Al-Risala · December 2004

ثمنی پبلیکیشنز، چلکل گوڑہ، سکندر آباد، ۵۰۰۳۶۱

Al-Risala, December 2004, pp. 82–84

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر صاحب مرحوم سے کئی بار میری خط وکتابت ہوئی تھی۔ یہ خطوط ان کی شخصیت کا تحریری ڈاکٹر مرحوم کا ایک خط اور میری طرف سے اس کا جواب یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ محترمی و مکرمی مولانا وحید الدین خاں صاحب امید کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کی خیریت ہمیشہ دیتا رہتا ہے۔ الرسالہ (عراق نمبر) دو تین مرتبہ پڑھا۔ آپ نے جو تبصرے کیے ہیں وہ بے حد پسند آئے۔ اور شاید یہ

باتیں کسی کے ذہن و دماغ میں بھی نہ آئی ہوں۔

دوسرے یہ کہ میں بہت روز سے علیل ہوں۔ ہاتھوں میں رعشہ کی وجہ سے لکھنا مشکل ہو گیا کئی روز سے آپ کو خط لکھنا چاہتا تھا مگر وقت کچھ انتظار میں اور کچھ دوا خانوں کے چکر میں گزر گیا۔ دعا فرمائیے کہ میں صحت یاب ہو جاؤں۔

تیسری بات یہ ہے کہ میری نواسی عزیزہ شاذراں جو آٹھ دس سال قبل دہلی آئی تھی اور آپ سے دعاؤں کا شرف بھی حاصل کر چکی ہے، اس کی شادی ۶ جولائی کو مقرر ہو گئی ہے۔ اس کی ماں کا بے حد اصرار ہے۔ میں آپ کو شادی میں آنے کی زحمت تو نہیں دے سکتا مگر آپ سے التجا کر کے آپ کی دعاؤں کا طلب گار بنوں۔

امید کہ آپ اس کی کامیاب زندگی کے لیے دعا فرمائیں گے۔ (عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ، سکندر آباد، ۲۸ جون ۲۰۰۳)

برادر محترم و مکرم ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۲۸ جون ۲۰۰۳ ملا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحتِ کامل عطا فرمائے۔ آپ کو ہر طرح امن اور عافیت کے ساتھ رکھے اور تمام اہل خانہ کا ہر طرح مددگار ہو۔ عزیزہ شاذراں کی شادی کی خبر سے خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو مبارک کرے اور کامیاب زندگی عطا فرمائے۔ میری طرف سے عزیزہ کو دعا اور مبارک باد۔

شادی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ ہے جو ہر مرد اور عورت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے اور جب شادی خود فطرت کا قانون ہو تو خود فطرت میں اس کی ضمانت ہونی چاہیے کہ شادی طرفین کے لیے پرسکون زندگی کی ضمانت بنے۔

میرے نزدیک شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز صرف ایک ہے اور وہ ایڈجسٹمنٹ

ایڈجسٹمنٹ شدہ زندگی کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے ہر مرد اور عورت کو مسٹر ڈفرنٹ اور مزڈفرنٹ کے روپ میں پیدا کیا ہے۔ ڈفرنس خود فطرت کا لازمی حصہ ہے اور جب دو ڈفرنٹ پرسن باہم ملیں تو کامیاب زندگی کی ضمانت صرف یہ ہوسکتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے زندگی گزاریں۔ اس معاملہ میں فریقین کے لیے ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی اور آپشن نہیں۔

یہ ڈفرنس ایک عظیم نعمت ہے۔ اس ڈفرنس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ دو شخصوں کے درمیان تبادلہ خیال ہو اور تبادلہ خیال کے ذریعہ ذہنی ارتقاء کا عمل جاری رہے۔ میرے تصور میں بہترین بیوی اور بہترین شوہر وہ ہے جو ایک دوسرے کے لیے انٹیلیکچول پارٹنر بن سکے۔ اگر فریقین میں مثبت مزاج ہو تو ڈفرنس سے انٹیلیکچول ایکسچینج پیدا ہوگا اور انٹیلیکچول ایکسچینج سے انٹیلیکچول ڈیولپمنٹ کا عمل جاری رہے گا۔ عزیزه شاداں کو ان کی زندگی کا یہ نیا دور مبارک ہو۔

یکم جولائی ۲۰۰۳

Printed page