We are always Mad‘u friendly
Al-Risala, September 2004, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
مغرب کی نماز کے بعد لوگ دوبارہ میرے کمرہ میں جمع ہوگئے۔ دیر تک گفتگو کا سلسلہ جاری اس مجلس میں میں نے چند مسئلوں کی وضاحت کی۔ مثلاً یہ کہ اسلام کے مطابق، اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے شعوری بیداری، اور اس کے بعد تنفیذ احکام۔ اس کے بجائے تنفیذ احکام سے
اسلامی تحریک کا آغاز کرنا گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا ہے۔ ایسے سفر کا کوئی انجام نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح فقہی اختلاف کے معاملہ میں میں نے کہا کہ یہ اختلافات اس لیے پیدا ہوئے کہ خود صحابہ کی روایت کردہ حدیثوں میں اختلاف موجود تھا۔ یہ اختلاف دراصل توسّع کی بنا پر تھا۔ اس کو ختم کرنے کی کوشش ایک غیر فطری روش ہے۔ فقہی اختلافات میں توحد کی کوشش انتہا پسندی اس سے اختلافات میں مزید شدت پیدا ہوتی ہے۔ جب کہ ان اختلافات کو توسّع اور تنوع پر محمول کرنا اختلافات کے مسئلہ کو ختم کر دیتا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل میری کتاب تجدید دین میں دیکھی جاسکتی ہے۔
دبئی کے لئے میرا یہ سفر ایک الگ نوعیت کا سفر تھا۔ عام طور پر میرا سفر کانفرنسوں میں شرکت کے لئے ہوتا ہے۔ مگر دبئی میں ایسی کوئی نیشنل یا انٹرنیشنل کانفرنس نہ تھی۔ اس سفر کی نوعیت یہ تھی کہ یہاں لمبے عرصے سے میری کتابیں پھیل رہی ہیں۔ بہت سے لوگ کتابوں کے ذریعہ ہمارے مشن سے متعارف ہوتے ہیں۔ ان میں عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی۔ انہی لوگوں کی دعوت پر میں دبئی آیا تھا۔ یہاں زیادہ تر یہ ہوا کہ لوگ میرے کمرے میںاکھٹا ہوجاتے اور ان سے گفتگو اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہتا۔ یہ لوگ میری باتوں کو مسلسل طور پر محفوظ کرتے رہے، تحریر کے ذریعہ بھی اور ٹیپ ریکارڈ ر کے ذریعہ بھی۔ یہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے اور بہت دھیان کے ساتھ میری باتیں سنتے تھے۔ مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ لوگ میرے کمرے میں اکھٹا ہوگئے ۔ دیر رات تک ان سے بحث و مذاکرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی وہ اپنے بزنس کے سلسلہ میں اکثر دبئی آتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے پاکستان اور دبئی دونوں ملکوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ آپ بتائیے کہ دونوں میں آپ نے کیا فرق پایا۔ انھوں نے کہا کہ دبئی میں پیس ہے مگر یہاں فریڈم نہیں۔ پاکستان میں فریڈم ہے مگر وہاں پیس نہیں۔ میں نے کہا کہ دنیا میں ۵۷ مسلم ملک ہیں۔ ہر ملک کا حال کم و بیش وہی ہے جو آپ نے دبئی کا بتایا۔ ایسی حالت میں ہندوستان ہمارے لیے ایک نعمت ہے۔ کیوں کہ ہندوستان میں بیک وقت
یہ دونوں چیزیں موجود ہیں۔ وہاں پیس بھی ہے اور فریڈم بھی۔ ان کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان ایک اینٹی مسلم ملک ہے۔ وہاں مسلمان ستائے جا رہے ہیں۔ مسلمان طرح طرح کی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ سب میڈیا کے پروپیگنڈے ہیں۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ انٹرنیشنل میڈیا میں اسلام کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ ہندوستان کے ساتھ ہوا ہے۔ چنانچہ مسلم میڈیا میں ہندوستان کی تصویر بگڑی ہوئی صورت میں پیش کی جاتی ہے۔ اس کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ انڈیا کا مسلم سائنٹسٹ ڈاکٹر عبدالکلام انڈیا کا پریزیڈنٹ ہے۔ طرف پاکستان کا مسلم سائنٹسٹ ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان میں قید کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون (قدسیہ سید) کی باتوں سے میں نے اندازہ کیا کہ ان کا حافظہ اچھا ہے اور طرح طرح کی باتیں ان کے دماغ میں موجود رہتی ہیں۔ اس بنا پر وہ اپنی زندگی میں ترجیحات (priorities) کا تعین نہیں کر پاتیں۔ میں نے کہا کہ انسانی حافظہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کو تصویری حافظہ (photographic memory) کہا جاتا ہے۔ اور دوسرا وہ جس کو انتخابی حافظہ (selective memory) کہا جا سکتا ہے۔ میں ماضی اور حال کے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے اندر تصویری حافظہ کی صلاحیت تھی۔ چنانچہ ان کا دماغ معلومات کا جنگل بن گیا۔ وہ مختلف معلومات کا انبار تو پیش کر سکتے تھے مگر تجزیہ اور تحلیل (analysis) کی صلاحیت ان میں نہیں تھی۔ کی فراوانی کے باوجود وہ دنیا کو کوئی واضح پیغام نہ دے سکے۔
میں نے کہا کہ میرے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مجھے تصویری حافظہ تو نہیں دیا گیا مگر انتخابی حافظہ میرے اندر پوری طرح موجود ہے۔ مجھے اللہ کے فضل سے اپنی زندگی کی بہت سی باتیں یاد ہیں، 5 سال کی عمر سے اب تک کی ہزاروں باتیں ۔ مگر یہ تمام باتیں انتخابی انداز کی ہیں۔ دبئی میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانیں جانتے ہیں۔ وہ دس سال سے زیادہ مدت سے لوگوں میں قرآن اور حدیث کا درس دیتے رہے ہیں۔ ان کا درس کافی لوگ ان کے درس کے کیسٹ تیار کر کے اپنے گھروں میں ان کو سنتے ہیں۔ وہ دبئی کے
زمانہ قیام میں برابر میری مجلسوں میں شریک رہے۔ تاہم میں دبئی میں ان سے ان کا تأثر پوچھ نہ سکا۔ ۱۵ مئی ۲۰۰۴ کو دہلی میں میرے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو وہی صاحب دبئی سے بول رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہاں آپ میری مجلسوں میں شریک رہے۔ وہاں جو کچھ کہا اس کے بارے میں آپ اپنا تاثر بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ میں خود اگرچہ لمبی مدت سے قرآن وحدیث کی باتیں کرتا رہا ہوں۔ مگر آپ نے جس طرح قرآن وحدیث کی تشریح کی اس سے مجھے ایک نیا اورینٹیشن (orientation) ملا۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے آپ کو ایک حقیقت کے اعتراف پر مجبور پاتا ہوں۔
اصل یہ ہے کہ میرا پورا کام متوسط درجہ کے لوگوں کے درمیان ہوا۔ آپ ان کو عوام کہہ سکتے اس بنا پر ایسا ہوا کہ میں قرآن وحدیث کی تشریح عوامی انداز میں کرنے لگا۔ آپ کی مجلسوں میں شرکت کے بعد پہلی بار مجھے شعوری طور پر یہ محسوس ہوا کہ قرآن وحدیث کی تشریح کی ایک برتر سطح بھی ہے، ایک ایسی سطح جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو زیادہ اپیل کرنے والی ہو۔ میرے کام کے دوران متوسط درجہ کے لوگ تو بڑی تعداد میں مجھ سے جڑ گئے مگر اعلیٰ ذہن کے لوگ مجھ سے زیادہ قریب نہ ہو سکے۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ متعصبانہ ذہن کا نتیجہ ہے۔ مگر آپ سے ملاقات کے بعد میری غلط فہمی دور ہوگئی۔ اصل یہ ہے کہ آپ کو خوش قسمتی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں کام کرنے کا موقع ملا اس لئے آپ کا اسلوب تشریح بھی اعلیٰ درجہ کا بن گیا۔ میں نے طے کیا ہے کہ میں اب اپنے انداز کو آپ گریڈ (upgrade) کروں گا اور قرآن وحدیث کو اعلیٰ ذہن کے لوگوں کے لئے قابل فہم بناؤں گا۔ خلیج ٹائمس کا میگزین ویکینڈ (weekend) دیکھا۔ اس پر ۶ مئی ۲۰۰۴ کی تاریخ چھپی یہ ٦٦ صفحات کا خوبصورت چھپا ہوا میگزین تھا۔ اس کے لکھنے والوں میں زیادہ تر ہندوؤں کے نام تھے۔ یہ دبئی کی عام زندگی کی ایک علامتی تصویر ہے۔ دبئی میں ۵۰ فیصد سے زیادہ دوسرے ملکوں کے لوگ آباد ہیں، خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کے لوگ۔ یہاں تک کہ اس اختلاط کی بنا پر مقامی عرب لوگ بھی اردو سیکھ گئے ہیں۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ ہر شعبہ میں مسلمان نسبتاً چھوٹے
کاموں میں ہیں اور جہاں تک بڑے بڑے کاموں کا تعلق ہے اس میں زیادہ تر ہندو لوگ چھائے اس بارے میں میں نے لوگوں سے پوچھا اور اس فرق کا سبب معلوم کرنا چاہا۔ اندازے کے مطابق، اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ہندو لوگ پروفیشنل انداز میں کام کرنا جانتے ہیں جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ابھی تک ان کے یہاں پروفیشنلزم (professionalism) کا تصور ہی شعوری طور پر نہیں آیا۔
انڈیا کے مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ انڈیا میں ’’ہندو حکومت‘‘ ہے۔ وہاں مسلمانوں کے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر انڈیا کے مسلمان دوسروں سے پیچھے ہیں۔ مگر دبیٔ تو ایک مسلم ملک پھر کیوں ایسا ہے کہ یہاں بھی مسلمان اقتصادیات میں ہندوؤں سے پیچھے ہیں۔ اس فرق کا سبب یقینی طور پر یہ ہے کہ مسلمان بے فائدہ سیاست میں مشغول ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو دورِ جدید کی نسبت سے تیار نہ کر سکے۔ اس لیے وہ ہر جگہ دوسروں سے پیچھے ہوگئے۔ اس فرق کا سبب خود مسلمانوں کی اپنی کمی ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتی۔ یہ ایک ہی سبب ہے جو ہندوستان اور غیر ہندوستان دونوں جگہوں پر پایا جاتا ہے۔
روزنامہ نوائے وقت (۶ مئی ۲۰۰۲) کے صفحہ اول پر یہ خبر تھی کہ پاکستانی مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی اہلیہ بیگم نصرت شہباز اور ان کے بچے گزشتہ روز لندن سے ابوظبی پہنچ گئے ہیں۔ جب کہ میاں شہباز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی آئی اے کی کسی پرواز کے بجائے گلف ائر لائنز سے ۱۱ مئی کی شام چھ بج کر بیس منٹ پر لندن سے براستہ ابوظبی لاہور ائر پورٹ پر پہنچیں گے۔ ان کے ساتھ مختلف بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے نصف درجن سے زائد نمائندے بھی آرہے ہیں۔ جن میں بی بی سی، سی این این اور اے آر وائی وغیرہ کے نمائندے بھی
اسی اخبار میں لاہور کی ڈیٹ لائن کے ساتھ دوسری خبر یہ تھی کہ مسلم لیگ اور شہباز شریف سیکریٹریٹ کی جانب سے شہباز شریف کی آمد کے حوالہ سے چلو چلو ائر پورٹ چلو، کے عنوان سے
