خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
Al-Risala, March 2005, pp. 9–18
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب کبھی کوئی قومی نظام بنتا ہے تو اس سے کچھ لوگوں کے انٹرسٹ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً انڈیا میں بیوروکریسی کا انٹرسٹ اور پاکستان میں فوجی افسروں کا انٹرسٹ۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ قائم شدہ نظام میں ان کو ہر قسم کے فائدے مل رہے ہیں تو وہ اس میں تبدیلی کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ یہ نظام باقی رہے تا کہ ان کے مفادات پر کوئی زد نہ اس طرح ایک محدود گروہ کو تو خوب فائدے ملتے ہیں مگر بقیہ لوگ محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں موبائل ٹیلی فون کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ کئی بار مسافروں کے موبائل کی گھنٹی بجی اور لوگ دور کے مقام سے بات کرنے لگے۔ موبائل ٹیلی فون کی دریافت سے پہلے یہ ناقابل تصور تھا کہ کوئی شخص چلتی ہوئی ٹرین میں دور سے بات کرے۔ ہے کہ کمیونی کیشن خدا کی ایک عجیب نعمت ہے۔ اس نعمت کو لاکھوں لوگ استعمال کر رہے ہیں مگر میں
نے اب تک کسی کو نہیں پایا جو اس انوکھی نعمت پر شکر کے جذبے سے سرشار ہو۔
ٹرین میں ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاءقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی کتاب گیتا نجلی کا ذکر کیا۔ میں نے ٹیگور اور گیتا نجلی کے بارے میں کچھ اظہار خیال کیا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ تم کیا بات کر رہے ہو۔ یہ تو خود رابندر ناتھ ٹیگور ہیں : He himself is like Rabinder Nath Tagore. میں نے پایا کہ ہندو لوگوں میں اعتراف کا مادہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ میرا ذاتی غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو لوگوں میں خدا اندر (indwelling God) کا تصور ہے۔ اپنے عقیدہ کے مطابق ، ہر انسان کو خدا کا آنش سمجھتے ہیں۔ گویا وہ پہلے ہی سے ہر انسان کے اعتراف میں اس لیے جب بھی کسی انسان سے ان کا سابقہ پڑتا ہے تو اس کا اعتراف کرنے میں ان کے لیے کوئی مانع نہیں ہوتا، وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی دیوتا کے آگے جھکنا۔ حیدر آباد کے اردو روز نامہ منصف (۳ ستمبر ۲۰۰۲) میں لکھنؤ کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک اس رپورٹ کا عنوان یہ تھا: عصری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے شریعت کی تشریح وقت کا اہم تقاضا ۔ اس رپورٹ کا ابتدائی حصہ یہ تھا: ’’اسلامی شریعت مکمل ہو چکی ہے، اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی گنجائش نہیں، البتہ زمانہ کے اسلوب اور مزاج کے مطابق اس کی تشریح کی گنجائش ہے اور یہ علماء کا فریضہ ہے کہ شریعت کے مسلمہ اصول و ضوابط سے ہر دور کے نئے مسائل کا حل پیش کریں اور امت کے لیے آسانی پیدا کریں۔ ‘‘ المعهد العالی الاسلامی، حیدر آباد کے ریسرچ اسکالر مولانا منور سلطان ندوی کی کتاب ’’ندوة العلماء کا فقہی مزاج اور ابناء ندوۃ کی فقہی خدمات‘‘ کے رسم اجراء کی تقریب کے موقع پر صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ناظم ندوة العلماء لکھنؤ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
مذکورہ تقریر میں ایک طرف یہ کہا گیا کہ اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے۔ اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ دوسری طرف اسی تقریر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ البتہ زمانی تقاضوں کے
مطابق، اس میں تشریح (واجتہاد) کی گنجائش ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ شریعت مذکورہ معنوں میں مکمل ہے تو پھر اس میں کسی نئی چیز کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اور اگر اس میں نئی چیز کی گنجائش باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مکمل نہیں۔
یہ بظاہر تضاد ایک غلط تقسیم (wrong dichotomy) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مکمل شریعت اور ناقص شریعت کا نہیں ہے بلکہ وہ بنیادی شریعت اور تفصیلی شریعت کا معاملہ ہے۔ اصولی تعلیمات کے لحاظ سے شریعت بلا شبہ مکمل ہے مگر قوانین کی فہرست کے اعتبار سے شریعت نہ تو "مکمل" ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ لوگوں نے یہ غلط مفروضہ قائم کر لیا ہے کہ شریعت اصول کے علاوہ احکام و قوانین کے اعتبار سے بھی پوری طرح مکمل ہے۔ اس لیے ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس میں اجتہاد یا قانونی اضافہ یا تبدیلی کیسے کی جائے۔ حالاں کہ خود یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔
ٹرین ۳ ستمبر کی شام کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہو کر ناندیڑ پہنچی۔ مسٹر اے کے پانڈے ریلوے میں انجن کے میکینک ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ٹرین لیٹ ہونے کا سبب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ منماڈ سے ناندیڑ تک ایک ہی پٹری ہے جس پر تمام گاڑیاں چلتی ہیں۔ ہر گاڑی کے آگے اور پیچھے کئی گاڑیاں اگر کسی ایک گاڑی کے ساتھ کوئی پرابلم ہو اور اس کو کسی اسٹیشن پر رو کنا پڑے تو اس کا اثر تمام گاڑیوں پر پڑتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ تمام پٹریوں کو ڈبل کر دیا جائے۔ انڈیا میں جن لائنوں پر تو ڈبل پٹریاں بنائی گئی ہیں مگر دوسری لائنوں پر ابھی ایسا نہیں ہوا۔ ہماری منزل ناندیڑ تھی مگر ابھی ٹرین پربھنی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تھی کہ الرسالہ کے لوگوں کی آمد شروع ہو گئی۔ پر بھنی سے کئی لوگ اس ٹرین میں مجھ سے ملنے کے لیے سوار ہوئے۔ ہمارے ڈبہ کے ٹکٹ کلکٹر ایک مسلمان تھے جن کا نام حمید الدین تھا۔ میں ان کو نہیں جان سکا تھا مگر انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ جو لوگ پر بھنی میں سوار ہونے ان کو میرے پاس پہنچانے میں انہوں نے مدد کی ۔ اس طرح ٹرین کے اندر ہی الرسالہ کے قاریوں کی مجلس شروع ہوگئی۔
یہ سب الرسالہ کے قاری تھے۔ ان سے ٹرین کے اندر تقریباً ایک گھنٹہ تک گفتگو کا سلسلہ جاری
ایک بات میں نے یہ کہی کہ خدا کے نزدیک سب سے بری چیز منافقت ہے۔ قرآن میں ہے: ان المنافقین فی الدرك الاسفل من النار۔ منافقت در حقیقت دو عملی (duplicity) کا نام ہے۔ کو ہمیشہ اپنے کانشنس (ضمیر) کے مطابق جینا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں ضمیر کی حفاظت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ۱۹۶۲ میں میں نے جماعت اسلامی صرف اسی لیے مجھ کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تعبیر دین سے اختلاف ہوا۔ اس وقت جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داروں نے مجھ سے کہا کہ آپ کے جو خیالات ہیں انہی خیالات کے ساتھ آپ جماعت اسلامی میں رہیے۔ آپ جماعت اسلامی کو نہ چھوڑیے۔ تاہم میں نے اپنے ضمیر کی آواز کو اہمیت دی اور جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی۔
میں نے کہا کہ اس طرح کے مواقع میری زندگی میں بار بار پیش آئے ہیں۔ پچھلے سالوں میں مجھے نئی دہلی کی حکومت کی طرف سے گورنر کے عہدے کی پیش کش کی گئی مگر میں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اسی طرح مجھے راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کر دیا گیا اور اخباروں میں باقاعدہ اس کا اعلان بھی آگیا۔ نے اس کو بھی قبول نہیں کیا۔ حالاں کہ لوگ کروڑوں روپیہ کا عطیہ دے کر راجیہ سبھا کے ممبر بنتے ہیں جب کہ میں نے اشارۃً بھی اس کی خواہش نہیں کی۔ ایسا میں نے صرف اس لیے کیا کہ کسی بڑے سرکاری عہدہ کی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ہمیشہ ضمیر کی آواز کو دبانا پڑتا ہے۔ مسٹر عبدالرحمن چاؤش نے کہا کہ میں نے یہ بات اخبار میں پڑھی ہے۔ انہوں نے ایک ہندی پرچہ کا حوالہ دیا جس میں یہ بات چھپی ہے کہ میں نے گورنری اور راجیہ سبھا کی ممبری دونوں کو لینے سے انکار کر دیا، جب کہ یہ عہدے مجھے میری درخواست یا خواہش کے بغیر دیے جا رہے تھے۔ نے بعد کو مجھے دو ہندی پرچوں کی فوٹو کاپی بھیجی جن میں میرے بارہ میں یہ بات چھپی ہوئی تھی۔ پرچے یہ ہیں: لوک مت سماچار، ۸ ستمبر ۲۰۰۲۔ آؤٹ لک، ۱۰ مئی ۲۰۰۲۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ تبلیغی جماعت کے مخالف میں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ میں تبلیغی جماعت کو پسند کرتا ہوں اور اس کی تائید میں بار بار لکھ چکا
البتہ مجھے ایک چیز سے اتفاق نہیں۔ تبلیغی جماعت والے اپنے کام کو دعوت کہتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کا کام دعوت نہیں ہے بلکہ وہ اصلاح امت کا کام ہے۔ دعوت وہ کام ہے جو عام انسانیت کے لیے کیا جائے۔ تبلیغی جماعت میں اکرام مسلم اور امت پنا کا اصول ہے۔ یہ اصول اصلاح امت کے کام سے مطابقت رکھتا ہے۔ دعوت کا کام اکرام انسان اور انسانیت پنا جیسے آفاقی اصول کا تقاضا کرتا ہے جو کہ تبلیغی جماعت میں موجود نہیں۔
مجلس میں ایک صاحب تھے۔ انہوں نے اپنے کو الرسالہ کا قاری بتایا مگر وہ بات کو کاٹ کر درمیان میں بار بار سوال کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک آپ الرسالہ کے قاری نہیں ہیں۔ زیادہ سوال کرنا الرسالہ کے مزاج کے خلاف ہے۔ الرسالہ کا مقصد ذہن بنانا ہے۔ جو لوگ الرسالہ کو گہرائی کے ساتھ پڑھیں ان کا ذہن اس طرح تیار ہو جاتا ہے کہ وہ خود ہی سوالات کا جواب پالیتے وہ سوال کرنے سے زیادہ سوچنے کے عادی بن جاتے ہیں۔ سوال کرنا بات کو ہضم کئے بغیر بولنا اگر آپ بات کو ہضم کرنا سیکھ لیں تو آپ کا ذہن خود ہر سوال کا جواب پالے گا۔ ناندیڑ کے ریلوے اسٹیشن پر گاڑی رکی تو بہت سے لوگ پلیٹ فارم پر ملنے کے لیے موجود یہ تمام لوگ الرسالہ کے قاری تھے۔ ان میں سے کئی لوگ گلدستہ یا پھولوں کا ہار لے کر وہاں پہنچے میں نے سب کو منع کر دیا اور سلام ومصافحہ پر اکتفا کیا۔ ریلوے اسٹیشن سے قافلہ کی صورت میں روانہ ہو کر ہم لوگ مسٹر عبد الرحمن چاؤش کے مکان پر پہنچے۔ ناندیڑ میں میرا قیام انہی کے گھر پر تھا۔ یہاں دوبارہ لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ان لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان میں ہندو بھی تھے اور بات شروع کرنے سے پہلے میں نے ہر ایک سے کہا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ میں نے کہا کہ خلیفہ دوم عمر فاروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کان يتعلم من كل احد (وہ ہر ایک سے کچھ سیکھتے تھے)۔ اس سیکھنے کا طریقہ یہی تھا کہ وہ لوگوں سے ان کے اپنے تجربات پوچھتے تھے اور اس کے ذریعہ اپنی معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔ میں نے بھی اپنی زندگی میں اسی اصول کو اختیار کیا ہے۔ جب بھی میری ملاقات کسی شخص سے ہوتی ہے تو سب سے پہلے میں اس سے
یہی کہتا ہوں کہ اپنے کچھ تجربات بتائیے۔
حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ لڑنے بھڑنے کا طریقہ کبھی مفید نہیں ہوتا۔ مثال ہے جب کہ لڑائی سے ایک نتیجہ نکلا اور وہ بنگلہ دیش کا بننا ہے۔ میں نے کہا کہ نتیجہ سے مراد مثبت نتیجہ (positive result) ہے۔ بنگلہ دیش کی لڑائی سے بنگلہ دیش تو بن گیا مگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ مثبت رزلٹ یہ تھا کہ شیخ مجیب الرحمن کے دعوی کے مطابق، بنگلہ دیش سونار بنگلہ (Golden Bangla) بنتا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، نتیجہ برعکس صورت میں سامنے آیا۔ شیخ مجیب الرحمن اس کے بانی تھے۔ ان کا نعرہ تھا: سونار بنگلہ (گولڈن بنگلہ دیش)۔ مگر عملاً جو بنگلہ دیش بنا وہ کرپٹ بنگلہ دیش تھا۔ مختلف مقامی اسباب کی بنا پر بنگلہ دیش کے لوگوں کی معاشیات کا گہرا تعلق کلکتہ اور مغربی بنگال سے تھا۔ مگر بنگلہ دیش بننے کے نتیجہ میں وہاں کے لوگ اس سے کٹ گئے اور غربت ان کا مقدر بن گئی۔ میں نے کہا کہ کسی بھی اقدام کی صحت کو جانچنے کا معیار صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس اقدام سے کوئی مثبت رزلٹ نکلا یا نہیں۔
