Al-Risala · November 2004

کجا کارے کند عاقل که باز آید پشیمانی

Al-Risala, November 2004, pp. 28–32

By Maulana Wahiduddin Khan

آج ۳ جون کی صبح کو حسب معمول میں نے بی بی سی لندن کا پروگرام سنا۔ اس میں صدر امریکا جارج بش کی ایک تقریر سنائی گئی۔ اس تقریر میں پریزیڈنٹ بش جوش کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ ہم کو آزاد دنیا بنانا ہے اور ٹررزم کو ختم کرنا ہے مگر یہ کوئی آسان منصوبہ نہیں۔ ٹررزم کے خلاف ہماری لڑائی صدیوں تک جا سکتی ہے۔

یہ مایوسی کا کلمہ ہے۔ جب کوئی آدمی ایک بلند بانگ منصوبہ بنائے اور پھر وہ اس میں ناکام ہو جائے تو وہ اسی قسم کے الفاظ بولتا ہے۔ مثلاً نام نہاد اسلام پسند لیڈر جو مسلم ملکوں کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ خطہ اسلام کے لئے الاٹ ہو چکا ہے اور ہم یہاں اسلامی حکومت قائم کر کے رہیں گے۔ دھواں دار کوششوں کے باوجود جب ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا تو اب وہ کہتے ہیں کہ اسلامی نظام کا قیام چند دن میں نہیں ہو سکتا، اس کے لئے صدیوں کی کوشش درکار ہے۔ کتنی مشابہت ہے غیر اسلام کے علم برداروں اور اسلام کے علم برداروں میں۔

ٹائمس آف انڈیا (۳ جون ۲۰۰۲) کے صفحہ اول پر ایک خبر ڈاکٹر جے ایس راجپوت کے بارے میں تھی۔ پچھلے سالوں میں وہ سیکولر لوگوں میں اور مسلمانوں میں کافی بدنام ہوئے تھے۔ پچھلی حکومت کے زمانہ میں این سی ای آرٹی (NCERT) کا ڈائرکٹر بنایا گیا تھا۔ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ اسکول کی نصابی کتابوں کا بھگوا کرن کر رہے ہیں۔

خبر میں بتایا گیا تھا کہ نئی گورنمنٹ کے آنے کے بعد انھوں نے پیشگی ریٹائر منٹ لے لیا۔ حکومت ان کی جگہ دوسرا ڈائرکٹر تلاش کر رہی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ یہی ڈاکٹر راجپوت تھے جنھوں نے اپنے ادارہ (NCERT) میں ۲۱ مئی ۲۰۰۳ کو خصوصی اہتمام کے ساتھ اسلام کے موضوع پر میرا ایک خطاب رکھا تھا۔ اس پروگرام میں این سی ای آر ٹی کا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ اس میں ۹۹ فیصد تعداد تعلیم یافتہ ہندوؤں کی تھی۔ اس تقریر کے آخر میں ڈاکٹر راجپوت نے اپنے اختتامی خطاب میں میری تقریر کو کافی پسند کیا اور اسٹیج سے انھوں نے اعلان کیا کہ مولانا، ہمیں اسلام کی مثبت تعلیمات پر ایک کتاب تیار کر کے دیں اس کو ہم سارے انڈیا میں پھیلائیں گے۔ میں نے احادیث کی بنیاد پر ۵۰ صفحہ کی ایک کتاب تیار کی ۔ یہ وہی کتاب ہے جو ماہنامہ الرسالہ (اکتوبر ۲۰۰۳) میں خصوصی شمارہ کے طور پر چھپی ڈاکٹر راجپوت اس کو اپنے ادارہ کی طرف سے چھپوانا چاہتے تھے مگر شاید انھیں اس کا موقع نہیں ملا۔ ہر واقعہ میں قرآن کے مطابق ، عسر کے ساتھ یسر کا پہلو ہوتا ہے۔ ہر مائنس پوائنٹ میں ایک پلس پوائنٹ موجود رہتا ہے جیسا کہ مذکورہ واقعہ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کا ذہن اسلام کی اس تعلیم سے بنے وہ کسی غیر مطلوب چیز کے پیش آنے پر نہیں گھبرائیں گے ، وہ غیر موافق میں کوئی موافق پہلو تلاش کر لیں گے۔

روزنامہ راشٹریہ سہارا (۳ جون ۲۰۰۴) میں صفحہ ۳ پر ایک مضمون مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: مسلمانوں کو فراموش کرنے کی کوشش ۔ اس مضمون کا ایک حصہ یہ تھا:

" نئے وزیر اعظم ہند نے اپنی اولین ترجیح کے طور پر اعلان کیا تھا کہ اب ۱۹۸۲ کے سکھ فسادات اور گجرات کے مسلم کش فسادات) کا اعادہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس کے چند دنوں کے بعد وہ نکات سامنے آئے جن کی بنیاد پر مشتر کہ پروگرام (CMP) کی تشکیل ہونی تھی۔ ان نکات میں یہ نکتہ بہت اہم تھا کہ فساد زدگان کو یکساں معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ یہ اس لئے اہم تھا کہ ۱۹۸۲ کے سکھ

