دیباچہ
Al-Risala, December 2004, pp. 67–74
By Maulana Wahiduddin Khan
زیر نظر کتاب اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب : حریف یا حلیف اپنے موضوع پر ایک دلچسپ اور قابل مطالعہ کتاب ہے۔ یہ کتاب ۲۲ ممتاز مسلم شخصیتوں کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ پر اس کتاب میں تنوع کی صفت پیدا ہوگئی ہے۔ اس میں زیر بحث موضوع پر مختلف تعلیم یافتہ شخصیتوں کے اپنے اپنے افکار اور تجربات کا خلاصہ دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کتاب کو پاکستان کے ایک معروف صحافی مسٹر افضال ریحان نے مرتب کیا ہے۔ میں جو مختلف انٹرویوز شامل ہیں وہ سب انہی کے لیے ہوئے ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ انٹرویو لینا ایک مشکل آرٹ ہے۔ انٹرویو رجب سوال کرتا ہے تو اپنے ہر سوال میں وہ خود اپنے آپ کو متعارف اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کتاب میں مسٹر افضال ریحان کے سوالات ان کی اپنی شخصیت کا تعارف ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ سوالات خود ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتے ان سوالات کے ذریعہ انٹرویو رکی جو شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ایک ایسے انسان کی شخصیت ہے جو ذہین اور سنجیدہ ہونے کے ساتھ مثبت طرز فکر کا حامل ہے۔
کتاب میں جو انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں ان میں غور وفکر کا کافی مواد موجود ہے۔ بار بار ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس قسم کے چند جملے یہاں مثال کے طور پر نقل کیے جاتے ہیں۔
کسی بھی قوم کے رہن سہن (way of living) کا نام کلچر ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا ایک کلچر ہوتا ہے جب کہ سولائزیشن سے مراد شہری زندگی ہے۔ کلچر کے ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ تک پہنچنے کا نام افریقہ جیسے پسماندہ خطے میں بھی کلچر تو ہے لیکن وہ سولائزڈ (مہذب) نہیں ہے غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو جیسا ہونا چاہیے نہ کہ دشمن جیسا (2)۔ کی بجائے ماضی پر فخر کرنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے (37) ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ’’مسلمان اور غیر مسلموں
کے تعلقات امن پر مبنی ہیں لڑائی پر نہیں ‘‘ (38) ۔ اسرائیل میں بوسنیا کے مسلمانوں کا وفد آیا تو انہیں وہاں پناہ دی گئی اور کہا گیا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور آپ کو دیکھ کر ہمیں اپنی دربدی کا زمانہ یاد آگیا ہے (40) ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا میں اسلامی تہذیب نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے بلکہ یہ سب مسلم تہذیبیں ہیں اور اس پر آفاقی رنگ کے بجائے علاقائی رنگ غالب رہا ہے میں کہتا ہوں کہ ہمیں سب سے پہلے اسلام کے essential اور non-essential میں فرق کرنا پڑے گا (104) ۔ عجیب بات ہے کہ مسلمان امریکا میں رہنا پسند بھی کرتے ہیں اور اس کو گالی بھی دیتے ہیں (107) ۔ اسلامی تہذیب دنیا میں داعی اور مدعو کا پیغمبرانہ رشتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان قائم کرنا چاہتی ہے (109) ۔
