Al-Risala · September 2004

عرب امارات کا سفر

Al-Risala, September 2004, pp. 52–60

By Maulana Wahiduddin Khan

الہدیٰ انٹرنیشنل کی دعوت پر امارات کا سفر ہوا۔ یہ سفر ۵ مئی ۲۰۰۴ کو شروع ہوا اور ۱۰ مئی ۲۰۰۴ کو ختم ہوا۔ اس سفر میں مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات پیش آئے۔ یہاں اس سفر کی مختصر روداد درج کی جاتی ہے۔

۵ مئی ۲۰۰۴ کی شام کو مسٹر رجت ملہوترا کے ساتھ نظام الدین سے ائر پورٹ کے لئے مسٹر رجت ایک بڑی کمپنی میں مینیجر ہیں۔ وہ خود اپنی گاڑی چلا رہے تھے۔ درمیان میں بار بار ان کے موبائل کی گھنٹی بجتی اور وہ اس پر بات کرتے رہتے۔ میں نے سوچا کہ قرآن میں جس دابـہ (النمل ۸۲) کا ذکر ہے وہ شاید یہی موبائل ہو۔ دابـہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا۔ دابـہ متکلم کا مطلب ہے، رینگ کر کلام کرنے والا۔ موبائل ٹکنالوجی نے پہلی بار یہ ممکن بنایا ہے کہ کوئی آدمی چل رہا ہو اور عین اسی وقت اس کا تکلم (conversation) جاری رہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دورِ آخر میں اللہ ایک دابـہ (رینگنے والی زمینی مخلوق) پیدا کرے گا۔ وہ بول کر لوگوں کو بتائے گا کہ لوگ خدا کی نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ دنیا میں ہزاروں سال سے خدا کی نشانیاں موجود تھیں۔ مگر یہ غیر ناطق نشانیاں تھیں۔ قدیم روایتی دور میں ستارے اور سیارے، دریا اور پہاڑ، غرض تمام مظاہرِ فطرت غیر ناطق انداز میں خدا کی نشانیوں کو بتا اس کے بعد جب صنعتی دور آیا تو طرح طرح کی مشینوں نے خدا کی نشانیوں کو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ مگر یہ بھی غیر ناطق انداز میں تھا۔ آخر میں موبائل ٹیلی فون ظاہر ہوا۔ اس نے ہر جگہ انسانوں کے پاس پہنچ کر ان کو ناطق انداز میں خدائی قدرت کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ بتایا کہ تمہارے ارد گرد کیسی عجیب خدائی نشانیاں تھیں مگر تم اس سے سبق لینے میں ناکام رہے۔ دہلی کے انٹرنیشنل ائر پورٹ پر رسمی کارروائیوں سے گزرنے کے بعد ہم انتظار گاہ میں پہنچے۔

یہاں بہار (سیوان) کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ دبئی میں الکٹریشن کی حیثیت سے کام میں نے ان سے پوچھا کہ انڈیا کے مقابلہ میں دبئی میں کتنے گنا زیادہ تنخواہ آپ کو ملتی انھوںنے کہا کہ تقریبا پانچ گنا۔ انھوں نے بتایا کہ دو سال میں ایک بار ہماری کمپنی انڈیا آنے کے لئے ٹکٹ کا انتظام کرتی ہے۔

دہلی سے ائر انڈیا کی فلائٹ نمبر اے ۷۲ سے روانگی ہوئی۔ دہلی سے دبئی کا فاصلہ ۲۲۰۰ جہاز کے ذریعہ یہ فاصلہ سوا تین گھنٹہ میں طے ہوتا ہے۔ ائر پورٹ پر اور جہاز میں میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ جہاز دہلی سے دبئی کتنی دیر میں پہنچتا ہے۔ یہ لوگ وہ تھے جو دہلی سے دبئی بار بار سفر کرتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی صحیح وقت نہ بتا سکا۔ کسی نے کہا کہ دو گھنٹہ، کسی نے کہا کہ ڈھائی گھنٹہ، کسی نے کہا کہ ۳ گھنٹہ، کسی نے کہا کہ ۴ گھنٹہ۔ صحیح وقت کا علم مجھے صرف اس وقت ہو سکا جب کہ جہاز کے اناؤنسر نے اپنے روٹین کے اعلان میں اس کو بتایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے مخصوص پروفیشن کے سوا دوسری باتوں کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔

پرواز کے دوران ائر انڈیا کی فلائٹ میگزین نمسکار (اپریل، مئی ۲۰۰۴) دیکھا۔ میں ایک مضمون پرتیمش نندی (Pritish Nandy) کے بارے میں تھا۔ وہ ہندوستان کے ایک معروف رائٹر ہیں۔ اب وہ فلم پروڈیوسر بن گئے ہیں۔ مضمون کے ساتھ ان کی ایک تصویر چھپی ہوئی اس تصویر میں دکھائی دے رہا تھا کہ وہ اپنے دونوں پیروں کو پھیلا کر کھڑے ہوئے ہیں اور ان کے پیروں کے درمیان ان کا کُتّا زمین پر زبان نکالے ہوئے بیٹھا ہے۔ میرے مزاج کے مطابق، یہ ایک بد ذوقی کا فعل تھا۔ اس قسم کی چیزوں کو دیکھ کر اکثر میں سوچتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے اعلیٰ ذہن (top intellectuals) آخر اس قسم کی سطحیت کا کس طرح تحمل کرتے ہیں۔ معلومات کے اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ تمام اعلیٰ ذہن کے لوگ ایک سنگین نفسیاتی مسئلہ سے دوچار ہوتے ہیں۔ اور وہ تنہائی (loneliness) کا احساس ہے۔ اس تنہائی کی تلافی کے لئے وہ کتے کو اپنا ساتھی بنا لیتے ہیں جو بے زبان بھی ہے اور اسی کے ساتھ وفادار بھی۔

اس مضمون میں ایک بات یہ بتائی گئی تھی کہ آج کے انڈیا میں سب سے زیادہ بڑھتا ہوا بزنس انٹرٹینمنٹ (entertainment) کا بزنس ہے۔ باصلاحیت لوگ تیزی سے دوسرے شعبوں سے نکل کر اس بزنس میں آ رہے ہیں۔ پریتم نندی نے جرنلزم کو چھوڑ کر فلم پروڈیوسنگ کا کام شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے ایک کمپنی بنائی ہے جس کا نام یہ ہے:

پریتم نندی کمیونیکیشنز (Pritish Nandy Communications)

اس رجحان کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ ہندوستان میں تیزی سے ایسا ہو رہا ہے کہ عوام اب بھی غریب ہیں لیکن ایک محدود طبقہ کے پاس بہت زیادہ دولت آ گئی ہے۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنی تمام ذاتی ضرورتوں کو تعیش کی حد تک پورا کرنے کے بعد بھی ان کے پاس بہت زیادہ دولت بچ جاتی ہے۔ اس فاضل دولت کا ایک استعمال یہ تھا کہ اس کو اجتماعی فلاح کے کاموں میں خرچ کیا جائے، مگر لوگوں کے اندر چونکہ اس قسم کا انسانی جذبہ موجود نہیں اس لئے ان کے پاس اس فاضل دولت کا ایک ہی استعمال رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ وہ اس کو تفریح کے کاموں میں خرچ کریں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خوش حالی کے بعد فسق کرنا بتایا گیا ہے۔

سوا تین گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دبئی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ جہاز سے باہر آتے ہی دو آدمی مرحبا سروسز (Marhaba Services) کا بینر لئے ہوئے کھڑے تھے۔ دبئی کے ائر پورٹ پر یہ ایک خصوصی انتظام ہے۔ یہاں مرحبا کے نام سے ایک مستقل سروس قائم ہے۔ یہ لوگ پروفیشنل طور پر یہ خدمت انجام دیتے ہیں کہ جو لوگ ان سے ربط قائم کرتے ہیں وہ ان کے مہمان کو ہوائی جہاز کے دروازہ ہی پر ریسیو (receive) کرتے ہیں اور پھر ائر پورٹ کے سارے مراحل سے گزر کرا ن کوان میزبانوں تک پہنچا دیتے ہیں جو ائر پورٹ کے باہر ان کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ خود ائر پورٹ کا ہی ایک شعبہ ہے۔

