Boss is always right
Al-Risala, November 2004, pp. 42–47
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ جو عورت یا مرد سروس کریں انھیں جاننا چاہیے کہ سروس میں آپ کے لئے دو میں سے ایک کا آپشن (option) ہے، یا یونی لیٹرل ایڈجسٹمنٹ (unilateral adjustment) یا تیسرا کوئی آپشن (option) نہیں۔ لوگ چوں کہ تیسرا آپشن ڈھونڈتے ہیں اس لئے وہ اس
طرح کا سوال کرتے ہیں ۔ حالاں کہ اس معاملہ میں کوئی تیسرا آپشن سرے سے موجود ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ میں دہلی میں کاؤنسلنگ (counselling) کرتا ہوں۔ اکثر ملازمت پیشہ لوگ آتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے آفس کے غلط رویہ کی شکایت کرتے ہیں ۔ سے ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ آپ برداشت اور ٹالرینس کے اصول کو اپنائیے اور پھر آپ کو کبھی کوئی شکایت
مثلاً ایک بار میرے پاس ایک ہندو خاتون آئیں ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ایک ٹیلی فون کرنا میں نے ٹیلی فون آپریٹر کو فون نمبر دیا اور کہا کہ اس کو ملا دو۔ لڑکی نے نمبر ملانے میں دیر کی ۔ کری سے اٹھ کر اس کے پاس گئی ۔ میں نے کہا کہ تم نے نمبر ملانے میں دیر کیوں کی ۔ اس نے سخت لہجہ میں جواب دیا۔ مجھے غصہ آ گیا ۔ میں نے اس کو ہاتھ سے مار دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے بعد باس نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ اس نے کہا کہ یہ دفتر کے آداب کے خلاف ہے کہ کوئی کسی کو مارے۔ تم لڑکی سے معانی مانگو۔ مگر میری غیرت معافی مانگنے کے لئے تیار نہ ہوئی۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے اور وہ اپنی غلطی کا اعتراف ہے۔ آپ دفتر میں جا کر ساری (sorry) کہہ دیجئے اور صرف ایک لفظ کہنے سے سارا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ مگر اس خاتون نے میرا مشورہ نہیں مانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو سروس سے نکال دیا گیا۔ اب وہ دوسری کمپنی میں سروس کر پہلے تجربہ کے بعد اب وہ اپنے الفاظ میں ’’بزدل‘‘ بن کر رہ رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ غیر حقیقت پسندانہ روش کی قیمت ہمیشہ بزدلی اور منافقت کی صورت میں دینی آپ اگر حقیقت پسندی کا اصول اختیار کرتے تو آپ جس طرح دوسرے آفس میں رہ رہی ہیں اسی طرح آپ پہلے آفس میں بھی رہتیں ۔ ایسی صورت میں آپ کا کیس با اصول خاتون کا کیس ہوتا، جب کہ اب آپ کا کیس دو عملی (duplicity) کا کیس بن گیا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ بعض مغربی مصنفین کہتے ہیں کہ "قرآن کے کتاب لا ریب ہونے کا دعوی قابل قبول نہیں۔ قرآن میں عوامی قانون سے متعلق صرف ۸۰ آیات ہیں، بقیہ چھ ہزار سے
زیادہ آیتوں پر مبنی قرآن بیشتر ساتویں صدی عیسوی کی شاعرانہ عربی سے عبارت ہے۔ یہ تبصرہ غلط نہی پر مبنی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن میں قانونی احکام والی آیتیں نسبتاً بہت کم ہیں۔ مگر یہ کہنا غلط ہے کہ بقیہ کئی ہزار آیتیں شاعری کی چیز ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ آیتیں قرآن کے تصورات و نظریات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان آیتوں کا مقصد یہ ہے کہ طاقتور اسلوب میں قرآنی آئیڈیالوجی کو بتایا جائے جس کو قرآن میں قولا بلیغاً فی انفسہم کہا گیا ہے۔ یعنی وہ اسلوب جو دماغ کو جگائے اور لوگوں کے اندر فکری انقلاب برپا کرے_ ونود کمار پاڈیا (ٹرافک کنٹرول، دہلی) سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ دہلی میں گاڑیاں بڑھتی جارہی ہیں اور پار کنگ (parking) کا پرابلم بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری سمجھ سے اصل بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں پبلک ٹرانسپورٹ (public transport) کا سسٹم (system) اچھا نہیں ہے۔ اس لئے لوگ زیادہ کاریں خرید رہے ہیں۔ اگر لوگوں کو یہ پتہ ہو کہ جب وہ گھر سے نکلیں گے تو بہت آسانی سے ان کو سڑک پر ایک اچھی بس مل جائے گی جو ٹائم پر انھیں وہاں پہنچادے گی جہاں انھیں جانا ہے۔ جہاں اس طرح کا قابلِ اعتماد پلک ٹرانسپورٹ موجود ہو تو لوگ بسوں سے جانا پسند کریں گے اور کاریں خریدنے کا رجحان کم ہو جائے گا۔
شام کو ہماری ٹیم بلسوری سے واپس روانہ ہوئی ۔ روڈ سے سفر کرتے ہوئے ہم لوگ شام کو پانچ بجے دہلی واپس آئے۔
سفر کے آخر میں ایک ساتھی سے میں نے پوچھا کہ اس پورے پروگرام کے بارے میں اپنا تاثر (impression) بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ بہت اچھا لگا اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ مگر میرے دماغ کی ساری کھڑکیاں نہیں کھلیں۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ میرے گھر میں میری بیوی، بچے اور میری گھر کی ذمہ داریوں کو مجھے سنبھالنا ہے۔ ایسی حالت میں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے ساتھ میں اپنی دینی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کروں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی عذر (excuse) نہیں
پھر میں نے انھیں ایک قصہ بتایا۔ میں نے کہا کہ میں یورپ کے ایک شہر میں گیا۔ جانے والے ایک عرب نوجوان رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کی یونیورسٹی میں میں نے ڈاکٹریٹ کے لئے اپنا نام رجسٹر کرایا تھا مگر اب میں نے ریسرچ کا کام چھوڑ دیا ہے۔ میں نے پوچھا انھوں نے کہا کہ میری بیوی ایک عرب خاتون ہیں۔ وہ انگلش نہیں جانتی اس لئے شاپنگ وغیرہ کا سارا کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی عذر نہیں۔ پھر میں نے ان کو ایک فارمولا وہ فارمولا یہ تھا:
Not to solve the problem is also a way of solving the problem میں نے کہا کہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ میرے پاس کوئی ہیلپر (helper) نہیں تو اس کا مائنڈ (mind) پہلے سے زیادہ ایکٹیو ہو جاتا ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ کام کرنے لگتا ہے۔ پہلے اگر وہ انسان تھا تو اب وہ سپر انسان بن جاتا ہے۔ اس کو ہر آدمی اپنے تجربہ (experience) سے جانتا ہے کہ ہر گھر میں کوئی ہوتا ہے جو گھر کا کام سنبھالے ہوئے ہوتا ہے پھر وہ اچانک مر جاتا ہے۔ ایکسیڈینٹ کے بعد گھر کا کام نہیں رکتا۔ وہ پہلے کی طرح چلتا رہتا ہے بلکہ کبھی کبھی پہلے سے زیادہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ کسی بھی عذر کو عذر نہ بنایا جائے۔ ہماری گاڑی کو جو ڈرائیور چلا رہے تھے، ان کا نام سردار منجیت سنگھ تھا۔ ان سے ہم نے بعض موضوعات پر بات کرنے کی کوشش کی مگر میں نے محسوس کیا کہ انھیں ہماری باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ اپنی ساری تو توجہ صرف گاڑی کو چلانے میں لگائے ہوئے تھے۔ وہ پورے معنوں میں ایک پروفیشنل وہ ڈرائیور تھے اور صرف ڈرائیور۔
سردار منجیت سنگھ اپنی روایتی پگڑی کے ساتھ پوری طرح ایک سکھ دکھائی دیتے تھے لیکن گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ دوسرے مسائل سے ان کی دلچسپی اتنی کم ہے کہ ان کے پاس یہ سوچنے کا وقت بھی نہیں کہ آج سکھ برادری کا ایک آدمی (ڈاکٹر من موہن سنگھ) انڈیا کا پرائم منسٹر بنا دیا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے لئے یہ ایک غیر متعلق (irrelevant) خبر ہے۔ ان کو اس سے
کوئی دلچسپی نہ تھی کہ اخباروں میں کیا چھپ رہا ہے اور پالینکس کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ درک کلچر کا پورا نمونہ تھے۔
۱۹ مئی ۲۰۰۴ کو نئی دہلی کے تمام اخباروں کی ہیڈلائن صرف ایک تھی، اور وہ یہ کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کو انڈیا کا پرائم منسٹر مقرر کیا گیا۔ اس خبر کی سرخی روزنامہ ایشین ایج نے ان الفاظ میں قائم کی تھی: راج کرے گا خالصہ۔ مگر سردار منجیت سنگھ کو اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ان کا مقصد صرف ایک تھا، اور وہ تھا، اپنی گاڑی کو دھیان کے ساتھ چلائیں۔
سکھ کمیونٹی انڈیا کی آبادی کا صرف دو فی صد حصہ ہے۔ مگر سکھ لوگ انڈیا کی اقتصادیات کے تقریباً ہیں فی صد حصہ کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ وہ دنیا میں ہر جگہ اپنی مخصوص پگڑی کے ساتھ نظر آتے وہ دنیا کے ہر ائیر پورٹ اور دنیا کی ہر سڑک پر اپنے امتیازی نشان کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ سردار منجیت سنگھ کے تجربہ نے مجھے بتایا کہ سکھ لوگوں کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے۔ وہ زندگی کا یہ سادہ فارمولا ہے۔ اپنے کام سے کام رکھو۔
۳ جون کی شام کو ہم دہلی واپس آگئے ۔ یہ سفر یا سفری کلاس بظاہر بہت مختصر تھا مگر وہ تجربوں اور نصیحتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس مختصر سفر میں بہت سے سبق سیکھنے کا موقع ملا۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ سفر کی کامیابی کو جانچنے کا معیار صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ سفر شروع سے آخر تک سبق بن جائے۔ معیار کے اعتبار سے ۳ جون ۲۰۰۴ کا یہ یک روزہ سفر بلاشبہ ایک کامیاب سفر تھا۔
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: دی اسپرچول میسیج، فی کاپی 15 روپے، سالانہ 165 روپے خط وکتابت کا پتہ ہے:
302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323 الرسالہ کی نئی مطبوعات صفات ۱۷۲ سیرت رسول صفحات ۲۰۸ امن عالم صفحات ۲۵۰ عورت: معمارِ انسانیت حیدر آباد میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جاسکتی ہیں: