Art of problem management
Al-Risala, November 2004, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر میں نے کہا کہ ڈسٹرکشن کوئی برائی (evil) نہیں وہ ایک نئی آپارچونیٹی (opportunity) جب آپ ڈسٹرکشن کا سامنا کرتے ہوئے پھر سے اپنے آپ کو اپنی لائن پر لے آتے ہیں تو یہ آپ کے لئے ذہنی ترقی (intellectual development) کا ایک موقع بن جاتا ہے۔ رجت ملہوترا نے کہا کہ انڈیا کا سب سے بڑا پرابلم کرپشن (corruption) ہے۔ لوگ مانتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کرپشن کیسے ختم کیا جائے۔ میں نے کہا کہ اس سوال کے لئے میرا جواب وہی ہے جو مسٹر ارون شوری کا جواب ہے۔ ایک بار میں ارون شوری کے ساتھ سفر میں تھا۔ ایرپورٹ پر ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میرا بیگ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ہم لوگ آگے بڑھے تو بات چیت کرتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ انڈیا میں کرپشن بہت زیادہ ہے، بہت سے اتنی کرپشن قانون بنائے گئے مگر اب تک کرپشن باقی ہے۔ کرپشن کو ختم کیے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ مسٹر ارون شوری نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کا حل تو وہی ہے جو اسلام میں بتایا یعنی کڑی سزا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں سماجی جرائم کے لئے ڈیٹرنٹ پنشمنٹ (deterrent punishment) کا اصول رکھا گیا ہے۔ یہی اس پرابلم کا حل ہے۔ انسان کے دل میں جب تک ڈر نہیں آتا وہ برائی کو نہیں چھوڑتا۔
استھی ملہوترا نے سوال کیا کہ آفس میں کنفرنٹیشن (confrontation) سے کیسے بچا جائے۔ میں نے کہا کہ کنفرنٹیشن سے بچنے کا ایک ہی فارمولا (formula) ہے اور وہ یہ ہے کہ کنفرنٹیشن نہ کیا یعنی یک طرفہ طور پر اوائڈنس (avoidance) کے پرنسپل (principle) پر عمل کرنا۔ کو اس طرح بتایا گیا ہے: