Al-Risala · August 2004

سب سے زیادہ مبغوض چیز

Al-Risala, August 2004, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

نوائے وقت کے شمارہ (۷ مئی ۲۰۰۴) میں ایک مضمون ’’فکر و عمل کی گھڑی‘‘ کے عنوان کے اس مضمون میں پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ کا یہ خیال نقل کیا گیا تھا کہ جنرل بیگ کے مطابق، دوسری عالمی جنگ بیسویں صدی کا ایک عظیم واقعہ ہے۔ اس تاریخی سانحہ نے جتنا اس دنیا کو بدلا ہے کسی اور واقعہ نے نہیں بدلا۔ دوسری جنگِ عظیم کے طفیل دنیا میں مسلم ملکوں کی تعداد تین سے بڑھ کر ستاون ہو گئی۔

یہ بات بطور واقعہ درست ہے۔ آزاد مسلم ملکوں کی اسی کثرت کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسلم ملکوں کی تعداد کسی بھی دوسرے گروپ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ مگر مضمون نگار (کے ایم اعظم) نے اس نقطۂ نظر پر شک ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ (آج یہ صورت حال ہے کہ) ہر طرف مسلمان ہی لڑرہے ہیں۔ ہر جگہ مسلمان ہی شہید ہورہے ہیں۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ہر طرف مسلمان ہی مارے جارہے ہیں۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہر طرف مسلمان ہی اپنے آپ کو مردار ہے ہیں۔ آج کل نام نہاد مجاہدین کے ساتھ مختلف مقامات پر جو کچھ پیش آ رہا ہے وہ یقینی طور پر جہاد نہیں ہے بلکہ وہ ’’آبیل مجھے مار‘‘ کا واقعہ ہے۔ حدیثِ رسول کی خلاف ورزی ہے کہ : لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية (تم خود دشمن سے مد بھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ تم اللہ سے ہمیشہ عافیت مانگو)۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان اس حدیث کو تو جانتے ہیں کہ : أبغض الحلال الى الله الطلاق ۔ مگر ان مسلمانوں کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ کے نزدیک طلاق سے بھی زیادہ مبغوض چیز جنگ ہے۔ مسلمانوں کی روش پر تنقید کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر نے بجا طور پر فرمایا تھا کہ اصحابِ رسول نے جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ کی، اور تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ نئے عنوان کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتی اور نسل کو ہلاک کرے۔ حالانکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ فساد کا الٹا صلاح ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد اور صلاح کا معیار کیا ہے۔ کس طرح دونوں کو الگ الگ پہچانا جا سکتا ہے۔ وہ معیار نتیجہ (result) ہے۔ آیت کے مطابق ، وہ عمل فساد ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ انسانی سماج میں تخریبی سرگرمی بڑھے۔ زراعت اور اقتصادیات میں تباہی آئے ۔ انسانی جانیں قتل ہونے لگیں۔ سماج میں امن کی جگہ بدامنی پیدا ہو جائے۔ عمل فساد ہے جو انسانی سماج میں اس قسم کا منفی نتیجہ پیدا کرے خواہ بظاہر اُس کو جہاد کے مقدس نام سے شروع کیا گیا ہو۔

اس کے مقابلہ میں وہ عمل صلاح و فلاح کا عمل ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ زمین کے اوپر مثبت سرگرمیاں جاری ہوں۔ جس کے نتیجہ میں زراعت و باغبانی ترقی کرے، جس کے ذریعہ اقتصادیات کو فروغ حاصل ہو، جس کے نتیجہ میں لوگوں کی جانیں محفوظ ہوں اور صحت عامہ (health sciences) کو ترقی حاصل ہو، جو انسانوں کے درمیان دوری کو ختم کر کے اُنہیں ایک دوسرے سے قریب

خدا کی نظر میں جنگ سب سے زیادہ مبغوض چیز ہے، اور امن سب سے زیادہ پسندیدہ چیز۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جنگ کے ماحول میں نفرت اور تشدد کو پھیلاؤ ملتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں امن کے ماحول میں محبت اور تعمیر و ترقی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

ایک ایسا اقدام جس کا نتیجہ تخریب کی صورت میں نکلے، وہ اسلام میں بلاشبہ ایک غیر مطلوب اگر کوئی شخص اپنی بے شعوری کی بنا پر اس قسم کا اقدام کرے تو اقدام شروع کرنے کی حد تک اُس کو معذور قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر ایسے کسی عمل کو مزید جاری رکھنے کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں۔ کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ تخریبی نتیجہ نکلنے کی صورت میں فوراً ہی یوٹرن لے کر وہ اپنے اقدام کو روک دے اور اپنی سابقہ حالت کی طرف واپس چلا جائے۔

Printed page