قناعت واحد حل
Al-Risala, August 2004, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے موجودہ دنیا کے نظام کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کسی کو بھی تمام چیزیں نہیں مل سکتیں، خواہ وہ بڑا آدمی ہو یا چھوٹا آدمی۔ ولکم فيها ما تشتهى انفسكم (فصلت ۳۱) کی دنیا کسی کو صرف اگلی زندگی میں جنت میں مل سکتی ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی ہر مطلوب چیز کو پالے، اس کی ہر خواہش پوری ہو جائے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی مایوسی (frustration) کا شکار نظر آتا ہے، ہر آدمی ذہنی تناؤ میں مبتلا اس کا سبب یہی ہے۔ آدمی کو سو میں سے ننانوے چیز مل جائے اور صرف ایک چیز نہ ملے تب بھی وہ پریشان رہتا ہے۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے سو چیزوں سے کم پر راضی نہیں ہوتا اور فطرت کے قانون کے مطابق سو چیز اس کو کبھی نہیں ملتی۔ خواہش اور واقعہ کے درمیان اسی تضاد نے تمام لوگوں کو ذہنی سکون سے محروم کر رکھا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ الهکم التکاثر کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں۔ آپ کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن جائے گی۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے اور وہ قناعت ہے۔ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آپ کو ملے اس کو آپ فطرت کی تقسیم کا نتیجہ سمجھ کر اس پر راضی حرص کا مطلب فطرت کی تقسیم پر راضی نہ ہونا ہے۔ اس کے مقابلہ میں قناعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کی تقسیم پر راضی ہو جائے۔ ذہنی سکون اور ذہنی بے سکونی کا سبب تمام تر یہی ہے۔ آدمی اگر جان لے کہ جو کچھ ہوا وہ فطرت کے قانون کے تحت تھا، وہ انسانی ظلم کی بنا پر نہ تھا، تو وہ غیر ضروری پریشانیوں سے بچ جائے۔
یہی بات ایک حدیث رسول میں اس طرح کہی گئی ہے: قد افلح من أسلم و رزق كفافاً و قنعه الله بما آتاه (مسند احمد، جلد ۲، صفحه ۱۶۸) یعنی وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اسلام کو اپنایا اور اُس کو بقذر کفاف رزق ملا۔ اور اللہ نے اس کو اُس پر قانع بنا دیا جو اُس نے اِس کو دیا۔