Al-Risala · November 2004

hammering, hammering, hammering.....

Al-Risala, November 2004, pp. 10–28

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سفر یا بالفاظ دیگر سفری کلاس (calss on wheels) میں حسب ذیل افراد شریک تھے محمد خالد انصاری، ڈاکٹر پردھان، رجت ملہوترا، پریا ملک، سنتھی ملہوترا، منجو ورمانی ، فریدہ یہ قافلہ ایک کوالس گاڑی میں سوار ہو کر ۳ جون کی صبح کو دہلی سے بلسوری (ضلع بلند شہر) کے لئے پورے راستہ میں تعلیم و تعلم کا تقریباً وہی طریقہ رائج رہا جو ہماری ہفتہ وار کلاس میں دہلی میں

۳ جون ۲۰۰۲ کی صبح کو ۱۰ بجے نظام الدین سے روانگی ہوئی۔ روانہ ہوتے ہی سفری کلاس

کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم اس سفر کا آغاز ایک دعا سے میں اس دعا کے الفاظ دہراتا ہوں اور آپ سب لوگ اس کو سن کر اسی طرح اس کو دہرائیں، جیسا کہ میں نے کہا ہے: سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين۔ ربنا لمنقلبون (الزخرف ۱۳-۱۴)

یہ قرآن کی آیت ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے: پاک ہے وہ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کر دیا، اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو قابو میں کرتے۔ اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے

اس کے بعد میں نے لوگوں کو پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک دعا بتائی جو سفر سے تعلق رکھتی روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ سفر پر روانہ ہوئے تو آپ نے یہ دعا پڑھی: اللهم انی اسألک فی سفری هذا البر والتقوی، و من العمل ما ترضى، اللهم هوّن لنا السفر واطو لنا البعيد، اللهم انت الصاحب فی السفر والخليفة في الأهل، اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا فى اهلنا (مسند احمد ۱۲۴/۲)

اس دعا کا ترجمہ یہ ہے:

اے اللہ، ہم اس سفر میں تجھ سے سوال کرتے ہیں نیکی کا اور تقویٰ کا، اور ایسے عمل کا جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ، تو ہمارے لئے سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لئے دوری کو کم کر دے۔ تو اس سفر میں ہمارا رفیق ہے اور تو ہمارے گھر والوں کا نگہبان ہے۔ اے اللہ، تو ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے بعد ہمارے گھر والوں کی خبر گیری فرما۔

پھر میں نے کہا کہ قرآن کی جو آیت ہم نے پڑھی اس میں تسخیر کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی خدا نے کچھ چیزوں کو اس طرح ہمارے تابع کر دیا ہے کہ ہم ان کو اپنے سفر کے لئے استعمال کریں اور ان پر سواری کر کے دور کے مقامات پر آسانی کے ساتھ پہنچ سکیں ۔ دوسری مخلوقات، مثلاً جانور اپنا سفر خود اپنے آپ کرتے ہیں۔ یہ انسان کی ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے سفر کے لئے دوسری

چیزوں کو بطور سواری استعمال کرتا ہے۔

خدا نے کچھ جانوروں، مثلاً گھوڑے اور اونٹ کو فطری طور پر ایسا بنایا ہے کہ وہ انسان کے تابع بن جائیں اور انسان کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر دور کے مقامات تک لے جا سکیں۔ پھر وہ وقت آیا جب کہ انسان نے پہیئے (wheels) دریافت کیے اور بیل گاڑی اور گھوڑا گاڑی اور اونٹ گاڑی بنا کر ان پر سفر کرنے لگا۔ اسی طرح خدا نے پانی کے لئے ایک ایسا قانون مقرر کیا کہ جس کے ذریعہ یہ ممکن ہوا کہ انسان کشتی جیسی سواری بنا کر اس میں بیٹھے اور پانی کو اپنے لئے کھلی سڑک کے طور پر استعمال کرے۔ اسی طرح خدا نے غیر ذی روح اشیاء اور معدنیات میں ایسے خواص (properties) رکھ دیں کہ انسان اپنی عقل کو استعمال کر کے انھیں تیز رفتار سواری میں ڈھال سکے۔ اس طرح ایک نئی انجینئرنگ وجود میں آئی۔ انسان نے اپنی عقلی صلاحیت کو استعمال کر کے ان قوانین فطرت کو دریافت کیا اور پھر ریلوے، اسٹیم شپ، موٹر کار، اور ہوائی جہاز جیسی سواریاں وجود میں آئیں۔ ہماری یہ گاڑی جس میں ہم اس وقت سفر کر رہے ہیں وہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ کیا ہے ۔ یہ ہے مادہ کا مشین میں تبدیل ہو کر زمین پر دوڑنا۔ غیر متحرک چیزوں کا متحرک صورت اختیار یہ سواری خدا کی ایک ایسی رحمت ہے جو ساری کائنات میں انسان کے سوا کسی اور کو حاصل جب ہم گاڑی میں سفر کریں تو یہ احساس ہمارے اوپر اتنا زیادہ طاری ہو کہ ہمارا دل شکر کے احساس سے بھر جائے۔ جب ایسا ہوگا تو ہمارا پورا سفر ایک اعلیٰ درجہ کی عبادت بن جائے گا۔ کہا کہ شکر کیا ہے۔ شکر در اصل دینے والے عطیہ کا اعتراف (acknowledgement) ہے۔ اعتراف بلاشبہ سب سے بڑی انسانی صفت ہے۔ اعتراف کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت زندہ ہے۔ وہ دیانت دار (honest) ہے۔ وہ چیزوں کو سنجیدگی کے ساتھ لیتا وہ گھمنڈ اور منافقت سے پاک ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پایا جاتا ہے۔ سچا انسان ہے۔ وہ اس واقعہ کو مانتا ہے کہ جن چیزوں کو وہ استعمال کر رہا ہے، وہ اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کو برائے استعمال دی گئی ہیں۔ شکر یا اعتراف ایک مکمل کردار

