Al-Risala · August 2004

دو بول

Al-Risala, August 2004, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ امام بخاری کی صحیح کو پڑھنا شروع کریں تو جب آپ اس کے خاتمہ پر پہنچیں گے تو آخر میں آپ کو یہ حدیث لکھی ہوئی ملے گی :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ قَالَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عليه ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم . كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ وسلّم نے فرمایا۔ دو بول خدائے مہربان کو محبوب خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِسَانِ ثَقِيلَتَانِ في المِيرَانِ ہیں۔ وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر قیامت کی میزان سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ پر بھاری ہیں۔ وہ بول ہیں : سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم - اس میں شک نہیں کہ یہ دونوں بول زمین و آسمان کی تمام چیزوں سے زیادہ وزنی ہیں۔ میں اعمال کے ترازو کو جھکا دینے والے ہیں۔ مگر ان بولوں کی یہ اہمیت ان کے تلفظ میں نہیں ہے بلکہ ان کی حقیقت میں ہے ۔ وہ اس لیے ہے کہ وہ جس معنویت کا اظہار ہیں وہ معنویت اپنی اہمیت میں تمام چیزوں سے بڑھی ہوئی ہے۔

یہ دونوں بول در اصل معرفتِ خداوندی کے بول ہیں۔ ایک شخص کو ایمان کی معرفت حاصل اس نے اللہ کی پاک ہستی کا ادراک کیا۔ اس نے دیکھا کہ کائنات اپنے ان گنت کرشموں کے ساتھ اس کی حمد میں نغمہ سنج ہے۔ اس نے اپنے اندر اور اپنے باہر خدا کی عظمت و جلال کی نشانیاں دیکھیں۔ اس معرفت نے اس کے سینہ میں حمد الہی اور اعترافِ خداوندی کا طوفان برپا کر دیا۔ وہ بے اختیار پکار اٹھا کہ خدایا تو پاک ہے۔ ساری حمد تیرے لیے ہے۔ سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اس کی زبان پر بے اختیار یہ کلمات جاری ہو گیے کہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهُ الْعَظِيمُ - اس طرح کا ایک بول محض ایک انسانی بول نہیں ۔ وہ خدا کی بے پایاں عظمتوں کا انسان کی زبان سے اظہار ہے۔ وہ تمام مادزن چیزوں سے زیادہ با وزن ہے ۔ وہ بلاشبہ اسی قابل ہے کہ جس پلڑے میں رکھا جائے اس پلڑے کو جھکا دے۔

Printed page