Al-Risala · November 2004

رب افتح لی أبواب رحمتك

Al-Risala, November 2004, pp. 38–41

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ آپ روزانہ دو وقت اس دعا کو پڑھیں، رات کو سونے سے پہلے ہاتھ منہ دھو کر اس دعا کو دس بار دہرائیں اور پھر چپ چاپ سو جائیں اور پھر جب صبح کو اٹھیں تو دوبارہ ہاتھ منہ دھوئیں اور اس دعا کو دس بار پڑھیں۔

بلسوری میں بہت سے ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ سب لوگوں سے روحانیت کے انداز میں اسلام پر گفتگو ہوئی۔ ہر ایک کا رد عمل مثبت اور تعمیری تھا۔

نے اصرار کیا کہ آپ دوبارہ ہمارے یہاں آئیے اور زیادہ دیر تک یہاں قیام کیجئے۔ ہم لوگ آپ کا آشیرواد لینا چاہتے ہیں اور آپ سے بہت کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔

تین جون کی شام کو بسوری سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ ہماری گاڑی بظاہر ایک جغرافی سفر طے کر رہی تھی مگر اللہ کی مدد نے اس کو ایک روحانی اور تربیتی سفر بنادیا۔ اس سفری کلاس میں اس کا ہر ممبر یکساں طور پر شریک تھا۔ یہ ایک انوکھی کلاس تھی جس کا ہر فرد بیک وقت معلم بھی تھا اور متعلم بھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آپ میں سے ہر ایک کوئی نہ کوئی سوال پوچھے ۔ نے کہا کہ سوال کیا ہے۔ سوال دراصل مطالعہ اور غور و فکر کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔ سوال کوئی سادہ چیز سوال آدمی کی پوری شخصیت کا ایک تعارف ہے۔ سوال اپنی حقیقت کے اعتبار سے جواب کی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ جب آپ کا ذہن ایک مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ اپنے آپ ایک سوال پیدا کرتا پھر غور و فکر کے ذریعہ وہ اس کے جواب تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب بھی کوئی آدمی سچاتلاشی (seeker) ہوگا تو ضرور اس کے ذہن میں سوالات آئیں گے۔ سوالات سے خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کا ذہن غور و فکر سے خالی ہے۔ آدمی کو کبھی سوال کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہئے۔ کے ساتھ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہئے کہ صحیح جواب آنے کے بعد وہ اس کو مان لے اور اس کو اپنے ذہن کا جزء بنائے۔

ڈاکٹر محمد اقبال پردھان نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ بڑے شہروں سے پولیوشن (pollution) کیسے ختم کیا جائے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم کو دو میں سے ایک طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ یا تو ہم یہ کریں کہ ما قبل کار زمانہ (pre-car period) کی طرف لوٹ جائیں اور ہم سب لوگ پیدل چلنا شروع کر دیں۔ دوسرا طریقہ وہی ہے جو مغربی ملکوں میں اپنایا گیا ہے، یعنی کار پر کنٹرول کرنا۔ صرف اسی کار کو سڑک پر چلنے کی اجازت دینا جو صفر گیس (harmful gas) نہ نکالتی ہو۔

میں نے کہا کہ پولیوشن کا معاملہ یہ ہے کہ پٹرول (petrol) کا ایندھن جب کار میں جلتا ہے تو

وہ کاربن مونو آکسائڈ (carbon monoxide) نکالتا ہے جو انسانی ہیلتھ (health) کو نقصان اس کے حل کے لئے ایک ڈوائس (device) بنائی گئی ہے۔ وہ یہ کرتی ہے کہ کار کے انجن سے نکلی ہوئی کاربن مونو آکسائڈ گیس (carobon monooride gas) کو کاربن ڈائی آکسائڈ گیس میں کنورٹ (convert) کر دیتی ہے جو کہ ہیلتھ کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں یہ طریقہ اپنایا گیا ہے۔ یہی آزمودہ طریقہ ہمیں بھی اپنے ملک میں اختیار کرنا اس معاملہ میں اور کوئی طریقہ موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔

محمد خالد انصاری نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ خدا کی معرفت (realisation) کو کیسے بڑھائیں، خاص طور پر جب ہم سفر کر رہے ہوں۔ میں نے کہا کہ خدا کی معرفت بڑھانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو قرآن میں تو سم کہا گیا ہے۔ آدمی ہر وقت کسی نہ کسی تجربہ سے گزرتا اس تجربہ سے کوئی خدائی پہلو نکالنا یہی معرفت کو بڑھانا ہے۔ آپ کو یہ کرنا ہے کہ آپ اپنے ہر تجربہ سے معرفت کی خوراک لیتے رہیں۔

مثلاً اس وقت ہم کار کے ذریعہ ایک سفر طے کر رہے ہیں، دہلی سے بلند شہر کا سفر۔ کے دوران ہم کو ایک اور سفر کی یاد آنی چاہئے، یعنی دنیا سے آخرت کا سفر۔ جب ہم اس طرح سوچیں گے تو راستہ کا ہر واقعہ ہمارے لئے خدا کی یاد دلانے والا بن جائے گا۔ ہر واقعہ میں ہم کو خدا کی ربانی غذا ملتی رہے گی۔

پریا ملک نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں کرائسس (crisis) پر کیسے دوسرے لفظوں میں یہ کہ کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کا طریقہ کیا میں نے کہا کہ کرائسس کوئی باہر کا پرابلم (problem) نہیں ہے بلکہ وہ خود آدمی کے اندر کا پرابلم ہے اور یہ پرابلم ہمیشہ معاملہ کے اصل نیچر (nature) کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، کرائسس کا سبب یہ ہے کہ زندگی میں اکثر غیر متوقع صورت حال (unexpected situation) پیش آتی ہے۔ اس اچانک تجربہ پر آدمی گھبرا اٹھتا ہے۔ اگر وہ پہلے

سے جانتا کہ ایسا ہونے والا ہے تو وہ اس کو کرائسس کے روپ میں نہ لیتا بلکہ وہ ایسا پیش آنے پر کہتا کہ یہ تو وہی ہے جو ہونے والا تھا، پھر اس پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔

وہ چیز جس کو کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کہا جاتا ہے وہ دراصل خود اپنی سوچ کی مینجمنٹ (thought management) کا دوسرا نام ہے۔ اپنی سوچ کو مینیج (manage) کیجئے اور پھر آپ کبھی کرائسس کے مسئلہ سے دوچار نہیں ہوں گے۔

فریدہ خانم نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ اپنی ایگو (ego) کو کیسے ختم کیا جائے۔ (How to annihilate one's ego) میں نے کہا کہ ایگو (ego) وہی چیز ہے جس کو اردو میں انا کہا قرآن میں اس کو نفسِ امارہ بتایا گیا ہے۔ قرآن میں پیغمبر یوسف کا ایک قول نقل کیا گیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے نفس کی برأت نہیں کرتا (یوسف ۵۳)۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایگو یا انا ہر آدمی کی ذات کا ایک پیدائشی حصہ ہے۔ کوئی آدمی بغیر انا کے اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ کمال یہ نہیں کہ وہ بے انا ہو۔ آدمی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو عملی طور پر انا کا شکار نہ ہونے دے۔ وہ انا کے ہوتے ہوئے بے انا بن جائے۔

منجو درمانی نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ بنا کسی ڈسٹرکشن (distraction) کے ایک کام میں کیسے دھیان لگائیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں آپ کو کوئی ڈسٹرکشن کبھی نہ ہو تو آپ کسی سنسان آئلینڈ (Island) میں چلے جائیے مگر یاد رکھیے کہ وہاں بھی آپ کے لئے ایک پرابلم موجود ہے۔ وہ یہ کہ وہاں کوئی سوسائٹی (society) نہیں اور سوسائٹی کے بغیر جینا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے جتنا کی ٹینشن (tension) کے ساتھ جینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس دنیا میں آپ ہیں وہاں آپ کو ہر حال میں پرابلم کے بیچ میں رہنا ہے۔ اس لئے یہاں یہ سوچنا چھوڑ دیجئے کہ آپ کو پرابلم فری لائف (problem free life) مل جائے گی بلکہ آپ کو پرابلم کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھنا یعنی آپ کو وہ چیز سیکھنی چاہئے جس کو میں ان الفاظ میں کہتا ہوں:

Printed page