ہے، وہ صرف ایک لفظی تکرار کا نام نہیں۔

شکر کی یہ اسپرٹ اگر کسی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو یہ اس کے لئے ایک داخلی انقلاب کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس کو وہ اعلیٰ نفسیاتی تجربہ ہونے لگے گا جس کو روحانی ارتقا (spiritual development) کہا جاتا ہے۔

دہلی سے آگے بڑھا تو ہماری گاڑی اس مشہور روڈ پر تھی جس کو ’تاج اکسپریس‘ کہا جاتا یہ روڈ دہلی سے آگرہ جاتی ہے۔ اس کو ’ورلڈ کلاس روڈ‘ (world class road) کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں کے مقابلہ میں یہ ضرور ایک اچھا روڈ ہے مگر میرے تجربہ کے مطابق، وہ ورلڈ کلاس روڈ (world class road) نہیں۔ ہماری گاڑی کے ساتھ وہ جھٹکے تو نہیں لگ رہے تھے جس کا تجربہ بہار کی سڑکوں پر ہوتا ہے۔ مگر میں محسوس کر رہا تھا کہ ہماری گاڑی برابر اوپر نیچے ہو رہی باہر کے ملکوں میں میں نے بار بار ورلڈ کلاس (world class) سڑکوں پر سفر کیا ہے۔ نے پایا ہے کہ گاڑی بالکل اسموتھ (smooth) انداز میں چلتی رہتی ہے۔ ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں لگتا۔ جب کہ اس سڑک پر ایسا نہیں تھا۔

آج کل انڈیا میں ورلڈ کلاس چیزوں کا بہت چرچا ہے۔ ورلڈ کلاس شہر، ورلڈ کلاس روڈ، ورلڈ کلاس ایرپورٹ، ورلڈ کلاس یہ اور ورلڈ کلاس وہ۔ مگر انڈیا میں کرپشن اتنا بڑھ چکا ہے کہ یہاں کوئی بھی ورلڈ کلاس پلان صرف کرپشن کی نئی صورت بن جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کل ورلڈ کلاس تعمیرات کی جو باتیں ہو رہی ہیں وہ صرف لوٹ (loot) کو بڑھائیں گی، کچھ لوگ زیادہ امیر بن جائیں گے اور جو لوگ غریب ہیں وہ اپنی پچھلی حالت میں پڑے رہیں گے۔

انڈیا میں ایک نعرہ کا بہت چرچا ہے اور وہ ہے غریبی ہٹاؤ (eradication of poverty) مگر میرے نزدیک یہ اصل بات نہیں۔ انڈیا میں کرنے کا اصل کام کرپشن ہٹاؤ (eradication of corruption) انڈیا میں جب تک کرپشن ہے یہاں حقیقی معنوں میں کوئی بھی ترقی ہونے والی نہیں۔ اکسپریس تقریبا پچیس کلومیٹر تک ہمارے ساتھ تھی۔ اس کے بعد دوسرا روڈ آگیا۔ یہ روڈ ویسا ہی تھا

جیسا کہ عام طور پر انڈیا میں ہوتا ہے۔

ہماری گاڑی آگے بڑھی تو میں نے لوگوں سے کہا کہ ہر شریکِ سفر اپنے بارے میں مختصر طور پر یہ وہ لوگ تھے جو ہماری اسپیشول کلاس میں پچھلے تقریباً چار سال سے برابر شریک رہے ہیں۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ ہر ایک اپنے ذاتی تجربہ کی روشنی میں بتائے کہ کلاس میں شرکت سے اس نے کیا سیکھا اور کیا جانا۔ چنانچہ ہر ایک نے اپنی اپنی بات بتائی۔ ہر ایک کی بات اس کے اپنے الفاظ میں یہاں نقل کی جارہی ہے۔

محمد خالد انصاری: مولانا وحید الدین سے ملنے سے پہلے اسلام میرے لئے صرف ایک عقیدہ (ritualistic faith) تھا۔ بچپن میں والدین اور قریبی رشتہ داروں نے جو کچھ مجھ کو مذہب کے بارے میں بتایا اس کو میں نے فائنل سمجھ کر مان لیا۔ جب کبھی دماغ میں کوئی سوال آیا، یا تو اس کا غیر تشفی بخش جواب ملایا پھر یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ مذہب کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا۔ مانگو گے تو تم ایمان سے خارج ہو جاؤ گے۔ کچھ بنیادی سوالات جن کا تعلق خدا کیا ہے، ہماری اس موجودہ زندگی کا کیا مقصد ہے، جنت ہے تو کیوں ہے اور کہاں ہے، وغیرہ وغیرہ، کا کبھی بھی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ مولانا وحید الدین سے جب میں ملا تو میں نے ان سے بھی یہی بنیادی سوال کئے ۔ سوالات کے جواب مولانا نے دینے شروع کئے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے دو اور چیزیں بتائیں : آرٹ آف اینلس (art of analysis) اور انٹیلکچول ڈیویلپمنٹ (intellectual development)۔ یہ دونوں چیزیں بغیر ہیمرنگ (hammering) کے ممکن نہیں تھیں۔

