Al-Risala · February 2004

Essential Unity of All Religions

Al-Risala, February 2004, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

منتخب اقتباسات کو لے کر ہر مذہب کو ایک ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مختلف ملکوں کے دستور کو لے اور پھر ہر دستور سے کچھ منتخب دفعات کو جمع کرکے ایک کتاب چھاپے اور اُس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرے کہ ہر ملک کا دستور ایک ہے اور ایک ہی قسم کی دفعات کا مجموعہ ہے۔ اس قسم کا آفاقی دستور کسی مصنف کو تو خوش کر سکتا ہے مگر وہ کسی ایک ملک کے لیے بھی قابلِ قبول نہ ہوگا۔ ہر ملک اس کو شکریہ کے ساتھ رد کر دے گا۔ یہی معاملہ اتحاد مذہب کے بارہ میں مذکورہ قسم کی کتابوں کا ہے۔ اس قسم کی کتاب اُس کے مرتب کو خوش کر سکتی ہے مگر وہ اہلِ مذاہب کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ میں نے بھی اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ تمام مذاہب کو ایک بتانا واقعہ کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں اتنے زیادہ اختلافات ہیں کہ اُن کو ایک ثابت کرنا عملی طور پر ممکن ہی نہیں۔ مثلاً کسی مذہب کا کہنا ہے کہ خدا ایک ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ خدا دو ہیں۔ کوئی مذہب بتاتا ہے کہ خدا تین ہیں اور کسی مذہب کا دعویٰ ہے کہ خداؤں کی تعداد ۳۳ یا ۳۳ کروڑ ہے۔ کسی کے نزدیک خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اُن کی گنتی ہی ممکن ایسی حالت میں ہر مذہب کی تعلیم کو ایک بتانا ایک ایسا بیان ہے جو کسی خوش فہم کے دماغ میں تو جگہ پاسکتا ہے مگر عملی اور منطقی طور پر اس کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔

حتّیٰ کہ بالفرض کسی تدبیر سے تمام مذاہب کے ٹیکسٹ کو ایک ثابت کر دیا جائے تب بھی اختلاف ختم نہ ہوگا۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب میں ہرایک کا ایک تسلیم شدہ ٹیکسٹ ہے مگر

اس ٹیکسٹ کی تعبیر میں دوبارہ اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اور ایک مذہبی ٹیکسٹ خود داخلی طور پر کئی مذہبی فرقے (sects) وجود میں لانے کا سبب بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اختلاف یا فرق صرف مذہب کی بات نہیں۔ ہماری دنیا پوری کی پوری فرق اور تنوع کے اصول پر قائم ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہمہ گیر ہے کہ کوئی بھی دو چیز یا کوئی بھی دو انسان فرق سے خالی نہیں۔ کسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity جب فرق و اختلاف خود نیچر کا ایک قانون ہو تو مذہب اُس سے مستثنیٰ کیوں کر ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کی تمام چیزوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق پایا جاتا ہے اسی طرح مذاہب میں بھی ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہے۔ دوسرے معاملات میں ہم نے فرق کو مٹانے کی ضروری کوشش نہیں کی بلکہ یہ کہہ دیا کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے: Let us agree to disagree یہی عملی فارمولا ہمیں مذہب کے معاملہ میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ یہاں بھی ہمیں فرق و اختلاف کے باوجود اتحاد پر زور دینا چاہئے، نہ کہ فرق و اختلاف کے بغیر اتحاد پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی اختلافات کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے— ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one and respect all کلچر کا اختلاف اس سلسلہ میں دوسرا مسئلہ کلچر کا اختلاف ہے۔ مختلف گروہوں کے درمیان کلچر کا اختلاف ایک کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہی اختلاف تمام نزاعات کی جڑ ہیں۔ اُن کے نزدیک اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کلچر کے نام پر جو اختلافات سماج میں پائے جاتے ہیں اُن کو یکسر مٹا دیا جائے اور ایسا سماج قائم کیا جائے جس کے اندر کلچرل یوٹی ہو ۔

یہ تجویز بھی سراسر غیر عملی ہے۔ کلچر نہ کسی کے بنانے سے بنتا اور نہ کسی کے مٹانے سے مٹ

کلچر ہمیشہ تاریخی عوامل کے تحت لمبی مدت کے درمیان بنتا ہے۔ کسی دفتر بیس بیٹھ کر کلچر کا نقشہ نہیں بنایا جا سکتا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی ملکوں میں ایسے نظریہ ساز (ideologue) پیدا ہوئے جنہوں نے قومی اتحاد کے لیے ایک کلچر کا سماج بنانے پر زور دیا۔ مثلاً کناڈا میں اسی نظریہ کے تحت یونی کلچرل ازم کی تحریک چلائی گئی۔ مگر تجربہ نے بتایا کہ یہ قابلِ عمل نہیں۔ چنانچہ میں سال کے اندر ہی اندر اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا۔ اب کناڈا میں سرکاری طور پر ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا ہے اور یونی کلچرلزم کے نظریہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہی معاملہ امریکا کا ہے۔ امریکا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکنائزیشن کی تحریک چلائی اس کا مقصد بھی یہی تھا۔ مگر لمبی جد و جہد کے بعد معلوم ہوا کہ وحدت کلچر کا یہ نظریہ قابلِ عمل نہیں۔ چنانچہ اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا اور امریکا میں بھی ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کلچر کا اختلاف دو گروہوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں ہے۔ گروہ کے درمیان بھی یہ اختلاف پایا جا سکتا ہے۔ اس داخلی اختلاف کی مثالیں ہر گروہ میں دیکھی جا سکتی اس لیے مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی لانے کے لیے مذہبی تعلیمات میں تبدیلی ضرورت صرف یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر وہ سوچ پیدا کی جائے جس کو جیو اور جینے دو (live and let live) کہا جاتا ہے۔

کچھ لوگ اس ناکام تجربہ کو اب بھی دہرانا چاہتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے سوشل ری انجینیرنگ رکھ دیا ہے:

Printed page