امتحان کے لیے
Al-Risala, August 2004, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
امتحان ہال میں طالب علم کو بہت سی چیزیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ بلڈنگ ، میز، کرسی، ملازم کاغذ اور بہت سی دوسری چیزیں ۔ وہ بلا روک ٹوک ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔ وہ آزادانہ طور پر ان کے درمیان اپنی نشست پر بیٹھتا ہے۔
بلڈنگ اس کو سردی اور گرمی سے بچاتی ہے۔ میز اور کرسی اس کو آرام کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔ کاغذ اور دوسرے سامان اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہے ان کو استعمال کرے اور جو چاہے کاغذ کے صفحہ پر ختم کرے۔
مگر یہ سب کچھ جو طالب علم کو ملتا ہے وہ امتحان کے طفیل میں ملتا ہے۔ وہ صرف اس وقت تک کے لیے اس کا ہے جب تک امتحان کی مدت پوری نہ ہو جائے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوتی ہے اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جاتا ہے جو اس کو اب تک بے روک ٹوک ملا ہوا تھا، جو دیکھنے والوں کو اس کا ذاتی اثاثہ دکھائی دے رہا تھا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ دنیا میں انسان کا ہے۔ یہاں آدمی کو بظاہر بہت سی چیزیں ملی وہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جس طرح چاہے یہاں رہے اور جس طرح چاہے اپنی ملی ہوئی چیزوں کو استعمال کرے۔
مگر یہاں جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ سب امتحان کے طفیل میں ہے۔ خدا موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان لے رہا ہے۔ اور اس امتحان کے تقاضے کے تحت وہ بہت سی ضروری چیزیں انسان کو دے دیتا ہے۔ مگر یہ آدمی کے پاس صرف اس وقت تک ہے جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہو جائے ۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک اس سے سب کچھ چھین جائے گا۔ وہ آدمی جو آج بن ٹھان کر سب کچھ پائے ہوئے ہے وہ اس وقت بالکل بے کچھ ہو جائے گا۔ اس دن وہ اس مسافر کی طرح ہوگا جس کو اچانک لتق و دق صحرا میں ڈال دیا جائے۔ وہ اس انسان کی طرح ہوگا جس کو لامتناہی حلا میں بالکل بے سہارا چھوڑ دیا جائے ۔
موجودہ حالت اور اگلی حالت کے درمیان صرف موت کی غیر مرئی دیوار حائل ہے۔
ابن مریم وآتيناه الانجيل وجعلنا فی بھیجے اور انھیں کے نقش قدم پر عیسی بن مریم قلوب الذين اتبعوه رافتہ ورحمة کو بھیجا اور ہم نے اس کو انجیل دی۔ ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم الا لوگوں نے اس کی پیروی کی ان کے دلوں میں ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق ہم نے شفقت اور رحمت رکھ دی۔ رعايتها کو مسیحیوں نے خود نکالا، ہم نے اس کو ان پر (الحدید ۲۷) نہیں لکھا تھا۔ ہم نے ان کے اوپر صرف اللہ کی رضا چاہنا فرض کیا تھا۔ پھر انھوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی۔
اس آیت میں رہبانیت سے مراد یہ ہے کہ آدمی خدا کے نام پر دنیا کو چھوڑ دے۔ علیہ السلام کی تعلیمات وہی تھیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں۔ مگر حضرت مسیح کے دوسو سال بعد ان کے پیروؤں میں بگاڑ آگیا۔ ان کا ایک طبقہ رہبانیت میں پڑ گیا۔ وہ لوگ دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلے گئے اور دنیوی چیزوں سے بے تعلق ہو کر شدید قسم کی مشقت برداشت کرنے تفصیل کے لیے انسائیکلو برٹانیکا ، جلد ۱۲، مقاله (Monasiticism) ان کا یہ ترک دنیا مذہب کے معاملہ میں غلو اور تشدد سے پیدا ہوا۔ ان کو زہد کی تعلیم دی گئی تھی جس کا مطلب نفسیاتی زہد تھا۔ مگر انھوں نے نفسیاتی زہد کے حکم کو جسمانی زہد کا حکم قرار ان سے کہا گیا تھا کہ دنیا میں مشغول ہو مگر دنیا کو مطلوب و مقصود نہ بناؤ۔ مگر انھوں نے مطلوبیت دنیا کی نفی کو مشغولیت دنیا کی نفی کے ہم معنی سمجھ لیا۔ یہی ہے حکم خداوندی کی صحیح رعایت نہ کرنا۔ مومن انسانوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے مگر اس کی توجہ خدا کی طرف لگی رہتی ہے۔ مادی کام میں مشغول دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس کا ذہن روحانی سطح پر سرگرم رہتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو آخرت میں بسیرا لیے ہوئے ہو۔