چوں کہ مجھے اپنے سوالوں کے جوابات سیدھے اور جلدی چاہئے تھے اس لئے مولانا کا بتایا ہوا فارمولا شروع میں مجھے اپیل نہیں کیا۔ جب بھی میں کوئی سوال کرتا اور اپنی رائے دیتا تو مولانا فوراً میری (hammering) کرنے لگتے۔ اس سے کئی بار ڈس اپائنٹمنٹ (disappointment) بھی ہوا۔ لیکن لرننگ پراسس (learning process) جاری رہنے کی وجہ سے بہت جلد مجھے احساس ہوا کہ مولانا کی ہیمرنگ (hammering) بے وجہ نہیں تھی۔ چوں کہ میرا دماغ بچپن سے ایک خاص ماحول

میں پلنے کی وجہ سے کچھ خیالات کے ساتھ conditioned (متاثر سوچ) والا ہو گیا تھا۔ اس لئے اس کی ڈی کنڈیشنگ (deconditioning) کے لئے مولانا کی ہیمرنگ (hammering) سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی تھی۔ ۳ مہینے اس پر اس سے گزرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جن سوالوں کے جواب مجھے دلیل اور سائنٹفک ریزنگ کے ساتھ چاہئے تھے وہ مولانا نے اس طرح سے دئے کہ نہ صرف وہ چند سوالات بلکہ مزید سوالات جو میرے ذہن میں تھے، ان کے بھی جوابات مجھے تسلی بخش طریقہ سے مل گئے۔ اس ڈی کنڈیشنگ کے عمل کے نتیجہ میں میرے ذہن میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ جو مذہب اور یقین میرے لئے صرف روایتی تھا وہ شعوری بن گیا۔ پہلے میں خدا، اس کا کریشن پلان اور آخرت کی زندگی کو ایک کہانی جیسی چیز سمجھ کر زندگی گزارتا تھا۔ لیکن مولانا کی گائڈنیس (guidance) نے اس یقین کو اتنا حقیقی بنا دیا کہ آج ہر کام کرنے سے پہلے یہ خیال دل میں آتا ہے کہ اس کام کا نتیجہ جنت کے لئے مجھے کوالیفائی (qualify) کرے گا یا ڈس کوالیفائی (disqualify) کر دے گا۔ پچھلے چار سال کے دوران مولانا سے جو اسپرچول وزڈم (spiritual wisdom) مجھے ملی وہ میرے لئے اسلام کی ری ڈسکوری (rediscovery) بن گئی۔

رجت ملہوترا : جب میں تین سال پہلے مولانا سے ملا تب میرے ذہن کو دو چیزیں پریشان مسلمان اور اسلام سے نفرت اور دوسرا یہ کہ میرے وجود کا مقصد کیا ہے۔ اس نفرت اور کنفیوژن (confusion) میں میں بڑا ہوا۔ میں نے اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں لوگوں سے گفتگو کی اور کتابیں پڑھیں لیکن کوئی آدمی بھی میرے سوالات کا تشفی بخش جواب نہ دے سکا۔ مولانا سے ۳ سال پہلے ملا تو انھوں نے مذہب اسلام کا صحیح چہرہ میرے سامنے رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مسلمان اور اسلام میں فرق کرنا چاہیے۔ ہمیں مسلمان کو اسلام کی لائٹ میں جانچنا چاہئے نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کی لائٹ میں:

We should not judge Islam in the light of Muslims, rather we should judge Muslims in the light of Islam.

اسلام سے ہی مجھے خدا کا کریشن پلان (creation plan) معلوم ہوا اور مجھے اپنے جینے کا جنت اور دوزخ جو پہلے میرے لئے تصوراتی دنیا (imaginary world) تھے اب میرے لئے وہ حقیقت ہیں۔ اور میں اب اپنے ہر عمل کو دیکھتا ہوں کہ یہ مجھے جنت میں لے جائے گا یا جہنم اس طرح میری نفرت پیار میں بدل گئی اور اب میرے لئے ہر انسان اسی خدا کا کریشن ہے جس کا ایک حصہ میں خود ہوں۔ قرآن جس کو میں پہلے کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا اب وہ میرے لئے زندگی کی گائیڈ بک (guide book) بن گیا ہے۔ ان سب وجوہوں سے میں آج یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری شخصیت میں 360 ڈگری تبدیلی آچکی ہے۔ اور یہ سب مولانا کی انتھک کوششوں سے ہوا۔ مولانا نے مجھے انٹیلکچول لیول (intellectual level) پر میرے مائنڈ کو ایڈریس (address) کیا جسے کوئی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اور اب میری خدا سے یہی دعا ہے کہ میری طرح کے سب نوجوان اسی طرح بدل جائیں۔ ان کی نفرت اور کنفیوزن (confusion) محبت اور اسپرپچول ڈسکوری (spiritual discovery) میں بدل جائے۔ سنتھی ملہوترا: یکم اکتوبر ۲۰۰۲ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ (turning point) تھا۔ دن نے میری زندگی کے معنی بدل دئے۔ میں بہت وہمی (superstitious) لڑکی تھی جس کا دن مندر سے شروع ہوتا تھا۔ صبح صبح تیار ہو کر میں اپنے بھگوان سے مندر میں ملنے جایا کرتی تھی جو کہ روزانہ کی پریکٹس بن گئی تھی۔ سپر سٹیشن (superstition) کی یہ حد تھی کہ میرے کپڑے دنوں کے حساب سے جہاں بھی کوئی مسئلہ ہوتا میں اپنے بھگوان سے شکایت کرتی اور اس کا حل ڈھونڈنے کے لئے مندر جاتی۔ لیکن مولانا سے ملنے کے بعد میرے اندر یہ سوالات اٹھنے لگے کہ کیا مجھے میرے بھگوان سے ملنے کے لئے مندر جانا پڑے گا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مندر کے اتنے چکر کاٹ کر بھی کیوں میرے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ مولانا سے ملنے کے بعد مجھے سمجھ آیا کہ یہ سارے مسئلے مسئلے نہیں بلکہ ٹیسٹ کے پرچے ہیں۔ جن کو اگر ٹولیریٹ کریں گے تو اس کا ریوارڈ (reward) ہم کو جنت کی شکل میں مولانا سے ملنے کے بعد مجھے خدا کا کریشن پلان سمجھ میں آیا اور میری کسٹمرم والی اپروچ تجریاتی اپروچ میں بدل گئی ۔ مجھے وہ سچائی مل گئی جس کی میری آتما کو تلاش تھی۔

