Al-Risala · September 2004

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

Al-Risala, September 2004

By Maulana Wahiduddin Khan

أعرابي : لِمَاذَا لَمْ تَسْتَكْمِلْ دِرَاسَتَكَ يا دكتور ؟ (ڈاکٹر صاحب آپ نے اپنی تعلیم مکمل کیوں نہیں کی؟ اس مثال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے کیا چیز ضروری ہے۔ وہ یہ کہ آدمی سنی ہوئی بات میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بات اپنے ظاہر کے اعتبار سے ادھوری ہوتی ہے۔ کسی بات کو مکمل طور پر وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو ذہنی اعتبار سے اتنا تیار ہو کہ وہ غیر مذکور پہلو

کا اضافہ کر کے بات کو مکمل کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ کہی ہوئی بات کو صرف سننا کافی نہیں۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ آدمی کے پاس وہ مزید عقل ہو جس سے وہ کہی ہوئی بات کو اس کی پوری صورت میں سمجھ سکے۔ دبئی میں ایک علاقہ ہے جہاں امریکی لوگ رہتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں کے نظام میں کسی نہ کسی اعتبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بڑے بڑے دفتروں میں کام کرتے ہیں اور یہاں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ علاقہ بقیہ دبئی سے ممتاز طور پر مختلف ہے۔ دبئی کا شہر خود بھی شاندار انڈیا کے لیے تو شائننگ انڈیا ایک لفظی نعرہ ہے۔ مگر دبئی کے لیے شائننگ دبئی ایک ایسی حقیقت ہے جس کو دیکھتے ہی آدمی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے۔

مگر جہاں تک دبئی کے امریکی علاقہ کا تعلق ہے وہ اتنا زیادہ شاندار ہے کہ خود امریکا میں بھی ایسی شاندار جگہ کم دیکھنے کو ملے گی۔ یہاں کے مسلمان اس امریکی علاقہ کی شان وشوکت کو دیکھ کر اس پر سخت اعتراض کرتے ہیں۔ میں نے ایک مقامی مسلمان سے کہا کہ موجودہ شکل میں آپ لوگوں کے اعتراض کے پیچھے صرف حسد کا جذبہ کام کر رہا ہے۔ مگر کسی حاسد کو اس قسم کے اعتراض کا کوئی حق نہیں کیوں کہ وہ خود بھی اپنے لیے یہی چاہتا ہے۔ اس پر اعتراض کا حق صرف اس شخص کو ہے جو خود اس قسم کی چمک والی دنیا کا خواہشمند نہ ہو۔ جو خالص آخرت کے جذبہ کے تحت اس کے بارہ میں بولے۔ اعتراض حسد کے جذبہ کا اظہار نہ ہو بلکہ صرف اس تڑپ کا اظہار ہو کہ لوگ کس طرح موت اور آخرت کو بھولے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ آخر کار محل والے اور جھونپڑی والے دونوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ اس کو چھوڑ کر وہاں چلے جائیں نہ کسی کا محل اس کے کام آئے گا اور نہ کسی کا جھونپڑا۔ میں نے جب دبئی کے اس شاندار حصہ کو دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ ۱۹۳۶ میں انگریزوں نے نئی دہلی میں ایک شاندار دنیا بنائی جس کا مرکز وائس ریگل لاج تھا۔ یہ اب راشٹر پتی بھون کہا جاتا ہے۔ جب یہ شاندار علاقہ تعمیر ہوا تو اسی زمانہ میں فرانس کا ایک بڑا لیڈر ہندوستان آیا۔ اس نے اس کو دیکھ کر کہا انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے ، صرف اس لیے کہ وہ ایک دن اس کو چھوڑ کر چلے جائیں : What a magnificent world they built to leave.

