Al-Risala · July 2004

Books act like soap for the mind

Al-Risala, July 2004, pp. 36–11

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک جگہ بورڈ پر لکھا ہوا تھا کہ سات سماجی برائیاں ہیں۔ اُن میں سے چار یہ ہیں: ”سیاست اصول کے بغیر، دولت عمل کے بغیر، ضمیر اخلاق کے بغیر، علم کردار کے بغیر“ واردھا (گوپوری) میں قیام کے دوران عبد السلام اکبانی صاحب سے چند بار ٹیلی فون پر بات ہوئی جو یہاں سے تقریباً ہیں کلومیٹر کے فاصلہ پر ناگپور میں رہتے ہیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، ۲۲۷ نومبر کی شام کو یہاں سے روانہ ہو کر ناگپور پہنچا۔ ناگپور میں عام خطاب کا کوئی پروگرام نہ البتہ انفرادی اور اجتماعی صورت میں لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں، مثلاً جسٹس ایم ایم قاضی صاحب اور ان کے ادارے کے لوگ، وغیرہ۔

ناگپور میں میرا قیام عبدالسلام اکبانی صاحب کے گھر پر تھا۔ وہ دعوت کا کام کرتے رہتے ان کی اہلیہ محترمہ زبیدہ خاتون لمبے عرصہ سے خواتین میں دعوت و اصلاح کا کام کر رہی ہیں۔ کے ہفتہ وار اجتماعات میں خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہیں۔ محترمہ زبیدہ خاتون سے میں نے پوچھا کہ خاندانی زندگی کو کامیاب بنانے کا راز کیا ہے۔ انھوں نے اس کا جواب صرف ایک لفظ میں دیا، اور وہ تھا صبر۔

عبدالسلام اکبانی صاحب کے آفس میں اور اسی طرح جناب عبدالغفور پاریکھ صاحب کے آفس میں نشست کے انداز میں مختصر اجتماعات ہوئے۔ اس موقع پر میں نے مسلمانوں کے موجودہ حالات کی نسبت سے کچھ باتیں کہیں ۔ ایک بات یہ تھی کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ موجودہ مسلمان

دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ اس منفی نفسیات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دعوت کا مزاج ختم ہوگیا۔ دعوت ایک ایسا عمل ہے جو محبت اور خیر خواہی کی نفسیات کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ نفرت کی نفسیات کے تحت کبھی دعوت کا عمل ظہور میں نہیں آتا۔

۲۸ نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ناگپور کی ایک مسجد میں پڑھی۔ اس سفر کے دوران میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ مسل کھنچ جانے (muscle pull) کا واقعہ تھا۔ اس کی وجہ سے میرے کولہے میں کچھ تکلیف ہوگئی۔ معتدل انداز میں چلنا اور اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوگیا۔ نے مسجد میں کچھ نماز کھڑے ہو کر پڑھی اور کچھ نماز بیٹھ کر۔

مسجد میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میری حالت دیکھ کر کہا: اب آپ چلنے پھرنے کے لئے لاٹھی استعمال کیجئے۔ یہ بظاہر خیر خواہی کا جملہ تھا مگر وہ میرے نزدیک بے حسی کا جملہ مجھے ان کا یہ جملہ پسند نہیں آیا۔ اس قسم کی فرضی خیر خواہی ہمارے سماج میں عام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اگر سچی خیر خواہی کر سکے تو کرے۔ اگر آدمی کے پاس صرف فرضی خیر خواہی کے الفاظ ہوں تو بہتر ہے کہ وہ چپ رہے۔ وہ اس حدیث رسول پر عمل کرے: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت ۔ میرے پاؤں کی مذکورہ تکلیف صرف ایک وقتی تکلیف تھی۔ خدا کے فضل سے میں پوری طرح نارمل ہو چکا ہوں۔

یہاں ایک صاحب نے میری تفسیر (تذکیر القرآن) پر عجیب و غریب تنقید کی۔ انھوں نے اس کو نہ صرف بے فائدہ بتایا بلکہ اس کو قرآن سے انحراف قرار دیا۔ اُن کے نزدیک قرآن کا صرف ترجمہ کیا جانا چاہیے ۔ قرآن کی تفسیر لکھنا ان کے نزدیک درست نہیں۔ اس عجیب و غریب نظریہ کو میں خاموشی کے ساتھ سنتا رہا۔ میں نے قرآن کی تفسیر پہلی بار نہیں کی ہے۔ ہزار برس سے لوگ قرآن کی تفسیر کرتے رہے ہیں مگر انھوں نے صرف میرے اوپر تنقید کی اور دوسرے سینکڑوں مفسرین کے بارے میں کچھ نہیں دوسری بات یہ ہے کہ خود قرآن میں بار بار ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم قرآن میں تدبر تدبر ہمیشہ بین السطور کو پڑھنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ صرف سطور کو پڑھنے کے لئے۔

رسول سے لے کر اب تک علماء امت کا یہ عمل رہا ہے کہ وہ اپنی گفتگو اور درس اور تقریر و تحریر میں قرآنی آیتوں کے بین السطور معانی کو بیان کرتے رہے ہیں۔ پھر اگر علماء امت کا یہ مسلسل عمل درست ہے تو میرا قرآن کی تفسیر لکھنا اور اس کو شائع کرنا کیوں غلط ہو جائے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ : لا تنقضی عجائبه ( قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے ) اس سے واضح طور پر صرف وہ بات مراد نہیں ہے جو ترجمہ کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ بلکہ یقینی طور پر اس میں وہ باتیں بھی شامل ہیں جو ترجمہ سے براہ راست معلوم نہیں ہوتیں بلکہ غور و فکر کر کے اس سے مستنبط کی جاتی ہیں۔ اسی کا نام تفسیر ہے اور یہ تفسیر قرآن کی ہدایت کے مطابق بھی ہے اور حدیث کی تعلیمات کے مطابق بھی۔

ناگپور ضلع کے ایک صاحب نے میرے خلاف ایک کتاب چھاپی ہے۔ اس کا نام ہے ــ وحدانیت یا وحید خانیت۔ مذکورہ صاحب اس کتاب کو مفت پھیلا رہے ہیں۔ یہاں ایک صاحب نے اس کتاب کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ اس کتاب کا نام ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ غیر علمی ذہن کے تحت لکھی گئی ہے۔ کتاب کا یہ نام استہزاء اور تنابز بالالقاب کی ایک واضح مثال ہے۔ سے مسلمانوں کے اندر یہ مزاج اتنا عام ہو گیا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ یہ طریقہ اسلام میں اسلام میں سنجیدہ اور مدلل اختلاف یقیناً جائز ہے مگر استہزاء اور تنابز بالالقاب یقینی طور پر اسلام میں جائز نہیں۔

مہاراشٹر کے سفر کے دوران ۲۷ نومبر ۲۰۰۳ کو میں ناگپور پہنچا تھا۔ ۲۹ نومبر کو دہلی کے لئے اس دوران کئی قیمتی قسم کے سبق آموز تجربے ہوئے۔ ان تجربات کی تفصیل اس سفر نامہ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ تاہم کچھ باتیں مختصر طور پر یہاں درج ہیں۔

عبدالسلام اکبانی صاحب کے ساتھ ناگپور شہر کے مختلف حصے بذریعہ کار گھوم کر دیکھے۔ اس سے پہلے بھی ناگپور دیکھا ہے مگر موجودہ مشاہدہ میں اندازہ ہوا کہ پچھلے چند سالوں میں ناگپور میں شہری اعتبار سے بہت سی ترقیاں ہوئی ہیں۔ وہاں کی سڑکیں چوڑی کی گئی ہیں۔ صفائی کا خصوصی اہتمام ہر طرف ہریالی نظر آتی ہے۔ انفراسٹرکچر (infrastructure) پہلے کے مقابلہ میں واضح طور پر بہتر