مرحبا والوں کی رہنمائی میں ائر پورٹ سے باہر آیا تو یہاں حسب ذیل لوگ موجود تھے: ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی، مسٹر شکیل احمد خاں، ڈاکٹر وسیم، یسمین خاکوانی، قدسیہ سید، عاطف اقبال، ربابہ

عبد الرحمن، سمیر صمدانی، ڈاکٹر محمد ادریس زبیر، سعدیہ الطاف، نازیہ الطاف، کرن، وغیرہ۔ ائر پورٹ سے روانہ ہو کر دبئی کے ہوٹل رالا ریذیڈنس (Rolla Residence) میں پہنچا۔ یہاں کمرہ نمبر ۵۱۱ میں میرا قیام تھا۔ ائر پورٹ سے ہوٹل تک کا سفر کرتے ہوئے دبئی کا ایک منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ دبئی کا ائرپورٹ دنیا کے چند بہترین ائر پورٹ میں شمار ہوتا ہے۔ وہ انتہائی منظم، انتہائی خوبصورت، اور بے حد وسیع تھا۔ اس کی ہر چیز نہایت شاندار تھی۔ اس کے مقابلہ میں دہلی کا اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ معمولی نظر آتا ہے۔ یہ احساس اس وقت ہوا جب کہ میں ائرپورٹ سے روانہ ہوا اور دبئی کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ہوٹل تک پہنچا۔

ہندوستان کے مقابلہ میں دبئی ایک بے حد چھوٹا ملک ہے۔ دبئی کا کل رقبہ ۹۰۰ مربع کلومیٹر ہے جب کہ ہندوستان کا رقبہ ۳۲۶۸۰۹۰ مربع کلومیٹر ہے۔ لیکن دبئی کا شہر ہندوستان کے شہروں سے بہت زیادہ ترقی یافتہ نظر آیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا فرق دو چیزوں میں ہے۔ کرپشن اور دوسرا انفراسٹرکچر۔

دبئی ایک چھوٹی ریاست ہے۔ وہ عرب امارات کی سات ریاستوں میں سے ایک ریاست خلیج فارس کی طرف اس کا ساحلی رقبہ ۴۵ میل ہے۔ دبئی شہر عرب امارات کا سب سے بڑا ریاست کی آبادی کا تقریباً ۹۰ فی صد سے زیادہ حصہ اس شہر میں رہتا ہے۔ دبئی کی آبادی کاری ۱۷۹۹ میں شروع ہوئی۔ اس کے بعد ۱۸۲۰ میں دبئی کے شیخ نے انگریزوں کی سرپرستی میں قائم شدہ جنرل ٹریٹی آف پیس (General Treaty of Peace) پر دستخط کئے۔ اس کے بعد سے دبئی کی وہ ترقی شروع ہوئی جو آج اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے۔

۱۷۹۹ وہ تاریخی سال ہے جب کہ ہندوستان کے سلطان ٹیپو نے انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان دے دی تھی۔ ان کے نزدیک انگریز ایک مسلم دشمن قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اسی مسلم دشمن قوم کی سرپرستی میں دبئی نے اتنی زیادہ ترقی کی کہ آج ہر مسلمان یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے کہ میرا بیٹا دبئی میں ہے یا میرے داماد دبئی میں کام کر رہے ہیں۔ اس دنیا میں ترقی کا راز ایڈجسٹمنٹ ہے۔

مگر سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک تمام مسلم رہنما زندگی کی اس حقیقت سے بے خبر رہے۔ دبئی کی تاریخ ۱۷۹۹ سے شروع ہوتی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ برطانیہ کے نو آباد کار لوگ اس علاقہ میں پہنچے۔ ۱۸۲۰ میں برٹش طاقتوں کے ساتھ دبئی کا معاہدہ امن ہوا۔ ۱۸۳۵ میں دبئی نے انگریزوں کے ساتھ بحری معاہدہ پر دستخط کئے ۔ ۱۸۵۳ میں اس معاہدہ کی دوبارہ توثیق ہوئی۔ کے معاہدہ کے تحت دبئی کے خارجہ تعلقات پر انگریزوں کا کنٹرول قائم ہو گیا۔ ۱۹۷۱ میں جب انگریزوں نے خلیج فارس کو چھوڑا تو دبئی عرب امارات کا ایک بانی ممبر (founding member) بن

دبئی میں تیل کی دولت زیادہ نہ تھی۔ چنانچہ دبئی کے شیخ نے دبئی کو تجارتی حیثیت سے ترقی دینا بیسویں صدی کے شروع میں دبئی ایک اہم ائیر پورٹ بن چکا تھا۔ بہت سے غیر ملکی تاجر، خاص طور پر ہندوستانی تاجر، دبئی میں مقیم ہو گئے ۔ ۱۹۳۰ اور اس کے بعد تک دبئی موتیوں کی برآمد کے لئے مشہور تھا۔ مگر بعد کو دبئی مغربی مصنوعات کے لئے سب سے بڑا بندرگاہ بن گیا۔ عرب امارات کے اکثر بینکوں اور انشورنش کمپنیوں کی ہیڈ کوارٹر دبئی میں واقع ہیں۔ دبئی میں فری ٹریڈ کا اصول اختیار کیا گیا ہے اور یہی اس کی ترقی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

دبئی کو نہایت اعلیٰ درجہ پر موڈرنائز کیا گیا ہے۔ یہاں بجلی، جدید ہوٹل، ٹیلی کمیونی کیشن، اسپتال اور انٹر نیشنل ائر پورٹ وغیرہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ۱۹۷۲ میں یہاں گہرے پانی والی بندرگاہ (deep water harbour) بنائی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے بحری جہاز رانی کو بہت زیادہ ترقی حاصل ہوئی ہے۔ دبئی کے ساحلی علاقہ کو پاٹ کر اس کے رقبہ کو کافی بڑھا لیا گیا ہے۔ شام کو ہوٹل کے کمرہ میں کئی لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی، مسٹر عاطف سعید، قدسیہ سید، ربابہ عبدالرحمن، وغیرہ وغیرہ۔ ان لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ یہ لوگ الہدی انٹر نیشنل کے تحت بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔

ہوٹل موجودہ زمانہ میں ایک عظیم انڈسٹری کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ قدیم زمانہ میں ہوٹل

کی جگہ وہ چیز ہوا کرتی تھی جس کو سرائے کہا جاتا تھا۔ یہ سرائے صرف وقتی پڑاؤ کے لئے ہوتی تھی۔ میں جدید سہولتیں نہیں ہوتی تھیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں جب انسان نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا اور اسٹیم انجن سے چلنے والی ریلیں دوڑنے لگیں تو اس کے بعد ہوٹل کی صنعت میں بھی ترقی شروع ہوئی ۔ یہ ہوٹل ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد پٹرول کی طاقت دریافت ہوئی اور موٹر کار اور ہوائی جہاز چلنے لگے تو ہوٹل کی صنعت میں مزید ترقی ہوئی۔ اب ہوٹل کا تصور صرف وقتی پڑاؤ کے معنی میں نہیں ہے۔ آج کے ایک ہوٹل میں وہ تمام جدید انتظامات موجود ہوتے ہیں جو زندگی کی اعلیٰ سرگرمیوں کے لئے مددگار ہیں۔ آج ہوٹل کی انڈسٹری نے ہر انسان کے لئے اس چیز کو ممکن بنا دیا ہے جس کو قدیم زمانہ کے فارسی شاعر نے استثنائی طور پر صرف کسی خوش قسمت دولت مند کے لیے ممکن بتایا تھا۔

