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ اور انسان چھوڑنے پر اسی وقت راضی ہوتا ہے جب کہ اس کو کوئی اس سے بڑی چیز مل رہی ہو۔ نے کہا کہ اسلام میں بھی صبر و برداشت کا اصول ہے۔ اسلام میں اس کا انعام یہ بتایا گیا ہے کہ ایسے آدمی کو ایٹرنل پیراڈائز بطور انعام ملے گی۔ مگر آپ جس چیز کو انعام بتاتے ہیں وہ صرف پیس آف انسان کا نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ آدمی صرف پیس آف مائنڈ کے نام پر اپنے مادی حقوق کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ اسلام ضبط (restraint) کی زندگی کا انعام جنت کی ایٹرنل ورلڈ کی شکل میں دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں ضبط و تحمل کی تعلیم بھی ہے اور اسی کے ساتھ ضبط و تحمل کا محرک بھی۔ جب کہ دوسرے مذہبی یا غیر مذہبی نظاموں میں یہ ہے کہ وہ ضبط و تحمل کی تلقین تو کرتے ہیں مگر وہ اس کے لیے کوئی محرک (incentive) پیش نہیں کر پاتے۔ اور محرک کے بغیر صرف تلقین کی عملی طور پر کوئی
۲۶ نومبر کو عید الفطر کا دن تھا۔ برادرم انوار اسماعیل خاں کے ساتھ واردھا کی عید گاہ میں عید کی نماز ادا کی۔ کافی مسلمان اکٹھا تھے۔ دہلی کے برعکس وہاں دھوپ کا موسم تھا۔ لوگوں نے اطمینان کے ساتھ تیز دھوپ کی حالت میں کھلے میدان میں نماز ادا کی اور نماز کے بعد سکون کے ساتھ اپنے گھروں کو چلے گئے۔
امام صاحب نے نماز اور خطبہ کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر دعا کی۔ اس میں دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ الفاظ بھی شامل تھے: (اللهم اهلك الكفرة والمشركين (اے خدا، کافروں اور مشرکوں کو ہلاک کر دے) پھر اسی دعا میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ خدایا، مسلمانوں اور ہندوؤں کے تعلقات کو بہتر
گویا انھوں نے ایک طرف جن غیر مسلموں کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش ظاہر کی انھیں کے بارے میں یہ بد دعا بھی کی کہ خدا انہیں ہلاک کر دے۔ میں نے سوچا کہ یہ تضاد کیوں۔ میری سمجھ میں آیا کہ لوگ نہ پہلا جملہ کہنے میں زیادہ سنجیدہ ہیں اور نہ دوسرا جملہ کہنے میں۔ اسی بے شعوری کا نتیجہ تھا کہ ان کے کلام میں تضاد پیدا ہو گیا۔
نماز سے پہلے اپنی تقریر میں امام صاحب نے یہ بات کہی کہ واردھا میں نماز سے پہلے عید کی نماز صرف ایک جگہ ہوتی تھی۔ اب کچھ لوگوں نے ایسے حالات پیدا کئے کہ اس سال یہاں چھ جگہ عید کی نماز ہو رہی ہے۔ انھوں نے ایسے اختلاف پسند لوگوں کے خلاف کئی ایسی حدیثیں سنائیں جن میں ان لوگوں کے خلاف سخت وعید کا انتباہ دیا گیا تھا۔ پھر امام صاحب نے کہا کہ اگر کچھ لوگوں کو مجھ سے اختلاف تھا تو انھیں چاہئے تھا کہ وہ مجھ سے مل کر معاملہ کی صفائی کریں نہ یہ کہ دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر نئی جماعتیں قائم کریں۔