مخالف فسادات میں مارے جانے والے اکثر افراد کے ورثاء کو ۱۰-۱۰ لاکھ روپے کا معاوضہ مل چکا حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سکھوں کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے پاس کردہ حکم کو ایک معیار تسلیم کرتے ہوئے دیگر فساد زدگان کو بھی یہی رقم ادا کریں۔ مگر افسوس ہے کہ سکھوں کے علاوہ آج تک کسی اور فساد زدہ طبقہ کو مذکورہ معاوضہ نہیں مل سکا ہے۔ مگر نئی حکومت کے مشترکہ پروگرام سے یہ نکتہ غائب ہے کہ تمام فساد زدگان کو معاوضہ کی یکساں رقم ادا کی جائے گی۔ موجودہ سیکولر حکومت بے گناہوں کے خون کی قیمت پر وجود میں آئی ہے۔ ایسی حالت میں حکومت کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہئے کہ وہ فرقہ پرستوں کی گوشمالی کرے۔ اس کے علاوہ فرقہ وارانہ فسادات میں جن طبقات پر بربادی آئی ہے ان کی باز آبادکاری کے اقدامات بھی کرے۔ جب دو فیصد سکھوں کے لئے انصاف کا بڑا بھاری عمل اختیار کیا جا سکتا ہے تو ۱۵ فیصد مسلمانوں کے لئے کیوں نہیں۔ یہ بات شاعری کی اصطلاح میں صرف ایک مضمون بندی ہے۔ اس قسم کی بات کرنے والوں کو یہ جاننا چاہیے کہ سکھوں کو جو کچھ ملا وہ اس طرح نہیں ملا کہ انھوں نے اپنی سکھ پارٹی کو ہرایا اور پر سکھ پارٹی کو جتاؤں کی انتخابی پالیسی اختیار کی۔ سکھوں کو جو کچھ ملا ہے وہ ان کی اپنی طاقت کے زور پر ملا مسلمانوں کو بھی جو کچھ ملے گا وہ ان کی خود اپنی طاقت کے بل پر ملے گا۔ شکایت اور احتجاج اور مطالبہ سے اس دنیا میں کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔

ہندی روز نامہ پنجاب کیسری (۳ جون ۲۰۰۲) کے پہلے صفحہ پر ایک خبر چودھویں لوک سبھا میں حلف برداری کی رسم کے بارہ میں تھی۔ اس کا ایک جز، کانگریسی لیڈر اجیت جوگی کے بارہ میں تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے:

’’کانگریس کے ورشٹھ نیتا اجیت جوگی نے آج وہیْل چیئر پر بیٹھے ہوئے لوک سھا سدسیتا کی چھتیس گڑھ میں مہاسمند سے زراچت جوگی چناؤ پرچار کے دوران ایک سڑک در گھٹنا میں گمبھیر روپ سے گھائل ہو گئے تھے۔ جوگی سدن کے دروازے تک وہیْل چیئر پر بیٹھ کر آئے اور انہوں نے دروازہ پر ہی ویشیش مائک کی ویوستھا سے شپتھ لی۔ بعد میں سدسیوں کے رجسٹر پر بھی ان سے وہیں

جا کر ہنستا کھکر کرائے گئے۔ پشتھ لینے پر دسیوں نے تالیاں بجا کر اور میزیں تھپتھا کر ان کا سو اگت کئی سدس ان کا ابھیودن کرنے ان کے پاس گئے۔ مسٹر جیت جوگی کے بارے میں یہ خبر دیکھ کر مجھے کئی سال پہلے کا واقعہ یاد آیا جب کہ ان سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات بھوپال کے ائیر پورٹ پر ہوئی تھی۔ یہ واقعہ ماہنامہ الرسالہ میں چھپ چکا ہے۔

