Al-Risala · November 2004

phoney divorce

Al-Risala, November 2004, pp. 33–38

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ اردن کے ایک شخص ابو سمیع نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا۔ کے ضابطہ کے مطابق ، اس نے اس طلاق کو تین مہینہ میں پورا کیا۔ اس طلاق کی وجہ ابو سمیع نے یہ بتائی کہ میری بیوی انٹرنیشنل ٹیلی فون پر گھنٹوں بات کرتی رہتی تھی۔ چنانچہ اس کے ٹیلی فون کا بل اس کی تنخواہ کی رقم سے تین گنا زیادہ ہو جاتا تھا۔ آخر مجبور ہو کر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ مذکورہ خاتون کی یہ عادت ناقابل فہم حد تک عجیب ہے۔ اس کے اندر یہ عادت کیوں پڑی ، اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ غالباً اس کی ابتدائی پرورش جس گھر میں ہوئی وہاں اس کے ماں باپ اور اس کے گھر والے اس کے ساتھ بہت زیادہ لاڈ پیار کا سلوک کرتے تھے۔ اس کے بعد جب اس کی شادی ہوئی اور وہ اپنے شوہر کے گھر آئی تو غالباً اس کے شوہر نے بھی اس کے ساتھ اسی طرح کا لاڈ پیار اور ناز برداری کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں خاتون کا مزاج بگڑ گیا۔ لاڈ پیار یا ناز برداری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسی خاتون اپنے آپ میں جینے لگتی ہے۔ غیر شعوری طور پر

وہ سمجھ لیتی ہے کہ میں جو کچھ کروں سب درست ہے، میرا کوئی کام غلط نہیں۔ مذکورہ خاتون کا کیس غالباً اسی قسم کا ایک کیس تھا۔

کامیاب شادی شدہ زندگی دو انسانوں کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کا نام ہے۔ یہ مزاج دونوں کے اندر ہونا چاہئے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ دونوں کے تعلقات میں توازن قائم رکھتا ہے۔ جہاں ایڈجسٹمنٹ نہ ہو وہاں توازن ٹوٹ جائے گا جو آخرکار تعلقات کے بگاڑ اور طلاق پر ختم ہوگا ۔ ایک اردو اخبار میں مولا ناسید سلیمان ندوی کا ایک اقتباس شائع کیا گیا تھا۔ اس اقتباس کا عنوان یہ تھا: سیرت محمدی کا تکیلی پہلو ۔ اس عنوان کے تحت جو اقتباس درج تھا اس کی چند سطریں یہ تھیں: " کوئی زندگی خواہ کسی قدر تاریخی ہو جب تک وہ کامل نہ ہو ہمارے لیے نمونہ نہیں بن سکتی۔ کسی زندگی کا کامل اور ہر نقص سے بری ہونا، اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اس کی زندگی کے تمام اجزاء ہمارے سامنے نہ ہوں ۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کا ہر لمحہ پیدائش سے لے کر وفات تک آپ کے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اور آپ کی وفات کے بعد تاریخ عالم کے سامنے ہے۔ آپ کی زندگی کا کوئی مختصر سے مختصر زمانہ بھی ایسا نہیں گزرا جب وہ اپنے اہل وطن کی آنکھوں سے اوجھل ہو کر آئندہ کی تیاری میں مصروف ہوں۔ اس اقتباس کے مطابق ، اسوہ (نمونہ) وہی بن سکتا ہے جو کامل ہو۔ مذکورہ اقتباس میں آگے جو تفصیل بتائی گئی ہے اس کے مطابق ، صرف پیغمبر اسلام کو یہ کامل حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے صرف وہی اسوہ بن سکتے ہیں۔ یہ بات قرآن کے مطابق نہیں۔ اس لیے کہ قرآن کی سورہ نمبر ۶۰ میں ارشاد ہوا ہے : قد كانت لكم أسوة حسنة فى ابراهيم والذين معه (الممتحنہ (۴) - یعنی تمہارے لیے اچھا نمونہ ہے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں۔ مصنف کے معیار کے مطابق ، حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھی تاریخی اعتبار سے کامل نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کا انہیں اسوہ (نمونہ) کے طور پر پیش کرنا مصنف کے نظریہ کی واضح تردید ہے۔

