Al-Risala · February 2004

سوال و جواب

Al-Risala, February 2004, pp. 29–47

By Maulana Wahiduddin Khan

الحمد للہ تقریباً ۲۰ سال سے الرسالہ کا قاری ہوں اور آپ کی زیادہ تر کتابیں میری لائبریری میں موجود ہیں۔ آپ کی تحریروں سے جو فائدہ ہوا ہے اسے بیان کرنا نا ممکن ہے۔ کتابیں تو میں نے اہل دیو بند اور جماعت اسلامی کی بھی بہت پڑھی ہیں مگر جو thinking آپ کی تحریروں سے بنی ہے اب اس کے بعد کسی اور کی کتاب دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔

میں تبلیغی جماعت کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ مگر یہاں آج کل بہت زیادہ نکلنے پر زور دیا جا رہا چار مہینہ چالیس دن اور روزانہ کے ڈھائی گھنٹہ پر بہت زیادہ اصرار کیا جاتا ہے۔ مصروفیت اور دوسرے مشاغل کی وجہ سے مطلوبہ وقت دے نہیں پاتا۔ مگر ساتھی اس کا مطالبہ کرتے اس میں شک نہیں کہ یہ بھی دین کا کام ہے اور اپنے بھائیوں میں دین کی لائن سے فکر کرنا کہ کیسے وہ اعمال پر آجائیں بہت اونچی بات ہے۔ مگر کیا یہ نکلنا اتنا زیادہ ضروری ہے اور اس کا ثواب بھی وہی ہے جو یہ اللہ کے راستے میں نکلنے کا بتاتے ہیں (عبد الرزاق، ممبئی) موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جو تحریکیں اٹھیں، بدقسمتی سے تقریباً ہر ایک میں انتہا پسندی کا وہی غیر مطلوب عنصر پایا جاتا ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ مثلاً جماعت اسلامی میں سیاسی انتہا پسندی، تبلیغی جماعت میں فضائلی انتہا پسندی، مدارس میں مسائلی انتہا پسندی ، قومی تحریکوں میں مظاہراتی انتہا پسندی، مسلم پرسنل لا ء بورڈ میں شخصی انتہا

دین میں اصل اہمیت روح کی ہے، نہ کہ مظاہر کی۔ غلو ہمیشہ مظاہر کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے۔ "نکلنے" جیسی چیزیں بھی مظاہر سے تعلق رکھتی ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ روح دین پر زور دیا جائے ۔ فارم کے بجائے اسپرٹ کو زندہ کرنے میں ساری طاقت صرف کی جائے۔ اسپرٹ جب زندہ ہوتی ہے تو فارم اپنے آپ زندہ ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس کے برعکس فارم پر محنت کی جائے تو فارم تو زندہ ہو سکتا

ہے مگر اس سے اسپرٹ زندہ نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کی زبان میں یہ کہا جائے گا کہ ایمان کی ظاہری صورت تو تمہاری زندگیوں میں آئی مگر تمہارے دلوں میں ایمان ابھی تک داخل نہیں ہوا۔ آپ اپنی تحریروں میں اکثر صلح حدیبیہ کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر اپنے مخالف کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر ان سے صلح کر لی تھی۔ آپ کا کہنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اپنے حریفوں کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہئے۔ میں ایک صاحب کا سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کے برعکس دوسرا واقعہ بھی

یہ وہ واقعہ ہے جب کہ بعد کو ابوسفیان مکہ والوں کے نمائندہ کی حیثیت سے مدینہ آئے اور صلح حدیبیہ کی تجدید و توثیق کی درخواست کی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو قبول نہیں فرمایا اور اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف اقدام کا فیصلہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ ہمیں دونوں میں سے کس سنت کی کس وقت پیروی کرنی چاہئے۔ (شمشاد محمد خاں ، برمنگھم)

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حقیقی صورتِ حال یہ فیصلہ کرے گی کہ ہم اپنے حالات کے لحاظ سے دونوں میں سے کس سنت کے مخاطب ہیں۔ شریعت اور عقل دونوں کا یہ اصول ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result-oriented) ہونا چاہئے۔ متوقع نتیجہ کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہم دونوں میں سے کس روش کو اختیار کریں۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان جن حالات سے دوچار ہیں اُن میں بلا اشتباہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں صبر کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے، نہ کہ اقدام کے اصول پر۔ سال میں مسلمان بار بار اقدام کا تجربہ کرتے رہے ہیں اور ہر بار وہ مکمل ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی استعداد یا تیاری کے اعتبار سے فریق ثانی کے مقابلہ میں اتنا کم

حدیث میں آیا ہے کہ: المومن لا يلدغ من جحر مرتين (مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا)۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں نے پچھلے دو سو سال میں لاتعداد بار چھوٹے اور بڑے اقدامات کیے اور ہر بار وہ یکطرفہ ناکامی سے دوچار ہوئے۔ ایسی حالت میں اُن پر لازم ہے کہ وہ صبر کی سنت پر عمل کریں، نہ کہ اقدام کی سنت پر۔ حالات کا اندازہ کرنے میں مسلمان اگر ایک بار دھوکہ کھائیں تو وہ قابل معافی قرار پا سکتے ہیں۔ مگر حالات کا اندازہ کرنے میں بار بار دھوکہ کھانا کسی بھی حال میں اُن کے لیے قابل معافی نہیں۔

اسلام میں لے پالک یا منہ بولا بیٹا یا متبنیٰ بنانے کو حرام کیا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ الاحزاب آیت ۴ میں یہ حکم موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس کی بابت کئی حدیثیں آئی ہیں۔ مثلاً یہ حدیث کہ: من ادعى الى غير ابيه و هو يعلم انه غير ابيه فالجنة عليه حرام (بخاری، مسلم، ابوداؤد) یعنی جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا کہا، حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ شخص اُس کا باپ نہیں ہے، اُس پر جنت حرام ہے۔ سوال یہ ہے کہ متبنیٰ کے بارے میں اسلام میں اتنا سخت حکم کیوں ہے کہ اُس کو حرام قرار دے دیا گیا۔ (ڈاکٹر ایس اے صدیقی، نئی دہلی)

اسلام کا ایک اصول یہ ہے کہ جو فعل ناجائز ہو اُس سے مشابہت بھی جائز نہیں۔ متبنیٰ کا معاملہ بیٹا ہمیشہ ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان جنسی تعلق کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ اس تعلق کی صرف ایک ہی جائز صورت ہے اور وہ نکاح ہے۔ نکاح کے بغیر جو بیٹا پیدا ہو، وہ اُس عورت اور مرد کی جائز اولاد نہیں کہی جائے گی۔ ایسی حالت میں کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بنانا اور اُس کے ساتھ حقیقی بیٹے جیسا معاملہ کرنا غیر منکوحہ تعلق سے مشابہت کے ہم معنی ہے۔ اسی مشابہت سے بچنے کے لیے اُس کو حرام قرار دے دیا گیا۔

ہمارے شہر میں ہر سال ماہ نومبر میں بنگ فیر لگتا ہے، جہاں اردو کا ہمارا واحد اسٹال ہوتا ہے۔ بنگ فیر تقریباً ۱۸ سالوں سے لگ رہا ہے۔ وہاں آپ کی مطبوعات خصوصی دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ آپ سے اتفاق کرنے والوں کا ایک حلقہ یہاں موجود ہے۔ عام آدمی آپ کی کتابوں کو بے حد پسند جو لوگ جماعتوں سے جڑے ہوتے ہیں وہی لوگ تنقید کرتے ہیں ورنہ تمام پڑھے لکھے مسلمان آپ کی باتوں پر توجہ دیتے ہیں بلکہ اپنی زندگی میں ان باتوں کو استعمال کرکے فائدہ بھی ایسا کیوں ہے۔ (عبد الستار خاں، جمشید پور)

حدیث میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ امت کے اندر مزید جماعتیں نہ بنائی جائیں۔ میں اس کو تفرق (آل عمران ۱۰۵) کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف عنوانات کے تحت جو جماعت بندیاں ہوئی ہیں وہ سب کی سب اس حکم کی خلاف ورزی ہیں۔ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ جماعت کے لوگوں میں ایک عرصہ کے بعد لازمی طور پر جماعتی تعصب پیدا ہو جاتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ ہماری جماعت مکمل حق پر ہے۔ اب ہمیں حق کے لیے کسی اور فرد یا جماعت سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں۔

اسی کا وہ نتیجہ ہے جو آپ نے اپنے تجربے میں پایا۔ جماعتی افراد گروہی صداقت کا ذہن رکھنے کی وجہ سے اپنی جماعت کے باہر کسی اور کتاب کو قابل مطالعہ نہیں سمجھتے۔ لیکن جو لوگ جماعتی گروہ بندی سے باہر ہیں وہ اس متعصبانہ مزاج سے آزاد ہوتے ہیں۔ اُن کا ذہن ہر وقت تیار رہتا ہے کہ جب بھی کوئی بات دلائل کے ساتھ اُن کے سامنے آئے تو وہ کسی تحفظ ذہنی کے بغیر اُس کو قبول کر لیں۔ میں پچھلے دنوں دہلی میں تھا۔ ۸ مارچ ۲۰۰۲ کو وہاں آپ کے ہفتہ وار درس میں شریک ہوا۔ آپ نے قرآن کی مختلف آیتوں کو لے کر اپنی بات کی وضاحت کی۔ میری تجویز ہے کہ آپ معروف

طریقہ کے مطابق، سلسلہ وار قرآن کا درس دیں۔ اس طرح پورا قرآن لوگوں کے سامنے مجموعی طور پر آسکے گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہی طریقہ عام طور پر درس قرآن کے لیے رائج ہے۔ ہے کہ اس بارے میں اپنی رائے سے مطلع کریں گے۔ (سلیم احمد، سری نگر)

جیسا کہ آپ جانتے ہیں، تقریباً دو سو سال سے مسلمانوں میں درسِ قرآن کا طریقہ رائج ہے۔ خاص طور پر برصغیر ہند کی بیشتر مسجدوں میں اس پر عمل ہو رہا ہے۔ یہ درس ہمیشہ مصحفی ترتیب کے ساتھ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ عملاً اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان درسوں میں لوگ عقیدت کے جذبہ کے تحت آتے ہیں اور ثواب اور برکت کے لیے اُن کو سنتے ہیں۔ مگر اصل مقصد لوگوں کے اندر قرآنی طرزِ فکر پیدا ہونا اور ذہنی انقلاب برپا ہونا، کسی بھی درجہ میں حاصل نہ ہوسکا۔ میں نے اس سوال پر کافی غور کیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جہاں تک تلاوت یا تراویح یا اکیڈمک مطالعہ کا تعلق ہے، اُس میں مصحفی ترتیب ہی کی پیروی کی جائے گی۔ مگر جہاں تک اصلاح و دعوت کا تعلق ہے، دوبارہ وہی ترتیب مطلوب ہوگی جو دورِ اول میں نزولِ قرآن کے وقت یعنی جیسے حالات ہوں گے، اِس کے مطابق ، قرآن کا کوئی حصہ لوگوں کے سامنے پیش کیا دورِ اول میں قرآن اِسی طرح حالات کے لحاظ سے اُترا۔ بعد کو اِسے موجودہ شکل میں ترتیب دے دیا گیا۔

حالات کی نسبت سے قرآنی آیتوں کے نزول کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ اِس سے مقصود تثبیت قلب (الفرقان ۳۲) ہے۔ یعنی جو قرآنی حکم لوگوں کے سامنے آئے وہ اُن کے دل میں بیٹھتا چلا سنتے ہی وہ اُن کے شعور کا جزء بن جائے۔ اِسی مصلحت کی بنا پر قرآن ایک وقت مکمل کتاب کی صورت میں نہیں اتارا گیا بلکہ اس طرح اتارا گیا کہ جس وقت لوگوں کے ذہن میں جو سوالات تھے، اُس کی نسبت سے انہیں رہنمائی دی گئی۔

غور و فکر کے بعد میں نے سمجھا ہے کہ اصلاح و دعوت کے لیے دوبارہ یہی انداز اختیار کیا جائے

سے یہ طریقہ بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

مثال کے طور پر ۸ مارچ ۲۰۰۳ کے اجتماع میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک ہندو خاتون اُس میں شریک تھیں۔ اُن کی عمر ۳۷ سال ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ ایک بڑی کمپنی میں اچھے عہدہ ۸ مارچ کو وہ پہلی بار ہمارے درس میں آئیں۔ وہ لمبے عرصہ سے سخت ذہنی خلفشار میں مبتلا انہوں نے بتایا کہ وہ تین بار خودکشی کی کوشش کر چکی ہیں جو کامیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پچھلے برسوں میں بہت سے ہندو پیشواؤں اور عیسائی پادریوں سے ملیں۔ بدھ مذہب اور سکھ مذہب کے گروؤں سے بھی ملیں۔ مگر اُن کا ذہنی انتشار ختم نہ ہو سکا۔ کسی کے بتانے پر وہ میرے یہاں میں نے یہ کیا کہ پہلے اُن کے ذہن کو پڑھا اور پھر اُن کے ذہن کی نسبت سے کچھ آیتوں اور حدیثوں کی تشریح کی۔

انہوں نے نہایت غور سے میری باتوں کو سنا۔ وہ ایک ماڈرن خاتون ہیں۔ لیکن شرکاء درس نے بتایا کہ ختم اجتماع پر جب وہ میرے کمرہ سے نکلیں تو وہ اس طرح رو رہی تھیں کہ اُن کے آنسو آنکھوں سے نکل کر فرش پر گر رہے تھے۔ بعد کو خاتون کے ایک ساتھی نے مجھے ٹیلی فون پر بتایا کہ انہوں نے درس کے بارہ میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری زندگی میں پہلا موقع تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ مجھ کو میرے سوالات کا جواب مل رہا ہے :

For the first time in my life I felt that my questions are being addressed. اگر میں اپنے ہفتہ وار اجتماع میں سلسلہ وار قرآن کا درس دے رہا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ ۸ مارچ کو سلسلہ وار ترتیب میں قرآن کا کوئی ایسا حصہ اُن کے سامنے آتا جو اُنہیں اپنی بروقت سوچ کے اعتبار سے غیر متعلق معلوم ہوتا۔ مگر جب میں نے اُن کے ذہن کو سمجھ کر اُس سے متعلق آیت اور حدیث اُن کے سامنے پیش کی تو اُنہیں محسوس ہوا کہ اُن کے سوالات کو ایڈرس کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ دعوتی

حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن کی ترتیب نزول اُس کی ترتیب تلاوت سے مختلف ہے۔ تلاوت کے لیے آج بھی مصحفی ترتیب ہی پر عمل کیا جائے گا لیکن جب دعوت و تبلیغ کا معاملہ ہو تو سامعین کی نسبت سے قرآن کا ایسا حصہ اُن کے سامنے لایا جائے گا جس میں انہیں محسوس ہو کہ بوقتِ خطاب اُن کے ذہن میں جو سوالات تھے وہ ایڈریس ہورہے ہیں۔

میں انجینیرنگ کالج کا طالب علم ہوں۔ میری عمر ۲۳ سال ہے۔ میں ایک اچھا کرکٹ کھلاڑی میں انٹرنیشنل کرکٹ کھلاڑی بننا چاہتا ہوں۔ میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل بھی کرتا ہوں۔ اس بابت ایک سوال مجھے اکثر پریشان کرتا رہتا ہے۔ وہ یہ کہ کیا اسلام میں کرکٹ کھیلنا اور اس کو ذریعہ معاش بنانا جائز ہے یا نہیں ۔ (اقبال رشید بیگ، سری نگر، کشمیر) کرکٹ یا اور کوئی گیم اسلام میں منع نہیں۔ گیم کے ذریعہ اگر آپ اپنی معاش حاصل کریں تو یہ بھی اسلام میں جائز ہوگا۔ البتہ جو چیز اسلام میں منع ہے وہ یہ ہے کہ آدمی میچ فکسنگ کرے یا وہ خدا کی عبادت میں اُس سے غافل ہو جائے۔

ہمارا ایک سوال ہے۔ وہ یہ کہ ملک کی ایک مشہور تنظیم اس وقت ایک مہم چلا رہی ہے کہ پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر اور ان سے اتحاد پیدا کر کے حالات کا رخ موڑا جائے ، کیا صرف پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر کامیابی مل سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ (عبد العلیم قاسمی، امتیاز احمد خاں مفتاحی، عادل آباد)