۳ جون کو نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ایک اردو اخبار میں عنوان کے ساتھ چھپا: لالو کے دورہ نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کی تقدیر بدل دی۔ اس عنوان کے تحت اردو اخبار میں جو خبر چھپی تھی اس کو یہاں کسی تبدیلی کے بغیر نقل کیا جار ہا ہے: ”ریلوے انکوائری کا نمبر ملانے پر فون نہ اٹھانے سے ناراض وزیر ریلوے لالو یادو خود ہی نئی دہلی ریلوے اسٹیشن میں واقع انکوائری آفس میں جا پہنچے۔ وہاں کا نظارہ دیکھ کر لالودم بخوردہ رہ گئے۔ زیادہ تر ملازم اپنی سیٹوں پر نہیں تھے۔ پھر کیا تھا، انہوں نے اپنے مخصوص اسٹائل میں افسروں کی آج اسٹیشن کا نظارہ ہی بدلا ہوا تھا۔ انہوں نے کل رات تقریباً آٹھ بجے ریلوے انکوائری نمبر پر بات کرنی چاہی۔ گھنٹی بجتی رہی کسی نے ٹیلی فون نہیں اٹھایا۔ اس پر غصہ ہو کر وہ اسٹیشن چل وہاں دیکھا کہ گھنٹیاں بج رہی ہیں اور کوئی ملازم نہیں ہے۔ انہوں نے خود کئی فون اٹینڈ کئے ۔ اس کے بعد انکوائری کاونٹر پر گئے ۔ وہاں مسافر تو تھے مگر کوئی ملازم نہیں تھا۔ اس کے بعد وہ پلیٹ فارم نمبر ایک چار پانچ پر پہنچے۔ وہاں گندگی دیکھ کر بھپڑ پڑے۔ انہوں نے متعلقہ ملازمین کو لتاز پلائی اور کارروائی کرنے کی وارننگ دی۔ واپسی میں راستے میں موجود لٹرین کی حالت دیکھ کر ان سے رہا نہیں گیا اور اس کے ملازمین کو خوب لتاڑا۔ پھر انہوں نے مسافروں سے بات چیت کی۔ ویٹنگ روم میں پنکھانہ چلنے کی شکایت پر انہوں نے سخت رویہ اپنایا۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک ریلوے اسٹیشن کا معائنہ کرنے کے بعد لالو کا پارہ کافی چڑھ گیا تھا اور اس کا نزلہ اندر کمار نامی ملازم پر گرا۔ یہ وہی ملازم ہے جس کی ڈیوٹی انکوائری کاونٹر پر تھی اور جب وزیر موصوف وہاں پہنچے تو حضرت اپنی سیٹ سے غائب تھے۔

انہوں نے اندر کمار کو معطل کر دیا۔ اس کے علاوہ کال سینٹر پر کام کرنے والے ایک ملازم کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دیا۔ لالہ یادو پلیٹ فارم چار اور پانچ کے وینڈروں کے پاس بھی گئے اور اسٹال پر موجود کلپڑا اٹھا کر دیکھا اور اس کی سلائی کے بارے میں جانکاری لی۔ ان کے دورے کا یہ جادوئی اثر ہوا کہ پلیٹ فارم چمکنے لگے۔ خراب پنکھے ٹھیک ہو گئے ، انکوائری کا وینڈروں پر ایک کے بجائے دو دو ملازم تعینات کر دیئے گئے۔ گندگی کے نام پر کاغذ کا ایک ٹکڑا تک نظر نہ آیا۔ گندے پڑے پیشاب گھر کی شیٹیں بدل دی گئیں اور نالیوں میں ڈی ڈی ٹی کا پاوڈر ڈال دیا گیا گویا مسافروں کو فیل گڈ ہو رہا ہے۔ یہی اصلاح کا صحیح طریقہ ہے۔ منسٹر لوگ اگر سرپرائز وزٹ (surprise visit) کے اس طریقہ کو مستقل طور پر اپنا لیں ، بشرطیکہ وہ اس معاملہ میں سنجیدہ اور صاحب کردار ہوں، تو صرف ۵ سال کی مدت میں پورے ملک میں ایک نیا دور آجائے گا۔ اس کے بعد شائنگ انڈیا صرف ایک نعرہ نہیں رہے گا بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ بن جائے گا جس کو ہر آدمی دیکھے اور جس کو ہر آدمی محسوس کرے ۔ ٹائمر آف انڈیا ( ۳ جون ۲۰۰۴) کے صفحہ تین پر ایک عبرت انگیز خبر تھی۔ سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کے امتحان سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ اس کے پرچے پیشگی طور پر آؤٹ ہو گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں پولیس نے متعلقہ دفتر میں کام کرنے والے ایک کمپیوٹر آپریٹر ہمنت شرما (Hemant Sharma) کو گرفتار کر لیا تھا۔ ہمنت شرما نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا تھا کہ اس معاملہ میں اصل مجرم سدھیر سچدیو (Sudhir Sachdeva) ہے۔ ہمنت شرما کے بیان کے مطابق، سدھیر سچدیو نے سی بی ایس ای (CBSE) کے ملازم کو ۵۰ لاکھ روپے دے کر یہ پرچہ پیشگی طور پر حاصل کئے تھے تا کہ طالب علموں میں اس کو بیچ کر نفع کمائے۔

پچھلے ایک مہینہ سے پولیس کو سدھیر سچدیو کی تلاش تھی۔ مگر پولیس اب تک اس کو پکڑ نہ پائی کل اچانک وہ خود سے دہلی کی عدالت میں حاضر ہو گیا ۔ مگر پولیس اس کو گرفتار نہیں کر سکتی تھی کیوں کہ اس کے پاس پیشگی ضمانت کا عدالتی آرڈر موجود تھا:

Printed page