Al-Risala · August 2004

سید جمال الدین افغانی

Al-Risala, August 2004, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

روزنامہ نوائے وقت کا شمارہ ۷ مئی ۲۰۰۲ دیکھنے کو ملا۔ اس میں ایک مضمون سید جمال الدین افغانی کے بارہ میں تھا۔ اس کے لکھنے والے ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی تھے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سید جمال الدین افغانی جب مصر آئے تو یہاں ان کا بہت استقبال کیا گیا۔ یہاں وہ تقریباً ۹ سال تک “ قاہرہ کے زمانہ قیام میں انھوں نے جامعہ الازہر میں فقہ، حدیث، فلسفہ اور تصوف پر لیکچر دینا یہ لیکچرز انتہائی ذوق و شوق سے سنے جاتے اور ایک ایک لفظ قلم بند کیا جاتا۔ الدین افغانی قدیم علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی بنیادی باتوں سے بھی طلبہ کو روشناس کراتے۔ انقلابی اقدام کے باعث بعض قدامت پرست علماء ناک بھوں چڑھاتے اور ان کی جدت پسندی کو بدعت سے تعبیر کرتے۔ مثلاً جغرافیہ کا لیکچر دیتے وقت سید جمال الدین افغانی گلوب (globe) کا استعمال کرتے اور اس کے ذریعہ طلبہ کو سمجھاتے۔ یہ چیز ان علماء کے لئے بالکل نئی تھی۔ تا ہم وہ علامہ کی علمی عظمت کے سامنے خاموش رہتے اور یہ بدعتیں برداشت کر لیتے“۔

سید جمال الدین افغانی ۱۸۳۸ میں اسعد آباد میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۷ میں ان کی وفات اُس زمانہ میں مسلم علماء کا حال کیا تھا، اُس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں ملتی ہے۔ میں مسلم علماء کی فکری محدودیت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ وہ گلوب جیسی چیز کے تعلیمی استعمال کو بھی ایک بدعت سمجھتے تھے۔ حالاں کہ جغرافیائی گلوب جیسی چیز کا بدعت سے کوئی تعلق نہیں۔ بدعت دراصل تعبدی امور میں نئی چیز نکالنے کا نام ہے۔ جہاں تک دنیوی امور (مثلاً جغرافی گلوب) کا تعلق ہے وہ ضروریاتِ انسانی کے تابع ہے۔ ان معاملات میں جو چیز بھی انسان کے لیے مفید ہو اس کو اختیار کرنا عین جائز ہوگا۔

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ سید جمال الدین افغانی نہایت ذہین آدمی تھے۔ زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے بہت سے ملکوں کا سفر کیا تھا۔ مگر اس تمام مطالعہ اور مشاہدہ کا نتیجہ صرف

