Al-Risala · August 2004

تو بہ کا کرشمہ

Al-Risala, August 2004, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ــــ مگر جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (الفرقان - ۷۰) سیّات کا حسنات بن جانا کوئی پُر اسرار واقعہ نہیں، یہ ایک معلوم نفسیاتی حقیقت ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک شخص جس کے اندر انسانی جوہر موجود ہو، اس سے جب برائی کا کوئی فعل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد اس کا ضمیر نہایت شدت کے ساتھ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کی روح آخری حد تک تڑپ اٹھتی ہے۔ طرح اس کی برائی اس کے لیے بھلائی کا محرک بن جاتی ہے۔ ماضی کی غلطی کو نہ دہرانے کا احساس اس کے مستقبل کو شاندار طور پر درست کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس نفسیاتی معامل کی ایک نہایت واضح مثال حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔

۹۳ ھ میں عمر بن عبدالعزیز اموی حکومت کی طرف سے مدینہ کے گورنر تھے۔ ان کو دمشق سے خلیفہ الولید کی یہ تحریری ہدایت ملی کہ حُبیب بن عبداللہ بن الزبیر کو پچاس کوڑے مارو اور سخت جاڑے کے موسم میں ان کے سر پر ٹھنڈا پانی بہاؤ اور ان کو مسجد کے دروازہ پر کھڑا کر دو۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس حکم پر عمل کیا۔ اسی دن حبیب کا انتقال ہو گیا۔ حبیب کی موت کے بعد عمر بن عبدالعزیز کو خوفِ خدا کا شدید احساس ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے کو غیر مامون سمجھنے لگے۔ ان کا حال یہ ہو گیا کہ اگر ان کو ان کے کسی کارِ خیر پر آخرت کے انعام کی بشارت دی جاتی تو وہ کہہ اٹھتے کہ کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے جب کہ حبیب میرے راستہ میں ہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ کہتے کہ ایسا تو جب ہو گا جب حبیب میرے راستہ میں حائل نہ ہوں۔ پھر وہ اس عورت کی طرح چیخ پڑتے جس کا بچہ گم ہو گیا ہو۔ جب ان کی تعریف کی جاتی تو وہ کہتے کہ اگر میں حبیب سے بچ گیا تو میں بھلائی پر ہوں۔ اس واقعہ کے بعد وہ آخر عمر تک غم اور خوف میں مبتلا رہے۔ انھوں نے عبادت اور گریہ و زاری کی انتہا کر دی۔ (البدایہ والنہایہ ۷۸/۹) اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ ان کی طرف سے ایک لغزش تھی۔ اس کے سبب سے ان کو بہت بھلائی ملی۔ یعنی عبادت اور گریہ و زاری اور غم اور خوف اور احسان اور عدل اور صدقہ اور نیکی اور غلاموں کو آزاد کرنا، وغیرہ ۔

Printed page