فریدہ خانم : میں ان اسپرپکول کلاس کو تین سال سے اٹنڈ کر رہی ہوں۔ اور آج میں اپنے آپ کو ایک بدلا ہوا انسان پاتی ہوں۔ میں خدا کے فضل سے ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوئی۔ مسلم اداروں میں ہوئی ۔ میں اسلامک اسٹڈیز کی استاد ہوں ۔ مزید یہ کہ میں نے مولانا کی بہت سی کتابوں کا ترجمہ اردو سے انگریزی میں کیا ہے۔ لیکن ان ساری معلومات کے باوجود مجھے معرفت والا اسلام حاصل نہیں تھا۔ معرفت والا اسلام مجھے ان اسپر پکول کلاسز میں شرکت سے ملا۔ چوں کہ کلاسز ریگولر ہوتی تھیں ۔ بار بار لوگ سوالات اٹھاتے تھے۔ یعنی جو سوالات اور شبہات آج کے انسان کے ذہن میں ہیں۔ سائنسی دور سے پہلے لوگ مذہب کے معاملہ میں سوال نہیں وہ عقیدہ کے طور پر مذہبی تعلیمات کو مان لیتے تھے۔ اس کلاس کی اس خصوصیت سے کہ سوال اٹھانے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، مجھے بہت فائدہ پہنچا۔ کیوں کہ صرف کوئی کتاب پڑھ لینے سے وہ کبھی بھی میرے ذہن کا حصہ نہیں بن جاتی جب تک کہ میں اس کے مضمون (content) کو لاجیکل انداز سے گہرائی سے نہ سمجھ لوں۔ اس کلاس میں مجھے ہر بات کی عقلی توجیہ (rational explanation) ملتی اور وہ میرے ذہن کا حصہ بن جاتی۔

سب سے پہلی بات جو میرے ذہن میں پوری طرح کلیئر (clear) ہوئی وہ یہ کہ یہ دنیا انسان کاٹسٹ لینے کے لئے ڈیزائن (design) کی گئی ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملا ہوا ہے وہ اس کاٹسٹ پیپر اگر کسی کو کم ملا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو بلکا ٹسٹ پیپر دیا گیا ہے۔ اس بات کو نہ سمجھنے سے لوگ مسلسل ایک دوسرے کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ میرا بھی پہلے یہی حال تھا۔ اب اگر کوئی چیز مجھے کم ملی ہوئی ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ یہی میرے حق میں بہتر ہے۔ کیوں کہ دنیا کے کسی ٹسٹ (test) میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کو مشکل پیپر دیا جائے۔ ہر آدمی جو کسی ٹسٹ میں بیٹھتا ہے وہ یہی چاہتا ہے کہ اس کو آسان پیپر ملے تاکہ وہ ٹسٹ کو آسانی کے ساتھ کلیئر کرلے۔ لہٰذا اس حقیقت کے واضح ہونے کے بعد کہ دنیا کی پوری زندگی ایک ٹسٹ پیپر ہے، میری سوچ بالکل بدل گئی ہے۔ اب مجھے جو کچھ بھی ملا ہوا ہے میں اس پر راضی ہوں ۔ اس کی وجہ سے اب میرے اندر جھنجھلاہٹ ختم ہوگئی۔

پازیٹیو تھنکنگ آگئی اور میں ہر وقت لوگوں کو معاف کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار پاتی ہوں۔ اس دنیا کے بارے میں ہمارا نظریہ (attitude)۔ لیکن اصل چیز جو ہمیں اس کلاس سے ملی وہ تھی، خدا سے گہر تعلق اور جنت کا حریص ہو جانا۔ ہر مسلمان جنت کی آرزو رکھتا ہے اور جنت کے لئے دعا مانگتا لیکن اس کی حقیقت شاید اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ اسی طرح اپنے ماں باپ سے اور اپنے ماحول سے سنتے چلے آرہے ہیں اور ان الفاظ کو وقتاً فوقتاً دہراتے رہتے ہیں۔ اس کلاس نے ہمارے لئے خدا اور جنت اور آخرت کو اپنی ڈسکوری (discovery) بنا دیا۔ ہم نے گہرائی سے ان حقیقتوں کو سمجھا اور ان کو شعوری طور پر دریافت کیا۔ ان کو اپنے شعوری مائنڈ کا ایک حصہ بنایا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کوئی لمحہ نہیں ہوتا جب ہم خدا سے غافل ہوں۔ جب ہم جنت کی یاد نہ کر رہے ہوں ۔ جب ہم دنیا کی تکلیفوں پر صرف اس لئے نہ صبر کر رہے ہوں کہ خدا کے یہاں اس کا بے حساب اجر ملے گا۔ ہم کو لوگوں سے شکایت ہوتی ہے لیکن پھر ان سے جڑے رہتے ہیں کہ یہی خدا کا حکم ہے۔ خدا کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرنڈر کر دینا۔