ہو گیا ہے، وغیرہ۔ اس ترقیاتی کام سے ہر فرقہ کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ ترقی کے سلسلہ میں اصل اہمیت اچھے انفراسٹرکچر کی ہوتی ہے اور ناگپور کے لوگوں کو یہی چیز حاصل ہوئی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ سارا کام ایک کمشنر نے انجام دیا ہے۔ اس نے نہایت حکمت کے ساتھ متعلقہ ذمہ داروں کو اپنے ساتھ لیا اور عوام کی تائید حاصل کی۔ اس کام کے لئے ورلڈ بینک سے مالیاتی امداد ملی اس طرح تین سال کی مدت میں ناگپور کا نقشہ بدل گیا۔ ضرورت ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر میں اسی طرح انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے۔ یہی قومی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنا چاہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کو کھلا راستہ فراہم کر دیا جائے۔

کسی ملک کی ترقی کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز اچھا انفراسٹرکچر ہے۔ بدقسمتی سے یہ ہوا کہ ۱۹۴۷ میں جن لوگوں کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار آیا وہ انفراسٹرکچر کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ تعمیر نو کے لئے سب سے زیادہ اہمیت جس چیز کو دی وہ یہ تھا کہ ملک میں سماج واد قائم کیا جائے۔ مقصد کے لئے جو تحریکیں چلائی گئیں ان کا انجام یہ ہوا کہ عوام حقوق طلب بن کر رہ گئے۔ ان میں محنت کے بجائے رعایت کا مزاج پیدا ہو گیا۔ وہ چاہنے لگے کہ حکومت انھیں روزگار دے۔ سستا سامان دے۔ کام کئے بغیر انھیں اچھی تنخواہ ملے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا سماج فرض شناس سماج نہ بن سکا، وہ بس حقوق شناس سماج بن کر رہ گیا۔

ہمارے ملک کے عوام کا یہ مزاج ترقی کے راستہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ حکومت اگر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کرے تو عوام اس کو اپنے خلاف ایک سازش سمجھ لیتے کیوں کہ انھیں نظر آتا ہے کہ جب ایسا کیا جائے گا تو ان کے لئے سرکاری ملازمت کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو محنت پر بھروسہ کرنا چاہئے نہ کہ سرکاری ملازمتوں پر۔ سوا ترقی کی کوئی اور صورت نہیں۔

پچھلے سالوں میں ناگپور اور حیدر آباد میں شہری ترقی کا کام بہت زیادہ ہوا ہے۔ مگر میں سمجھتا

ہوں کہ موجودہ طرز کا جمہوری نظام اس قسم کی ترقی کے لئے ایک غیر ضروری رکاوٹ کی حیثیت رکھتا موجودہ دنیا میں ہر ترقیاتی عمل میں ایسا ہوتا ہے کہ کم از کم ابتدا میں ایک طبقہ کو فائدہ ہوتا ہے اور دوسرا طبقہ بظاہر محروم نظر آتا ہے۔ قدیم زمانہ میں بادشاہی نظام اس بات کی ضمانت ہوتا تھا کہ’’ محروم طبقہ‘‘سر نہ اٹھائے اور ترقیاتی عمل برابر جاری رہے۔