مسلم اتحاد کا نعرہ کوئی نیا نعرہ نہیں۔ مسلم اتحاد کی بات بار بار کی گئی ہے اور ہر بار وہ ناکام ہوئی ہے۔ موجودہ کوشش بھی یقینی طور پر اس مقصد میں ناکام ہوگی۔ اگر آپ کو تفصیل معلوم ہو تو یہ

کوشش پہلے ہی دن خود اپنے اسٹیج پر ناکام ہو چکی ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ عین اسٹیج کے اوپر مسلم ارکان آپس میں ٹکرا گئے ۔ پھر جب خود مسلمان آپس میں متحد نہ ہوں تو دوسروں کو اتحاد کا پیغام دینا کیسے مؤثر ہو سکتا ہے۔

پچھلے سوسال کے اندر مسلمانوں نے بار بار اتحاد کا نفرنسیں کی ہیں۔ مگر وہ سب کے سب بے نتیجہ اس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد جلسوں اور تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ اُس کے لیے کچھ اور زیادہ گہرے اسباب درکار ہیں۔ مثلاً مسلمانوں میں اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج، دوسرے طبقات میں یہ احساس کہ مسلمانوں کے ساتھ متحد ہو کر انہیں کوئی بڑا فائدہ مل سکتا ہے۔ اتحاد کانفرنس کے انعقاد سے پہلے اُس کے حق میں گراؤنڈ ورک، وغیرہ۔ اتحاد کے حق میں ابھی تک اس قسم کے موافق اسباب موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اتحاد کی بات اُسی طرح ایک خیالی شاعری ہے جیسا کہ اس سے بہت پہلے اقبال نے بے نتیجہ طور پر اس طرح کی تھی:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر میں engineering کی طالبہ ہوں۔ میں آپ سے دو سوالات کر رہی ہوں۔ کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ ہم اپنے جسم کا کوئی بھی اہم حصہ donate کر سکتے ہیں، ہمارے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد جس سے کسی دوسرے انسان کو ایک نئی زندگی ملے۔

کوئی لڑکی یا عورت کی آواز اگر سریلی ہو تو کیا وہ کسی اجتماع یا پھر کسی function کے آغاز میں حمد، نعت یا پھر کسی ترانہ کے ذریعہ اپنی آواز کو ظاہر کر سکتی ہے یا نہیں۔ براہ کرم میرے ان دو سوالوں کا

یہ خدا کے بنائے ہوئے قانون فطرت کا نتیجہ ہے کہ انسانی جسم کا کوئی حصہ، مثلا آنکھ، اُس کی

موت کے بعد بھی کسی زندہ کے کام آسکتی ہے۔ جس طرح دوسرے قوانین فطرت انسان کے لیے اس طرح یہ فطری قانون بھی انسان کے لیے ایک رحمت ہے اور اُس کو ضرور استعمال کرنا یہ مرے ہوئے آدمی کی طرف سے زندہ کے لیے ایک صدقہ جاریہ ہوگا۔

میں ذاتی طور پر جلسوں کے آغاز میں نظم یا ترانہ کو غیر مفید سمجھتا ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جلسہ یا اجتماع میں سنجیدگی کا ماحول ختم ہو جاتا ہے اور تفریح لینے اور تالیاں بجانے کا ماحول قائم ہو جاتا اسی قسم کے رواج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارا ہر اجتماع صرف ایک قسم کا شو بن کر رہ جاتا ہے۔ حالت میں میرے نزدیک اس قسم کی شعر خوانی ہر حال میں نادرست ہے، خواہ وہ لڑکوں کے ذریعہ ہو یا لڑکیوں کے ذریعہ۔

الرساله دسمبر ۲۰۰۲ء صفحہ ۲۷ پر آپ نے لکھا ہے کہ یہ دنیا امتحان کے اصول پر مبنی ہے۔ عرض یہ ہے کہ اللہ نے دنیا کو اور تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے، اُس کے تخلیق کردہ بندے کیسے ہیں، اُس سے پوشیدہ نہیں۔ کس انسان میں کیا خوبی یا کمی ہے اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ پھر امتحان کیوں (معصوم علی، راجستھان)

اس امتحان کا تعلق علم خداوندی سے نہیں ہے۔ اس کا مقصد در اصل انتخاب (selection) اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کے پورے نظام کو اسی اصول کے تحت بنایا ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنا امتحان دے رہا ہے اور اس امتحان کے دوران ہر آدمی اپنے بارہ میں بتاتا ہے کہ کیا وہ اس قابل ہے کہ جنت کی رہائش گاہ کے لیے اُس کا انتخاب کیا جائے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس انتخاب کا اہل ثابت کریں گے وہ آخرت کی ابدی جنت میں داخل کیے جائیں گے اور جو لوگ اپنے آپ کو اُس کا اہل ثابت کرنے میں ناکام رہیں گے اُن کو نا کارہ قرار دے کر جہنم کے کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے گا۔

برائے مہربانی حدیث و قرآن کی روشنی میں اس سوال کی وضاحت کرنے کی زحمت فرمائیں کہ کسی شخص کی سن بلوغ سے قبل کی عبادات (مثلاً روزہ نماز وغیرہ) کا میدان محشر میں اس کے اعمال کے ساتھ شمار ہوگا کہ نہیں؟ بالفاظ دیگر سن بلوغ سے قبل کی عبادات حشر کے دن کام آئیں گی کہ نہیں؟ (زبیر احمد، بھاگلپور)

اس قسم کے سوالات غیر سنجیدگی ذہن کی علامت ہیں۔ سنجیدہ ذہن ہمیشہ یہ سوچے گا کہ بلوغ کے بعد میں جو عبادت کر رہا ہوں اُس کا حشر قیامت میں کیا ہوگا۔ وہ قبول ہوگی یا نہیں۔ اس کے بجائے یہ سوچنا غیر سنجیدہ کی علامت ہے کہ فلاں شخص نے بالغ ہونے سے پہلے جو نمازیں پڑھی تھیں اُس کا انجام آخرت میں کیا ہوگا۔ نماز یا کسی بھی عبادت کی قیمت اْس وقت ہے جب کہ خدا اُس کو قبول اس حقیقت کا ادراک آدمی کو اتنا زیادہ اندیشہ ناک بنا دیتا ہے کہ وہ غیر متعلق سوالات میں اپنے ذہن کو مشغول نہیں کر سکتا۔

اسلامی شریعت میں قتل کی جائز تین شرطیں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان اپنے دین سے پھر جائے تو اسے بھی قتل کیا جائے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ (مذہب میں کوئی زبردستی نہیں) والی بات کیسے پوری ہوگی۔ اگر کوئی قوم اس کی ہوڑ میں کہے کہ ہم بھی ایسا قانون بنائیں گے کہ کوئی دوسرا مذہب قبول کرے تو اس کی سزا قتل ہوگی تو پھر وہ اسلام میں کیسے داخل ہوں گے۔

مجھے اس مسئلہ سے اتفاق نہیں کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔ اسلامی تاریخ میں کبھی صرف ارتداد کی بنا پر کسی کو قتل نہیں کیا گیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے جو جنگ کی تھی وہ مانعین زکوٰۃ کے خلاف

تھی ، نہ کہ معروف معنوں میں مرتدین کے خلاف۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس جنگ کا سبب ریاست سے بغاوت تھا ، نہ کہ اعتقادی طور پر مرتد ہو جانا۔

جیسا کہ معلوم ہے ، ان لوگوں نے اسلام کو ترک نہیں کیا تھا بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ہم اپنی زکوٰۃ کی رقم مقامی طور پر خرچ کریں گے۔ اُس کو مرکزی خلافت کے خزانہ میں نہیں دیں گے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو حضرت ابو بکر کے اس اقدام کا تعلق مرتد کے مسئلہ سے نہیں ہے بلکہ ریاست سے بغاوت کے مسئلہ سے ہے۔

اس سوال پر میں نے اپنی کتاب ” شتم رسول کا مسئلہ “ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بحث کی یہاں میں صرف ایک حوالہ نقل کروں گا۔ قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں مر جائے تو ایسے لوگوں کے عمل ضائع ہو گئے دنیا میں اور آخرت میں۔ اور وہ جہنم والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (البقرہ ۲۱۷) قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مرتد کا ذکر ہے مگر اس میں مرتد کی دنیوی سزا نہیں بتائی گئی ہے بلکہ صرف اُخروی سزا بتائی گئی ہے۔ اس آیت کے مطابق ، کوئی مرتد دنیا میں تو اپنی طبعی موت مرے البتہ آخرت میں وہ اپنے گناہ کی سزا پائے گا۔

سوال یہ ہے کہ انسان کی خود داری کی اہمیت کیا ہے اور گھر والوں سے خود داری کس حد تک برتی جا سکتی ہے اور دنیا والوں سے کس حد تک۔ (حافظ محمد الیاس، بیجاپوری) آج کل جس چیز کو خود داری کہا جاتا ہے اُس کی تائید میں مجھے کوئی لفظ قرآن وحدیث میں نہیں میں اس خود داری کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ عین وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میںحمیت جاہلیہ کا لفظ آیا ہے۔

اسلام کے نزدیک اصل مطلوب چیز خود داری نہیں ہے بلکہ خودشکنی ہے۔ حمیت نہیں ہے بلکہ

اصرار نہیں ہے بلکہ اعتراف ہے۔ اسلام میں نہ خودی ہے اور نہ بے خودی۔ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے وہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے فکر و عمل کا محور خدا بن جائے، اُس کی محبوب چیز تو واضح اور انکساری ہو۔

اس مزاج کا تعلق گھر کے اندر کی زندگی سے بھی ہے اور باہر کی زندگی سے بھی۔ کے مطابق، مومن کو نرم پودے کی طرح ہو جانا چاہیے جو اکڑ سے خالی ہوتا ہے۔ خودداری در اصل اکڑ کا خوبصورت نام ہے۔ جو آدمی چک یا اعتراف کو بے عزتی سمجھتا ہے وہ اپنی اس کمزوری کے جواز کے لیے اُس کو خود داری کا نام دے دیتا ہے۔

کچھ صحافتی اصطلاحات کے جوابات مطلوب ہیں۔ امید ہے کہ آپ اپنی روایت کی مانند جوابات سے ممنون فرمائیں گے۔ (۱) ایلو جرنلزم (Yellow Journalism) (۲) ایلو پریس (Yellow Press) (۳) الٹا اہرام (Inverted Pyramid) (۴) فورتھ اسٹیٹ کی صحیح اسپیلنگ اور اس کا مطلب (۵) اسپینی امریکی جنگ، وغیرہ۔

ایلو جرنلزم (yellow journalism) سے مراد صحافت کی وہ قسم ہے جس کو عام طور پر سنسنی خیز جرنلزم کہا جاتا ہے۔ یعنی خبروں کو سنسنی انداز میں پیش کرنا تا کہ اخبار کی اشاعت زیادہ سے زیادہ یہ طریقہ امریکہ کے دو اخباروں ورلڈ اور جنرل نے ایک دوسرے کے مقابلے میں شروع کیا تھا۔ اس کے بعد ۱۸۹۰ء میں ایلو جرنلزم کی اصطلاح رائج ہوئی۔

