Al-Risala · November 2004

انسان کدھر

Al-Risala, November 2004, pp. 6–8

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی (۱۹۳۳۔ ۱۹۹۱) پارلیمنٹ کے دسویں الیکشن (مئی ۱۹۹۱) کی مہم چلا رہے تھے۔ وہ ملک کا طوفانی دورہ کرتے ہوئے ۲۱ مئی ۱۹۹۱ کو اپنے مخصوص ہوائی جہاز کے ذریعہ تامل ناڈو پہنچے ۔ وہ ہوائی اڈہ مینمیکم (Meenampakkam) پر اترے۔ یہاں وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھے اور ۳۰ سے زیادہ کاروں کے قافلہ کے ساتھ سری پرم بودور (Sriperumbudur) کے لیے روانہ ہوئے جہاں انھیں ایک الیکشن میٹنگ کو خطاب کرنا تھا۔ رات کو ۱۰ بجے وہ پنڈال کے اندر عوام کی طرف سے گلدستے وصول کر رہے تھے۔ ایک ۲۵ سالہ عورت اپنے دونوں ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ لیے ہوئے راجیو گاندھی کی طرف راجیو بھی احساس فتح کے ساتھ اس کی طرف بڑھے۔ کیوں کہ ہر جگہ عوامی استقبال نے انھیں یقین دلایا تھا کہ اس الیکشن کے بعد وہ ملک کے وزیر اعظم بننے والے ہیں۔ عورت نے قریب آکر اپنا گلدستہ راجیو گاندھی کی طرف بڑھایا۔ مگر اس عورت کا تعلق خودکشی دسته suicide squad سے تھا اور وہ اپنے جسم پر خطرناک بم باندھے ہوئے تھی۔ راجیو گاندھی نے گلدستہ اپنے ہاتھ میں لیا ہی تھا کہ بم پھٹ گیا۔ راجیو گاندھی پوری طرح اس کی زد ان کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ اسی لمحہ ان کی موت واقع ہوگئی۔ بظاہر یہ بم کا دھماکہ تھا، مگر حقیقتہ وہ موت کا دھماکہ تھا جو ہر انسان کے لیے مقدر ہے۔ اس اعتبار سے یہ صرف راجیو گاندھی کی کہانی نہیں بلکہ ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہر آدمی کا ہاتھ خوشیوں کے گلدستہ پر ہے۔ مگر اصل حقیقت اس کی امیدوں کے بالکل برعکس ہے ۔ جس چیز کو آدمی گلدستہ سمجھ کر وصول کر رہا ہے وہ اس کے لیے ہلاکت کا بم ہے۔

اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جن کو موت سے پہلے اپنے رب کی معرفت حاصل ہوئی جنھوں نے اپنی زندگی کو رب کائنات کی اطاعت میں گزارا۔ جن کی موت اس حال میں آئی کہ وہ اپنے پرچہ امتحان کو کامیابی کے ساتھ حل کر چکے تھے۔

سفری کلاس (Class on wheels)

۳ جون ۲۰۰۲ کو کچھ لوگوں کے ساتھ ایک سفر ہوا۔ یہ عام سفروں سے مختلف ایک سفر زیادہ درست طور پر اس کو سفری کلاس (class on wheels) کہہ سکتے ہیں۔ یہ سفر بلند شہر کے علاقہ میں ہوا۔

بلند شہر دہلی کے جنوب مشرقی سمت میں واقع ہے۔ یہ علاقہ ۱۰۱۸ میں ہندو راجہ کے قبضہ سے نکل کر محمود غزنوی کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد اس علاقہ میں لڑائی ہوئی اور وہ مغل سلطنت کے دائرہ میں آگیا۔ ۱۸۰۵ میں وہ برٹش انڈیا کا ایک حصہ بنا۔

The area passed from a Hindu raja to Mahmud of Ghazna in 1018, was fought over during the 14th century and then fell under Mughal rule. In 1805 it became part of British India. اس سفر کا محرک مسٹر کرپال سنگھ (۶۱ سال) تھے۔ کر پال سنگھ بسوری ضلع بلند شہر کے رہنے یہ مقام دہلی سے ۷۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ کرپال سنگھ پہلے فوج پھر وہ پولیس کی ملازمت میں بھرتی ہوئے۔ پچھلے سال وہ ہیڈ کانسٹیبل کی حیثیت سے ریٹائر ان کی ڈیوٹی دہلی میں تھی اور وہ اکثر ہمارے یہاں آتے جاتے تھے۔ ان کی دیانت داری اور فرض شناسی اور انسانیت کی وجہ سے مجھے ان سے کافی دلچسپی ہوگئی۔

۳ جون کو ان کی لڑکی نیتو رانی کی شادی تھی۔ مسٹر کرپال سنگھ نے انتہائی عقیدت کے ساتھ مجھے اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ اس وقت ان کے دل کی کیفیت یہ تھی کہ جب انھوں نے چھپا ہوا کارڈ مجھے دیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے ان کا دل توڑنا گوارا نہیں ہوا۔ نے وعدہ کر لیا کہ میں انشاء اللہ آپ کی تقریب میں شرکت کروں گا۔ اس کے مطابق، ۳ جون ۲۰۰۲ کی صبح میں یہ سفر ہوا اور اسی دن شام کو واپسی ہوئی۔

پچھلے چار سال سے میں دہلی میں ایک کلاس چلا رہا ہوں جس کا نام اسپرپچول کلاس (spiritual class) ہے۔ اس کلاس میں انگریزی تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس کلاس کے ممبران کو معلوم ہوا تو ان میں سے کئی لوگ میرے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ کہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جب وہ میرے ساتھ ہوں تو وہ میری ہر بات کو نوٹ کریں۔ چنانچہ یہ سفر ایک نئے قسم کا سفر بن گیا۔ اس کو سفری کلاس (class on wheels) کہا جا سکتا ہے۔ اسپرپچول کلاس دراصل ایک خاص تصور اصلاح پر قائم ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ دہلی کے کچھ انگریزی یافتہ ہندو نوجوانوں کے اندر اسلام کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوا۔ وہ انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر چاہتے تھے۔ ان کو دہلی کے کسی مسلمان نے بتایا کہ تم لوگ جماعت اسلامی کے دفتر جاؤ، وہاں تم کو اپنے مقصد کے مطابق کتابیں مل جائیں گی۔ چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر گئے اور وہاں کے ذمہ داروں سے ملے۔ انھوں نے ان ہندو نوجوانوں کو ۱۵ کتابیں دیں۔ ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں کا انگریزی ترجمہ تھا۔ ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد وہ دوبارہ جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے ملے۔ انھوں نے انھیں بتایا کہ آپ کی یہ کتابیں ہم نے پڑھیں مگر یہ کتابیں ہمارے مائنڈ(mind) کو ایڈریس نہیں کرتیں۔

Printed page