مگر موجودہ جمہوری نظام میں ایسا نہیں ہوتا۔ چنانچہ ترقیاتی عمل کے دوران جب کوئی محروم طبقہ پیدا ہوتا ہے تو سستی لیڈری چاہنے والے لوگ محروم طبقہ کے نجات دہندہ بن کر کھڑے ہو جاتے وہ محروم طبقہ کی اکثریت کو برسر اقتدار گروہ کے خلاف بھڑکا دیتے ہیں۔ اس طرح سماج میں ایک طبقاتی کشمکش پیدا ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ترقی کا عمل ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان فرق کسی ظلم یا سازش کا نتیجہ نہیں۔ وہ فطرت کا ایک قانون ہے جو ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ حتی کہ اگر محروم طبقہ کو منظم کرنے کی سیاست چلا کر ایسا کیا جائے کہ خود محروم طبقہ سماج میں جگہ پالے تو دوبارہ خود محروم لوگوں میں دو طبقہ پیدا ہو جائے گا اور دوبارہ ایک اور دوسرے کے درمیان وہی اونچ نیچ پیدا ہو جائے گی جو اس انقلاب سے پہلے پائی جاتی تھی۔ فطرت کے نقشہ میں ایسے لازمی اسباب موجود ہیں جو ہمیشہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کی حالت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ فرق کوئی برائی نہیں بلکہ وہ ایک خوبی کی چیز دراصل یہی فرق ہے جس سے ایک انسان اور دوسرے انسان یا ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے اندر چیلنج اور مسابقت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس چیلنج اور مسابقت سے لوگوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔ لوگ مسلسل طور پر متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حال میں پیچھے تھے وہ مستقبل میں آگے ہو جاتے ہیں اور جو حال میں آگے نظر آتے تھے وہ مستقبل میں پیچھے دھکیل دئے جاتے ہیں۔ یہ زندگی کا فطری نظام ہے۔ اس نظام کو بدلنے کی کوشش ہمیشہ تباہ کن نتائج پیدا کرتی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال وہ ہے جو اشتراکی دنیا (سوویت یونین) میں پیش آئی ۔ جہاں ۷۵سال تک ہمالیائی کوششوں کے باوجود یہ ہوا کہ معاشی نابرابری تو

ختم نہ ہوسکی البتہ سماج نا قابل بیان تباہی کا شکار ہو کر رہ گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ قابل بقا (sustainable) ترقیاتی عمل صرف ایک ایسے معاشرہ میں ظہور میں آ سکتا ہے جو اتنا باشعور ہو کہ وہ اقتصادی فرق کی اس حکمت کو سمجھ سکے جو خالق نے اس کے اندر جو صرف حال کی بنیاد پر رائے قائم نہ کرے بلکہ وہ مستقبل کی بنیاد پر اپنی رائے بنائے۔ جو کل ملنے والی ترقی کے لئے آج کی بے ترقی پر صبر کر سکے۔ جو معاملات کو انسانیت کے نقطۂ نظر سے دیکھے نہ کہ محدود طور پر صرف اپنی ذات کے نقطۂ نظر سے۔

جمہوری نظام کے اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے۔ اور باشعور آدمی اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ معاملات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھے، وہ استحصالی لیڈروں کے نعروں کے فریب میں نہ آئے۔ وہ حقیقی اقتصادی منصوبہ اور جذباتی نعروں کے درمیان فرق کر سکے۔ وہ چیزوں کو ان کے ظاہر (face value) پر نہ لے بلکہ وہ ان کا تجزیہ و تحلیل کر کے گہری بنیادوں پر رائے قائم کر سکے۔

کسی سماج میں جب کوئی گہرا ترقیاتی عمل شروع کیا جائے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس کا زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں جو پہلے سے تعلیم پائے ہوئے ہوں، جنھوں نے پہلے سے ادارے قائم کر رکھے ہوں، جن کے یہاں پہلے سے صحت مند روایتیں چلی آ رہی مگر یہ صرف ایک وقتی معاملہ ہوتا ہے۔ جب ترقی کا سفر آگے بڑھتا ہے تو فطرت کے عوامل ظاہر ہوتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ترقی کے مواقع کو عام بنانا شروع کرتے ہیں۔ اس طرح جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ کھوئے ہوئے لوگ پانے لگتے ہیں اور جو لوگ پائے ہوئے ہوتے ہیں وہ کھونے والے بن