ایلو پریس (yellow press) اور ایلو جرنلزم دونوں ایک ہی چیز کے دو مختلف نام ہیں۔ ایلو پریس سے مراد اشتعال انگیز اخبارات ہیں۔ وہ اخبارات جو ہیجان خیز خبریں شائع کرتے ہیں، جو تعصبات کو بھڑکانے والی خبریں چھاپ کر اپنی اشاعت بڑھاتے ہیں۔

مصر کے اہرام مثلث شکل کے ہیں۔ یعنی نیچے کی طرف چوڑا اور چوٹی کی طرف نوکیلا۔

صحافت کمی اصطلاح میں الٹا اہرام (inverted pyramid) کا مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کو واقعاتی ترتیب کے بجائے الٹی طرف سے بیان کرنا۔ مثلاً قتل کا واقعہ بہت سی سرگرمیوں سے شروع ہوتا ہے اور آخر کار قتل تک پہنچتا ہے۔ مگر اخبار میں جب ایسی خبر کو چھاپا جاتا ہے تو اُس کی سرخی اس طرح لگائی جاتی ہے: شہر میں ایک قتل۔ یعنی خبر کے آخری جزء کو پہلے بیان کرنا۔

فورتھ اسٹیٹ (fourth estate) کا لفظ پریس یا جُرنلزم کے لیے بولا جاتا ہے۔ فیوڈل دور میں پولیٹیکل پاور کے چار ستون سمجھاے جاتے تھے۔ کلر جی (clergy) نابلٹی (Nobility) اور پھر جب پرنٹنگ کا طریقہ وجود میں آیا اور پریس (اخبارات) کی طاقت کا ظہور ہوا تو پریس کو چوتھا اسٹیٹ کہا جانے لگا۔

اسپین اور امریکا کی جنگ (Spanish-American War) ۱۸۹۸ء میں ہوئی۔ کے بعد امریکا کا اسپین کا نو آبادیاتی اقتدار ختم ہو گیا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ امریکا میں وہ چیز پیدا ہوئی جس کو ایلو جُرنلزم کہا جاتا ہے۔

سنجیدگی سے قرآن پاک کا مطالعہ کرنے والا ایک عام قاری الرسالہ خدا کے فضل و کرم سے عمر فاروق کے قول "لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر ولكنه الذى يعرف خير الشرین“ کا مصداق بن پاتا ہے۔ لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ علم، تقویٰ، خلوص، خشوع اور انابت جیسی اہم خصوصیات سے متصف حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور عبدالرشید گنگوہی جیسی عظیم شخصیات جہاد بالسيف کے سلسلے میں ۱۸۵۷ء میں مولانا محمد شاہ صاحب دیوبندی کے معقول عندیہ کو کیوں سمجھ نہ سکے۔ ۱۹۱۲ء میں مصری عالم دین حضرت مولانا سید رشید رضا نے جو دعوتی پروگرام علماء ہند کے سامنے تجویز فرمایا تھا، آخر وہ کیا کی تھی کہ علماء اس کی طرف توجہ نہ فرما کر بس تحفظاتی کردار ادا کرتے رہے اور تا دم تحریر علماء امت کو سمجھا سمجھ کر institutional and scientific age میں قائدانہ کردار ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔

علی ہذا القیاس حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی مسلمہ طور پر ایک عظیم صوفی گزرے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ”انا قایم الزمان“ کا خواب دیکھنے والا اور ”الھمنی ربی“ کا دعویٰ کرنے والا بھی عصری تقاضوں کو سمجھ نہ سکا۔

محترم مولانا وحید الدین صاحب! آپ نے فہم دین کی نسبت سے التفکر والاعتبار، كان النہار اجمع خالياً يتفكر، واتقوا الله ويعلمكم الله ، وغیرہ کا حوالہ دیا ہے۔ بزرگان دین میں یہ چیزیں اگر بدرجۂ اولیٰ موجود تھیں تو کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود بھی یہ لوگ مطلوب قائدانہ کردار ادا نہ کر سکے۔ (جاوید حسین وانی، اننت ناگ)

۱۸۵۷ء میں جن بزرگوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد بالسيف کیا، وہ میرے نزدیک اجتہادی خطا کا معاملہ تھا۔ اجتہاد کا شرعی مسئلہ یہ ہے کہ صحیح اجتہاد پر آدمی کو دو ہر ا ثواب ملے گا اور اجتہادی خطا پر ایک ثواب۔ تاہم یہ آخرت کے اعتبار سے ہے۔ جہاں تک دنیا کا تعلق ہے، تو دنیا کا نظام اسباب و علل کے اصول پر مبنی ہے۔ اجتہادی خطا کا دنیوی انجام وہی ہوگا جو اسباب کے اعتبار سے اس کا ہونا چاہیے۔ اُس زمانہ کے علماء کا خیال یہ تھا کہ دعوت کا کام برطانی اقتدار کے تحت نہیں ہو سکتا جو اُن کے مفروضہ تصور کے مطابق، اسلام دشمن طاقت تھی۔ مگر یہ تمام تر اجتہادی خطا کی بنا پر تھا۔ اجتہادی خطا کی وجہ سے وہ رشید رضا کے مشورہ کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے انگریز کو دیکھا مگر وہ زمانی مواقع کو نہ دیکھ سکے جو انگریز سے بھی زیادہ بڑی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ اجتہادی خطا کی یہ مثال موجودہ زمانہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ علماء کی حمایت سے آج مختلف مقامات پر مسلح جہاد کیا جا رہا ہے۔ یہاں بھی یہی مفروضہ ہے کہ سیاسی اقتدار کے حصول کے بغیر اسلامی دعوت کا کام نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ سراسر اجتہادی خطا ہے۔ یہ لوگ جدید دعوتی امکانات سے واقف نہ اس لیے وہ سیاسی انقلاب کے سوا اپنے عمل کا کوئی اور نقشہ وضع نہ کر سکے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کو جو تجربہ ہوا وہ الہام یا خواب کی نوعیت کا تجربہ تھا، وہ کوئی وحی کا تجربہ نہ تھا۔

