‘‘The most things in life are not things.’’
Al-Risala, September 2004
By Maulana Wahiduddin Khan
‘‘Small heroes can master their enemies, but big heroes can ان لوگوں سے گفتگو کے بعد میرا تاثر یہ تھا کہ آج کل عربوں میں تعلیم کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حسن البناء اور سید قطب کے زمانہ میں جو عرب رہنما اٹھے ان سب نے جہاد کی باتیں لیکن اب لمبے نا کام تجربہ کے بعد عربوں نے یہ سمجھ لیا کہ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ اب عربوں کا ذہن تیزی سے جہاد علمی کی طرف آ رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ صرف ایک نسل میں صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ جو عرب حسن البناء اور سید قطب کو مثالی رہنما سمجھتے تھے، وہ انہیں اجتہادی خطا کا کیس قرار دے کر فراموش ماضی کے خانہ میں ڈال دیں گے۔ اور پر امن جد و جہد کے اصول پر اپنے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ بنائیں گے۔
مقامی انگریزی روز نامہ گلف نیوز (Gulf News) کا شمارہ ۹ مئی ۲۰۰۴ دیکھا۔ کے پہلے صفحہ پر عراق کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کا عنوان تھا — الصدر کے آدمی جنگ کو توسیع دے رہے ہیں :
اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مقتدی الصد ر کی ملیشیا اور المہدی آرمی عراق میں مقیم امریکا اور برطانیہ کے فوجیوں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں اور ان کو سخت نقصان پہنچارہے ہیں۔ ایک سال پہلے یکم مئی ۲۰۰۳ کو امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ عراق میں ہمارا فوجی مشن مکمل ہو گیا ہے۔ کے بعد سے اب تک مسلسل تقریباً ہر دن امریکی اور برطانوی سپاہی مارے جارہے ہیں۔ عراق کا معاملہ امریکا کے کنٹرول میں نہ آسکا۔
عراق ہمیشہ سے ایک سرکش ملک کی حیثیت سے جانا جاتا رہا۔ عراقی لوگ مشکل ہی سے کسی کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ عربی میں یہ مثل ہے کہ العراق لا یطاق ، یعنی عراق کو قابو میں نہیں لایا عراق کی موجودہ صورت حال غالباً عراق کے بارے میں اسی قدیم مثل کی ایک مزید تصدیق ہے۔ اسی انگریزی اخبار کے صفحہ ۹ پر ایک کالم اوپینین (Opinion) کے عنوان کے تحت تھا۔ میں چند شہریوں کی رائے شائع کی گئی تھی۔ ڈاکٹر انور ایم گرگیش (Anwar M Gargash) کی تحریر اس عنوان کے تحت چھپی تھی ۔ تشدد کا چیلنج (The Challenge of Violence) اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے دو سال کے اندر سعودی عرب سے لے کر اردن تک مسلمانوں کے اندر تشدد کی ذہنیت پھیلی یہ ایک بری علامت ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو روکنے کی تدبیر کی جائے۔ آخر میں موصوف نے لکھا تھا کہ ضروری ہے کہ موجودہ تشدد کی لہر سے سختی کے ساتھ نپٹا جائے۔ طویل المیعاد کے اعتبار سے صرف سیکورٹی جیسی کارروائی مؤثر ثابت نہ ہوگی:
While the current spate of terrorism must be dealt with firmly, in the long term a purely security centred response is not enough and will not work. مگر اس تحریر میں یہ بتایا نہیں گیا تھا کہ سیکورٹی کے اقدامات کے علاوہ اس مسئلہ کے حل کے لئے اور کیا کیا جانا چاہئے ۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کا مستقل حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے تعمیری خطوط پر جدید مسلم نسلوں کی ذہن سازی ۔ تاہم یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں
صرف امن کی اپیل کافی نہیں ہوسکتی۔ اصل یہ ہے کہ ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ دوسری قومیں مسلمانوں کی دشمن ہو چکی ہیں۔ وہ مسلسل طور پر مسلمانوں کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ خود مسلم ملکوں کا حکمراں طبقہ اس سازش کا شکار ہو چکا ہے اور یہ کہ اس مسئلہ کا واحد حل مسلح جہاد ہے۔ اس قسم کی باتیں موجودہ زمانہ میں اتنی کثرت سے کہی گئی ہیں کہ تقریباً تمام مسلمانوں کے ذہن منفی سوچ سے بھر گئے ہیں۔ موجودہ تشدد اس کی ایک علامت ہے۔ میں مؤثر نقطہ آغاز کے لئے ضروری ہے کہ کھلے طور پر یہ اعلان کیا جائے کہ پچھلے مقررین اور محررین نے اس معاملہ میں جو کچھ کہا وہ غلط تھا۔ وہ وقتی ردعمل کی پیداوار تھا نہ کہ قرآن وسنت کے مثبت مطالعہ کا نتیجہ۔ نفی کے بغیر اثبات کا حصول ممکن نہیں۔
ایک صاحب کی ڈائری میں میں نے یہ الفاظ لکھے ــــ دشمن سے برا سلوک کرنا دشمن کی دشمنی کو بڑھاتا ہے اور دشمن سے اچھا سلوک کرنا دشمن کی دشمنی کو ختم کر دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا یہ نظریہ بظاہر اچھا لگتا ہے، مگر اس نظریہ کی بنیاد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ دراصل فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اس اصول کو قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے، اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :
اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (حم السجده ۳۴) اصل یہ ہے کہ کوئی بھی آدمی پیدائش کے اعتبار سے مسٹر دشمن نہیں۔ پیدائشی طور پر ہر آدمی مسٹر دوست، ہی ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے جو دوسرے آدمی کے اندر ہے۔ دراصل ایک اوپری چیز ہے جو وقتی جذبہ کے تحت کسی کے دل میں مصنوعی طور پر آ جاتی ہے۔ اگر ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ یک طرفہ طور پر نرمی اور حسن سلوک کا انداز اختیار کرے تو دشمن کا ظاہری پردہ ہٹ جائے گا اور اصل فطرت سامنے آ جائے گی جو ہر ایک کے لئے دوست ہے، وہ کسی کے لئے دشمن نہیں۔
گواور کہ ہر دشمن انسان آپ کا ایک امکانی دوست (potential friend) ہے۔ میں بہترین پالیسی یہ ہے کہ آپ اس امکان (potential) کو واقعہ (actual) بنائیں ۔ دشمن کو اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل کر لیں۔
متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates) سات چھوٹی ریاستوں کا ایک مجموعہ یہ تمام ریاستیں جزیرہ نما ئے عرب کے ساحلی مقامات کو کاٹ کر بنائی گئی ہیں۔ وہ سب خلیج عرب کے ساحل پر واقع ہیں۔ عرب امارات کا مجموعی رقبہ ۸۳۶۵۰ مربع کلومیٹر ہے۔ عرب امارات کی سات ریاستوں کے نام یہ ہیں: ابوظبی ، دبئی، عجمان، شارجہ، ام القیوان (Umm al qaiwain)، راس الخیمہ اور فجیرہ۔ اس یونین کا قیام ۱۹۷۱ میں ہوا۔ عرب امارات کے اس مجموعہ کی راجدھانی ابوظبی کا شہر ہے۔
عرب امارات کا بیشتر حصہ ریگستان ہے۔ یہاں کا موسم گرم اور خشک ہے۔ بارش کا اوسط سال میں صرف تین سے چار انچ تک ہے۔ گرمی کے موسم میں بعض مقامات پر درجہ حرارت ۴۶ ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں کی شہری آبادی میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو انڈیا یا پاکستان اور ایران سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔ یہاں کی سرکاری زبان عربی ہے۔ مگر تعلیم یافتہ لوگوں میں انگریزی زبان کا بھی کافی رواج ہے۔
ایک مسافر نے بتایا کہ وہ دبئی ایرپورٹ پر کسی فلائٹ کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں ایک عرب لڑکی آئی اور پاس کی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ مسافر نے اس سے ایک سوال پوچھا۔ نے اپنا سوال عربی زبان میں کیا تھا۔ مگر لڑکی نے اس کا جواب انگریزی زبان میں دیا۔ اس سے پوچھا کہ کیا تم انگریزی زبان جانتی ہو۔ لڑکی نے فخریہ انداز میں کہا آف کورس (of course) عرب امارات کی آبادی زیادہ تر یہاں کے شہروں میں رہتی ہے۔ عرب امارات کی آمدنی کا زیادہ انحصار تیل کی دولت پر ہے۔ یہاں کی فی کس آمدنی بہت زیادہ ہے:
The United Arab Emirates has one of the highest levels of per capita income in the world. (18/862)
ابوظبی اس مجموعہ کی سب سے زیادہ دولت مند ریاست ہے۔ اس کا رقبہ سب سے زیادہ وہ امارات کے نیشنل بجٹ کا ۹۰ فی صد حصہ ادا کرتا ہے۔ اس علاقہ میں تیل کی دریافت ۱۹۵۸ ابوظبی میں آب پاشی کا نظام قائم کر کے بڑے پیمانے پر زراعت اور باغبانی کا کام ہو رہا ابوظبی میں ۱۹۸۲ میں ریفائنری (تیل صاف کرنے کے کارخانے) کا قیام عمل میں آیا۔ متحدہ عرب امارات میں ریلوے لائن نہیں ہے۔ مگر سڑکوں کا نظام اتنا عمدہ ہے کہ اس معاملہ میں کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔
عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (مکہ) کے شمارہ ۱۰ مئی ۲۰۰۴ (۲۱ ربیع الاول ۱۴۲۵ھ) میں صفحہ اول پر قاہرہ کی المجلس الاعلی للشؤن الاسلامیہ کے سالانہ ثقافتی اجتماع کی رپورٹ چھپی تھی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے شیخ الازہر ڈاکٹر سید محمد طنطاوی نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ فلسطین میں اس وقت جو مسلح جدوجہد ہو رہی ہے وہ اسلامی جہاد ہے، وہ دہشت گردی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد دہشت گردی نہیں ہے جیسا کہ اسلام کے دشمن اس کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ کیوں کہ دہشت گردی زیادتی ہے اور شرعاً ممنوع ہے۔ خواہ اس کا جو بھی مصدر ہو۔ ان الجهاد ليس ارهابـا كما يحاول تصويره اعداء الاسلام، فالارهاب عدوان مرفوض شرعاً أيّـا كان مصدره۔
میرا تجربہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد عرب علماء جہاد کے معاملہ میں سخت کنفیوزن کا شکار ہو گئے ہیں۔ مثلاً وہ انفرادی جہاد اور اجتماعی جہاد کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر انفرادی حملہ ہو تو اس کو اپنے ذاتی دفاع میں جوابی کارروائی کرنے کا پورا حق ہے۔ اس جوابی کارروائی میں مارا جائے تو وہ شہید قرار پائے گا۔ مشہور حدیث من قتل دون مالـه فهو شہید کا تعلق اسی انفرادی صورت حال سے ہے۔
دوسری صورت وہ ہے جب کہ مسلمانوں کے کسی ملک پر دوسرا ملک حملہ کرے۔ میں مسلمانوں کے لیے اجتماعی جہاد کا حق ہو جائے گا۔ مگر یہ اجتماعی جہاد صرف مسلم حکومت کا حق ہے،
غیرحکومتی تنظیموں کا حق ہرگز نہیں۔ غیر حکومتی افراد حکومت کی طلب پر اس کا ساتھ دے سکتے ہیں مگر وہ بطور خود مسلح جہاد نہیں چھیڑ سکتے۔ اس دوسری صورت میں مسلم عوام کے لیے پرامن جدوجہد (peaceful struggle) کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ مثلاً اس نوعیت کی پرامن جدوجہد جو مہاتما گاندھی نے غیرمنقسم ہندوستان میں چلائی۔ مگر جہاں تک مسلح کارروائی کا تعلق ہے، جیسا کہ فلسطین وغیرہ میں کی جارہی ہے، وہ یقینی طور پر غیر اسلامی ہے۔ کیوں کہ ان مسلح کارروائیوں میں ٧ مسلم ملکوں میں سے کوئی بھی ملک اعلان کے ساتھ شریک نہیں۔ واضح ہو کہ حکومت کی بلا اعلان شرکت جس کو پراکسی وار کہا جاتا ہے، وہ اسلام میں سراسر ناجائز ہے۔
دہلی سے ٩ مئی ۲۰۰۴ کی شام کو واپسی ہوئی۔ یہ سفر ایرانیا کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز تیزی سے دہلی کی طرف آگے بڑھ رہا تھا۔ اور میرے ذہن میں خیالات کا طوفان امنڈ ایک بات شدت سے ذہن میں گونج رہی تھی کہ جو مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر دبئی جیسی بیرونی جگہوں پر جا کر رہ رہے ہیں انہوں نے اس ’’ہجرت‘‘ سے کیا پایا اور کیا کھویا۔ غور کرنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ پانے کے اعتبار سے انہوں نے جو کچھ پایا وہ صرف پیسہ تھا۔ مگر کھونے کے اعتبار سے انھوں نے سب کچھ کھو دیا۔
آدمی جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں اس کی ایک مکمل تاریخ ہوتی ہے، ایک وہ تاریخ جو اس کو اپنے ماضی سے ملتی ہے، اور دوسری وہ تاریخ جو وہ خود اپنے عمل سے بناتا ہے۔ اس طرح اپنے وطن میں کسی آدمی کا وجود ایک بڑے درخت کی مانند ہو جاتا ہے جو اصلھا ثابت وفرعھا فى السماء (ابراہیم ۲۴)کامصداق ہوتا ہے، مگر اپنے وطن کے باہر اس کی حیثیت اس درخت کی مانند ہو جاتی ہے جس کو اپنی جڑ سے اکھاڑ کر کسی اور جگہ ڈال دیا گیا ہو۔ یہ لوگ اپنی ایک تاریخ سے کٹے اور دوبارہ نئے مقام پر اپنی دوسری تاریخ نہ بنا سکے۔ باہر کے ملکوں میں رہنے والے مسلمان دوسروں سے بالکل بے تعلق ہو جاتے ہیں۔ اس کی تلافی کے لئے وہ یہ کرتے ہیں کہ دعوتوں اور پارٹیوں کے نام پر ملنا جلنا بڑھا دیتے ہیں۔ مگر اس قسم کی سرگرمیاں صرف مزید نقصان کے ہم معنی ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو بس
کھانے پینے والے حیوانی بنا دیتی ہیں۔ ایسا سماج ایک قسم کا حیوان سماج ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں
اس نقصان کی تلافی صرف ایک تھی اور وہ یہ کہ بیرونی مسلمان (Muslims in Diaspora) یہ کرتے کہ وہ ون مین ٹو مشن (one man two mission) کا طریقہ اختیار کر لیتے جیسا کہ اسلام کے دور اول میں صحابہ نے اختیار کیا تھا۔ یعنی اپنے وقت اور پیسہ کا نصف حصہ اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ کرنا اور اپنے وقت اور پیسہ کا بقیہ نصف حصہ دعوتی کام (dawah work) میں لگا دینا۔
اگر یہ مسلمان ایسا کرتے تو وہ نہ صرف ایک زیادہ بہتر تاریخ بناتے بلکہ خود اسلام کے لئے وہ ایک نئے تاریخی دور کے آغاز کا سبب بن جاتے ، جیسا کہ اصحاب رسول نے کیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب کی اکثریت عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں پھیل گئی۔ وہاں انھوں نے یہ کیا کہ وہ اپنی معاشی ضرورت کے لئے کوئی سادہ کام کر لیتے اور اپنے وقت اور اپنی طاقت کا بقیہ حصہ اسلام کے دعوتی عمل میں لگا دیتے۔ یہی موجودہ زمانہ کے ان مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو یہ اندیشہ ہے کہ ان کی دنیا بھی تباہ ہو جائے اور ان کی آخرت بھی۔ قرآنی الفاظ میں وہ، خسر الدنيا والآخرة کا مصداق بن کر رہ جائیں۔
۱۰ مئی ۲۰۰۴ کی صبح کو ہمارا جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ ایرپورٹ کی ضروری کارروائیوں کو انجام دینے کے بعد باہر نکلا تو مسٹر خالد انصاری وغیرہ موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر نظام الدین پہنچا۔