منعم به کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت میرا سفر الہدیٰ انٹرنیشنل کی دعوت پر ہوا۔ الہدیٰ انٹرنیشنل والوں کا کام خاص طور پر تعلیم اور دعوت کے میدان میں ہو رہا ہے۔ ایک خاتون ربابہ عبدالرحمن جو بنگلہ دیش سے تعلق رکھتی ہیں وہ بھی یہاں کے پروگرام میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر آج ہی ہوائی جہاز کے ذریعہ دہلی پہنچی تھیں۔ بنگلہ دیش کے سب سے بڑے انڈسٹریل ہاؤس سے تعلق رکھتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی امیر ترین خاتون ہونے کے باوجود اُن کی زندگی بالکل سادہ تھی۔ انہوں نے میری انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جب بھی کوئی اصلاح کا کام کیا جائے، خاص طور پر جب کہ وہ گہری بنیادوں پر کیا جا رہا ہو تو میڈیا میں اس کا چرچایقینی ہے۔ میڈیا کے مزاج کے مطابق ، یہ چرچا تقریباً ہمیشہ منفی انداز سے ہوتا ہے۔ اصلاح و دعوت کے میدان میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ میڈیا کی اس منفی رپورٹنگ کی پروانہ کریں۔ منفی رپورٹنگ کے اندیشہ کی بنا پر وہ ایسا نہ کریں کہ میڈیا سے اعراض کرنے لگیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کا ایک پلس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی حال میڈیا کا بھی ہے۔ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ پھر بھی ایک

مفید کام کرتی ہ۷ اور وہ آپ کے کام کی پبلسٹی ہے۔ پبلسٹی کے بغیر کوئی بھی کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لوگوں کے اندر تجسس پیدا کرتی ہے اور تجسس پیغام کے اشاعت کا ذریعہ بنتا ہے۔ ۶ مئی کی صبح کو فجر کی نماز ہوٹل میں پڑھی۔ میں نے اپنے کمرہ کے ائر کنڈیشنر کو بند کر کے کمرہ کی بڑی کھڑکی کو کھول دیا۔ باہر سے ہوا کے خوشگوار جھونکے کمرہ کے اندر داخل ہونے لگے۔ گویا خدا کی قدرت کو یاد دلا رہے تھے۔ تازہ ہوا ایک ایسی عجیب و غریب چیز ہے کہ اس میں زندہ شعور کے ساتھ سانس لینا بھی ایک عبادتی تجربہ کے ہم معنی ہے۔ میں نے سوچا کہ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو ائرکنڈیشنڈ کمروں کی مصنوعی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ حالاں کہ عین ان کمروں کے باہر فطرت کی زیادہ بہتر دنیا ان کے لئے پوری طرح موجود ہوتی ہے۔

۶ مئی کی صبح کو ے بجے ہوٹل کے مطعم میں اپنے میزبانوں کے ہمراہ ناشتہ کیا۔ اس کی ایک طرف کی پوری دیوار میں بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے۔ اس بنا پر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کہ ہم لوگ کھلے مطعم میں فطرت کی دنیا میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

ناشتہ کے بعد دوبارہ میرے کمرے میں ایک طویل نشست ہوئی جس میں الہدیٰ انٹرنیشنل کے لوگ شریک ہوئے۔ جدید حالات کی نسبت سے اسلام اور مسلمانوں پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک خاتون نے کہا کہ اولاد کی اسلامی تربیت کے لئے کیا کیا جائے۔ کیوں کہ آج کل کی تعلیم اور ماحول بچوں کو بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اکثر والدین اس قسم کی شکایت مگر میرے نزدیک بچوں کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب خود ان کے والدین ہیں۔ دراصل خود والدین کا لاڈ پیار (pampering) ہے جس نے بچوں کو بگاڑ رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ بچوں کی تربیت کے لئے سب سے زیادہ مؤثر چیز والدین کی ہیمرنگ (hammering) ہے۔ یہ ہیمرنگ کامل شفقت سے ہوتی ہے اس لئے وہ ہمیشہ مثبت تاثیر کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر والدین اس پر عمل نہیں کر پاتے۔ وہ بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے رہتے ہیں۔ اور اس کے بعد دوسروں کو الزام دے کر کہتے ہیں کہ میرا بچہ فلاں خار جی اسباب کی بنا پر بگڑ گیا۔

میرے اور میرے ساتھی کے سفر کا پورا اسپانسر شپ (sponsorship) دبئی کے ایک تاجر شیخ عبدالرحمن الشرفی نے کیا تھا۔ وہ ۶ مئی کی دوپہر کو ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے دیر تک باتیں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں دعوت کا کام کرتا ہوں اور اس مقصد کے لئے اسلامی کتابیں غیر مسلموں کو دیتا رہتا ہوں ۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی خاص اثر سامنے نہیں آیا۔ سے ایک خاتون نے کہا کہ آپ جن لوگوں کو کتابیں دیتے ہیں، کیا آپ ان لوگوں کے لیے دعا بھی انھوں نے عربوں کے مخصوص سادہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں: I have not prayed for them. وہ عربی کے علاوہ اچھی انگریزی زبان بھی جانتے تھے۔ شیخ عبدالرحمن الشرفی نے بتایا کہ انھوں نے راقم الحروف کی کتاب گاڈ ارائز ز (God Arises) بڑی تعداد میں منگوا کر تعلیم یافتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں تقسیم کیا ہے۔

دہلی کا انگریزی اخبار خلیج ٹائمس کا شمارہ ۶ مئی ۲۰۰۴ دیکھا۔ اس کے صفحہ ۳ پر ایک خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ شارجہ کی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جو ماحولیات کو بگڑنے سے بچانے والے ہوں۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا — شارجہ ایکو فرینڈلی پروجیکٹ چلانے والا ہے: Sharjah to launch eco-friendly project آج کل ایکو فرینڈلی منصوبوں کا بہت چرچا ہے۔ خود مسلم ملکوں میں بھی اس کی کافی دھوم میں نے سوچا کہ اس سے بھی زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مدعو فرینڈلی منصوبے جاری کئے جائیں۔ مگر ساری دنیا میں نہ کوئی مسلم حکومت، نہ کوئی مسلم گروہ اس قسم کی بات سوچنے کے لئے تیار ہے۔ مسلمانوں نے برعکس طور پر ایسے ہنگامے جاری کر رکھے ہیں جو مدعو کو دشمن بنائے ہوئے ہیں۔ مگر مدعو کو دوست بنانے کی شعوری کوشش پوری مسلم دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔ حالاں کہ مسلم دنیا میں اگر ایکو فرینڈلی منصوبہ نہ چلایا جائے تو اس سے مسلمانوں کی صرف دنیا خطرہ میں پڑے گی ۔ جب کہ مدعو فرینڈلی منصوبہ نہ چلانے کی صورت میں یہ شدید تر اندیشہ موجود ہے کہ ان کی آخرت خطرے میں پڑ جائے۔

ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی یک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ وہ ایک یونیورسٹی میں استاد تھیں اور اب وہ یونیورسٹی کو چھوڑ کر تعلیم و دعوت کا کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے میری تقریباً ساری کتابیں بار بار پڑھی ہیں۔ ان کو میرے خیالات سے پورا اتفاق ہے۔ وہ نہایت باصلاحیت انھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح دعوت کے کام کے لئے وقف کر دیا ہے۔ اور ان کے شوہر پروفیسر ادریس اسلام آباد کی یونیورسٹی میں اُستاد تھے۔ دونوں نے یونیورسٹی کی سروس سے استفادہ کرالہدیٰ انٹرنیشنل کا کام شروع کیا۔ یہ تنظیم اب ماشاء اللہ ایک مقبول تنظیم بن چکی ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اس کے ساتھ وابستہ ہوتے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر فرحت کے آڈیو کیسٹ کافی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔

۶ مئی کو دوپہر بعد سے لے کر شام تک دوبارہ میرے کمرے میں نشست ہوئی۔ خواتین کی تعداد کچھ اور بڑھ گئی تھی۔ میں نے ہر ایک سے اسلام کے بارے میں اس کے خیالات جاننے کی کوشش کی اور پھر آخر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوہ ورک کوئی سادہ چیز نہیں۔ کے لئے کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ اس میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو کا مکمل طور پر خیر خواہ وہ ایک طرفہ طور پر مدعو کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرے۔ حتی کہ وہ مدعو کی زیادتیوں پر صبر کرے۔ نے کہا کہ داعی اور مدعو کا رشتہ اسی قسم کا ایک رشتہ ہے جیسا کہ تاجر اور کسٹمر کے درمیان ہوتا ہے۔ جانتا ہے کہ اس کو اپنے کسٹمر کے ساتھ آخری حد تک خیر خواہی کا معاملہ کرنا ہے۔ داعی کا فارمولا تاجر کی طرح یہ ہونا چاہئے:

Printed page