Al-Risala · November 2004

These books do not address our mind

Al-Risala, November 2004, pp. 8–10

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے کہا کہ یہ کتابیں مسلم مائنڈ کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں جو پہلے ہی سے بطور عقیدہ اسلام کی سچائی کو مانتے ہیں۔ جب کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ ہم اسلام کی سچائی کو بطور عقیدہ نہیں بلکہ بطور دلیل آبجیکٹیو طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔ ہم سچائی کے متلاشی ہیں اور ہم نے دوسرے مذہبوں اور فلسفوں کو پڑھا ہے اور اب ہم اسلام کو اس حیثیت سے پڑھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ عقلی بنیاد پر پورا اتر رہا ہے یا دوسرے مذہبوں کی طرح وہ بھی ایک عقیدہ(dogma) کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ نوجوان وہاں سے مایوس ہو کر واپس ہو گئے۔ پھر ان کی ملاقات جمیل احمد الیاس سے انھوں نے کہا کہ میرے علم کے مطابق، دنیا میں صرف ایک ہی مسلم عالم ہے جس کی کتاب تم

لوگوں کو مطمئن کر سکتی ہے۔ انھوں نے میرا نام بتایا۔ یہ نوجوان میرے پاس آئے۔ میں نے ان لوگوں کو نہ صرف اپنی کتابیں پڑھنے کو دیں بلکہ ان کو اپنے ہفتہ وار اسپرچول کلاس میں شامل کر لیا۔ نوجوان مکمل طور پر اسلام کی صداقت پر مطمئن ہو چکے ہیں اور وہ ہمارے مشن کے باقاعدہ ممبر ہیں۔ اس تجربہ سے مجھے ایک نئی حقیقت دریافت ہوئی۔ مسلمانوں میں جو مصلحین اٹھے انھوں نے زیادہ تر جلسوں اور اجتماعات کو خطاب کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ گویا کہ ان کا طریقہ بھیڑ (crowd) کو ایڈریس کرنا تھا۔ مگر یہ تجربہ اپنے مقصد کے اعتبار سے ناکام رہا۔ کے تجربہ کے ذریعہ مجھے معلوم ہوا کہ اصلاح یا قرآن کے الفاظ میں تزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انفرادی ذہن کو ایڈریس کیا جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ اصلاح کا مقصد حقیقی طور پر حاصل کیا جا

اس تجربہ کے ذریعہ میں نے ایک معلوم حقیقت کو دوبارہ دریافت کیا۔ وہ یہ کہ، مشہور حدیث کے مطابق، ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی بے آمیز فطرت پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان کو مسٹر نیچر کہا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے بعد اس کا ماحول اس کو ’’یہودی یا مجوسی یا نصرانی‘‘ بنا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ایک کنڈیشنڈ کیس بن جاتا ہے۔

ایسی حالت میں سب سے پہلا کام ہر آدمی کی کنڈیشننگ کو توڑنا ہے۔ گویا یا اصلاح و تزکیہ کا کام ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ عمومی تقریر یا وعظ

ہماری اسپرچول کلاس میں جو ہندو نوجوان شریک ہوتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم اس کلاس میں شرکت سے پہلے اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اسلام ہمارے لئے کوئی پسندیدہ مذہب بن سکتا ہے۔ ہم تو آپ کے پاس روحانیت (spirituality) کی تلاش میں آئے تھے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ اسلام کا مطالعہ اسلام کے بارے میں ہمارے منفی ذہن کو مزید پختہ کر دے گا۔ مگر آپ نے ہمارے اوپر دی کنڈیشننگ کا جو پر اس چلایا اس کے بعد ہی یہ ممکن

ہوا کہ ہم اسلام کی تصویر کو اس کی اصلی صورت میں دیکھ سکیں۔ گویا کہ یہ لوگ اسپرچولٹی کے راستہ سے اسلام تک پہنچے۔

اسپرچول کلاس سے ایک اور بات مجھے معلوم ہوئی۔ یہ نوجوان میری کلاس میں آنے لگے تو میں اپنی عادت کے مطابق، ایسا نہیں کرتا تھا کہ ان سے میٹھی میٹھی باتیں کروں۔ بلکہ میں شدید الفاظ میں ان کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں اپنے ماں باپ کی طرف سے ٹیمپرنگ (pampering) کے عادی تھے لیکن میرے یہاں اس کے برعکس انہیں ہیمرنگ (hammering) کا ابتدا میں وہ لوگ اس سخت تجربہ سے گھبرائے۔ مگر وہ برابر ہماری کلاس میں آتے رہے کہ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔

آخر کار اب وہ کھلے طور پر مانتے ہیں کہ میری ہیمرنگ سے ان کو وہ فائدہ ہوا جو انہیں ان کے ماں باپ کی ٹیمپرنگ سے نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوا تھا۔ ہماری کلاس کی ایک خاتون پریا ملک بمبئی وہاں ایک مسلمان سے ان کی گفتگو ہوئی۔ پریا ملک نے اسلام کے بارے میں جو گہری باتیں بتائیں اس کو سن کر مسلمان کو بہت تعجب ہوا۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ ایک ہندو فیملی میں پیدا ہوئیں پھر اسلام کے بارے میں آپ کے اندر اتنی کلارٹی (clarity) کہاں سے آئی۔ پریا ملک نے جواب دیا کہ اس کا راز صرف ایک ہے اور وہ ہے:

Printed page