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ابھی دبئی کے امیر لوگوں کو دیکھا یہاں غریب لوگ بھی ہیں۔ ان غریب لوگوں سے آپ کی ملاقات نہ ہوسکی۔ اگر آپ ان کو دیکھتے تو آپ جانتے کہ یہاں معاشی فراوانی کے ساتھ معاشی عدم مساوات بھی موجود ہے۔ میں نے کہا کہ میں دیکھے بغیر اس حقیقت کو جانتا ہوں۔ مجھ کو معلوم ہے کہ نہ صرف دبئی بلکہ ہر ملک میں، حتی کہ لندن اور نیویارک میں بھی ’’غریب‘‘ لوگ موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشی فرق فطرت کا ایک قانون ہے۔ وہ کسی سرمایہ دار یا کسی حکومت کا پیدا کردہ نہیں، بلکہ خود خالق فطرت کا پیدا کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارل مارکس اور اس کے انقلابی ساتھی ہر قسم کی اکھیڑ پچھاڑ کے باوجود دنیا میں معاشی مساوات نہ لا سکے۔

قرآن سے ثابت ہے کہ خدا نے تقسیم رزق میں ایک دوسرے کے درمیان فرق رکھا ہے۔ اس فرق کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ اسی فرق سے انسانی سماج میں مسابقت اور چیلنج کا ماحول قائم رہتا اسی فرق کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا میں حالت امتحان قائم رہے اور لوگوں کی جانچ ہوتی رہے۔ اسی فرق کی بنا پر لوگوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ صبر اور شکر جیسی نیکیاں اپنے نامۂ اعمال میں درج اسی فرق کی بنا پر سماجی فلاح اور انسانی خدمت جیسی سرگرمیاں برابر جاری رہتی ہیں۔ فرق کی بنا پر وہ تجربات پیش آتے ہیں جو لوگوں کو عمل کی زبان میں بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں امیری اور غریبی دونوں وقتی بھی ہیں اور اسی کے ساتھ اضافی بھی۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر دنیا میں معاشی فرق نہ رہے تو تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو جائیں گی۔ کے بعد معاشی اور اقتصادی ترقی رک جائے گی۔ روحانی اور فکری ارتقاء کا عمل جاری نہ رہے گا۔ دنیا زندہ انسانوں کے بجائے مردہ جسموں کی ایک دنیا بن کر رہ جائے گی۔ ایسی حالت میں لوگ عروج وزوال اور ترقی و تنزل کے واقعات کا مشاہدہ نہ کرسکیں گے، جب کہ اسی مشاہدہ سے انسان کو وہ عظیم چیز حاصل ہوتی ہے جس کو تاریخ کے اسباق کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی کی تقریروں کے کیسٹ بہت مقبول ہیں۔ لوگ اپنی کاروں میں اس کو

سنتے رہتے ہیں۔ دبئی میں میں اپنے ایک عزیز شکیل احمد خاں انجینئر کے گھر گیا۔ ان کی اہلیہ سلمہ نے بتایا کہ وہ روزانہ رات کو ڈاکٹر فرحت کے کیسٹ پابندی کے ساتھ سنتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ کا طریقہ گویا ایک دعوتی نعمت ہے۔ اس جدید طریقہ نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ داعی ایک مقام پر رہ کر ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا سکے۔

ڈاکٹر فرحت کا وزن کافی بڑھ گیا ہے، جب کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ زیادہ وزن طبی اعتبار سے اچھی چیز نہیں۔ آپ کو واک کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے میں اسلام آباد میں رہتی تھی۔ وہاں میں برابر واک کرتی تھی۔ اس وقت میرا وزن اتنا زیادہ نہ تھا۔ اب میں کراچی میں رہتی ہوں۔ کراچی میں گھر سے باہر نکلنا غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے میں نے کراچی میں واک کرنا بند کر دیا۔ اس کے بعد میرا وزن بڑھ گیا۔

میں نے کہا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے۔ پاکستان کے حامیوں کا یہ کہنا تھا کہ مسلمان متحد ہندوستان میں محفوظ نہیں رہ سکتے، اس لیے ہم کو پاکستان کی صورت میں ایک محفوظ علاقہ چاہئے اور اب یہ حال ہے کہ پاکستان خود مسلمانوں کے لیے غیر محفوظ ہو رہا ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے جو اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ماضی کی سیاست پر نظر ثانی کریں۔

ایک عرب تاجر ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا قدیم وطن یمن تھا۔ باپ یمن کو چھوڑ کر دبئی آگئے اور اب ہم لوگ یہاں کے شہری ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی پیدائش یمن میں ہوئی یا دبئی میں۔ انھوں نے کہا: الحمد للہ، میری پیدائش دبئی میں ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ الحمد للہ کا کوئی صحیح استعمال نہیں۔ کیا ایسا ہے کہ آدمی اگر دبئی میں پیدا ہو تو یہ الحمد للہ کی بات ہے، اور اگروہ ہندوستان یا یمن جیسے کسی ملک میں پیدا ہو تو وہ الحمد للہ کی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ دبئی اور یمن اور ہندوستان سب خدا کے ملک ہیں۔ سب یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ پیدا ہونا یا زندگی کا ملنا تو ضرور الحمد للہ کی بات ہے، مگر ایک خطۂ زمین اور دوسرے خطۂ زمین میں فرق کرنا کوئی صحیح اسلامی ذہن نہیں۔ ایک غیر مسلم سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میں نے روحانیت کے انداز میں کچھ باتیں

وہ میری باتوں کو سن کر متاثر نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں سچائی کا متلاشی (seeker) ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کو میں ایک دعا بتاتا ہوں ۔ آپ اس کو پابندی کے ساتھ روزانہ پڑھیں ۔ نے یہ قرآنی دعا ایک کاغذ پر لکھی اور اس کو انہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ اس دعا کو روزانہ پڑھیں۔ دعایہ تھی: رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر (خدایا، جو خیر تو نے میری طرف اتارا، میں اس کا محتاج ہوں) انہوں نے کہا کہ میں اس دعا کو روزانہ پڑھوں گا۔

۹ مئی کو شارجہ ٹی وی میں انٹرویو تھا۔ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ میں وہاں پہنچا۔ دیکھا کہ صاف ستھری سڑک کے کنارے خوبصورت آہنی فصیل کے اندر ایک بہت بڑی شاندار دنیا اس کے اندر داخل ہوا تو اس کا ہر حصہ منظم اور ممتاز دکھائی دیا۔ شارجہ ایک بے حد چھوٹا ملک ہے اور ہندوستان اس کے مقابلہ میں بہت بڑا ملک ۔ مگر شارجہ کے مقابلہ میں دہلی کا ٹی وی اسٹیشن بہت معمولی نظر آتا ہے۔

شارجہ ٹی وی کے اسٹوڈیو میں دو انٹرویو ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں سے ہر ایک ۲۵ منٹ کا انٹرویور مولانا عبدالقیوم بستوی تھے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور امن کے موضوع سے تھا۔ میرے جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں جنگ ایک استثناء ہے، نہ کہ کوئی عمومی حکم۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لیے جائز ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی بہت سی شرطیں ہیں۔ مثلاً جنگ صرف ایک قائم شدہ حکومت کر سکتی ہے، غیر حکومتی تنظیموں کے لیے جنگ کرنا جائز نہیں۔ ان کے لیے پر امن جد و جہد ہے، نہ کہ مسلح جہاد۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام میں گوریلا وار اور پراکسی وار قطعا حرام ہے۔ بمباری بلا شبہ اسلام میں حرام ہے۔ اسی طرح ایک جائز جنگ میں بھی صرف مقاتل پر حملہ کیا جاسکتا ہے، غیر مقاتل پر حملہ کرنا کسی حال میں جائز نہیں۔

اس پروگرام کے انتظامی ڈائرکٹر مسٹر خورشید احمد تھے۔ ان کو میری باتیں بہت پسند آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ہم نے آپ کا پروگرام بہت جلدی میں بنایا۔ آئندہ انشاء اللہ ہم آپ کا پروگرام زیادہ باقاعدہ صورت میں کریں گے۔

کئی مردوں اور عورتوں نے آٹو گراف کے لیے کہا۔ میں نے ہر ایک کی نوٹ بک پر کچھ نصیحت آمیز کلمات لکھ دیے۔ قدسیہ سید کی نوٹ بک پر میں نے یہ الفاظ لکھے: خدا سے محبت کی منزل انسان سے محبت کے راستہ سے گزرتی ہے۔ اس جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل کے مسلمان انسان سے نفرت کرتے ہیں اور بطور خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خدا اور اُس کی جنت کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مسلمانوں پر سعدی شیرازی کا یہ شعر صادق آتا ہے: تُرسَم نُرسی به کعبه اے اعرابی کیں ره که تو می روی به ترکستان است ایک مجلس میں میں نے کہا کہ لوگ عام طور پر غلطی کا اعتراف کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کہ اگر وہ دل سے مان لیں کہ اُن سے غلطی ہوگئی تب بھی وہ زبان سے یہ نہیں کہہ پاتے کہ میں غلطی پر تھا (I was wrong)۔ غلطی کا اعتراف وہی معتبر ہے جو کھلے طور پر زبان سے ہو۔ دل سے ماننا اور منھ سے نہ بولنا، ایک قسم کی منافقت ہے اور منافقت کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں کسی کو ملنے والا ہے اور نہ

مزید یہ کہ غلطی کا اعتراف کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ خود اپنے شخصی ارتقاء کے لیے بے حد اہم اس دنیا میں کسی مرد یا عورت کے لیے سب سے بڑی چیز اپنی شخصیت کا ارتقاء ہے، اور شخصیت کا ارتقاء سب سے زیادہ جس چیز کے ذریعہ ہوتا ہے وہ اپنی غلطی کا سچا اعتراف کرنا ہے۔ ایک باریش بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ہندوستان کے ایک مدرسہ میں تعلیم پائی اور اب وہ کسی سروس کے تحت عرب امارات میں رہتے ہیں۔ ملاقات کے وقت انھوں نے بتایا کہ جب میں ہندوستان میں تھا تو میں آپ کا ماہنامہ الرسالہ پڑھتا تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا الرسالہ ابھی نکل رہا ہے۔ ان کے اس سوال پر مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ میں نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کیا آپ کے فرزند ابھی تک زندہ ہیں تو آپ کا جواب کیا ہو گا۔ سوال کا جو جواب آپ کے پاس ہو، اُسی کو آپ میری طرف سے اپنے سوال کا جواب سمجھ لیجیے۔

ایک ہندوستانی عالم سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے یہاں کے ایک تعلیمی ادارہ میں اصولِ فقہ پر تخصص کیا ہے اور اس پر مقالہ لکھا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اگر آپ کی ملاقات کسی غیر مسلم سے ہو اور وہ پوچھے کہ قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ایک جملہ میں بتائیے تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے۔ وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اگر کوئی مسلمان آپ سے کہے کہ اسلام کی کوئی آفاقی تعلیم بتائیے تو آپ اس کو کیا جواب دیں گے۔ عجیب بات ہے کہ اس سوال کا بھی کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ پھر میں نے کہا کہ اب میں آپ کے اپنے موضوع تحقیق کے بارہ میں ایک سوال کرتا ہوں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اجتہادِ مطلق کیا ہے اور اجتہادِ مقید کیا ہے۔ نے کہا کہ اجتہادِ مطلق کی بہت سی شرطیں ہیں اور آج کسی میں یہ شرطیں نہیں پائی جاتیں۔ میں مطلق اجتہاد کیا جاسکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ موجودہ زمانہ میں ہزاروں مشہور علماء ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی شخص آپ کے نزدیک اجتہادِ مطلق کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امریکا میں رہتے ہیں۔ دوران انہوں نے کہا کہ امریکا میں بہت زیادہ اسلامی کام ہورہا ہے۔ میں نے کہا کہ میں ایک درجن سے زیادہ بار امریکا گیا ہوں ۔ میں نے امریکا میں بہت کچھ پڑھا ہے اور اس کو قریب سے میں جانتا ہوں کہ جس چیز کو آپ لوگ اسلامک ورک کہتے ہیں وہ دراصل کمیونٹی ورک (community work) ہوتا ہے نہ کہ اسلامک ورک۔

اصل یہ ہے کہ امریکا اور دوسرے مغربی ملکوں میں جہاں مسلمان روزگار کے لئے رہتے ہیں وہ وہاں کی مقامی سوسائٹی سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ انسان ایک سوشل اینمل (social animal) ہے وہ سوسائٹی چاہتا ہے۔ اس ضرورت کے تحت امریکا وغیرہ میں کچھ اجتماعی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے سوشلائزیشن (socialization) کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہیں۔ البتہ مسلمان اپنے مخصوص کلچرل بیک گراؤنڈ کی بنا پر ان کو اسلام کا نام دے دیتے ہیں۔ اس قسم کا کمیونٹی ورک ہر مذہبی گروہ میں دیکھا جاسکتا ہے، مثلاً ہندوؤں میں اور سکھوں میں اور جینیوں میں۔

اسلامک ورک حقیقتاً وہ ہے جو دعوہ ورک ہو۔ یعنی غیر مسلموں کو اسلام کا خدائی پیغام مگر یہ دعوہ ورک وہاں سرے سے موجود ہی نہیں۔ کیوں کہ دعوت کا کام انسانی محبت کئے جذبہ کے تحت ہوتا ہے۔ دعوت دراصل محبت اور خیر خواہی کا اظہار ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرتے ہیں، وہ ان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ اس قابل ہی نہیں کہ وہ دوسری قوموں کے درمیان دعوت کا کام کر سکیں۔

ایک صاحب سے ہندوستان میں ہونے والے الیکشن (۲۰۰۴) کے بارے میں گفتگو میں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان میں زور و شور کے ساتھ چودھویں لوک سبھا کے الیکشن کی مہم چل رہی ہے۔ بنیادی طور پر یہ مقابلہ دو بڑی پارٹیوں کے درمیان ہے، بی جے پی اور کانگریس۔ طے شدہ ہے کہ اس الیکشن میں خواہ کوئی بھی پارٹی جیتے مگر انڈیا کے لئے موجودہ حالات میں ہار کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔

میں نے کہا کہ انڈیا کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد وہاں صحیح رخ پر قومی تعمیر کا آغاز نہ ہوسکا۔ ابتدائی قومی لیڈرزیادہ تر سوشلسٹ تھے۔ چنانچہ انھوں نے سوشلسٹ ماڈل کو سامنے رکھ کر تعمیری کام شروع کیا۔ انھوں نے پرائیویٹ سیکٹر پر اتنی پابندیاں لگائیں کہ وہ ابھر نہ دوسرے یہ کہ پبلک سیکٹر کے نام پر بہت بڑے بڑے اقتصادی ادارے قائم کئے ۔ یہ پبلک سیکٹر، ایک ہندو جرنلسٹ ارون شرما کے بقول، اقتصادی ترقی میں تو معاون نہ ہوسکا البتہ اس نے دو برائیاں پیدا کر دیں۔ ایک سرکاری انتظامیہ کا کرپشن اور دوسرے کروڑوں ملازمین کی صورت میں لیتھارجی (lethargy) کا مسئلہ، یعنی کام کے بغیر تنخواہ لینا۔

اب مشکل یہ ہے کہ اگر پبلک سیکٹر کو ختم کر کے پرائیویٹ اکانومی کو فروغ دیا جائے تو اقتصادی ترقی تو ہوتی ہے مگر اسی کے ساتھ بے روزگاروں کی ایک فوج وجود میں آتی ہے جن کے جذبات کو بھڑکا کر ٹریڈ یونین کے لوگ لیڈری حاصل کر لیں اور پھر پورے ترقیاتی عمل پر روک لگا دیں۔

