Al-Risala · February 2004

اتحاد ایمان کا حصہ ہے

Al-Risala, February 2004, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا، وكونوا عباد الله اخوانا، ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال (رواه ابوداؤد) یعنی آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ سب اللہ کے بندے، بھائی بھائی بن جاؤ۔ کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے۔

یہ حدیث بظاہر حکم کی زبان میں ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہ بتا رہی ہے کہ ایمان آدمی کے اندر کس قسم کی صفات پیدا کرتا ہے۔ خدا کی معرفت انسان کو کس قسم کے کردار والا انسان بناتی اس حدیث میں دراصل کسی ایمان والے آدمی کی ان صفات کو بتایا گیا ہے جن کو اجتماعی صفات کہا گویا کہ یہ چیزیں ایمان کی اجتماعی پہچان ہیں۔

ذاتی دائرہ میں ایمان اللہ سے تعلق کا نام ہے۔ لیکن جب ایمان والے لوگ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہیں تو اس وقت باہمی اختلاط کے نتیجہ میں بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ معاملہ صرف خدا اور انسان کا ہو تو وہاں کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوگا، مگر جب انسان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہیں، تو ایسی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف مسائل کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ طرح اجتماعی زندگی ایک پہچان بن جاتی ہے جو یہ بتائے کہ لوگوں کے اندر ایمان کی سچی اسپرٹ موجود ہے یا نہیں۔

اللہ کے وہ بندے جو اللہ کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنالیں، ان کا دل ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کا دل خدا کی بلندیوں میں اٹکا ہوا ہو، وہ دنیا کی پستیوں میں لت پت ہو کر نہیں رہ سکتے۔ ایسے لوگ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہنے لگتے ہیں جیسے ہو لوگو کے

اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتی۔ جیسے روشنی ہر ایک کے پاس آتی ہے مگر وہ کسی سے خوش اور کسی سے خفا نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ اسی طرح ایک دوسرے کے مکمل ساتھی ہوتے ہیں۔ کے درخت ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی قسم کی باہمی رنجش کے ایک مقام پر کھڑے ہوئے ہوں۔ اسلام کے رزق سے آدمی کو حصہ ملا ہے یا نہیں، اس کی ایک واضح پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہنے لگے کہ اس کو نہ کسی سے بغض ہو اور نہ کسی سے حسد۔ شکایت بات پیش آنے پر وہ اپنے بھائی سے بگڑ نہ جاتا ہو، وہ سارے لوگوں کو اللہ کی عیال سمجھ کر اس طرح رہ رہا ہو جیسے ایک باپ کی اولاد دل جل کر رہتی ہے۔ اس قسم کا ذہن جس شخص کے اندر پیدا ہو جائے وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایسا ہو جائے گا کہ کسی بھائی سے اگر اس کا بگاڑ ہو جائے اور وقتی تاثر سے مغلوب ہو کر وہ اس سے جدائی اختیار کر لے تو تین دن گزرتے گزرتے اس کا سینہ پھٹنے لگے وقتی جذبہ نے اس کو جس بھائی سے دور کیا تھا، اس سے وہ اپنے رب کی خاطر دوبارہ اس طرح مل جائے گا جیسے کہ اس کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

Printed page