Religions in the Indic Civilisation
Al-Risala, August 2004, pp. 41–47
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کانفرنس سنٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیویلپنگ سوسائٹیز، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار دی ہسٹری آف ریلیجنس اور انڈیا انٹر نیشنل سنٹر کے تعاون سے کی گئی۔ ۲۱ دسمبر کے سشن میں اس کا موضوع تھا: مختلف مذاہب میں خدا کا تصور۔ میں صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ پروگرام کے مطابق، انہوں نے گاڈ ان اسلام (God in Islam) کے موضوع پر آدھ گھنٹہ خطاب کیا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا گیا کہ خدا کا تصور اسلام میں کیا ہے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔ اس کانفرنس میں انڈیا یا اور باہر کے تقریبا ۵۰۰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ خواہش مند افراد کو انگریزی کتابیں برائے مطالعہ دی گئیں۔
رام کرشنا مشن (نئی دہلی) میں ۲۶ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اُس کا موضوع تھا: انٹر ریلیجس فیلوشپ (Inter-Religious Fellowship)۔ دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور وہاں اسلام کے نقطۂ نظر سے مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اُس کی تمام تعلیمات امن اور انسانیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ وحدیث کے دوسرے حوالوں کے علاوہ انہوں نے ایک مسنون دعا سنائی اور اس کا انگریزی ترجمہ بتایا جس کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ وہ دعا یہ ہے: اللهم انت السلام و منك السلام واليك يرجع السلام، حينا ربنا بالسلام و ادخلنا دارك دار السلام تباركت ربنا و تعالیتا يا ذا الجلال والاكرام ۔ یہ پورا پروگرام انگریزی
ای ٹی وی (Enadu T.V) کے اسٹوڈیو (Noida) میں ۲۸ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ٹی وی انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ یہ آدھ گھنٹہ کے لیے تھا۔ اُس میں سوال و جواب کی صورت میں ’’حج کی حقیقت‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا گیا۔ آخر میں ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حج کے سلسلہ میں گورنمنٹ کی سبسڈی میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ تمام مسلم ملکوں میں حاجیوں کو سفر حج پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ نے اس کو درست مانا ہے۔ اس طرح سبسڈی موجودہ زمانہ میں ایک عرف بن چکی ہے۔ اس عرف کے مطابق، انڈیا کی گورنمنٹ اگر حاجیوں کو سبسڈی دیتی ہے تو یہ بھی اسی طرح درست ہے جس طرح مسلم ملکوں میں سبسڈی مزید بتایا گیا کہ ہندوستان کی حکومت غیر مسلم حکومت نہیں ہے، وہ ایک قومی حکومت ہے۔
مسلمان یکساں بنیاد پر اس قومی اور جمہوری حکومت میں شریک ہیں۔
ہندی روزنامہ دینگ بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندہ مسز جیندر کمار چودھری نے ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس میں ہندو۔ مسلم تعلقات اور انڈیا اور پاکستان کے تعلق کے حوالہ سے بہت سے موضوعات زیر بحث آئے۔ اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ برصغیر ہند میں پچھلے سو سال کے اندر کوئی بھی صحیح معنوں میں تعمیری لیڈر پیدا نہیں ہوا جو مثبت معنوں میں کوئی گہرا کام کرے۔ آج ہم اسی کمی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے درست ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ علم کو صرف علم کے روپ میں دیکھنا چاہئے، علم کو ہندو اور مسلمان بنانا درست نہیں۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ ہندو یونیورسٹی اور مسلم یونیورسٹی دونوں سے ہندو اور مسلم کا لفظ نکال دیا جائے اور اُس کو صرف بنارس یونیورسٹی اور علیگڑھ یونیورسٹی کہا جائے۔
بی بی سی لندن (bbc.co.uk) کی طرف سے مسٹر طفیل احمد کے دستخط سے ایک خط مورخہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کے نام ملا۔ اس میں ایک مضمون کی فرمائش کی گئی تھی جس کو وہ بی بی سی لندن کے دیب سائٹ پر شائع کریں گے۔ یہ مضمون انگریزی میں ایک ہزار الفاظ میں مطلوب تھا۔ اُس کا عنوان یہ تھا: Relevance of Sufism in the Post-9/11 World خط میں کہا گیا تھا کہ مضمون میں یہ بتایا جائے کہ کیا صوفی ازم مغرب اور اسلام کے درمیان دوری کو ختم کر سکتا ہے: If Sufism has the possibility to bridge the widening gulf between the Islamic world and the west. اس موضوع پر مطلوب مضمون تیار کر کے انہیں ۷ جنوری ۲۰۰۴ کو بھیج دیا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ دوری نام نہاد سیاسی اسلام نے پیدا کی ہے اور صوفی اسلام بلاشبہ اس دوری کو ختم کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ صوفی ازم کو جدید تقاضوں کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اس آرٹیکل کو بی بی سی کی ویب سائٹ (bbc.co.uk) پر شائع کیا گیا۔ ست سری، نئی دہلی میں ۱۵ ہزار گز کے ایریا میں جدید طرز پر ایک ہولسک سنٹر (Holistic Centre) بنایا گیا ہے۔ اس کے چئرمین ڈاکٹر بی کے مودی ہیں۔ اس کے افتتاح کے طور پر ۲ جنوری ۲۰۰۴ کو بڑے پیمانہ پر اس کے ہال میں ایک فنکشن کیا گیا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندہ کے طور پر بلایا گیا ۔ وہاں مختلف مذہب کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے اسلام کے ریفرنس میں امن اور روحانیت کی اہمیت بیان کی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام مکمل معنوں میں