یہ نکلا کہ وہ انگریزوں کے دشمن بن گئے جو اس زمانہ میں نو آبادیاتی توسیع کے گویا امام بنے ہوئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس مقصد کے لیے وقف کردی کہ وہ مسلم دنیا سے انگریز کے سیاسی کنٹرول کا خاتمہ کردیں۔ منفی سوچ کسی گہری حقیقت کو سمجھنے میں مانع بن جاتی ہے۔ اس اصول کی ایک واضح مثال سید جمال الدین افغانی ہیں۔ وہ نو آبادیاتی دور کے مثبت پہلو کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ یہ قانون فطرت کا ایک معاملہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی سیاسی وسیعات کا دور شروع ہوا جو کئی صدی تک جاری رہا۔ یہ اس دور کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) تھا جس نے دنیا کو جھنجھوڑ اور اس کو تہماتی دور سے نکال کر فکری آزادی کے دور میں پہنچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزار سال پہلے اگر مسلمانوں کی سیاسی وسیعات کا واقعہ پیش نہ آتا تو دنیا بند ماحول سے نکل کر کھلے ماحول تک نہ پہنچتی۔ اسی طرح نشأۃ ثانیہ (renaissance) کے بعد مغرب کی نو آبادیاتی توسیع کا جو دور شروع ہوا وہ بھی فطرت کی اسکیم کے مطابق تھا۔ دوبارہ یہ ایک شاک ٹریٹمنٹ تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کوروایتی دور سے نکال کر اس کو سائنسی دور میں پہنچایا جائے۔ فطری قانون کے زور پر یہ کام بہر حال انجام پایا۔ مگر جہاں تک مسلم رہنماؤں کا تعلق ہے وہ فطرت کی اس اسکیم سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ انتہائی بے خبری اور بے شعوری کے تحت ان مغربی طاقتوں سے نفرت کی اور ان کے خلاف ایک بے معنی جنگ چھیڑ دی۔ یہ جنگ فطرت کی اسکیم کے خلاف تھی۔ چنانچہ وہ حبط اعمال کا شکار ہوگئی۔ مال کی بے شمار قربانیوں کے باوجود اس کا کوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ مزید عبرت کی بات یہ ہے کہ انہی مغربی قوموں کی بنائی ہوئی دنیا میں جا کر آج کی مسلم نسلیں ہر قسم کے مادی فائدے حاصل کررہی ہیں۔ جب کہ ان کے باپ اور دادا ان مغربی قوموں کو اسلام کا دشمن بتاکر اس کو ایمان کے منافی سمجھتے تھے کہ ان سے کسی قسم کی قربت یا تعاون کیا جائے۔ غلط رہنمائی کی جو مثال موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے پیش کی ہے اس کی کوئی دوسری مثال پوری انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ اس قسم کی غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی کا انجام اولاً تباہی ہوتا ہے اور آخر میں منافقت۔

مجھے اپنی نوجوانی کی عمر کا تجربہ یاد آتا ہے۔ اتر پردیش میں ہمارے گاؤں کے قریب سے ریلوے لائن گزرتی تھی۔ یہ ریلوے لائن میری پیدائش سے پہلے ۱۹۰۱ میں انگریزوں نے بچھائی تھی۔ اُس وقت وہ میٹر گیج تھی جواب براڈ گیج ہو چکی ہے۔ یہ ریلوے لائن ہمارے گاؤں سے اتنا زیادہ قریب تھی کہ وہ ہمارے گھر کی چھت سے دکھائی دیتی تھی۔ رات کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بہت سے روشن ڈبے سیٹی بجاتے ہوئے زمین پر دوڑ رہے ہیں۔

ریلوے لائن کا یہ واقعہ اس بات کا ایک مظاہرہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں ایک نیا علم وجود میں آیا ہے جس کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ غیر متحرک مادہ کو متحرک سواری میں تبدیل کیا جا سکے۔ مگر مجھے یاد ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے میں اس حقیقت سے شعوری طور پر آگاہ نہ ہو سکا تھا۔ کیوں کہ اس وقت کے لیڈروں اور رہنماؤں نے مجھے صرف یہ بتایا تھا کہ یہ ریلوے لائنیں دراصل لوہے کی زنجیریں ہیں جن کے ذریعہ انگریز ہم کو اپنی غلامی میں جکڑ دینا چاہتا ہے۔

۱۹۴۷ کے بعد جب میں نے براہ راست جدید علوم کا مطالعہ کیا۔ اُس وقت میں نے یہ دریافت کیا کہ ریلوے کا نظام اس بات کی ایک علامت ہے کہ جدید انسان نے کس طرح نیچر کی طاقتوں کو دریافت کیا ہے اور اس کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے میری اس بے خبری کا نتیجہ صرف یہ تھا کہ اُس وقت کے رہنماؤں کی تقریروں اور تحریروں میں میرے لیے صحیح رخ پر سوچنے میں رکاوٹ بن گئیں۔

قوموں کو بنانے والے دراصل اُن کے رہنما ہوتے ہیں۔ رہنما حالات کا جس طرح مطالعہ کرتے ہیں اُسی طرح عوام اُن کا مطالعہ کرتے ہیں۔ عوام کی سوچ ہمیشہ اپنے رہنماؤں کی سوچ کے تابع بہت کم ایسے خوش قسمت لوگ دنیا میں پیدا ہوئے ہیں جو رہنماؤں کی باتوں سے اوپر اٹھ کر جو خود اپنے مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعہ اپنی سوچ کا نقشہ بنائیں۔

Printed page