ہماری مرضی، ہماری خواہشات کتنا ہی ہمیں کسی دوسرے راستہ پر جانے کو کہیں لیکن اگر ہماری خواہشات خدا کی مرضی کے خلاف ہیں تو ہمارے ذہن کے کسی خانہ میں بھی نہیں آتا کہ ہم بغاو ت کریں اور اپنی مرضی کے مطابق اپنی ایک زندگی بنائیں۔ اس کلاس سے ہماری سمجھ میں آیا کہ جتنا زیادہ ہم صبر کریں گے خدا کے واسطے اتنا ہی زیادہ ہم اپنے نفس کو پاک کریں گے۔ اور جب تک ہم اپنے نفس کو پاک نہ کریں گے تب تک ہم جنت میں جانے کے لائق نہ ٹھہریں گے۔ ہم نے اس کو خود محسوس کیا ہے کہ صبر کرتے ہی ہمیں لگتا ہے کہ ہماری روح (soul) مزید پاکیزہ ہوگئی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے نام سے ایک پرفیکٹ ورلڈ بنائی۔ اس پرفیکٹ ورلڈ میں اللہ تعالیٰ کو پرفیکٹ انسان بسانا تھا۔ اس لئے انسان کو اس دنیا میں آزمائش (trial) کے لئے بھیج دیا گیا تا کہ وہ دنیا کے تمام تحریصات (temptations) سے گزر کر اپنے ٹسٹ پر پورا اترے اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم لافانی نعمت کا استحقاق حاصل کرے۔

جنت حاصل کرنے کی یہ تمنا جو ہمارے دل کی گہرائیوں میں بسی ہوئی ہے، ہمیں پہلی بار اس کلاس سے معلوم ہوا کہ اس کا راستہ کدھر سے جاتا ہے۔ اس کا راستہ ہے، پریا ملک کی زبان میں: hammering, hammering, hammering ہیمرنگ کسی کو اچھی نہیں لگتی، اور میں کوئی استثناء نہیں۔ لیکن جنت حاصل کرنے کی زبردست خواہش نے ہمارے لیے اس ہیمرنگ کو آسان بنا دیا۔ بلاشبہ قیمتی جنت کی یہ بہت سستی قیمت ہے۔ محمد اقبال پرودھان: میں بھٹک رہا تھا تلاش میں کہ سچا اسلام ہے کیا۔ کافی لوگوں سے سمپرک ہر جگہ اس طرح کی باتیں بتائی گئیں کہ وہ ہضم نہیں ہوتیں۔

دنیا کے دائرے میں بالکل رہ کر ہی ہر کوئی اپنی بات بتاتا تھا۔ میں بہت ہی جدوجہد میں تھا کہ کس کی بات مانوں اور کس کی۔ کچھ دین کی کتابیں پڑھیں، وہ کچھ بتاتی تھیں، مولانا لوگ کچھ اور بتاتے تھے۔

تب پریا ملک کے ذریعہ میری ملاقات مولانا وحید الدین سے ہوئی۔ یہاں آکر میں نے جانا کہ سچا اسلام کیا ہے اور اس کو زندگی میں کیسے اپنایا جا سکتا ہے۔ یہاں آکر میرے جو بھی سوال تھے ان کا جواب بناما نگے ہی مل گیا۔

مجھے معلوم ہوا کہ ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے۔ ہم کیوں یہاں آئے ہیں۔ اور کیوں سب کچھ کر رہے ہیں۔

مولانا کے یہاں ہمیں معلوم پڑا کہ ہمارا اصلی مقصد یہ دنیا جینا نہیں ہے۔ بلکہ اس دنیا میں رہ کر جنت میں جانے کی تیاری کرنا ہے اور مولانا کا "دعوة مشن" یہی کام انجام دیتا ہے۔ ہمارا مقصد جنت پانا ہو گیا ہے۔ ابھی مجھے جنت میں جانے کے لئے مولانا سے بہت کچھ فیض حاصل

منجو رمانی: مولانا وحید الدین سے ملنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ میں تقریباً تیس سال سے بے مطلب زندگی جی رہی تھی۔ زندگی کے معنی ڈھونڈنے میں میں نے اپنی زندگی کے کئی سال

ادھر ادھر بھٹک کر بتا دیے ۔ پر ذہن میں اٹھے کئی سوالوں کا جواب صحیح معنوں میں نہیں ملا۔ جیسے کہ اس دنیا میں میں کس لئے آئی ہوں ۔ میری زندگی کے کیا معنی ہیں اور اس کائنات کو بنانے والے کی کیا سچائی زندگی، موت اور موت کے بعد کی کیا سچائی ہے۔

جب مولانا سے میری ملاقات ہوئی تو ان سے میرے ذہن میں اٹھے اور بھی کئی سوالوں کا جواب مل گیا۔ خدا کی بنائی اس دنیا کے معنی پتے لگے۔ یہ جانا کہ اس دنیا کا دودھا تا صرف ایک ہے اور اس کا نہ کوئی ساتھی ہے اور نہ ہی اس کے برابر کوئی ہے۔ خدا نے منش کو وہ ساری چیزیں دی ہیں جن کی آوشکتا اس کے جگ میں جیون گزارنے کے لئے ہے۔ خدا نے اس دنیا سے الگ ایک بہترین دنیا ہر انسان اس دنیا میں ایک امتحان دینے آیا ہے۔ خدا نے صرف انسانوں کو ہی آزادی دی ہے کہ وہ اپنی زندگی جیسے چاہے جی لے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کو مانے یا نہکارے۔ جو انسان سچا ہوگا وہ خدا کو مانے گا اور صحیح راہ زندگی میں اپنائے گا۔ اسے خدا اس زندگی کے بعد جنت دے گا۔ سکھ، خوشی اور شانتی ملے گی اور جو انسان خدا کو نہیں مانے گا، خدا کی دی ہوئی آزادی کا غلط استعمال کرے گا، اسے خدا موت کے بعد جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لئے جھونک دے گا۔