میں نے سوچا کہ امام صاحب کو جن لوگوں سے شکایت ہوئی ان کے بارے میں تو وہ عمومی جلسہ میں لاؤڈ اسپیکر پر تقریر کر رہے ہیں اور جن لوگوں کو خود ان کی ذات سے شکایت ہے ان سے وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر ان سے مل کر خاموشی کے ساتھ اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ اس طرح کے تضاد میں مبتلا ہوں اُن کی نہ تقریر کا کوئی فائدہ ہے اور نہ تحریر کا۔ اس کانفرنس میں ۲۴ نومبر کا دن اسلام کے لئے خاص کیا گیا تھا۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر میں سیدھے اجتماع گاہ میں پہنچا۔ جسٹس سی ایس ادھکاری جو گاندھین انسٹی ٹیوٹ کے چئرمین ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں، وہ میری تقریر سننے کے لئے اپنا بمبئی کا پروگرام کینسل کر کے اپنی فیملی کے ساتھ رات کے وقت ناگپور پہنچے اور پھر صبح کے وقت گاندھیائی سینٹر میں آ کر پروگرام میں شرکت کی۔ جسٹس ادھکاری مہاراشٹر کی معروف شخصیت ہیں۔ وہ اپنی سادگی اور انصاف پسندی اور رواداری کے لئے مشہور ہیں۔ اس علاقہ میں عام طور پر اُن کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ سماجی فلاح کے کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ ۱۹۹۳ میں وہ ہماری اُس شانتی یاترا میں شامل تھے جس کا تفصیلی ذکر راقم
الحروف کی کتاب اسفار ہند میں آیا ہے۔ یہاں اُن کے ساتھ ان کی بیوی کے علاوہ اُن کا ایک لڑکا بھی میں نے دیکھا کہ اُن کا لڑکا جو غالباً دس سال کی عمر کا ہوگا، وہ بھی جسٹس ادھیکاری کے مزاج میں بالکل ڈھلا ہوا تھا۔
۲۶ نومبر کی شام کو میں ونو با بھاوے کے آشرم (پونار) گیا۔ یہ سیواگرام کے قریب سے ۱۱ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس آشرم میں زیادہ تر خواتین تھیں جنھوں نے ساری زندگی مجرد رہنے کا فیصلہ کیا یہاں مردوں اور عورتوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مجھے خطاب کرنے کے لئے کہا گیا۔ نے روحانیت اور انسانی خدمت کے موضوع پر تقریباً آدھ گھنٹہ خطاب کیا۔
۲۷ نومبر کی صبح کو میں ڈاکٹر مودی کے ساتھ سیواگرام گیا۔ یہ مہاتما گاندھی کا قائم کیا ہوا ادارہ ہے جو ۱۱۰۰ ایکڑ کے رقبہ میں قائم ہے۔ سیواگرام ایک گاؤں ہے۔ گوپوری اسی علاقہ میں پہلے یہ سیگا ؤں (Segaon) کے نام سے ایک چھوٹا گاؤں تھا۔ مہاتما گاندھی نے اپنا ایک مثالی گاؤں بنانے کے لئے اس کو چنا اور اس کا نام سیواگرام رکھا۔ ۱۹۳۶ میں گاندھی جی سا برمتی آشرم (احمد آباد) کو چھوڑ کر یہاں آگئے۔ سیواگرام کو انہوں نے آزادی ہند کی تحریک کا مرکز قرار دیا۔ یہاں ان کی کُٹی میں دوسرے سامانور کے ساتھ قدیم انداز کا ایک ٹیلی فون رکھا ہوا ہے جس کے ذریعہ وہ باہر کے لوگوں سے بات کرتے تھے۔ یہاں انھوں نے اپنے تصور کے مطابق، ایک ماڈل کمیونٹی بنانے کی کوشش کی۔ اس ماڈل کمیونٹی کا آدرش سادہ اور بے غرض اور سروس کی زندگی اختیار کرنا تھا۔ اگر چہ اس قسم کے دوسرے منصوبوں کی طرح وہ گاندھی کا تصوراتی گاؤں نہ بن سکا۔ مولا نا ابوالکلام آزاد گاندھی کے مشن میں شریک تھے اور مولا نا ظفر علی خاں مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ ظفر علی خاں نے مولانا آزاد کے گاندھی سے تعلق کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک نظم لکھی تھی۔ اس کا ایک مصرع یہ تھا: