شکستِ تاریخ
Al-Risala, October 2004
By Maulana Wahiduddin Khan
گورنمنٹ سروس میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کو شکستِ ملازمت (break in service) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ دس سال سے ملازمت میں ہیں اور ایک دن چھٹی لیے بغیر دفتر میں حاضر نہ ہوں تو آپ کی مدتِ ملازمت کا شمار از سرِ نو اگلے دن سے پچھلے دس سال کی مدت حذف قرار پائے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ کی سینیر یٹی کا تعین پچھلے دس سال کو چھوڑ کر کیا جائے گا۔ یہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک سخت سزا ہے۔ وہ کسی ایسی غلطی کا متحمل نہیں کرسکتا جو اس کے لیے شکستِ ملازمت کا سبب بن جائے۔ اس لیے ہر ملازم آخری حد تک یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ شکستِ ملازمت کے اس قانون کی زد میں نہ آئے۔
اسی طرح ایک اور چیز ہے جس کو شکستِ تاریخ (break in history) کہا جاسکتا ہے۔ جب کوئی کام کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ ایک تاریخ بناتا ہے۔ اگر درمیان میں وہ اپنے پیشہ یا اپنے مقام کو بدل دے تو یہ اس کے لیے شکستِ تاریخ کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی تبدیلی کے بعد وہ اپنی بنائی ہوئی تاریخ سے کٹ جائے گا۔ حالاں کہ عملی اعتبار سے زندگی کی کامیابی میں تاریخ کی بہت اہمیت ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ بہت زیادہ سوچ کر اپنی عملی زندگی کا آغاز کرے ۔ وہ جب ایک کام شروع کردے تو اس کے بعد وہ اس کو ہرگز نہ چھوڑے۔ وہ اتار اور چڑھاؤ کو برداشت کرتے ہوئے اپنے کام میں لگا رہے ۔ اسی استقلال کے نتیجہ کا نام کامیابی ہے۔ جو لوگ بار بار اپنے کام کو بدلیں وہ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔
آدمی کی تاریخ اس کا قیمتی اثاثہ ہے۔ اسی تاریخ سے سماج کے اندر اس کی پہچان بنتی ہے۔ تاریخ سے اُس کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔ اسی تاریخ سے لوگوں کے نزدیک اُس کا درجہ متعین اسی تاریخ کے مطابق ، لوگ اس سے معاملہ کرتے ہیں ۔ یہ تاریخ لازمی طور پر تسلسل چاہتی ہے۔ جس تاریخ میں تسلسل نہ ہو وہ تاریخ ہی نہیں۔