ایک صاحب سے ہندوستان کے معاشی حالات کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سب سے بڑا مسئلہ غریبی کا مسئلہ ہے۔ جو پولیٹکل پارٹی غریبی کا خاتمہ (eradication of poverty) کا ایشو لے کر اٹھے گی وہ کامیاب ہوگی۔

میں نے کہا کہ انڈیا میں ایک طبقہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ انڈیا میں جو غربت ہے وہ ’’سرمایہ دارانہ نظام‘‘ کی بنا پر ہے جس کو پچھلے کچھ سالوں سے اختیار کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ درست نہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کا اصل مسئلہ کرپشن ہے۔ ہندوستان میں غریبی کو ختم کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ کرپشن کا خاتمہ (eradication of corruption) ہے نہ کہ ایریڈیکیشن آف پاورٹی (eradication of poverty)۔ ہندوستان میں کرپشن اتنا بڑھ چکا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت بڑی بڑی رقمیں غریبوں کے نام پر جاری کی جاتی ہیں۔ مگر اس کا بیشتر حصہ بیچ کے لوگ مختلف طریقوں سے لے لیتے ہیں اور عوام بدستور غریبی میں پڑے رہتے ہیں۔ موجودہ حالت میں ہندوستان میں خواہ ایک گروہ کی حکومت ہو یا دوسرے گروہ کی حکومت، عملاً یہی ہوگا کہ غریبی کے نام پر بجٹ بنے گا مگر وہ امیروں کی جیب میں چلا جائے گا۔

میں نے کہا کہ میرے نزدیک ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نظریہ ہی غلط ہے۔ غریبی خود اپنے عمل سے ختم ہوتی ہے نہ کہ حکومت کی سرپرستی سے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کی آزادی ہوتا کہ مسابقت کا ماحول قائم ہو۔ مسابقت کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ حکومت کو اصولی طور پر صرف دو کام کرنا چاہئیے۔ ایک ہے، کرپشن فری انتظامیہ اور دوسرے، پورے ملک میں عمدہ انفراسٹرکچر۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے ایک عربی مقالہ کا ذکر کیا۔ اس کے لکھنے والے ایک عرب عالم تھے ۔ اس مقالہ کا عنوان یہ تھا: لماذا تأخرنا وتقدم غيرنا (ہم کیوں پیچھے ہوگئے اور ہمارے غیر کیوں ہم سے آگے بڑھ گئے) اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہی سوال ۷۵ سال پہلے امیر شکیب ارسلان نے کیا تھا اور اس کا جواب بھی دیا تھا۔ انھوں نے اس مقصد کے تحت ایک کتاب شائع کی تھی جس کا عنوان یہ تھا: لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم

(کیوں مسلمان پیچھے ہو گئے اور ان کے غیر کیوں ان سے آگے بڑھ گئے )

میں نے کہا کہ ۷۵ سال پہلے امیر شکیب ارسلان نے اس سوال کا ایک جواب دیا تھا۔ یہی جواب اس زمانہ کے تقریباً علماء نے دیا۔ اور وہ جواب یہ تھا کہ مسلمان دوبارہ عروج کی حالت تک پہنچنے کے لئے جہاد کریں۔ امیر شکیب ارسلان نے اپنی کتاب میں مسلمانوں کو جہاد کے لئے ابھارتے ہوئے ایک عربی شاعر کا شعر نقل کیا تھا کہ میں زندہ رہنے کے لئے (میدانِ جنگ سے ) پیچھے رہا لیکن اس میں میں نے اپنے نفس کے لئے کوئی زندگی نہ پائی۔ زندگی تو صرف آگے بڑھنے والوں کے لئے ہے۔

تاخرت استبقی الحیاة فلم اجد لنفسی حیاة مثل ان اتقدما واقعات بتاتے ہیں کہ اس مشورہ کو مسلمانوں نے پوری طرح قبول کیا اور ساری دنیا میں جگہ جگہ مسلح جہاد شروع ہو گیا۔ اس جہاد کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مگر بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے با وجود اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ ناکام تجربہ بتاتا ہے کہ یہ مشورہ سراسر غلط تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ اسی قدیم مشورہ کو بار بار دہرارہے ہیں۔ مثلاً ایک عربی مجلّہ میں حال میں ایک عرب عالم کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے : الجهاد هو الحل الوحید ( جہاد ہی واحد حل ہے ) حالاں کہ اب لوگوں کو یہ لکھنا اور بولنا چاہئے کہ ہمارا جہاد تو نا کام ہو گیا۔ اب مقصد کے حصول کے لئے دوسری کون سی تدبیر کی جائے۔

دبئی میں قیام کے دوران کراچی سے ایک خاتون کا خط موصول ہوا۔ اس خط پر ۶ مئی ۲۰۰۴ کی تاریخ درج تھی۔ یہ خط ایک صاحب دستی طور پر لے آئے تھے جو کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز دبئی پہنچے تھے۔ اس خط کا ایک حصہ یہ تھا :

آپ کی تحریروں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ خصوصاً پیغمبر انقلاب اور ڈائری پڑھ کر میری سوچ میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں۔ آپ دعا کیجیے کہ میری سوچ کی تبدیلیاں میرے عمل میں بھی آپ کی کتاب پیغمبر انقلاب پڑھ کر میں نے تاریخ کو ایک بالکل نئے پہلو سے جانا۔

نئے موضوع پر چونک اُٹھتی تھی اور سوچنے پر مجبور ہوتی تھی کہ کیا ہم کبھی صحابہ کی طرح ایمان لا سکتے ہیں۔ کیا کبھی ان جیسا عمل کر سکتے ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ پھر آپ ہی کی تحریر میں مجھے جواب مل گیا کہ صحابہ نے اسلام کو شعور کی سطح پر لیا تھا۔ اس دن سے کوشش کر رہی ہوں کہ میں بھی اسلام کو شعور کی سطح پر لوں۔

حقیقت یہ ہے کہ صحابہ معجزہ نہیں، وہ ہمارے لیے اُسو ہ ہیں۔ صحابہ کی حیثیت نا قابل تقلید شخصیت کی نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہمارے لیے قابل تقلید نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصحاب رسول کو ہمیں اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

پروفیسر محمد ادریس زبیر (۲۸ سال) انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد میں استاد تھے۔ پھر انھوں نے اس سے استعفا دے کر دعوت کا کام شروع کیا۔ وہ کامیابی کے ساتھ اس کو چلا رہے ایک گفتگو کے دوران انہوں نے تربیت اولاد کے معاملہ میں ماں کی اہمیت کو بتاتے ہوئے یہ عربی شعر پڑھا— ماں ایک مدرسہ ہے۔ اگر تم نے ماں کو تیار کر دیا تو تم نے ایک بہترین نسل تیار کر دی: الأم مدرسة إن اعددتها أعددت شعبا طيب الأعراق پروفیسر ادریس صاحب نے کراچی میں مسلم لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک ادارہ (الہدیٰ انٹر نیشنل) قائم کیا ہے۔ اس ادارہ کے تحت وہ گویا مستقبل کی ماؤں کو تیار کر رہے ہیں۔ ایک دور رس تعلیمی منصوبہ ہے۔ مسلم خواتین کو تعلیم یافتہ بنانا ایک عظیم کام ہے۔ پوری مسلم دنیا میں اس کام کی شدید ضرورت ہے۔

بعض اسباب سے موجودہ زمانہ میں ایسا ہوا کہ مسلم خواتین تعلیم میں پچھڑ گئیں۔ حالاں کہ تعلیم ہر مسلم مرد اور مسلم عورت کے لئے ضروری ہے۔ تعلیم کا تعلق نہ صرف مرد سے ہے اور نہ صرف عورت سے بلکہ اس کا تعلق انسان سے ہے۔ وہ دونوں ہی صنفوں کے لئے یکساں طور پر ضروری ہے۔ موجودہ زمانہ میں عورت اور اسلام کے موضوع پر کثرت سے ہر زبان میں کتابیں لکھی گئی مگر جہاں تک میرا تجربہ ہے، ان کتابوں میں عورت کے تعمیری کردار کو بہت کم نمایاں کیا گیا ہے۔

زیادہ تر دوسرے پہلو مصنفین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے مجھے اس ضرورت کا احساس تھا چنانچہ میں نے اس موضوع پر ایک جامع کتاب تیار کی ہے۔ اس کتاب کا نام ”عورت معمار انسانیت“ یہ کتاب اس وقت زیرِ طبع ہے۔ وہ تقریباً ۲۰۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں عورت کے مثبت رول کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ ہندوستان کی ہندو ایکسٹریمسٹ پارٹی بی جے پی کو سپورٹ کرتے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ وہ بی جے پی کو ووٹ دیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صد فی صد غلط ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ دیں۔ معاملہ میں میری جو رائے ہے اس کا تعلق انتخابی پالیسی سے ہے نہ کہ سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے یا ووٹ نہ دینے سے۔

میں نے کہا کہ حال میں ۴ مئی ۲۰۰۴ کو نئی دہلی کے جین ٹی وی کے اسٹوڈیو میں ڈسکشن کا ایک پروگرام تھا۔ ڈسکشن کے اس پروگرام میں اینکر کے علاوہ دو آدمی شریک تھے۔ ایک میں، اور دوسرے کانگریس پارٹی کے سینیر لیڈر سید جعفر شریف۔ اس ڈسکشن کا موضوع تھا ”مئی ۲۰۰۴ کا الیکشن اور مسلمان“ اس موقع پر میں نے صاف لفظوں میں کہا کہ میں کسی سیاسی پارٹی کا ایڈوکیٹ نہیں میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ مسلمان کس کو ووٹ دیں اور کس کو ووٹ نہ دیں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ مسلمان نگیٹیو ووٹنگ (negative voting) کا طریقہ ختم کر دیں۔ اس کے بجائے وہ پازیٹیو ووٹنگ (positive voting) کا طریقہ اختیار کریں۔ ہندوستان ایک ڈیموکریسی ہے۔ یہ طریقہ ڈیموکریٹک اسپرٹ کے خلاف ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو پرو مسلم اور اینٹی مسلم کے خانوں میں بانٹا جائے۔ ہے کہ ہر پارٹی انسان پارٹی ہے۔ مسلمان ایک داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ اس طرح وہ معتدل ماحول قائم رہتا ہے جس میں دعوت کا کام مؤثر طور پر کیا جا سکے۔ اس معاملہ میں میری جو رائے ہے وہ دعوتی نقطۂ نظر سے ہے نہ کہ انتخابی نقطۂ نظر سے۔ میرا اصل کنسرن دعوت ہے نہ کہ کوئی پالیٹکل پارٹی۔

ریاست عجمان کی رولنگ فیملی کے ایک اہم ممبر عبد العزیز بن علی بن راشد نعیمی سے ملاقات وہ عجمان مؤسسۃ بن علی بن راشد کے مدیر عام بھی ہیں۔ ان کے ساتھ پروفیسر طیب علی ابوسن بھی تھے ۔ وہ مذکورہ مؤسسۃ میں مستشار ثقافی ہیں۔ ان لوگوں سے تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی ۔ عربی کے علاوہ انگریزی زبان بھی اچھی طرح جانتے تھے۔

انھوں نے جو باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ الشارقۃ (شارجہ) کے سلطان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے تاریخ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا ہے۔ انہوں نے سلطان کے دو نصیحت آمیز قول بتائے (1) زندگی میں اکثر چیزیں وہ ہیں جو کوئی چیز ہی نہیں (۲) اپنے دشمن پر قابو پانے والا چھوٹا ہیرو ہے، اور اپنے آپ پر قابو پانے والا بڑا ہیرو ہے۔

Printed page