برٹرینڈ رسل کا قول ہے کہ جب میں نے اسلام کی تعلیمات پڑھیں تو میری خواہش ہوئی کہ میں مسلمان ہو جاؤں لیکن جب میں نے مسلمانوں کو دیکھا تو یہ سوچا کہ میں جیسے ہوں ویسے ہی بہتر ہوں (120) ۔ خودکش حملہ دہشت گردی کی ایک تکلیف دہ شکل ہے (162) ، وغیرہ۔ جہاں تک کتاب کے اصل موضوع کا تعلق ہے ، وہ بلاشبہ ایک اہم موضوع ہے۔ اگرچہ پچھلی تقریباً پانچ سوسالہ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے مگر مختلف پہلوؤں سے اس کی اہمیت بدستور زندہ ہے اور ضرورت ہے کہ اس کا مزید جائزہ لیا جائے۔
عام تصور کے مطابق ، اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب دونوں ایک دوسرے کے حریف حتی کہ سموئیل ہنٹنگٹن کی مشہور کتاب کے مطابق ، دونوں تہذیبیں ایک دوسرے کے خلاف یہ تصادم تشدد کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ مگر راقم الحروف کے نزدیک یہ تجزیہ اصل واقعہ کے
حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب اصولی طور پر اسلام کے حق میں ایک معاون واقعہ تھا۔ نے اسلام کے لیے بہت سے نئے امکانات کھولے۔ اسلامی نقطہ نظر سے وہ ایک مطلوب انقلاب تھا۔ اس انقلاب کے لانے والوں میں بالفرض اگر کچھ منفی پہلو پائے جاتے ہوں تب بھی اس انقلاب کا
مؤید اسلام ہونا مشتبہ نہ ہوگا۔ احادیث سے ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بار غیر مسلموں کی رائے یا ان کے طریقہ کو کسی عملی معاملہ میں اختیار فرمایا۔
فنی تعریف سے قطع نظر، کوئی تہذیب ہمیشہ تخلیقی طاقت کے زور پر اُٹھتی ہے۔ کوئی گروہ اپنی تخلیقی صلاحیت کے ذریعہ نئی فکری اور عملی طاقتوں کو دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اُس گروہ کو دوسرے لوگوں سے آگے کر دیتی ہے۔ اس طرح ایک تہذیب وجود میں آتی ہے اور اس تہذیب کے حامل دوسروں کے اوپر فوقیت حاصل کر لیتے ہیں۔
مغربی تہذیب کا ظہور اصلاً اسی قسم کے ایک مثبت واقعہ کی حیثیت سے ہوا۔ مگر بعد کو اس میں ایسے اضافی پہلو شامل ہو گئے جن کی وجہ سے مغربی تہذیب کی وہ متنازعہ صورت بن گئی جو آج نظر آتی یہ اضافی پہلو خاص طور پر دو ہیں۔ ایک پہلو کا تعلق خود مغربی تہذیب کے علم برداروں سے ہے۔ اور دوسرے پہلو کا تعلق اُن مسلم علماء اور دانشوروں سے ہے جنہوں نے اس کو غیر اسلامی قرار دے کر مطلق طور پر اس کی مخالفت شروع کر دی۔
مغربی تہذیب کا آغاز زیادہ واضح صورت میں سولہویں صدی میں ہوا۔ اُس وقت یہ تہذیب فطرت کے قوانین یا فطرت میں چھپی ہوئی طاقتوں کی دریافت کے ہم معنی تھی۔ مگر یہ ایک اتفاقی بات تھی کہ اپنے ابتدائی زمانہ میں مغربی تہذیب کے بانی سائنسدانوں نے عالمی فطرت کے جو حقائق دریافت کیے وہ زوال یافتہ مسیحیت کے مزعومہ عقائد سے ٹکراتے تھے۔ مسیحیت کے پیشواچوںکہ اس وقت اقتدار کی حالت میں تھے، انہوں نے ان سائنس دانوں کی سخت مخالفت کی اور انہیں سخت سزائیں دیں۔ (Conflict between Science and Religion) اِن سزاؤں کی تفصیل ڈریپر کی مشہور کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ ٹکراؤ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اہل سائنس اور اہل مذہب کے درمیان تھا۔ مگر غلط طور پر اس کو سائنس اور مذہب کا ٹکراؤ سمجھ لیا گیا۔ اُس وقت جذباتی ہیجان کی بنا پر اس فرق کو سمجھا نہ جا سکا اور مغربی تہذیب غلط طور پر اپنے آغاز ہی میں عملاً ایک مخالفِ مذہب تہذیب کی حیثیت اختیار کر گئی۔
کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی تہذیب کے لوگ مذہب کو اپنا حریف سمجھنے لگے اور اہل مذہب نے مغربی تہذیب کو اپنا دشمن فرض کر لیا۔ یہ منفی ذہن ابتداے مسیحیت کے مقابلہ میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ توسیع پا کر دوسرے مذاہب تک پہنچ گیا۔
موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام مسلم علماء اور دانشوروں کا رخ مغربی تہذیب کے معاملہ میں منفی اس کا سبب بھی حقیقی کے بجائے اضافی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ انیسویں صدی میں جب یہ مغربی تہذیب اپنے عروج تک پہنچ کر مسلم دنیا میں داخل ہوئی تو یہ داخلہ صرف ایک تہذیبی داخلہ نہ تھا بلکہ وہ سیاست اور ملک گیری کے جلو میں ہوا جس کو نو آبادیاتی نظام (colonialism) کہا جاتا ہے۔ مغربی تہذیب کے اس سیاسی مارچ کی زد سب سے زیادہ جن لوگوں پر پڑی وہ مسلمان تھے۔ اس وقت ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبہ میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم تھیں ۔ مغربی تہذیب کے سیاسی مارچ نے ان مسلم حکومتوں کا خاتمہ کر کے ان کے اوپر اپنا غلبہ قائم کر دیا۔ انیسویں صدی کے مسلم علماء اور دانشور مغربی تہذیب اور اس کے سیاسی پہلو میں فرق نہ مغربی سیاست کو ایک غیر مطلوب چیز سمجھنے کے ساتھ انہوں نے یہ کیا کہ خود مغربی تہذیب کو بھی ایک غیر مطلوب چیز سمجھ لیا۔ انگریز سے متنفر ہونے کے ساتھ وہ انگریزی سے بھی متنفر ہو گئے ۔ طور پر دو چیزوں کے درمیان یہی عدم تمیز تھی جس نے مغربی تہذیب کے خلاف مسلمانوں میں نفرت پیدا کر دی ۔ مگر بعد کو خود مغربی تہذیب میں کچھ مزید برائیاں پیدا ہوئیں ۔ یہ برائیاں اگرچہ اضافی تھیں مگر وہ اسلامی مزاج کے سراسر خلاف تھیں ۔ اس لیے مغربی تہذیب کے معاملہ میں مسلم علماء اور دانشوروں کے منفی ذہن میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔
اس معاملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے مسیحی مذہب کے خلاف رد عمل میں آزادی کے تصور کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ اس کو خیر مطلق (summumbonum) کا درجہ دے دیا۔ کے نام پر مذہبی قدروں کی وسیع پیمانہ پر پامالی شروع ہو گئی۔ اس کی آخری حد وہ مجرمانہ عریانیت (criminal pornography) ہے جو اب شرمناک حد تک غیر انسانی صورت اختیار کر چکی ہے۔
ان تمام منفی پہلوؤں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے کہ مغربی تہذیب نے اسلام اور اسلامی دعوت کے حق میں ایسے نئے امکانات کا دروازہ کھولا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ خذ ما صفا، دع ما کدر کے اصول کے مطابق یہ کریں کہ وہ مغرب کے برے پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور اس کے موافق پہلوؤں کو لے لیں تو بلاشبہ مغربی تہذیب ان کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ وسیع تر معنوں میں اسلام کے دو پہلو ہیں ـــ اساسات اسلام، اور تائیدات اساسات اسلام سے مراد اسلام کی وہ بنیادی تعلیمات ہیں جن کا ماخذ وحی الہیٰ ہے، یعنی عقائد، عبادات، اخلاقیات، اور روحانیات وغیرہ۔ اسلام کا یہ پہلو پیغمبر اسلام کے زمانہ میں آخری طور پر مکمل ہو چکا ہے۔ اس کو جاننے کے لیے قرآن وحدیث اور سیرت کا مطالعہ بالکل کافی ہے۔ اسلام میں اگر کوئی مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے تو وہ اصحاب رسول کی سنت کا اضافہ ہے۔ اس کے بعد اس حصہ اسلام میں کوئی اور اضافہ بدعت ہے، اور اسلام میں بدعت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام کا دوسرا حصہ جس کو ہم نے تائیدات اسلام کا نام دیا ہے اس کی نوعیت بالکل الگ یہ حصہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ اس میں غیر مومنین اور غیر مخلصین بھی مفید حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ لیؤید هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری) یعنی اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعہ بھی کرے گا۔
قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو عظیم انقلاب برپا ہوا اس کے کچھ اجزاء ایسے تھے جو مستقبل میں تکمیل پانے والے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انقلاب محمدی نے انسانی تاریخ میں ایک عمل (process) جاری کیا۔ یہ عمل مختلف نشیب و فراز کے ساتھ مستقل جاری رہا۔ مغربی تہذیب اپنے سائنسی پہلو کے اعتبار سے اسی انقلابی عمل کا گویا ایک نقطۂ عروج (culmination) ہے۔
اس اعتبار سے اسلام کے حق میں جو مفید اسباب پیدا ہوئے ان کو چار عنوانات کے تحت بیان
کیا جاسکتا ہے۔ یہ چار عنوانات یہ ہیں ۔ حفاظت اسلام ، دلائل اسلام، دعوت اسلام ،شعورِ اسلام۔ قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔ اس کے بعد اب خدا کی طرف سے کوئی اور کتاب آنے والی اس لیے ضروری تھا کہ اس کتاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا جائے۔ اس منصوبہ الہی کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحفظون (الحجر ۹) یعنی ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
خدا کے قانون کے مطابق ، اس حفاظت کا نظام اسباب کے دائرہ میں کرنا تھا۔ اسلام کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک اس کی حفاظت اس طرح کی جاتی رہی کہ قرآن کا ایک ایک نسخہ لوگ اپنے ہاتھ سے لکھتے رہے اور اسی کے ساتھ حافظہ کی مدد سے اس کو یاد کرتے رہے۔ طرح کتابت اور حفظ کے ذریعہ اس کو محفوظ حالت میں رکھا جاتا رہا۔ مگر موجودہ زمانہ میں پریس اور پرنٹنگ کے طریقہ نے قرآن کو زیادہ مستحکم طور پر محفوظ کر دیا ہے۔ یہ جدید ذرائع تمام تر مغربی تہذیب کے زیر اثر ظہور میں آئے ہیں۔
اسی طرح ظہورِ اسلام کے بعد ہزار سالہ ابتدائی تاریخ میں کثیر تعداد میں اسلامی موضوعات پر کتا بیں لکھی گئیں ۔ حدیث ، سیرت ، تاریخ ، فقہ، اور دوسرے اسلامی علوم پر عربی زبان میں بہت بڑی تعداد میں کتا بیں لکھی گئیں ۔ یہ کتا بیں اسلام کے کلاسیکل لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ تمام کتا بیں مخطوطات کی شکل میں تھیں ۔ ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے مختلف اسلامی کتب خانوں کی الماریوں میں قدیم زمانہ میں یہ کتا بیں صرف مخصوص علماء کی دسترس تک محدود تھیں۔ آج وہ ساری دنیا میں ہر شخص کے لیے قابل حصول ہوگئی ہیں ۔ ان کتابوں کی یہ عمومی اشاعت کیسے ممکن ہوئی۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعہ ہوا۔ مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے پرنٹنگ پریس تیار کیا۔ انہوں نے اعلیٰ قسم کے کاغذ بنائے اور دوسری متعلق چیزیں ایجاد کیں ۔ اس طرح یہ قیمتی کتا بیں چھپ کر اور مجلد ہو کر ساری دنیا میں پھیل گئیں۔
اسی طرح مغربی تہذیب کے زیر اثر ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ تمام قدیم کتابوں اور دستاویزات کی سائنٹفک تحقیق شروع ہوگئی۔ یہ ذوق توسیع پا کر مذاہب کی مقدس کتابوں تک پہنچ یہاں تک کہ اس کے لیے ایک مستقل فن وجود میں آیا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہا جاتا ہے۔