پوسٹرز اور ہینڈ بل ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر اس کی تقسیم شروع کردی گئی ہے۔ پوسٹرز اور ہینڈ بل کی تقسیم کے لیے خصوصی طور پر اندرون شہر کو ٹارگٹ بنایا گیا ہے۔
اس ہنگامہ خیز سفر کا متوقع انجام صرف یہ ہوا کہ مسٹر شہباز شریف جب لاہور کے ہوائی اڈہ پر پہنچے تو وہاں انہیں کسی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ انہیں ایک خصوصی ہوائی جہاز میں بٹھا کر فوراً ہی جدہ بھیج دیا جب وہ جدہ ائیر پورٹ پر اترے تو وہاں ان کے استقبال کے لیے نہ کوئی پاکستانی موجود تھا اور نہ کوئی غیر پاکستانی۔ اس ڈرامائی سفر میں بہت بڑی رقم خرچ کی گئی۔ جب کہ مثبت معنوں میں اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا۔
مجھے وہ حدیث یاد آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندہ کے قدم اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک اس سے پو چھ نہ لیا جائے کہ تم نے مال کہاں سے کمایا اور اس کمائے ہوئے مال کو کہاں خرچ کیا: من این اکتسبه وفیم انفقه (الترمذی، کتاب القیامة) آدمی اگر اس ایک حدیث کو یاد رکھے تو اس کی اکثر مالی سرگرمیاں اپنے آپ رک جائیں۔ ۷ مئی ۲۰۰۴ کی صبح کو مولانا انیس لقمان ندوی سے ملاقات ہوئی۔ اُن سے بہت سے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک سوال میں نے یہ کیا کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کا زوال کوئی مقامی واقعہ نہ تھا۔ اس کا اثر پوری عرب دنیا پر پڑا۔ آپ خود عرب دنیا میں رہتے ہیں، مجھے بتائیے کہ اس حادثہ کے بعد عربوں کی سوچ میں کس قسم کی تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ما بعد صدام کی عرب دنیا (post-Saddam (Arab world میں اب وہ الفاظ کثرت سے استعمال ہونے لگے ہیں جن کا استعمال ماقبل صدام کی عرب دنیا میں سیاسی بغاوت کے ہم معنی تھا اور جن کے بولنے والے اکثر جیل میں بند کر دیے مثلاً سیاسی اصلاح، جمہوری نظامِ حکومت کا قیام، حکام کے مالی اور قانونی احتساب کا مطالبہ، منتخب پارلیمنٹ کی تشکیل، عدلیہ اور قانون ساز ادارہ کی آزادی، وغیرہ وغیرہ۔ غیر سرکاری اداروں میں بتدریج انتظامی شفافیت (administrative transparency) کو فروغ
دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کے ذریعہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے اور اظہار رائے کی آزادی کو عام کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ اگر چہ اس کا آغاز واضح طور پر ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعہ کے معا بعد ہو چکا تھا۔ مگر عراق میں صدام حسین کی ڈکٹیٹر شپ کے عبرت ناک خاتمہ کے بعد یہ رجحانات مزید شدت اور سرعت کے ساتھ سیاسی اور غیر سیاسی دونوں دائروں میں پھیلتے جارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عرب دنیا کے اندازِ فکر میں اس تبدیلی کا ایک سنگین پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اب اسلامی مدارس اور اسلامی تحریکوں کو مغربی دنیا کی طرح عرب ورلڈ میں بھی دہشت گردی کا سرچشمہ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس بنا پر سعودی عرب سمیت تمام عرب ملکوں میں ’’اصلاحِ تعلیم‘‘ کی مہم حکومتی سطح پر چلائی جارہی ہے۔ پچھلے ایک برس میں عرب سربراہان کی تمام کانفرنسوں کے ایجنڈے میں یہ مسئلہ سر فہرست رہا ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا کی دینی تحریکیں اور دینی مدارس کے نمائندوں کے حق میں اب تعاون اور ہمدردی کا جذبہ باقی نہیں رہا۔ وہ خیراتی ادارے جو دینی مدارس اور تنظیموں کو ملینوں ڈالر کی سالانہ امداد دیا کرتے تھے وہ یا تو بند کر دیے گئے ہیں یا انہوں نے اپنی امداد روک دی ہے۔ اس سال مولانا انیس لقمان ندوی نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنا تاثر مختصر اً یوں بیان کیا—— حج کا سفر، عدم تیقن کے ہجوم میں یقین کو دریافت کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ مولانا موصوف کے اس جملہ کا مطلب غالباً یہ تھا کہ حج کی مختلف سرگرمیوں کے دوران انسان کو اپنے عجز کا تجربہ ہوتا ہے۔ عین اُسی وقت حج میں شعائر اللہ کے درمیان صبح و شام گذارتے ہوئے حاجی کو خدائے ذوالجلال کے وجود کا غیر معمولی احساس ہوتا ہے۔ گویا حج انسان کے لیے ایک طرف اپنے کمال عجز کا تجربہ ہے اور دوسری طرف خدا کے کمال قدرت کا مشاہدہ۔
مولانا انیس لقمان ندوی پچھلے آٹھ سال سے ابوظبی میں رہتے ہیں۔ ان کا تعلق اسلامیہ انگلش اسکول سے ہے۔ دبئی اور ابو ظبی کے درمیان تقریباً ۱۸۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ میرے قیام دبئی کے دوران وہ دو بار ابوظمی سے ملاقات کے لیے آئے۔
ابوظبی کی ریاست امارات کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ اس کا رقبہ ۶۷۳۵۰ مربع اگرچہ اس کی بین الاقوامی سرحد ابھی تک متنازع ہے:
ابوظبی کا رقبہ عرب امارات کے کل رقبہ کا تین چوتھائی ہے۔ ابوظبی میں تیل کے کافی ذخائر پائے جاتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اس علاقہ کی سب سے زیادہ دولت مند ریاست بن گئی ہے۔ انیسویں صدی میں ابوظبی کی ریاست کی نزاع ، مسقط اور عمان سے پیدا ہوئی۔ ساتھ سعودی عرب سے بھی اس کی نزاع پیدا ہوئی۔ اس کا سبب زیادہ تر وہابی تحریک کی بڑھتی ہوئی اس کے نتیجہ میں سرحدی نزاعات پیدا ہوئے جو اب تک غیر حل شدہ ہیں۔ ان میں سے البریمی کے نخلستان کا معاملہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔
ابوظبی نے برٹش اقتدار کے ساتھ (۱۸۲۰) میں اس معاہدہ پر دستخط کیے جس کو برٹش اسپانسر ڈ جنرل ٹریٹی آف پیس کہا جاتا ہے:
۱۸۹۲ میں ہونے والے معاہدہ کی دفعات کے تحت ابوظبی کے خارجی معاملات برٹش حکومت کے کنٹرول میں آگئے ۔ ابوظبی کے سابق حاکم شیخ زاید ابن خلیفہ (۱۹۰۸-۱۸۵۵) کے زمانہ میں ابوظبی اس علاقہ کی بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب ۱۹۶۸ میں برطانیہ نے خلیج فارس سے واپسی کا فیصلہ کیا تو ابوظبی نے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا۔ اس گفت و شنید کا مقصد یہ تھا کہ بحرین اور قطر کو ملا کر نوریاستوں کا ایک کنفیڈریشن قائم کیا جائے۔ مگر ان دو ریاستوں (قطر اور بحرین) نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ بقیہ سات ریاستوں پر مشتمل فیڈریشن قائم ہوئی جس کو متحدہ عرب امارات کہا جاتا ہے۔ ابوظبی کا شہر ۱۹۷۱-۱۹۷۶ میں اس ریاست کی راجدھانی بنایا گیا۔
ابوظبی کی اقتصادیات کا انحصار تقریباً تمام تر تیل کی پیداوار پر ہے۔
کی دریافت ۱۹۵۸ میں ہوئی ۔ ابوظبی کے تیل کے ذخائر کے بارے میں اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ 40,371,000,000 بیرل ہے ۔
ابوظبی کے حاکم شیخ زاید زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں ۔ مگر ان کو ایک مدبر حکمران مانا جاتا ہے ۔ اپنی تقریروں میں اس طرح کے الفاظ بولتے ہیں :
واجبنا أن نعمل المستحيل (ہمارا فرض ہے کہ ہم ناممکن کے لیے عمل کریں )
اس قسم کے الفاظ سے ان مطلب یہ ہوتا ہے کہ ابوظبی میں انقلابی انداز میں تعمیری کام مثلاً انھوں نے اس نظریہ کے تحت ابوظبی کے صحراؤں کو زرخیز بنا دیا ہے اور ایسے علاقوں میں کھجور کے شاندار باغات اگائے ہیں جہاں اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ شیخ زاید کی زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ابوظبی میں آزادی خیال کی وہ بالکل اجازت نہیں دیتے ۔ مثلاً ابوظبی کا ایک دولت مند باشندہ تھا جس نے اپنے ایک خطبہ میں امریکا کو برا کہہ دیا۔ اس کے بعد اس کو فوراً ہی ابوظبی سے ڈی پورٹ کر دیا اس کو یہ اجازت بھی نہیں ملی کہ وہ اپنی دولت کو اپنے ساتھ باہر لے جائے ۔ ۷ مئی کو جمعہ کا دن تھا۔ صبح کی چائے کے بعد ہم لوگ حسب معمول ہوٹل کے کمرہ میں بیٹھ دوپہر تک مذاکرہ کے روپ میں ہماری مجلس جاری رہی۔ اس مجلس میں زیادہ تر خواتین تھیں جو عرب رواج کے مطابق مکمل طور پر سیاہ برقع میں ملبوس تھیں ۔ اس برقع میں صرف آنکھ کھلی رہتی ہے اور بقیہ پورا جسم بشمول چہرہ ڈھکا رہتا ہے ۔ یہ سب تعلیم یافتہ خواتین تھیں ۔ ان میں سے بعض نے ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ میری باتوں کو ریکارڈ کیا۔ بعض خواتین قلم کا کاغذ کے ذریعہ اس کو لکھتی رہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جو تحریکیں احیاء اسلام کا کام کر رہی ہیں ان میں سے کوئی بھی زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہی ہیں ۔ ان میں سے ہر تحریک کا مشترک اصول ہے : نوا را تلخ تر میزن چو ذوق نغمہ کم یابی حودی را تیز تر می خواں کہ محمل را گراں بینی اس کے مطابق، ہر رہنما نے یہ کیا کہ ملت جہاں کھڑی ہوئی تھی وہیں جوش دلا کر وہ اس کو دوڑانے کی کوشش کرنے لگا۔ حالاں کہ اصل کام یہ تھا کہ زوال کے حقیقی اسباب کا جائزہ لیا جاتا۔
کی تبدیلیوں کو سمجھا جاتا۔ حالات کے لحاظ سے پورے معاملے کی نئی منصوبہ بندی کی جاتی اور پھر الٰاقدم فالاً قدم کے اصول پرملی سفر کا آغاز کیا جاتا۔ مگر کسی نے بھی اس طریقہ پر عمل نہیں کیا۔ اسباب کی اس دنیا میں اس قِسم کا عمل اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ بے عملی۔
گلف نیوز (Gulf News) دبئی کا انگریزی روزنامہ ہے۔ ۷ مئی کو اس کے ڈپٹی ایڈیٹر مسٹر محمود صابری نے ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کی اور اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق اسلام اور مسلمانانِ ہند سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام کی متشددانہ تصویر میڈیا کی تصویر ہے۔ میڈیا کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک انڈسٹری ہے۔ اس کو نیوز فروخت (sell) کرنا ہے۔ چوں کہ عوام ہاٹ نیوز کو پسند کرتے ہیں اس لئے میڈیا اپنا بزنس چلانے کے لئے سلیکٹیو بیس (selective basis) پر خبریں لیتا ہے، یعنی سافٹ نیوز کو چھوڑ دینا اور ہاٹ نیوز کو میں نے کہا کہ ہم میڈیا کے اس مزاج کو بدل نہیں سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو کہیں کہ یا تو ہاٹ نیوز وجود میں لانے سے پرہیز کریں یا ایسا کریں کہ مسلمانوں کے ذمہ دار لوگ ایسے مسلمانوں سے برأت کا اظہار کریں جو ہاٹ نیوز پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کریں کہ یہ اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔ اس طرح کم از کم یہ ہوگا کہ اسلام کی اصل تصویر بگڑنے نہیں اس کے بعد لوگ اسی نیوز کو مسلمانوں کے ساتھ منسوب کریں گے نہ کہ دین اسلام کے یہ انٹرویو گلف نیوز کے شمارہ ۹ مئی ۲۰۰۴ میں شائع ہوا ہے (صفحہ ۷)
آج جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ہوٹل کے قریب ایک مسجد میں پڑھی۔ نماز میں زیادہ تر غیر عرب لوگ نظر آئے۔ مجھے بتایا گیا کہ دبئی میں تقریباً ۸۰ فی صد غیر عرب ہیں۔ ایک بات یہ دکھائی دی کہ تمام لوگ صف میں شامل ہو کر بیٹھ گئے۔ جب تکبیر ہوئی اور جماعت کھڑی ہوئی تو کسی شور کے بغیر صفیں قائم ہوگئیں۔ اپنی جگہ پر کھڑے ہو جانا ہی صف بندی کے لئے کافی تھا۔ دن میں لوگ حسب معمول میرے کمرے میں آتے رہے اور مجلس کی صورت میں بات چیت جاری رہی۔
ایک خاتون جو کھانے وغیرہ کے انتظام میں رہتی تھیں اور ان کو میری بات سننے کا موقع
کم ملتا تھا۔ ان سے میں نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ سادہ زندگی اور اونچی سوچ (simple living, high thinking) کا کیا مطلب ہے۔
اصل یہ ہے کہ سادہ زندگی اور اونچی سوچ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے سادہ زندگی دراصل وقت کو بچانے کی ایک تدبیر ہے۔ سادہ زندگی کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی کی توجہ غیرضروری چیزوں سے ہٹ کر صرف ضروری چیز کی طرف لگ جاتی ہے۔ سادہ زندگی کا مطلب یہ ہے کہ مادی چیزوں پر کم پر راضی ہو جاؤ تاکہ تم فکری اور روحانی چیزوں میں زیادہ کو حاصل کر سکو۔ میں نے کہا کہ میں نے شروع ہی میں آپ کو تاکید کی تھی کہ آپ کھانے کے معاملہ میں انتہائی سادگی اختیار کریں۔ میں نے یہ بات نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہی تھی مگر آپ اس پر عمل نہ کر سکے ۔ اگر آپ اس پر عمل کرتے تو آپ کا سارا ٹائم بچ جاتا اور آپ ہماری مجلس میں برابر شریک رہتے۔ ایک اور صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ کوئی شاندار مکان یا شاندار موٹر کار جیسی کوئی مادی عظمت کی چیز دیکھتے ہیں تو وہ اس پر رشک یہ چیزیں ان کو بہت پرکشش معلوم ہوتی ہیں ۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس بھی ایسی چیز ہوتی۔ مگر صحیح ایمانی جذبہ یہ ہے کہ آدمی ایسی چیزوں کو دیکھ کر کانپ اٹھے۔ وہ سوچنے لگے کہ یہ چیزیں اگر میرے پاس ہوتیں تو میری ساری توجہ انہی چیزوں کی طرف لگ جاتی اور نتیجہ یہ ہوتا کہ میں خدا کی اس زیادہ بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا جو کہ خوش قسمت انسان کے لئے آخرت میں مقدر کی گئی ہے، یعنی خدا کی یاد اور آخرت کی فکر۔
ایک مجلس میں کچھ عرب حضرات تھے۔ انہوں نے میرے تصنیفی پروگرام کے بارہ میں میں نے کہا کہ اب عمر کے آخری حصہ میں میں نے حدیث کی شرح لکھنے کا کام شروع کیا یہ ایک لمبا کام ہے۔ اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس مجموعہ میں انشاء اللہ چھ ہزار سے زیادہ حدیثیں شامل ہوں گی ۔ فی الحال میں اس کتاب کو اردو میں تیار کر رہا ہوں، ہر حدیث کے متن کے بعد اس کا ترجمہ اور پھر اس کی مختصر تشریح ۔ بعد کو دوسری زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو سکتا ہے۔
اس موضوع کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تدوین حدیث کے بعد حدیث کی بہت سی شرحیں عربی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان سب سے زیادہ جامع شرح ابن حجر کی فتح الباری کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ شرحیں زیادہ تر حدیث کے فنی پہلوؤں کی وضاحت کے طور پر لکھی گئی ہیں۔ ان شرحوں میں حدیث کی معنوی حکمت بیان نہیں ہوسکی ہے۔
پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی کمی کی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ حدیث کی خدمت کے دو دور ہیں۔ پہلے دور میں ضرورت تھی کہ حدیث کے فنی پہلوؤں کی وضاحت کر کے اس کے استناد کو ثابت شدہ بنایا تا کہ بعد کی نسلیں کسی شبہ کے بغیر یہ یقین کر سکیں کہ یہ حدیثیں غیر مشتبہ طور پر خدا کے رسول کا کلام ہیں۔ یہ ابتدائی کام اللہ کے فضل سے قدیم شرحوں کے ذریعہ مکمل طور پر انجام پا چکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ حدیث کی حکمت اور اس کی گہری معنویت کو واضح کیا جائے۔ موجودہ زمانہ کا انسان پیغمبر کی رہنمائی کو اس کی گہری معنویت کے ساتھ سمجھے اور اس کو اپنی زندگی میں میں یہی کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میری اس بات کو سن کر عرب حضرات کافی متاثر انہوں نے فوراً پیش کش کی کہ کتاب خواہ کتنی ہی جلدوں پر مشتمل ہو، اس کی طباعت کا پورا خرچ ہمارے ذمہ ہوگا۔ آپ جیسے ہی ہم کو یہ مطلع کریں گے کہ کتاب تیار ہوگئی، ہم فوراً ہی اُس کی طباعت کی مطلوب رقم آپ کے ادارہ کو فراہم کر دیں گے۔
یہاں کے انگریزی اخبار گلف نیوز (۸ مئی ۲۰۰۴ کا شمارہ دیکھا۔ اس کی پہلی خبر یہ تھی کہ کراچی میں جمعہ (۷ مئی) کو ایک مسجد میں بم پھٹا۔ یہ بم اس وقت پھٹا جب کہ لوگ نماز پڑھنے جا رہے تھے۔ یہ خود کش بمباری (suicide bombing) کا ایک واقعہ تھا۔ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ اسلام میں خود کش بمباری جائز ہے یا ناجائز۔ میں نے کہا کہ اسلام میں خودکشی ہر حال میں کوئی بھی عذر خود کش بمباری کو جائز ثابت نہیں کر سکتا۔ جو لوگ خود کش بمباری کرتے ہیں اور جو لوگ اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں، دونوں ہی سے خدا کے یہاں سخت باز پرس ہوگی۔ ۸ مئی ۲۰۰۴ کی دوپہر کو عجمان کی جامعہ پرستون (Preston University) میں لکچر تھا۔
اس کا موضوع تھا: اسلام اینڈ پیس۔ میں نے تقریر میں بتایا اسلام امن کا مذہب ہے، نہ کہ تشدد کا میں نے کہا کہ کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ضرور ایسا کر رہے ہیں کہ وہ اسلام کے نام پرمتشددانہ جنگ چھیڑتے ہیں۔ مگر اسلام میں اس قسم کی جنگ کا کوئی جواز نہیں۔ اسلام میں جنگ کی بہت سی شرطیں ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ایک قائم شدہ مسلم حکومت ہی جنگ کا اعلان کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو بطور خود ہرگز جنگ کی اجازت نہیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے گوریلا وار، پراکسی وار، ایگریسیو وار، بلا اعلان وار، سب کے سب اسلام میں ناجائز ہیں۔ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔
یہاں ڈاکٹر وسیم احمد سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس یونیورسٹی میں عربک اور اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ کے ہیڈ ہیں۔ وہ اردو کے علاوہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بخوبی مہارت رکھتے ہیں۔ اس بات کی ایک مثال ہیں کہ انسان محنت سے بڑی بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی میں لکچر کے بعد حاضرین کی طرف سے مختلف سوالات کیے گئے۔ یہ تمام سوالات تحریری صورت میں تھے۔ ان سوالات کا میں نے مختصر جواب دیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ وہ لوگ جو اسلامی جہاد کے نام پر خودکش بمباری کرتے ہیں، وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ مر کر جنت میں جائیں کیا یہ صحیح ہے:
Those who do suicidal bombing in the name of Islamic Jihad, believe they will go to heaven, is it true? (Shakeel Ahmad Khan)
میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کل مسلمان جو خودکش بمباری کر رہے ہیں وہ جہاد نہیں۔ وہ بلاشبہ اسلام میں حرام ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر خودکشی جائز نہیں۔ میں نے کہا کہ کچھ عرب علماء نے خودکش بمباری کو استشہاد (طلب شہادت) کا عمل بتایا ہے اور اس کو جائز قرار دیا ہے۔ مگر یہ فتویٰ بلاشبہ ایک بے بنیاد فتویٰ ہے۔ عمل شہادت تو درکنار وہ جائز موت بھی نہیں۔
ایک عرب عالم ہیں جنھوں نے خودکش بمباری کو جائز قرار دیا ہے۔ وہ یورپ کے علاقہ اسکینڈی نیویا (Scandinavia) میں گئے۔ وہاں ایسا ہے کہ کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور دن لمبا اور کبھی دن چھوٹا ہوتا ہے اور رات لمبی۔ کچھ مسلمانوں نے عرب عالم سے پوچھا کہ یہاں نماز کے اوقات کا نظام کس طرح بنایا جائے ۔ عرب عالم نے وہاں تیسیر الفتویٰ (فتویٰ میں آسانی) کے اصول پر اس سوال کا جواب دیا۔ مگر یہی عالم جہاد کے معاملہ میں تعسیر الفتویٰ (فتویٰ میں سختی) کے اصول پر سوال کا جواب دیتے ہیں اور اس کی حمایت میں پر جوش تقریر کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے علماء کا یہ تضاد بھی کیسا عجیب ہے۔
اس قسم کا فتویٰ کسی صحت مند ذہن کی علامت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا فتویٰ ہمیشہ اپنی تخریبی سیاست کے حق میں اسلامی جواز فراہم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اسلام کی تعلیم کو بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ منفی ذہنیت کی پیداوار ہے، نہ کہ مثبت ذہنیت کی پیداوار۔ جامعہ پرستون عجمان کے علاقہ میں واقع ہے۔ عجمان کی ریاست عرب امارات کی سات ریاستوں میں سب سے چھوٹی ریاست ہے۔ عجمان شہر ریاست کا واحد آباد حصہ ہے۔ علاقہ کی دوسری ریاستوں کی طرح برٹش اقتدار کے ساتھ ۱۸۹۲ میں ایک معاہدہ پر دستخط کیے ۔ معاہدہ کے مطابق، عجمان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر برٹش کنٹرول میں چلی گئی۔ ۱۹۶۸ میں برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ وہ خلیج فارس میں اپنی موجودگی ختم کر دے گی ۔ اس کے بعد برٹش حکومت سے یہ گفتگو شروع ہوئی کہ نو ریاستوں کو ملا کر ایک فیڈریشن بنایا جائے۔ مگر دو ریاستیں اس فیڈریشن میں شریک نہیں ہوئیں اور وہ صرف سات ریاستوں کے مجموعہ کی صورت میں وجود میں آ سکا۔ ۸ مئی کو دوپہر کے کھانے کا انتظام مسٹر شکیل احمد خان انجینئر کے گھر پر تھا۔ یہاں مسٹر مسعود احمد سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ آدمی کو قسمت سے ملتا ہے مگر پیسہ کو خرچ کرنے کے لئے عقل کی ضرورت ہوتی انہوں نے کہا کہ ۹۹ فی صد لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح پیسہ تو کما لیتے ہیں مگر وہ اپنے
پیسہ کو بے جا انداز میں خرچ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ مر کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اس مجلس میں ایک اور صاحب (مسٹر شاہد) بھی موجود تھے۔ وہ یہاں ایک کامیاب بزنس کر رہے ہیں۔ ان سے میں نے کہا کہ پیسہ ہر ایک کے لیے آخر کار ایک مصیبت ہے۔ پیسہ اگر مسئلہ ہے تو زیادہ پیسہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ جو زیادہ دولت کماتے ہیں وہ آخر کار مایوسی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی تنظیم مال کے فن (art of money management) کو جانے۔
جناب عاطف سید انور علی کاظم (۳۸ سال) سے ۹ مئی کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ اپنی زندگی کے کچھ انوکھے واقعات بتائے۔ اپنا ایک تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا ملنا جلنا دہلی کے ایک مسیحی سے تھا۔ وہ کسی قدر اسلام کی طرف مائل تھا۔ پھر انھوں نے کہا کہ میں ایک عالم سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چل کر اس مسیحی سے ملیں اور اس کی تالیف قلب کے طور پر آپ کی طرف سے اسے ایک تحفہ پیش کیا جائے۔ اس عالم نے کہا کہ العلم يؤتى ولا يأتى (علم کے پاس جایا جاتا ہے علم خود نہیں آتا)
یہ قول در اصل سعید ابن مسیّب تابعی کا ہے۔ خلیفہ ہارون رشید نے چاہا تھا کہ اپنے بیٹے کی تعلیم کے لئے سعید بن مسیّب اس کے محل میں آئیں ۔ مگر سعید بن مسیب نے خود محل میں جانا پسند نہ کیا اور کہا کہ آپ کے شہزادوں کو خود میرے پاس آنا چاہئے۔ کیوں کہ طالب کو چاہئے کہ وہ خود چل کر علم کے پاس جائے نہ کہ علم اس کے پاس آئے۔
عاطف صاحب نے اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول مسلمانوں کے لئے یہ اصول غیر مسلموں کے لیے نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر مسلم تک علم پہنچانا دراصل دعوت کا عمل ہے اور دعوت ہمارا اپنا فریضہ ہے۔ جب ہم اسلام کا علم کسی غیر مسلم تک پہنچاتے ہیں تو ہم خود اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں اور فریضہ ادا کرنا خود اس کا کام ہے جس پر وہ چیز فرض ہو رہی ہو۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے مجھے نماز کا فرض ادا کرنا ہے تو مجھے خود مسجد جانا پڑے گا۔ مسجد میرے پاس اٹھ کر نہیں چلی آئے گی۔
عاطف صاحب نے اس کے بعد تبلیغی جماعت کے بعض افراد سے رابطہ کیا اور مذکورہ مسیحی کے بارے میں انہیں بتایا۔ وہ لوگ فوراً وہاں جانے کے لیے تیار ہو گئے کیوں کہ ان کے اندر پہلے ہی سے یہ مزاج تھا کہ دین کو چل کر پہنچانا چاہیے۔ چنانچہ تبلیغ کے 3 آدمی وہاں گئے۔ انھوں نے کچھ تحفہ (عطر، دعا کی کتاب اور کیسٹ) اس مسیحی کو پیش کیا اور اس سے نرمی اور محبت کے ساتھ بات کی اور اس کو دین ابتدائی پیغام پہنچایا۔
عاطف صاحب نے مزید بتایا کہ تبلیغی لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایسے موقع پر کم از کم تین آدمی کی جماعت بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک امیر ہوتا ہے اور دوسرا متکلم اور تیسرا ذاکر۔ اس جماعت کا قائد ہوتا ہے۔ متکلم کا کام یہ ہے کہ وہ ضرورت کے وقت بولے اور وضاحت کرے۔ ذاکر کا کام یہ ہے کہ وہ دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرتا رہے اور دعا کرتا رہے کہ یہ مشن کا کامیاب ہو۔ سن کر میں نے کہا کہ یہ طریقہ نہایت فطری ہے۔ وہ اسلام کی اسپرٹ کے عین مطابق ہے۔ ہے کہ مسلمانوں کی ہر مجلس میں یہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ اس طریقہ کو مسلم کلچر کا ایک جزء بن
عاطف صاحب نے ایک اور بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ حق کے داعی کے اندر تین صفت یہ تین صفتیں انھوں نے قرآن کی ایک آیت سے اخذ کی ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: و من احسن قولا ممن دعا الى الله وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین ۔ انھوں نے کہا کہ داعی کے اندر پہلی مطلوب صفت یہ ہے کہ دعوتی کام پر مکمل یقین ہو، اور دوسرا یہ کہ جو چیز داعی دوسروں کو بتا رہا ہے وہ خود بھی اس پر عمل کرنے والا ہو، تیسرا یہ کہ آدمی کے اندر تواضع (humbleness) کی صفت پائی جائے۔ ایک سچے داعی کے اندر یہ تین صفتیں ہونی چاہئیں۔ نے کہا کہ آپ کا یہ خیال بالکل درست ہے۔ یہی مزاج پوری امت میں ہونا چاہیے۔ ۹ مئی کی صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے بعد دوبارہ مجلس کا سلسلہ شروع ہوا۔ میرے کمرے میں عورتیں اور مرد اکٹھا ہو گئے۔ ان لوگوں سے دیر تک دینی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک مسئلہ کی
وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جنت کی قیمت دو چیزیں ہیں ـــ عمل یا اعتراف بے عملی۔ تو آدمی عمل صالح کا ذخیرہ لے کر خدا کے یہاں پہنچے یا ایسا ہو کہ عمل صالح کے ساتھ اس سے کچھ خطائیں بھی سرزد ہوئیں، مگر ان خطاؤں پر وہ بے حد شرمندہ تھا اور پوری طرح اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ میں نے مزید کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق ، شخصیت کی تعمیر میں باعمل ہونے کا احساس اتنا زیادہ مددگار نہیں ہے جتنا کہ اپنی بے عملی کا احساس ۔ صحابہ کرام کے بعد اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ ممتاز دینی شخصیت عمر بن عبدالعزیز کی ہے۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ، ان کی یہ شخصیت تمام تر احساس خطا سے بنی تھی ، نہ کہ احساس عمل کے تحت۔
اصل یہ ہے کہ کسی شخصیت میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو کوئی زبردست جھٹکا لگا ہو۔ احساس خطا آدمی کو اسی قسم کا جھٹکا پہنچاتا ہے ۔ وہ اس کو اندر سے بے چین کر دیتا یہی بے چینی انسانی شخصیت میں کسی بڑی تبدیلی کا اصل محرک ہے۔ مگر خطا کا احساس کوئی سادہ چیز صدمہ ہر ایک کو پہنچتا ہے ۔ مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو صدمہ کے بعد تڑپ اٹھیں اور اپنی اصلاح کے لیے بے چین ہو جائیں۔
ایک مجلس میں جنت کے بارے میں گفتگو ہوئی ۔ اس مجلس میں محمد احمد دادا بھائی بھی شریک انھوں نے کہا کہ کیا ایسی جنت میں آدمی اکتا (bore) نہیں جائے گا جہاں ہر وقت شہد کھانا اور دودھ پینا ہو۔ انھوں نے جنت کے بارے میں اسی طرح کے غیر سنجیدہ ریمارک دیے۔ وقتی طور پر مجھ کو ان کی بات ناپسند ہوئی ۔ مگر میں چپ رہا۔ میں اندر ہی اندر دعا کرنے لگا اور سوچنے لگا کہ ان کو کس طرح مطمئن کرنا چاہئے ۔ آخر کار ایک بات سمجھ میں آئی ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جنت کیا ہے تو قرآن میں اس کا جواب موجود ہے۔ قرآن میں ایک سچی خدا پرست خاتون کی دعا ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَكَ بَیْتًا فِي الْجَنَّةِ (التحریم ۱۱) اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت خدا کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے۔ یہ سن کر اچانک ان کا موڈ بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ دعا مجھے لکھ کر دیجئے۔ چنانچہ میرے ساتھی مولانا انیس لقمان ندوی
نے اس دعا کو ایک کاغذ پر پہلے لکھا اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ کیا۔ یہ کاغذ انہیں دے دیا گیا۔ وہ اتنا متاثر ہوئے جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیجئے۔ چنانچہ میں نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور ان کے لیے دعا کی۔
اس واقعہ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ پہلے ان کے ذہن میں جنت کا تصور مبہم (abstract) انداز میں تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جنت کیا چیز ہے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ جنت خدائے برتر کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے تو ان کے ذہن میں جنت کا ایک واضح تصور آگیا۔ یہ انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ خدا کائنات کا خالق ہے۔ وہ پھول جیسی خوبصورت چیزوں کو بنانے والا اس نے ستاروں اور سیاروں اور شمسی نظام کو وجود دیا ہے۔ اس نے جنگل اور پہاڑ اور دریا جیسی تمام چیزیں بنائی ہیں۔ جنت کو خدا کے ساتھ جوڑنے کے بعد انہوں نے اس کو سمجھ لیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ جنت خدائے عظیم و برتر کے پڑوس میں جینے کا نام ہے تو گویا انہیں ایک معلوم فریم ورک (framework) مل گیا جس کے نقشہ میں وہ جنت کو سمجھ سکیں۔ اب جنت ان کے لیے ایک قابل فہم (understandable) چیز بن گئی۔ وہی چیز ہے جس نے ان کے رویہ میں فرق پیدا کر دیا۔
آج کی مجلس میں مولانا انیس لقمان ندوی نے ایک دلچسپ لطیفہ سنایا جو ایک دیہاتی عرب اور بچوں کے ایک ڈاکٹر (child specialist) کے درمیان عربی مکالمہ کی شکل میں یوں ہے: أعرابي : ما وظیفتک يا دكتور ؟ (ڈاکٹر، آپ کا پیشہ کیا ہے؟
(میں بچوں کا ڈاکٹر ہوں)