امن کا مذہب ہے۔ اسلام کے نام پر تشدد کرنے سے کوئی تشدد اسلامی نہیں بن جاتا۔ تشدد بہ ہر حال میں برا ہے۔ سے کبھی کوئی بہتر نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
اٹلی کی ایک مذہبی تنظیم ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: Association Culture Yogarmonia اس کا صدر دفتر نوائے (Noale) میں ہے۔ اس کے چیرمین اٹمبری ماریو (Atombri Morio) ہیں۔ کے سات ذمہ داروں کا ایک وفد اپنے چیرمین کی قیادت میں ۵ جنوری ۲۰۰۳ء کو اسلامی مرکز آیا اور تقریباً دو گھنٹہ رہا۔ انہوں نے اسلام اور روحانیت کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی بات کی۔ آخر میں انہیں ایک مسنون دعا اس کو انہوں نے بہت پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دعا کو ہم اپنے اجتماعات میں پڑھیں گے۔ فرمائش کے مطابق، یہ دعا تین طریقہ پر لکھ کر انہیں دی گئی۔ عربی متن، عربی الفاظ کو رومن رسم الخط میں اور پوری دعا کا وہ دعا یہ تھی: اللهم انت السلام و منك السلام و اليك يرجع السلام۔ بالسلام و ادخلنا دارك دارالسلام۔ تبارکت ربنا و تعالیت يا ذا الجلال والاكرام ۔
آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اے ایم رضا نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۳ء کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ریڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ ’’صدائے سرحد‘‘ کے تحت تھا۔ سوال یہ تھا کہ حال میں ہند۔ پاک تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جو کوششیں ہوئی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان بس اور ریل چلائی گئی ہے اُس پر کیا تاثر ہے۔ بتایا گیا کہ یہ کوششیں اچھی ہیں۔ مگر ان سے کسی بڑے نتیجہ کی امید نہیں۔ بڑے نتیجہ کے لیے زیادہ گہری بنیادوں پر فیصلہ لینا ہوگا۔ ستیہ سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۱۴ جنوری ۲۰۰۳ء کو ایک سیمینار تھا۔ اس میں ملک کے مختلف اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز کو یہ دعوت دی گئی کہ اس میں پانچ انسانی اقدار اسلام کی روشنی میں وہ اقدار یہ ہیں:
Truth, Right Conduct, Love, Peace, Non-violence.- اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو ایک گھنٹہ کا وقت دیا گیا تھا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ مذکورہ موضوع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کی۔
آرنج، کیلی فورنیا (امریکہ) میں ایک اعلیٰ سطح کا ادارہ ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: Global Ethics and Religion Forum اس ادارہ کا ایک ٹیم ۱۵ جنوری ۲۰۰۳ء کو اسلامک سینٹر میں آئی۔ اُس میں ڈاکٹر جوزف رنزو (Joseph Runzo) اور ڈاکٹر نینسی ایم مارٹن (Nancy M. Martin) وغیرہ شامل تھے۔ وہ اسلام اور مسلمان کے بارہ میں صدر اسلامی
مرکز کے خیالات جاننا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹی وی چینل کے لیے صدر اسلامی مرکز کی ایک تاک ویڈیو پر یہ پوری تاک انگریزی میں تھی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ اس میں عصر حاضر کے حوالہ سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا گیا۔ ٹیم کے افراد نے اس کوئسن کر بہت زیادہ پسندیگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری تاک کے ویڈیو کیسٹ کی کاپی تیار کر کے وہ اسلامی مرکز کے لیے روانہ کریں اور اُس کو ایڈٹ کر کے اپنے ٹی وی چینل پر نشر کریں گے۔
روزنامہ راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے ۱۵ جنوری ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو زیادہ تر بابری مسجد کے مسئلہ پر تھا۔ اس سلسلہ میں مختلف حوالوں کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ لے کر اب تک اس سلسلہ میں جو کوششیں کی گئیں وہ سراسر بے نتیجہ رہیں۔ اس لیے اب اس معاملہ میں از سر نو نئی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، ایسی پالیسی جو نتیجہ کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہو۔