زندگی، موت اور اس کے بعد کی زندگی کی سچائی کو مولانا سے جان کر خدا سے میں دعا کرتی ہوں کہ میرے قدم زندگی کی راہ پر کبھی نہ ڈگمگائیں تاکہ میرے قدم جنت کی اور بڑھے۔ ہمیں ہمیشہ شکر کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ایک بہترین زندگی دی ہے جسے ہمیں صحیح راہ پر لگانا چاہئے تا کہ ہم سب زندگی کے امتحان میں پاس ہو کر جنت کی اور بڑھیں:

پریا ملک : پریا ملک نے اسپرچول کلاس کے بارے میں اپنا تاثر بتایا۔ انھوں نے اپنی بات انگریزی میں کہی۔ ان کی یہ بات الگ صفحہ پر درج کی جا رہی ہے :

ساتھیوں کے اظہار خیال کے بعد میں نے کہا کہ اب میں اس سلسلہ میں خود اپنا تاثر بیان میں نے کہا کہانہ سپر پول کلاس جیسی کلاس چلانا کوئی یک طرفہ عمل نہیں، یہ ایک دوطرفہ عمل (bilateral process) ہے۔ یعنی اگر اس کلاس کے ذریعہ آپ کو فائدہ پہنچا، جیسا کہ آپ لوگوں نے بیان کیا ہے تو خود مجھے بھی اس کے ذریعہ بہت زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔ اس معاملہ میں ہم دونوں فائدہ میں یکساں طور پر شریک ہیں۔

میرا تجربہ ہے کہ اگر آپ ایسا کریں کہ اوسط ذہن کے لوگوں سے ملیں اور ان سے بات کریں تو آپ کا فکری معیار زیادہ اونچا نہیں ہوگا۔ آپ دوسروں کو عوامی معیار پر خطاب کریں گے اور خود بھی آپ کی ذہنی سطح عوامی معیار پر ٹھہری رہے گی۔ لیکن اگر آپ ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان اپنا پروگرام چلائیں تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ آپ کا ذہنی معیار بلند ہوتا جائے گا۔ آپ سے اعلیٰ سطح کے سوالات کریں گے اور آپ کا ذہن مجبور ہوگا کہ وہ خود بھی اعلیٰ سطح پر سوچنے اور زیادہ برتر سطح پر سوال کا جواب فراہم کرے۔ اس طرح آپ کا ذہن مسلسل طور پر ایک قسم کے فکری چیلنج سے دوچار رہے گا، اور فطرت کے قانون کے مطابق، یہ چیلنج آپ کے لئے ذہنی ارتقاء (intellectual development) کا ذریعہ بنارہے گا۔ اس معاملہ پر جب میں غور کرتا ہوں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اسپرچول کلاس چلانا خود میرے لئے ذہنی ارتقاء کا سبب بنا ہے۔ پہلوؤں سے میری فکر میں زیادہ وضوح (clarity) آئی ہے۔

اس کی ایک مثال روحانیت (spirituality) کا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا کہ روحانیت کا موضوع چالیس سال سے بھی زیادہ مدت سے میری توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مگر پچھلے سالوں میں اسپرچول کلاس کے دوران یہ موضوع جس طرح مجھ پر واضح ہوا، وہ اس سے پہلے واضح نہ تھا۔ پہلے جو چیز میرے لئے ایک فطری چیز تھی وہ اب ایک شعوری چیز بن گئی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اب میں زیادہ بہتر طور پر اس پوزیشن میں ہوں کہ روحانیت کے موضوع کی وضاحت کر سکوں۔

روحانیت کا موضوع کم از کم ۵ ہزار سال سے انسان کی تلاش کا موضوع رہا ہے۔ زمانہ میں تو اس موضوع نے گویا کہ فیڈ (fad) کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ فلسفہ اور مذہب اور مسٹرزم اور تصوف اور یوگا والوں نے اس موضوع پر ہزاروں کتابیں شائع کی ہیں۔ میں اپنی دلچسپی کی بنا پر لمبی مدت سے ان کتابوں کو پڑھتارہا ہوں۔ مگر ان کتابوں سے مجھے اطمینان حاصل نہیں ہوا۔ سالوں کے دوران مجھ پر ایک نئی حقیقت کھلی جو میں نے ابھی تک نہ کبھی پڑھی تھی اور نہ کبھی سنی تھی۔ اسپرچول کلاس کے دوران ہوا۔

مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ روحانیت (spirituality) کے دو دور ہیں۔ ایک، ماقبل سائنس دور (pre scientific era) اور دوسرے ما بعد سائنس دور (post scientific era) جدید حیاتیاتی سائنس کے ظہور سے پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ انسان کے اندر دو قسم کی استعداد (faculty) پائی جاتی ہے، قلب اور دماغ۔ قلب احساس اور جذبات کا مرکز ہے، اور دماغ سوچ (thinking) کا مرکز ہے۔ اس تقسیم کی بنا پر روحانیت ایک قلب پر مبنی (heart-based) ڈسپلن بنا ہوا تھا۔ روحانیت کا تعلق آدمی کے احساسات اور جذبات سے ہے اور احساسات اور جذبات کا تعلق قلب ایسی حالت میں یہ ایک فطری امر تھا کہ روحانیت کے حصول کے لئے قلب کو مرکز بنا کر محنتیں اور ریاضتیں کی جائیں۔ ذکر جہری جس میں مخصوص طریقہ سے لا الہ الا اللہ بول کر قلب پر ضرب لگائی جاتی ہے، اسی تصور کی ایک مثال ہے۔ عرصہ سے میرا خیال تھا کہ روحانیت کے علم بردار حقیقی روحانیت کا تجربہ نہ کر سکے۔ تمام مسلم بزرگوں اور ہندو سوامیوں کی روحانی عظمت فرضی کرامتوں اور بناوٹی چمکداروں پر قائم ہے نہ کہ ربانی معنوں میں حقیقی روحانیت پر۔ مگر اس کا اصل سبب کیا ہے، یہ مجھے پچھلے سالوں کے درمیان ہی سمجھ میں آیا۔ سائنسی دور میں پہلی بار انسان نے یہ دریافت کیا کہ قلب احساسات و جذبات کا مرکز نہیں، وہ صرف خون کی گردش (blood circulation) کا ایک آلہ ہے۔ اس نئی دریافت نے مجھ کو پہلی بار وہ فریم ورک دیا جس کی روشنی میں ہم روحانیت کے معاملہ کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔ پہلے چوں کہ انسان کے پاس صحیح فریم ورک ہی موجود نہ تھا اس لئے وہ روحانیت کے معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ مابعد سائنسی دور میں پہلی بار انسان کو معلوم ہوا کہ تفکر اور احساس دونوں کا مرکز دماغ ہے۔ اس لئے روحانیت کے حصول کے لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں اپنی کوشش کا مرکز دماغ کو بنائے نہ کہ قلب کو۔ کیوں کہ ہر قسم کے فکری اور حیاتی عمل کا مرکز صرف دماغ ہے نہ کہ قلب۔ قلب پر دھیان لگانے والے لوگ وہاں روحانیت کی تلاش کر رہے تھے جہاں روحانیت سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ اس دریافت نے مجھے بتایا کہ روحانیت کے حقیقی حصول کے لئے مراقبہ اور

میڈیٹیشن (meditation) جیسی مشقیں اصل مقصد کی نسبت سے سراسر بے فائدہ اور غیر متعلق روحانی مقصد کے حصول کے لئے ساری اہمیت اس رخ پر ذہنی ارتقاء، (intellectual development) کی ہے۔

اس دریافت سے مجھے معلوم ہوا کہ مسلم صوفیوں کا اپنے قلب پر دھیان لگانا یا ہندو سوامیوں کا اپنے ذہنی عمل کو روک کر اپنے داخل میں دھیان لگانا، یہ سب سراسر غیر متعلق باتیں ہیں۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھ پر توجہ ڈال کر اس پر ضرب لگائے یا اپنے پاؤں کو سامنے رکھ کر اس پر دھیان پچھلے ہزاروں سال کے دوران لوگ اسی قسم کی غیر متعلق ورزشیں کرتے رہے ہیں۔ ہے کہ وہ حقیقی روحانیت سے آشنا نہ ہوسکے۔

سائنس نے ہم کو جو نعمتیں دی ہیں ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے روحانیت کے متلاشی لوگوں کے لئے صحیح روحانی مرکز کی نشان دہی کی۔ اس نے بتایا کہ دل کو مرکز بنا کر تم جو چیز حاصل کرنا چاہتے ہو وہ دراصل ذہن کو مرکز بنا کر حاصل ہوگی۔ انسان کا ذہن اپنے اندر بے شمار صلاحیتیں رکھتا ہے۔ انسان کے تمام افعال کا مصدر دماغ ہی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں روحانی مرتبہ کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ ذہن کے روحانی گوشہ کو بیدار کیا جائے۔ ذہن میں فکری انقلاب لانا ہی روحانی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ روحانیت کی منزل تک پہنچنے کا راستہ دل سے ہو کر نہیں جاتا، بلکہ وہ دماغ کے راستہ سے ہو کر گزرتا ہے۔

یہ سائنسی حقیقت قرآن میں پہلے سے موجود ہے۔ چنانچہ قرآن میں روحانیت (رثانیت) کے حصول کے لئے جس چیز کو ذریعہ بتایا گیا ہے وہ تفکر اور تذکر اور توسم ہے۔ اس قسم کے الفاظ جو قرآن میں استعمال کئے گئے ہیں ان سب کا تعلق ذہنی بیداری سے ہے نہ کہ قلبی ورزش سے۔ غالباً اسی حقیقت کی طرف قرآن میں اولوالالباب (آل عمران ۷) کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن میں بار بار قلب کا لفظ استعمال ہوا ہے (البقرہ ۲۶۰) مگر یہ ادبی معنوں میں ہے نہ کہ علمی معنوں میں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فاعتبروا یا اولی الابصار

(الحشر (۲) اس آیت میں واضح ہے کہ عبرت پذیری کا مرکز آنکھ نہیں ہے بلکہ ذہن ہے۔ آنکھ سے آدمی صرف دیکھتا ہے مگر دیکھی ہوئی چیز کو عبرت میں ڈھالنا تمام تر عقل کا کام ہے۔ قرآن کی اس آیت میں بصارت کا لفظ ادبی معنوں میں ہے۔ اسی طرح قلب کا لفظ بھی جہاں قرآن میں اس مفہوم میں آیا ہے وہ ادبی معنوں میں آیا ہے نہ کہ علمی معنوں میں۔