ضرورت ہے کہ ترقیاتی عمل شروع کرنے کے ساتھ ہی سماج کو باشعور بنانے کا عمل بھی شروع کر دیا جائے۔ اس کے بغیر کسی جمہوری سماج میں قابل بقا ترقی ممکن نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی ترقی صبر کی قیمت چاہتی ہے۔ خواہ فرد کی ترقی کا معاملہ ہو یا سماج کی۔

ترقی کا معاملہ، ہر ایک کو صبر کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی فرد یا کوئی سماج کسی بڑی ترقی کی منزل تک پہنچ سکے۔

میں اس سے پہلے کئی بار ناگپور گیا ہوں۔ مگر ایک بات کا مجھے اب تک اندازہ نہ ہوسکا تھا۔ بار اس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ یہ کہ ناگپور میں وہاں کے مسلمانوں کا ایک ایجوکیشنل ایمپائر موجود ہے۔ انجمن حامی اسلام کے تحت قائم شدہ بڑے بڑے تعلیمی ادارے اس کا حصہ ہیں۔ اس انجمن کے موجودہ صدر جناب جسٹس ایم ایم قاضی ہیں۔ یہ سب چیزیں بلاشبہ خوشی کا باعث تھیں۔

ناگپور کی انجمن حامی اسلام آزادی سے پہلے قائم ہوئی۔ اس انجمن کے پاس کافی زمینیں ہیں۔ پہلے اس کے تحت زیادہ کام نہ ہوسکا تھا۔ پھر جسٹس ایم ایم قاضی اس کے چیئر مین منتخب ہوئے۔ قاضی نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انھوں نے اس انجمن کو پھر سے منظم کیا۔ اس کے کاموں کو زیادہ بہتر بنایا۔ یہاں نئے ادارے اور کالج قائم کئے۔ ان ترقیوں کے بعد اب وہ ایک قسم کا تعلیمی ایمپائر بن چکا ہے۔ اس کو میں نے دیکھا۔ آج کل وہاں ایک بہت بڑا انجینئرنگ کالج تعمیر ہورہا ہے۔ ایک اور قابل ذکر چیز جو میں نے اس سفر میں پائی وہ عبدالسلام اکبانی صاحب کی فیملی تھی۔ نے پایا کہ ان کی فیملی میں ساس اور بہو جیسے جھگڑے نہیں ہیں۔ ان کی فیملی ایک پرسکون فیملی ہے۔ کی اہلیہ سے میں نے پوچھا کہ کامیاب خاندانی زندگی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ: صبر و برداشت۔ میں سمجھتا ہوں کہ کامیاب خاندانی زندگی گزارنے کے لئے یہی واحد کارگر فارمولا ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں ساس اور بہو جیسے مسئلے پیدا ہوتے ہیں یا نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پیدا ہوتے ہیں مگر ہم یک طرفہ خاموشی سے اُس کو ختم کر دیتے ہیں۔

ایک انگریزی تعلیم یافتہ خاتون سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی ازدواجی زندگی ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ اس کی کوئی مثال بتائیے۔ انھوں نے بتایا کہ کل ایسا ہوا کہ میں اپنا کپڑا پریس کرنے لگی۔ میں ہمارے شوہر کا کمپیوٹر رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے کمپیوٹر میں مشغول تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ اس

وقت میں اپنے کمپیوٹر پر کام کر رہا ہوں تم دوسرے کمرہ میں جا کر اپنا کپڑا پریس کر لو۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے اوپر اپنا حکم چلا رہے ہیں۔ وہ مجھ کو اپنا تابع بنالینا چاہتے ہیں۔ میں نے دوسرے کمرہ میں جانے سے انکار کر دیا۔ اس پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔

میں نے خاتون سے کہا کہ اس واقعہ میں تمام تر آپ کی غلطی ہے۔ آپ کو دوسرے کمرہ میں جا کر پریس کرنا چاہئے تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں اس طرح ہر موقع پر اپنے شوہر کی بات مانتی رہوں تو وہ مجھ کو ڈورمیٹ (doormat) بنا دے گا۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ نفسیات کو نہیں جانتیں۔ اس موقع پر اگر آپ اپنے شوہر کی بات مان لیتیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کے شوہر کے دل میں آپ کی عزت بڑھ جاتی۔ آپ دونوں کے درمیان تعلقات زیادہ خوشگوار