دور درشن (نئی دہلی) میں ۱۹ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک خصوصی پروگرام ریکارڈ کیا گیا جو ۲۵ جنوری کو دور درشن پر نشر کیا گیا۔ اس کے تحت دور درشن کے اسٹوڈیو میں ایک اجتماع کیا گیا۔ اس میں اسٹیج پر اینکر کے علاوہ وشنو ہری ڈالیا (چیرمین دشو ہندو پریشد) اور صدر اسلامی مرکز کو بٹھایا گیا تھا۔ سامنے کی بنچوں پر تقریباً چالیس کی تعداد میں مسلمان موجود تھے۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا، عقیدہ کا تعلق عدالت سے ہے یا نہیں۔ اینکر کی طرف سے اور حاضرین کی طرف سے بہت سے سوالات کیے گئے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اجودھیا کے نزاعی معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ رام بھگوان کے اوتار تھے۔ یہ بلاشبہ ایک عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ میں عدالت کو دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ مگر جب یہ کہا جائے کہ رام اجودھیا کے فلاں مخصوص مقام (spot) پر پیدا ہوئے تو یہ تاریخ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اب عدالت کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اس نزاع کا فیصلہ تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر اُس کی بابت فیصلہ دے، اس سے قطع نظر کہ وہ کس کے خلاف ہے اور کس کے موافق۔
ترکی کی باسفورس یونیورسٹی (استنبول) کے طلبہ کا ایک وفد ۷ فروری ۲۰۰۳ کو اسلامی مرکز میں آیا۔ اس کے قائد پروفیسر مارک لنڈلے (Mark Lindley) تھے۔ یہ لوگ جدید سیاق میں اسلام کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی گفتگو کی ۔ ان کے سوالات کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں مثلاً ان کا خیال تھا کہ جدید حالات میں اسلام کے قانون پر نظر ثانی کی جائے تا کہ اس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ موجودہ زمانہ میں اس نسبت سے جو غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں وہ اسلام کی غلط تشریح کے نتیجہ میں پیدا اسلام کو براہ راست قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ غلط فہمیاں بے بنیاد ثابت ہوں گی۔
تعلیم کی روشنی میں دیا۔
۲۲ جنوری ۲۰۰۴ کو ہندی روز نامہ دینک بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندہ مسز بھجیندر کمار چودھری نے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق عیدالاضحیٰ اور حج سے تھا۔ مختلف پہلوؤں سے اس پہلو کی وضاحت کی گئی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ عیدالاضحیٰ اور حج دونوں کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ اپنے جذبات، اپنے اینکار کو قربان کر کے لوگوں کے درمیان جینا سیکھو۔ لوگوں کے ساتھ شانتی سے رہو۔ پیغمبر والی زندگی کو اختیار کرو۔ ہمالیہ پریوار کی طرف سے ۲۲ فروری ۲۰۰۴ کو کانشتی نیوشن کلب، نئی دہلی میں ایک سیمینار ہوا۔ کا موضوع تھا: ہمالیہ کے علاقہ میں امن کس طرح قائم کیا جائے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور اسلام کی روشنی میں موضوع پر اظہار خیال کیا۔ مقررین میں دوسرے مقررین کے علاوہ مسٹر بلراج مدھوک بھی انہوں نے کہا کہ اسلام محبت کی تعلیم دیتا ہے۔ نفرت کی تعلیم نہیں۔
۲۶ فروری ۲۰۰۴ کو ٹائمس آف انڈیا کی نمائندہ مسز سکینہ یوسف خان نے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ٹیلیفون پر ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو آنے والے الیکشن کے حوالہ سے مسلم پالیٹکس کے بارے میں تھا۔ سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلم عوام سادہ اور انوسینٹ ہیں۔ مسلم معاملات کو بگاڑنے والے مسلم عوام نہیں بلکہ مسلمانوں کے نااہل لیڈر ہیں۔ تاہم اب مسلم عوام انہیں چھوڑتے جا رہے ہیں۔ مسلم عوام میں اب قدیم طرز کی منفی سیاسی سوچ ختم ہورہی ہے، اب اُن کے اندر مثبت سیاسی سوچ اُبھر رہی ہے۔ اور یہ ایک صحت مند علامت ہے۔ امریکہ سے خواجہ کلیم الدین صاحب کا ایک ای میل ملا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں: Recently I was browsing through the internet under the name of Maulana Sahab. To my surprise I found Maulana’s reference over 400 to 700 times under various search engines. I collected various articles and interviews by Maulana Sahab. (January 28, 2004)
ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے جو جلد ہی شائع ہوگی۔ تقریباً دوسو صفحہ کی اس کتاب کا نام حکمت اسلام اس میں قرآن اور حدیث کے حوالہ سے اسلام کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔
اسلامی مرکز کے تحت کچھ نئی کتابیں چھپی ہیں۔ ایک انگریزی کتاب کا نام ہے: ان سرچ آف گاڈ۔ اور ایک اردو کتاب کا نام ہے: مطالعہ حدیث۔
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہورہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے : دی اسپرچول میسج ، فی کاپی -/15 روپے ، سالانہ -/165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے :
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323 الرسالہ کی نئی مطبوعات صفات ۱۷۲ • سیرتِ رسول صفات ۲۰۸ • امنِ عالم صفات ۲۵۰ • عورت معمار انسانیت ناگپور میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں : Think Book Shop Haidry Road, Mominpura
مولانا وحید الدین خان قرآن کا مطلوب انسان مذہب اور سائنس مولانا وحیدالدین خان اسلام اور جدید دور سفرنامہ اپین: فلسطین