میں نے ۳ جون کی صبح کو بی بی سی لندن (BBC London) کا پروگرام اس کا ایک آئٹم یہ تھا کہ انھوں نے بتایا کہ لندن میں ایک آیوردیک یونیورسٹی (Ayurvedic University) بنائی جارہی ہے۔ اس کے فاؤنڈر (founder) نے بتایا کہ اس یونیورسٹی کا ایک سبجیکٹ آرت آف اسپرچول مینجمنٹ (art of spiritual management) انھوں نے بتایا کہ مغربی ملکوں میں لوگوں نے ہر قسم کا مادی سامان حاصل کر لیا ہے۔ پہلے وہ سمجھتے تھے کہ مادی ترقی ان کو پوری خوشی دے گی۔ مگر جب ساری مادی چیزیں مل گئیں تو انھیں محسوس ہوا کہ انھیں سچی خوشی حاصل نہیں ہوئی۔ اس لئے اب وہ کسی اور چیز کی تلاش میں ہیں۔ ان کی اس تلاش کا جواب ہوگی۔

میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں ان لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ روز مرہ کے کام میں انسان کا مائنڈ (mind) زہریلا (toxicated) ہو جاتا ہے، یعنی مائنڈ میں ایک قسم کا زہر بھر جاتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے مائنڈ کو ڈی ٹاکسیفائی (detoxify) کرنے کے لئے ایک تکنیک بنائی ہے۔ اس تکنیک کے ذریعہ ذہن دوبارہ معتدل ہو جاتا یہ تکنیک ایک خاص طریقہ پر سانس کو اندر لے جانے اور باہر نکالنے پر قائم ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بالکل غیر متعلق بات ہے۔ ذہنی تناؤ ایک ایسا پرابلم ہے جو سوچ (thinking) سے تعلق رکھتا جب کہ ایک خاص طریقہ سے سانس لینا اور نکالنا ایک جسمانی واقعہ ہے۔ اور جسمانی تدبیر سے کبھی دماغ کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔

سفر پر روانہ ہوتے ہوئے ہم نے آج (۳ جون ۲۰۰۳) کے اخبارات اپنے ساتھ رکھ لئے

تا کہ راستہ میں ان کا اجتماعی مطالعہ کیا جا سکے ۔ وہ اخبارات یہ تھے ٹائمس آف انڈیا ، ہندوستان ٹائمس، پنجاب کیسری، راشٹریہ سہارا، ہند سماچار، اخبار مشرق، عوام۔ آج کے ٹائمس آف انڈیا میں حسب معمول جو قول نقل کیا گیا تھا وہ مسٹر جے این دشت کا ایک قول تھا۔ انہوں نے انڈیا اور پاکستان کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کہا کہ : اس سلسلہ میں جو چیز ضروری ہے وہ ہے بات چیت جاری رکھنے کا عزم پاکستان کے ساتھ اور ٹکراؤ کو اوائڈ (avoid) کرنے کی پالیسی اختیار کرنا :

What is needed in a determination to continue the dialogue (with Pakistan) and a policy to avoid confrontation. یہ بات انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں کے ذمہ دار مختلف الفاظ میں کہتے رہے ہیں۔ باوجود کیا وجہ ہے کہ نصف صدی سے بھی زیادہ مدت گزرنے کے بعد بھی دونوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم نہیں ہوئے ۔ اس کا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ دونوں ملک اس مسئلہ کو دو طرفہ بنیاد (bilateral basis) پر حل کرنا چاہتے ہیں جب کہ تجربہ بتاتا ہے کہ نزاعی مسائل یا تو یک طرفہ بنیاد پر حل ہوتے ہیں، یا پھر کبھی حل نہیں ہوتے۔

ٹائمس آف انڈیا ۳ جون (صفحہ (۱۰) پر ایک دلچسپ تصویر تھی۔ یہ امریکہ کے صدر جارج بش کے بارے میں تھی۔ اس میں ان کے ایک واقعہ کا ذکر تھا جس کو چار مختلف تصویروں میں نمایاں کیا گیا اس کے نیچے یہ لکھا ہوا تھا :

President Bush is caught in a rain storm with a faulty umbrella while walking from Marino One to Air Force One at Andrews Air Force Base in Maryland on June 2. یعنی صدر بش ایک طوفان میں پھنس گئے ۔ وہ اس وقت ایک چھتری لئے ہوئے تھے ۔ چھتری کو وہ مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے ہیں مگر وہ تیز ہوا میں الٹ گئی۔ صدر بش کے ساتھ عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی یہ گویا ایک تمثیل ہے۔ وہ سمجھتے تھے

President Bush is cought in a rain storm with a faulty umbrella while walking from Marine One to Air Force One at Andrews Air Force Base in Maryland on Wednesday.

کہ عراق کا معاملہ مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے مگر ان کی ساری کوشش، بے شمار جانی اور مالی قربانی کے باوجود یہ معاملہ ان کے ہاتھ سے اس طرح نکل گیا کہ انہیں ویتنام کی مانند عراق سے واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا۔ یہی معاملہ موجودہ دنیا میں ہر شخص کا ہے۔ آدمی جوش میں آ کر ایک اقدام کرتا وہ سمجھتا ہے کہ حالات مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں رہیں گے مگر آخر کار حالات اس کے قبضہ سے نکل جاتے ہیں اور وہ اس فارسی شعر کی تصویر بن جاتا ہے کہ عقل مند آدمی ایسا کام کیوں کرے جس کا نتیجہ شرمندگی ہو:

Printed page