اس کے تحت قدیم مذہبی کتابوں کی تحقیق و تنقید خالص علمی انداز میں کی جانے لگی۔ اس کے ذریعہ پہلی بار یہ حقیقت واضح ہو کر لوگوں کے سامنے آئی کہ اسلام کے سوا تمام دوسرے مذاہب کی مقدس کتابیں تاریخی اعتبار سے غیر معتبر ہیں۔ صرف اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی مقدس کتاب کو تاریخی اعتباريت (historical credibility) حاصل ہے۔ یہ اہم واقعہ بھی مغربی تہذیب کے زیر اثر پیش آیا۔ قرآن میں آئندہ آنے والے عہد کے بارہ میں کچھ پیشین گوئیاں کی گئی تھیں۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی وہ ہے جو قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں بیان ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے نفسوں میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے (حم السجدہ ۵۳)
قرآن کی اس پیشین گوئی کے مطابق، مستقبل میں ایسا ہونے والا تھا کہ کائنات میں چھپی ہوئی نشانیاں ظاہر ہوں اور وہ قرآن کے بیانات کی علمی تصدیق کریں۔ یہ واقعہ کب پیش آیا۔ وہ مسلم عہد میں پیش نہ آسکا۔ وہ مغربی تہذیب کے ظہور کے بعد موجودہ زمانہ میں پیش آیا۔ اس زمانہ میں مغربی سائنس دانوں نے کائنات کی تحقیق و تفتیش جدید ذرائع سے کی۔ انہوں نے دوربین اور خوردبین جیسے بہت سے طریقے ایجاد کیے جن کے ذریعہ کائنات میں چھپی ہوئی حقیقتیں ظاہر ہو کر انسانی علم کے دائرہ میں آگئیں ۔ اس موضوع پر ایک مغربی سائنس داں کی انگریزی کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں کیا گیا ہے اور موضوع کی مناسبت سے اس کتاب کا نام بامعنی طور پر یہ رکھا گیا ہے: الله يتجلی فی عصر العلم - اس موضوع پر انگریزی زبان میں کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو کتابوں کے نام یہ ہیں:
The Evidence of God in an Expanding Universe Nature and Science speak about God راقم الحروف نے اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے اور اس کے بارے میں کئی کتابیں تیار کر کے شائع کی ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب کا نام مذہب اور جدید چیلنج ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں الاسلام يتحدى کے نام سے شائع ہوا ہے۔ انگریزی زبان میں اس کتاب کے ترجمہ کا نام گاڈ ارائزز (God Arises) ہے۔
مذہب اور جدید چیلنج (صفحات ۲۲۰) کا موضوع خاص طور پر یہی ہے۔ وہ گویا قرآن کی مذکورہ آیت کی سائنسی تفسیر ہے۔ اس کتاب میں دورِ جدید کی سائنسی دریافتوں کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ یہ دریافتیں قرآن کی تعلیمات کی سائنسی تصدیق ہیں۔ گویا کہ جو بات پہلے وحی کے ذریعہ بتائی گئی تھی وہ اب خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن گئی۔
قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ آخری مرحلہ میں جب فرعون پانی میں غرق ہوا تو قرآن کے بیان کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فاليوم ننجيك ببدنک لتكون لمن خلفك آية (یونس ۹۲) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
جیسا کہ معلوم ہے، فرعون پانی میں ڈوب کر مرا۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ فرعون کا جسم اس کی موت کے بعد بھی محفوظ رہے اور بعد کے زمانہ میں ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے لیے خدائی نشانی بنے۔ یہ واقعہ مسلم دور میں پیش نہ آسکا ۔ ہزار سالہ مسلم دور میں وہ ایک نامعلوم واقعہ بنا رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار اہل مغرب نے اس کو اہرام مصر کے اندر دریافت کیا اور جدید سائنسی طریقوں کو استعمال کر کے یہ ثابت کیا کہ یہ اسی فرعون کا جسم ہے جو حضرت موسیٰ کا ہم (اس معاملہ کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے) نیز ملاحظہ ہو ڈاکٹر موریس بوکائی کی کتاب : The Bible, the Qur'an and Science