جیسا کہ معلوم ہے، الہام یا خواب میں ہمیشہ یہ امکان رہتا ہے کہ آدمی اُس کی تعبیر میں غلطی کر جائے۔ تعبیری خطا کے امکان سے پاک صرف وحی ہوتی ہے، اور وحی پیغمبر کے سوا کسی اور کے پاس نہیں آتی۔ یہ بھی اجتہادی خطا کا معاملہ تھا۔ یہ علماء علمی اعتبار سے تقلید میں مبتلا تھے اور دینی اعتبار سے تصوف سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ان دو اسباب کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے اندر تفکر اور تدبر کا طریقہ رائج ہی نہ ہو سکا۔ وہ اپنے اخلاص کی بنا پر یقیناً آخرت میں جنت کے مستحق قرار پائیں گے مگر اُن کی اس اجتہادی خطا نے اُنہیں بصیرت زمانہ سے محروم کر دیا۔ ایسی حالت میں اسباب و علل کی اس دنیا میں اُن کی کوششوں کا وہی نتیجہ ہو سکتا تھا جو ہوا۔

رسول اللہ ﷺ کا ہر عمل خواہ کسی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو سنت ہے، جیسا کہ علماء فرماتے ہیں۔ مگر آپ ﷺ کی پوری حیات طیبہ کو یعنی آپ کے تمام اعمال و کردار کو اسی طرح ہمہ وقت سامنے نہیں رکھا جاتا جس طرح آنجناب کی چند مشہور سنتوں کو مکمل طور پر برتا جاتا ہے۔ یعنی علماء بطور خاص اور عوام بطور عام اسی طریقہ پر عمل پیرا ہیں۔ مثلاً داڑھی بڑھانا سنت ہے۔ اس پر اتنا زیادہ زور ہے کہ لگتا ہے یہ سنت فرض ہے۔ میرا مقصد خدانخواستہ گنجائش ڈھونڈ نا نہیں ہے۔ اس کے بالمقابل سر کے بال رکھنے میں بھی آنجناب کی سنت موجود ہے۔ اس کا ذکر و تذکرہ بہت کم ہوتا ہے۔ برائے کرم اس کی

داڑھی اور مونچھ وغیرہ کے بارہ میں جو سنتیں بتائی جاتی ہیں وہ بلاشبہ سنت ہیں۔ رسول کے تذکرہ کے ذیل میں اسی قسم کی جزئی چیزوں کو بیان کرنا کافی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ عمل سنت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ اس اعتبار سے دعوت بھی سنت ہے، صبر بھی سنت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے عام طور پر ان سنتوں کو چھوڑ رکھا ہے۔ حتیٰ کہ اگر انہیں یہ یاد دلایا جائے کہ تم غیر مسلموں کو اسلام کا پیغام مثبت طور پر پہنچاؤ اور اگر ان کی طرف سے کوئی

ایذارسانی ہو تو اس پر صبر کرتے ہوئے پرامن دعوتی عمل کو جاری رکھو تو لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں حتیٰ کہ جو لوگ داڑھی اور مونچھ جیسی چیز کی موافقت میں پُر زور بحثیں کرتے ہیں وہ دعوت اور صبر کے احیاء کی تحریک کے مخالف بن جاتے ہیں۔ یہ روش بلاشبہ ایک خلاف سنت روش ہے۔ سب سے زیادہ ضروری یہ بات ہے کہ اس منفی روش کی اصلاح کی جائے۔

مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کو اسی طرح سچا مانتے ہیں، جس طرح مسلمان اسلام میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ پھر اسلام ہی واحد سچا مذہب کیوں ہے۔ اگر میں کسی اور مذہب کے ماننے والے کے گھر میں پیدا ہوتا تو اس مذہب کو اسی طرح سچا مانتا، جس طرح اب اسلام کو مانتا اس بات نے میرے ذہن کو منتشر کر دیا۔ (اویس صدیقی، علی گڑھ)

اسلامی تعلیم کے مطابق، ہر پیغمبر کو خدا نے ایک ہی دین کے ساتھ بھیجا۔ خدا کی طرف سے آئے ہوئے ادیان میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دنیا میں دین کے نام پر بہت سے مذاہب موجود ہیں تو کس مذہب کو لیا جائے اور کس مذہب کو نہ لیا جائے۔ اس ترک و اختیار کا معیار (criterion) صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف ادیان میں سے کون سا دین محفوظ دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی وہ کون سا دین ہے جو آج بھی اُسی ابتدائی حالت میں موجود ہے جیسا کہ پیغمبر نے اسے دیا تھا۔

اس موضوع پر میں نے اپنی کتابوں میں کافی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اُس کا مطالعہ کر کے آپ جان سکتے ہیں کہ دوسرے تمام مذاہب میں اضافے اور تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ اُن کا ابتدائی متن بھی محفوظ نہیں۔ اس کے برعکس اسلام مکمل طور پر اپنی ابتدائی حالت میں موجود ہے۔ مقدس کتاب میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس لیے اب اسلام ہی واحد قابل اعتبار مذہب اسلام کی اسی امتیازی صفت نے اُس کو خدائی سچائی کا واحد مستند ماخذ بنا دیا ہے۔