اصل یہ ہے کہ استدلال کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک شاعرانہ استدلال اور دوسرے علمی

شاعرانہ استدلال یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی خیال کے مطابق، استدلال قائم کرے، خواہ اس کا یہ خیال خارجی حقائق سے مطابقت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ اس کے مقابلہ میں علمی استدلال یہ ہے کہ جو اسٹیٹمنٹ دیا جائے، تمام متعلقہ حقائق سے اس کی تصدیق (corroboration) مل رہی ہو۔ کے مطابق، مذکورہ اقتباس شاعرانہ استدلال کی مثال ہے، نہ کہ علمی استدلال کی مثال۔ ایک اخبار میں ایک مضمون امریکی صحافی سموئیل ہنٹنگٹن کی مشہور کتاب تہذیوں کا تصادم کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہنٹنگٹن کے خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ سوویت روس کے ٹوٹنے کے بعد اب آئندہ اگر کسی تصادم کا اندیشہ ہے تو وہ ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ یہ ٹکراؤ تہذیوں کے وہ کہتے ہیں کہ کنفیوشس کے اقدار پر مبنی تہذیب ، یا ہندو تہذیب مغربی یعنی یورپی امریکن تہذیب کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ مغربی تہذیب کو واقعتا صرف اسلام سے خطرہ لاحق ہے۔ صاحب مضمون نے ہنٹنگٹن کے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا تھا۔ مگر میرے نزدیک یہ درست اس قسم کی رائے رکھنے والوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کو دو مقابل اور متحارب یونٹ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ یہ تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ اسلام کا تعارف قرآن میں دوسری قوموں کے مد مقابل کی حیثیت سے نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ اسلام تمام انسانیت کا خود اپنا مطلوب دین ہے۔ اسلام دین فطرت ہے، اس لیے تمام انسانوں کا دین ہے۔ تمام انسانوں کے دل کی آواز ہے۔ اس لیے اسلام کا مقصد دوسروں سے تصادم کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ اسلام اور انسانیت کے درمیان مشترک بنیاد (common ground) کو دریافت کرکے انہیں اپنے قریب لائے۔ اسلام تمام انسانوں کو ایک خدا کی عبادت کا پیغام دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ : تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم الا نعبد الا الله۔

بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے مادی اور قومی مسائل کو اسلام کا نام دے کر دوسری قوموں سے لڑائی چھیڑ رکھی ہے۔ اس سے لوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ اسلام دوسری قوموں کے ساتھ تصادم کی حالت میں ہے۔ حالاں کہ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ اگر کوئی تصادم ہے تو وہ مسلم قوموں کا اپنا پیدا کردہ تصادم ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام ایک عالمی انقلاب کا داعی ہے، وہ کسی مخصوص قوم کو دوسری قوموں پر فوقیت دینے کے لیے نہیں آیا ہے۔ کی پوری دعوت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ذاتی اصلاح کرے اور اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارے۔ کافر اور مسلمان کی تقسیم زمینی تقسیم ہے، خدا کے یہاں صرف دو انسان ہیں: ایک وہ جو حق کو قبول کرے اور دوسرا وہ جو حق کا انکار کردے۔ پہلے زمرہ کے لوگ خدا کے انعام کے مستحق ہیں اور دوسرے زمرہ کے لوگ خدا کے عذاب کے مستحق ہیں۔ اس حقیقت کو قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے: لیس بامانیکم ولا آماني اهل الكتاب، من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون اللہ وليا ولا نصيرا ومن يعمل من الصالحات من ذكر او انثى وهو مؤمن فاولئك يدخلون الجنة ولا يظلمون نقيرا۔

ان آیات میں واضح کر دیا گیا ہے کہ خدا کے یہاں فیصلہ ناموں سے نہیں ہوگا، بلکہ اعمال سے جو شخص بھی صحیح عمل کرے گا وہ کامیاب ہوگا، خواہ وہ کسی بھی قوم یا مذہب سے تعلق اس کے برعکس جو شخص بھی غلط عمل کرے گا وہ ناکام ہوگا، خواہ وہ بظاہر کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ فروعی اور عصبیاتی اختلافات کو چھوڑ کر اسلام کی اصل روح کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔

قوموں اور دوسری قوموں کے درمیان ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، اسلام کا کوئی تصادم کسی فرد یا قوم سے نہیں۔

ہندی روز نامہ دینگ جاگرن (۳ جون ۲۰۰۳) میں ایک خبر چھپی ہوئی تھی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا: راشٹرپتی کی یاترا سے سرخیوں میں آیا سرگی پال ۔ اس خبر کا ابتدائی حصہ یہاں نقل کیا

بستر ضلع کا لگ بھگ چودہ سو کی جن سنکھیا والا آدیواسی بہول گاؤں ران سرگی پال اچانک سرخیوں میں ہے۔ اور پر شاسنک ادھیکاری گاؤں کی اور دوڑے چلے جا رہے ہیں، سڑکیں بن رہی بجلی کی دیو ستھا کی جارہی ہے۔ گرمیوں کی چھٹی کے باوجود جھٹک گاؤں میں بچوں کو پڑھانے آ رہے ہیں۔ ران سرگی پال کے ادھیکانش لوگوں کو بدلی ہوئی دیو ستھا سے سکھد آশ্চری ہو رہا ہے۔ در اصل ۴ جون کو اس گاؤں میں راشٹر پتی اے پی جے عبدالکلام کا دورہ پرستاوت ہے۔ لیکن گاؤں کے ادھیکانش آدی واسی ابھی بھی بدلاؤ کے اس واوستوک کارڑ سے ان بھگ ہیں۔ ضلع مکھیا لے جگدل پور سے لگ بھگ ۲۵ کلومیٹر دور گرام ران سرگی پال کے سات محلے ہیں۔ پیڈے پارا ، ڈینگری گڑا پارا، لانڈ اگڑا پارا، بڑے پارا، ساڈ گڑا، نوگڑا، وابیدا اگڑا ۔ ان ساتوں محلوں کو دیو استھت کیا جا رہا ہے۔ کی صاف ستھری یعنی خوش حال بستر کی تصویر ان محلوں کے ذریعہ پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کی ایک تصویر ہے۔ یہاں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی بڑا حکومتی عہدہ دار کسی مقام کا سفر کرتا ہے تو وقتی طور پر وہاں صفائی اور چو کسی کا مظاہرہ کیا جانے لگتا ہے۔ حالاں کہ اصل جمہوریت یہ ہے کہ صفائی اور چو کسی جیسی چیزوں کا اہتمام ملک کے عوام کے لیے کیا جائے ۔ جمہوری اصول کے مطابق ، ملک کے اصل حاکم اس کے عوام ہیں، نہ کہ سیاسی عہدہ دار۔ بلسوری گاؤں میں تقریبا پانچ ہزار لوگ رہتے ہیں۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ کے لوگ ہیں ، مگر یہاں نہ کوئی مندر ہے اور نہ کوئی مسجد ۔ مسٹر کرپال سنگھ کے الفاظ میں ” اس لئے یہاں مندر اور مسجد کا کوئی جھگڑا نہیں“۔ گاؤں کے ہر گھر میں بجلی ہے اور تقریبا تین سو گھروں میں ٹیلی فون لگے

یہاں زیادہ تر کسان رہتے ہیں اور ہر ایک کے پاس اس کی اپنی زمین ہے جس میں وہ کھیتی کرتا ہے۔ گاؤں میں سو سے زیادہ ٹریکٹر ہیں۔ یہاں مجھے بتایا گیا کہ یہاں کا ہر بچہ پڑھ رہا ہے۔ گاؤں میں اسکول بھی ہے اور کالج بھی۔ یہاں کوئی بے پڑھا لکھا آدمی دکھائی نہیں دے گا۔ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ گنگا نہر گاؤں کے پاس سے گزرتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ٹیوب ول لگے یہاں ہر فرقہ کے لوگ رہتے ہیں مگر مجھے بتایا گیا کہ یہاں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہے۔ بلسوری گاؤں میں میرے آنے کا مقصد یہ تھا کہ میں مسٹر کر پال سنگھ کی لڑکی نیٹورانی کی شادی کی تقریب میں شرکت کروں۔ اس سلسلہ میں ان کے گھر کے لوگوں اور گاؤں کے لوگوں سے گاؤں کے سرپنچ مسٹر روندر کمار سے بھی ملاقات ہوئی۔ یہاں کے سب لوگ مجھے بہت سادہ اور صحیح مزاج کے دکھائی دئے۔ مجھے ایسا لگا کہ یہاں کے لوگ اپنے اپنے نیچر پر ہیں ۔ ان میں وہ بگاڑ نہیں آیا ہے جو شہروں میں دکھائی دیتا ہے۔

نیٹورانی (۲۲ سال) کی شادی آج رات کو ہو رہی ہے۔ ان کا ہونے والا شوہر ایک پولس انسپکٹر ہے جو گوالیار میں رہتا ہے۔ میں نے نیٹورانی سے کہا کہ میں آپ کو کامیاب جیون کا ایک بہت سادہ فارمولا (formula) بتاتا ہوں۔ یہ فارمولا مجھے ایک صاحب سے ملا۔ ان کو میں نے دیکھا کہ وہ بہت خوش رہتے ہیں۔ حالاں کہ ان کی زندگی میں وہ سارے پرابلم آتے ہیں جو دوسروں کی زندگی میں انھوں نے ہر بات کا ایک سادہ حل یہ بنایا ہے’’ چلو یہ بھی ٹھیک ہے‘‘۔ جب بھی کوئی بات پیش آتی ہے یا کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو ان کو اچھی نہ لگے تو وہ اس سے الجھتے نہیں بلکہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ ہر ٹنشن کو دماغ سے نکالنے کا یہ سب سے اچھا فارمولا ہے۔ آپ ٹینشن کو ٹینشن کے روپ میں نہ لیجئے بلکہ یہ کہہ دیجئے کہ چلو یہ بھی ٹھیک ہے، اور پھر اس طرح رہئے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔

بلسوری میں ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ ان کا نام امت ملک ہے۔ وہ کمپیوٹر کا کورس کر ان کا خیال تھا کہ وہ سفارش کے ذریعہ کوئی سروس حاصل کریں۔ میں نے ان کو نصیحت

کرتے ہوئے کہا کہ سفارش سے آپ کو جو چیز ملے گی وہ صرف کوئی چھوٹا جاب (job) ہو گا ، بڑی ترقی آپ نے کمپیوٹر کی لائن پکڑی ہے۔ اس میں آپ خوب محنت کیجئے اور اچھے ایکسپرٹ (expert) بن جائیے، پھر ترقی ہی ترقی ہے۔ مشہور مثل ہے کہ ٹاپ کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے: There is always room at the top ہماری گاڑی کے جو ڈرائیور تھے ان کا نام منجیت سنگھ تھا۔ سردار منجیت سنگھ سے ہم نے پوچھا کہ آپ بہت دن سے گاڑی چلا رہے ہیں۔ یہ بتائیے کہ روڈ ایکسیڈنٹ (road accident) سے بچنے کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ ایکسیڈنٹ اس لئے ہوتے ہیں کہ گاڑی چلانے والے نشہ کی حالت میں گاڑی چلاتے ہیں۔ اس لئے ڈرائیور کو چاہئے کہ وہ شراب پی کر گاڑی نہ چلائے۔ ۳ جون کی شام کو مسٹر کرپال سنگھ کے خاندان اور رشتہ کی عورتیں ان کے گھر پر اکٹھا ہو گئیں ۔ یہ عورتیں چاہتی تھیں کہ میں ان کے بیٹے اور شوہر کے لئے کوئی دعا بتاؤں۔ میں نے ان کو دعا بتائی۔ ایک خاتون نے کہا کہ ان کا شوہر بہت زیادہ غصہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ جب بھی انھیں غصہ آئے تو آپ بالکل چپ ہو جائیے اور دل ہی دل میں یہ دعا پڑھیے:

Printed page