دارالحرب کی اصطلاح
Al-Risala, February 2004, pp. 20–25
By Maulana Wahiduddin Khan
دارالحرب کی اصطلاح دورِ عباسی میں بننے والی فقہ میں ضرور استعمال ہوئی ہے مگر یہ اصطلاح
قرآن اور حدیث میں مذکور نہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی اصطلاح ہے، وہ کوئی منصوص اصطلاح نہیں۔ اور جو نظریہ اجتہادی ہو اس کے بارہ میں یہ ثابت ہے کہ وہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔
میرے نزدیک دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی خطا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے کسی بھی علاقہ کو دار الحرب قرار نہیں دیا۔ وسنت میں اجتہاد کر کے اس سلسلہ میں کوئی اصطلاح بنائی جائے تو وہ صرف ایک ہوگی، اور وہ دار الدعوة یہی اسلامی روح کے مطابق ہے۔ اسلام ہر قوم کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے، خواہ اہل اسلام کا تعلق اُن سے امن کا ہو یا حرب کا۔ اس لیے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دار الاسلام اور دار الدعوة۔ اس کے سوا جو بھی اصطلاحیں بولی گئی ہیں وہ سب میرے نزدیک اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً دار الحرب، دار الکفر، دار الطاغوت، وغیرہ۔ جہاد کا تصور کچھ مسلمانوں کی غلط تعبیر کے نتیجہ میں، جہاد کا تصور یہ بن گیا ہے کہ جہاد کا مطلب ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان دنیا میں خدا کے خلیفہ ہیں۔ مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کی نیابت میںخدا کی حکومت دنیا میں قائم کرے۔ وہ خدا کی طرف سے لوگوں کو خدا کے احکام کا پابند بنائے۔ اُن کے نزدیک اس لڑائی کا نام جہاد ہے۔ جہاد کا یہ تصور بلا شبہ بے اصل ہے۔ وسنت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
مصلحانہ جنگ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف مفسدانہ جنگ ہے۔ اجتماعی زندگی میں پر امن اظہار خیال کا حق تو ہر ایک کو ہے لیکن طاقت کو استعمال کر کے اصلاح کرنے کا نظریہ بین اقوامی زندگی میں نا قابل قبول ہے۔ اجتماعی یا بین اقوامی زندگی میں کوئی گروہ اپنے لیے ایک ایسا حق نہیں لے سکتا جسے وہ دوسروں کو دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اگر ایک گروہ اپنے لیے اصلاحی جنگ کا حق لینا چاہے تو یقینی طور پر اسے دوسروں کو بھی اصلاحی جنگ کا یہ حق دینا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ
ہر گروہ خود ساختہ اصلاح کے نام پر دوسرے سے جنگ شروع کر دے گا۔ اس کے نتیجہ میں اصلاح تو نہ ہوگی البتہ اس کی وجہ سے ایک ایسا فساد برپا ہوگا جو کبھی ختم نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی جائز صورت صرف ایک ہے، اور وہ دفاع ہے۔ اگر ایک قوم اپنی جغرافی حد سے تجاوز کر کے دوسری قوم کے اوپر کھلا حملہ کر دے تو ایسی صورت میں زیر حملہ قوم کو اپنے بچاؤ میں جوابی جنگ کا حق حاصل ہے۔ اس ایک صورت کے سوا کسی بھی دوسری صورت میں متشددانہ جنگ کا کوئی جواز نہیں۔
یہ اجتماعی اصول اسلام میں بھی اسی طرح مسلم ہے جس طرح سے وہ دوسرے نظاموں میں تسلیم کیا گیا ۔ اس اجتماعی اصول کے معاملہ میں اسلام اور غیر اسلام کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مسئلہ وہ ہے جو پچھلی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ پچھلا زمانہ بادشاہی زمانہ ساری دنیا میں ہر جگہ کچھ خاندان حکومت کرتے تھے۔ اُس زمانہ میں بادشاہ کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے اور وہ جو چاہے کرے۔ اس بنا پر قدیم شاہی زمانہ میں ہر بادشاہ نے ایسے کام کئے جو اخلاقی یا قانونی اعتبار سے درست نہ تھے۔ قدیم زمانہ میں ہندوستان کے مسلم بادشاہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ مثلاً محمود غزنوی نے سومناتھ کے مندر کو ڈھایا اور اُس کے سونے کے ذخیرہ کو لوٹا۔ طرح کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے بنارس کے ایک ہندو مندر کو ڈھایا اور اُسی جگہ مسجد تعمیر کی، وغیرہ۔ بادشاہوں کی طرف سے اس قسم کے واقعات قدیم زمانہ میں ہر ملک میں ہوئے ۔ مگر وہ صرف قدیم تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گئے، وہ بعد کے زمانہ میں دو قوموں کے درمیان مستقل نزاع کا سبب نہ بن سکے۔ صرف ہندوستان میں ایسا ہوا کہ اس طرح کے واقعات یہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل طور پر تلخی کا سبب بن گئے۔ اس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ فساد بھی بار بار ہوئے ۔ قومی یکجہتی کا ماحول قائم کرنے کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ بن گئے۔
میرے نزدیک اس استثنائی صورت حال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مسلم علماء اور دانشوروں نے ہندوستان کی مسلم حکومتوں کو اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ وہ اس کو اسلام کی تاریخ کا ایک باب سمجھنے
حالانکہ ان حکومتوں کی حیثیت صرف کچھ مسلم خاندانوں کی حکومت (dynasty) کی تھی۔ اُصولی اعتبار سے اسلام کی حکومت بتانا درست نہ تھا۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر ایسا ہوا کہ جو واقعات ایک مخصوص مسلم خاندان کی حکمرانی سے تعلق رکھتا تھا وہ اسلام کے نام کے ساتھ جڑ گیا۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر یہ شدید غلطی ہوئی کہ مسلمان ان حکمرانوں کے دور حکومت کو اپنے لیے اسلامی فخر کے طورپر وہ لینے لگے۔ وہ اُس کوغلبۂ اسلام کی علامت سمجھنے لگے۔ ہندوؤں میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو تاریخی غلطیوں (historical wrongs) کی اصلاح کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ واضح طور پر باہمی تلخی کی صورت میں نکلا۔ مسلمانوں نے جب اس کو اپنا فخر بنایا تو شعوری یا غیر شعوری طور پر اُن کی مذہبی تاریخ کا ایک مقدس حصہ بن گیا اور دوسری طرف ہندوؤں نے اُس کو تاریخی غلطی سمجھ کر اُس کی اصلاح کی کوشش شروع کر دی۔
میرے نزدیک اس معاملہ میں دونوں فریق غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مسلمان کی غلطی یہ ہے کہ وہ اس تاریخ کو مذہبی حیثیت دینے کی بنا پر اُس پر نظرثانی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ طرف ہندوؤں کی غلطی یہ ہے کہ وہ گذری ہوئی تاریخ کو بھولنے پر تیار نہیں۔ وہ ماضی کی غلطیوں کی تصحیح پر اصرار کر رہے ہیں، خواہ اُس کے نتیجہ میں حال کے امکانات برباد ہو کر رہ جائیں۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں دونوں فریقوں کو حقیقت پسند بننا چاہئے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ پچھلے مسلم بادشاہوں کو اسلامی حاكم کا درجہ نہ دیں بلکہ اُن کی حکومت کو صرف ایک خاندان کی حکومت (dynasty) قرار دیں۔ وہ ان مسلم بادشاہوں کی غیر اسلامی اور غير اخلاقی کارروائیوں کا انکار (disown) کریں، وہ کھلے طور پر اُن کی مذمت کریں، خواہ وہ محمود غزنوی ہو یا اورنگ زیب یا کوئی اور۔ دوسری طرف ہندوؤں کو چاہئے کہ وہ مضئی ماضی (gone is gone) کے اصول پر ماضی کو وہ اس معاملہ میں جذباتی طریقہ کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کریں۔ ہندوؤں کو جاننا چاہئے کہ تاریخی غلطیاں ہمیشہ ہوئی ہیں مگر کوئی بھی تاریخی غلطیوں کی تصحیح نہ کر سکا۔ تاریخی غلطیوں کی تصحیح کا نظریہ بلا شبہ غیر دانش مندانہ ہے۔ یہ ماضی کی تصحیح کے نام پر حال کی تخریب ہے۔ یہ فطرت کے
اصول کے خلاف ہے۔ ایسے لوگ ماضی کو پانے کے نام پر اپنے حال اور مستقبل کو بھی کھو دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہندوستان کے حق میں یہ بات پوری طرح واقعہ بن گئی ہے۔ جن ملکوں نے اپنے ماضی کو بھلا کر اپنے حال کی تعمیر کرنا چاہا، انہوں نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس کی ایک مثال جاپان نے امریکہ کی غلطیوں کی تصحیح کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان آج ایک اقتصادی سپر پاور بنا ہوا ہے۔ دوسری مثال ہندوستان کی ہے۔ ہندوستان میں ماضی کی غلطیوں کی تصحیح کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان صرف ایک پچھڑا ہوا ملک بن کر رہ گیا۔ قومی ترقی کی لازمی شرط یہ ہے کہ قومی ترقی کے سوال کو اصل بنایا جائے اور بقیہ تمام چیزوں کو سیکنڈری حیثیت دے دی جائے۔ لوگوں میں یہ سوچا سمجھا ذہن موجود ہو کہ اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ قومی ترقی کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اس کے سوا جو جذباتی مسائل ہیں یا اور جو ذاتی مفروضات ہیں وہ اگر قومی ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈالے بغیر حاصل ہوتے ہوں تو ٹھیک، ورنہ وہ ہمیں منظور نہیں۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کی پیروی کر کے ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی دی جا سکتی ہے، اس کے بغیر امن ممکن نہیں۔
مشہور قصہ ہے کہ ایک قاضی کے پاس ایک کیس آیا۔ ایک نوزائیدہ بچہ تھا اور دو عورتیں یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ وہ اُس کی ماں ہے اور اس بچہ کو اس کے حوالہ کر دینا چاہئے ۔ مگر دونوں میں سے کسی کے پاس بھی کوئی قانونی ثبوت موجود نہ تھا۔ یہ قاضی کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ آخر کار اُس نے یہ حکم دیا کہ بچہ کے جسم کو بیچ سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیئے جائیں اور پھر اُس کا ایک ٹکڑا ایک عورت کو دیا جائے اور اُس کا دوسرا ٹکڑا دوسری عورت کو دیا جائے۔
قاضی نے جب اپنا یہ حکم سنایا تو جو عورت بچہ کی ماں ہونے کی فرضی دعویدار تھی اِس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ مگر جو عورت بچہ کی حقیقی ماں تھی وہ چیخ اٹھی۔ اُس نے کہا کہ بچہ کو مت کاٹو۔ اُس کو تم دوسری عورت کے حوالہ کر دو۔ یہی محبت کا حقیقی معیار ہے۔ جن لوگوں کو ملک سے حقیقی محبت ہے انہیں چلا کر کہنا چاہئے کہ ہم دیش کی تباہی کو دیکھ نہیں سکتے۔ پچھلی تاریخ میں جو کچھ ہوا اُس کو ہم بھلاتے ہیں تا کہ
حال کے مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کیا جا سکے اور ملک کا ایک نیا شاندار مستقبل پیدا کیا جا سکے ۔ قومی زندگی میں امن اور اتحاد کا اصول صرف ٹالریشن (toleration) کی بنیاد پر ممکن ہے۔ فطرت کا اصول ہے کہ مختلف افراد اور مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوں ۔ اختلاف زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔ اس لئے فرقہ وارانہ زندگی میں اعتدال کا ماحول فرق اور اختلاف کو مٹا کر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مقصد جب بھی حاصل ہوگا تحمل اور ٹالرنس کی بنیاد پر حاصل ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے کی کوشش کسی انسانی گروہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ فطرت کے عالم گیر قانون کے خلاف ہے۔ کوئی بھی شخص یا گروہ اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ فطرت سے لڑکر جیت اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس معاملہ میں برداشت کے اصول کو اپنایا جائے نہ کہ ٹکراؤ کے اصول کو۔ اختلاف کو گوارا کرو تا کہ اتحاد قائم ہو۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ بہ تو سرے سے ممکن ہی نہیں۔
احادیث کی مختصر مگر جامع تشریحات پر مشتمل زیر نظر مجموعہ احادیث میں احادیث کے تذ کیری اور اخلاقی پہلو پر بحث کی گئی ہے۔
نیز احادیث کے اندر جو حکیمانہ پہلو ہیں ان کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں نحوی مسائل، اسنادی بحث ، حدیثوں میں تعارض کا مسئلہ نیز مختلف فقہی مسالک کو بحث میں نہیں لایا گیا ہے۔ یہ مجموعہ تقریباً ۳۲۰ صفحات پر