ہم کو کوئی ایسا ذریعہ بتائیے کہ جس سے ہم محبت خداوندی میں اپنے آپ کو غرق کر دیں۔ ہر کام ہر لفظ جو کہ زبان سے نکلے اس کا مقصد صرف اور صرف رضائے الہی ہو (ایک قاری ، الرساله) خدا کے ساتھ گہری محبت ہونا ایمان کی علامت ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : والذین آمنوا اشد حبا للہ ۔ خدا کے ساتھ گہری محبت ہونا ایک اعلیٰ ترین متاع ہے۔ کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اسی طرح محبت الہی کی بھی ایک قیمت ہے۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی ہر دوسری چیز کو اپنی زندگی میں ثانوی بنا دے ۔ مال، اولاد، عزت، شہرت، مقبولیت، بڑائی، سرخ روئی، وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن کو لوگ اپنا محبوب بنائے رہتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ خدا ان کے جذبات محبت کا مرکز بن جائے۔ یہ ناممکن ہے۔ خدا کی محبت کسی کو اسی وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ بقیہ کی محبت سے اپنے سینہ کو خالی کر لے۔ جو آدمی ایسا نہ کر سکے اُس کو محبت خدا کی بات بھی نہیں کرنا چاہئے۔

مسلم برادری کی تاریخی حیثیت کیا ہے۔ قوم جولاہا جو مومن برادری اور انصاری برادری سے موسوم ہے اس کی تاریخی حیثیت کیا ہے۔ اس لئے کہ اس ذات سے دیگر مسلم برادریاں ایسے ہی نفرت رکھتی ہیں جیسے غیر مسلم مسلم سے اسلام کی بنیاد پر۔ جب کہ ان کی شرافت، صبر و تحمل، سادگی اور انسانی ہمدردی، شر و فساد سے دوری، یہ سب باتیں اس قوم میں بہت پاتا ہوں ۔ اس کے باوجود لوگ انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایسا کیوں ہے۔ (محمد افروز عالم، نالنّدہ) اسلام میں برادری یا ذات پات کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اب بھی یہ نظام صرف برصغیر ہند میں پایا جاتا ہے۔ دوسرے مسلم ممالک میں اس قسم کا نظام موجود نہیں۔ یہ دراصل اسلام کا

ہندوائزیشن ہے جو پچھلی صدیوں میں پیش آیا۔ اصل یہ ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت علماء کے ذریعہ نہیں ہوئی بلکہ صوفیا کے ذریعہ ہوئی۔ صوفیا کو علم اور تعلیم سے زیادہ لگاؤ نہ تھا۔ ذریعہ ہندوؤں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ صوفیا نے ان لوگوں کو کلمہ اور نماز اور ذکر جیسی چیزیں تو بتائیں مگر اُن کی تعلیم دین کا کوئی انتظام نہیں کیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام سے پہلے وہ جن ہندو رسموں اور رواجوں سے مانوس تھے، اُنہی رسموں اور رواجوں کو انہوں نے اسلام میں بھی باقی رکھا۔ صوفیاء نے اگر ایسے لوگوں کی باقاعدہ تعلیم کا انتظام کیا ہوتا تو یقینی طور پر اس قسم کے رواج ختم ہو جاتے۔ مگر صوفیا اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر ایسا نہ اسی غلطی کا وہ نتیجہ ہے جس کو ہم آج مسلمانوں کے درمیان ذات پات کی صورت میں پا رہے ہیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کا فرمان ہے کہ مجھ سے مانگو میں دوں گا۔ اللہ اپنے بندے سے اُس کی ماں سے بھی زیادہ محبت کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ دعا مصیبت و پریشانی کو روکنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان جو اللہ سے برابر دعا کرتے ہیں اس کے باوجود ہماری دعائیں مقبول کیوں نہیں ہوتیں ۔ ہم کیوں اتنی زیادہ مصیبت اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس منکرین جو اللہ کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کی بنا پر وہ دعا کرنے کا جواز نہیں رکھتے پھر بھی وہ ہم سے بہتر حالت میں ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ (عمر احمد علی، پربھنی)

دعا کی قبولیت کے لیے یہ کافی نہیں کہ آدمی مسلم خاندان میں پیدا ہوا ہو۔ قبولیت کی شرط قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: الیہ يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه (فاطر ۱۰) اس آیت کے مطابق، وہی دعا خدا تک پہنچتی ہے جس کے ساتھ عمل صالح شامل ہو۔

میں اگر مسلمان یہ محسوس کریں کہ اُن کی دعا قبول نہیں ہورہی ہے تو اُنہیں خود اپنے اندر اس کا سبب تلاش

اس آیت کے مطابق، دعا کی عدم قبولیت کا سبب یقینی طور پر یہ ہوگا کہ دعا کرنے والے عمل صالح کی شرط کو پورا نہیں کر رہے ہوں گے۔ اس لیے اُنہیں چاہئے کہ وہ اپنا احتساب کر کے اس شرط کو اٗس کے بعد دعا کی قبولیت یقینی ہو جائے گی۔ جہاں تک غیر مسلمین کا تعلق ہے، اُن کا معاملہ فطرت کے قانون پر منحصر ہے۔ اگر وہ فطرت کے قانون کو معلوم کر کے اُس سے مطابقت کریں گے تو دنیا میں وہ مادی کامیابی کو پالیں گے۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہورہا ہے۔ اس ایڈیشن کا نام اسپرپچول میسج (Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: اسپرپچول میسج فی کاپی -/15 روپے، سالانہ -/165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے:

Published and edited by Haroon B. Shaikh 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)

Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323

Printed page