زبیر احمد اکبانی ناگپور کے ٹمبر مرچنٹ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے کاروبار کو مینیجیبل لمٹ (انتظامی حد) کے اندر رکھیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب سے ہم نے یہ فیصلہ لیا ہے ہم کو ذہنی سکون بھی ملا ہے اور کاروباری ترقی بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فارمولا ہر کاروباری آدمی کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی ناکامی کا راز یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی حد کو نہیں وہ اپنے کام کو اتنا زیادہ بڑھا لیتے ہیں جو ان کی مینچیبل لمیٹ (manageable limit) سے باہر یہ اصول ہر جگہ مطلوب ہے، تجارتی معاملات میں بھی اور غیر تجارتی معاملات میں بھی۔ عبدالسلام اکبانی صاحب کے گھر پر میں نے دیکھا کہ ایک دیوار پر یہ قرآنی آیت لکھی

هذا من فضل ربی ليبلونی ء اشکر أم اكفر (النحل ۴۰) میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر لوگ جب گھر بناتے ہیں تو وہ اپنے گھر پر اس آیت کا صرف ایک حصہ (هذا من فضل ربی) لکھتے مگر یہاں اس کے برعکس پوری آیت لکھی ہوئی تھی۔ میں نے کہا کہ آیت کا صرف ایک حصہ لکھنا قرآن کے اصل مفہوم کو واضح نہیں کرتا۔ قرآن کے مطابق، گھر یا مادی نفع جو اس دنیا میں کسی کو ملتا ہے وہ

نوازش کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ جانچ کے طور پر ہوتا ہے۔ اس دنیا میں ہر مادی چیز امتحان کا ایک پرچہ اُس کے ذریعہ خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آدمی اُس کو پا کر خدا کا شکر گزار بنایا وہ سرکش ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان پر خدا کا یہ سب سے بڑا حق ہے کہ وہ ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اُس پر اُس کا شکر ادا کرے۔ جو آدمی دل سے خدا کا شکر ادا کرے وہ امتحان میں کامیاب ہوا اور جس کے دل میں شکر کا جذبہ نہیں اُمڈا وہ اپنے امتحان میں ناکام ہو گیا۔ میرے تجربہ کے مطابق، جناب عبد السلام اکبانی صاحب کا گھر وہ گھر تھا جہاں میں نے لوگوں کی زبان پر شکر کا چرچا پایا۔ افراد خانہ کے اندر یہ زندہ شعور موجود تھا کہ اگر نہ ملے ہوئے کو پانا چاہتے ہو تو پہلے ملے ہوئے پر دینے والے کا شکر ادا کرو۔ شکر دراصل مزید عطیہ کے لیے استحقاق کی حیثیت رکھتا ہے۔

۲۹ نومبر ۲۰۰۳ کو ناگپور سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ سفر آندھرا پردیش ایکسپریس کے ذریعہ طے ہوا۔ میرے کیبن میں ایک ریلوے افسر سفر کر رہے تھے۔ ابتدا میں وہ مجھ سے بالکل بے تعلق رہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک مغرور آدمی ہیں۔ مگر جب انہوں نے مجھ کو قریب سے دیکھا اور میری چند باتیں سنیں تو وہ بالکل بدل گئے اور مجھ سے نہایت تواضع کے ساتھ پیش ۳۰ نومبر کی صبح کو میں دہلی پہنچا۔

عورت: معمارِ انسانیت ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہورہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج(The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: دی اسپرچول میسیج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ -/165 روپے خط و کتابت کا پتہ ہے:

302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323

حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں مگر آدمی انتظار نہ کرنے کی وجہ سے منفی سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

Printed page