ناندیڑ کا علاقہ ۱۹۴۷ سے پہلے حیدرآباد اسٹیٹ کا ایک حصہ تھا۔ یہاں آزاد حیدرآباد کی تحریک چلائی گئی ۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ تحریک پوری طرح ناکام رہی۔ یہاں تک کہ اس کے لیڈر مسٹر قاسم رضوی بھاگ کر پاکستان چلے گئے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ناندیڑ کی جو اقتصادی حالت تھی اس کے مقابلہ میں آج وہ بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ آزاد حیدر آباد جیسی تحریک چلانا صرف ایک دیوانگی کا فعل تھا نہ کہ فرزانگی کا فعل۔
ایک صاحب نے کہا کہ مومن کے صبح وشام کس طرح گزرنے چاہئیں ۔ میں نے کہا کہ حدیث میں اس کا جواب موجود ہے۔ ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان صحابی سے کہا: يا بنى ان تستطيع ان تصبح و تمسی و ليس في قلبك غش لاحد (اگر تم ایسا کر سکو کہ تم صبح اور شام اس طرح کرو کہ تمہارے دل میں کسی کے خلاف بغض نہ ہو تو ضرور تم ایسا کرو) میں نے کہا کہ ایک شخص کے دل میں کسی کے خلاف بغض اور نفرت کب پیدا ہوتا
یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کوئی ناراضگی کی بات پیش آجائے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ چاہے تم کو کسی کے خلاف ناراضگی کیوں نہ ہو تم اس کے معاملہ میں اپنے آپ کو منفی نفسیات کا شکار ہونے سے بچاؤ ۔ تم ہر حال میں مثبت نفسیات کے ساتھ جیو ۔
ناندیڑ کی آبادی تقریباً ۵ لاکھ ہے۔ اس میں ۳۵ فیصد مسلمان ہیں۔ کچھ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ مشترک آبادی میں رہتے ہیں اور زیادہ مسلمان الگ پاکٹ کی صورت میں رہتے ہیں۔ دیکھا کہ جو مسلمان علیحدہ پاکٹ کی صورت میں رہ رہے ہیں وہ زیادہ ترقی نہیں کر سکے۔ لیکن جو لوگ ہندوؤں کے ساتھ مشترک آبادی میں رہتے ہیں انہوں نے مقابلہ زیادہ ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹریکشن اور مل جل کر رہنے میں بہت زیادہ فائدے ہیں۔ تمام فکری اور عملی ترقیاں اسی سے جڑی ہوئی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ فطرت کے اس راز کو موجودہ زمانہ کے کسی بھی مسلم رہنما نے نہیں سمجھا۔ پاکستان، فلسطین، بنگلہ دیش، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، اراکان، وغیرہ سب اسی بے دانشی کی مثالیں ہیں۔
مسلمانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کہ ۱۹۷۴ سے ۱۹۳ سے پہلے میں ناندیڑ نہیں آیا تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ایک بار ٹرین میں سفر کرتے ہوئے میں اس علاقہ سے گزرا تھا۔ اس وقت ناندیڑ نظام اسٹیٹ کا حصہ تھا۔ اب وہ آزاد ہندوستان کا حصہ ہے۔ اس مشاہدہ میں میں نے جو اندازہ کیا تھا اس کے مطابق آج کا ناندیڑ پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ اس ترقی میں ہند واور مسلمان دونوں کو برابر کا حصہ ملا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں میں عبدالرحمن صاحب کے گھر پر ٹھہرا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ۱۹۴۷ میں آپ کے خاندان کی اقتصادی حالت کیا تھی اور آج کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ہم اللہ کے فضل سے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی تقریبا تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ایسی حالت میں یہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر کریں نہ کہ قدیم نظام اسٹیٹ کو یاد کر کے آہ بھرتے رہیں ۔
ناندیڑ میں شنا ہائیر سیکنڈری اسکول کا آغاز ۱۹۹۲ میں ہوا تھا۔ وہ یہاں کا ٹاپ کا اسکول سمجھا جاتا
۴ ستمبر ۲۰۰۳ کو ۱۱ بجے یہاں ایک جلسہ ہوا۔ اس میں طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ شہر کے لوگوں کی بھی قابلِ لحاظ تعداد شریک ہوئی۔ یہاں مجھے خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ خطاب اور سوال و جواب تقریباً ۲ گھنٹہ تک جاری رہا۔ میں نے تفصیل کے ساتھ تعلیم کی اہمیت بتائی۔ میں نے بتایا کہ تعلیم صرف سروس کے لیے نہیں ہوتی بلکہ وہ تعمیر شعور کے لیے ہوتی ہے۔ تعلیم آدمی کے اندر فکر صحیح پیدا کرتی ہے اور فکر صحیح والا آدمی ہی معاملات میں صحیح فیصلہ لے سکتا ہے۔
میں نے حضرت علی کا ایک قول سنایا: قیمۃ المرء ما یحسنہ (یعنی آدمی کی قدر و قیمت اس کے امتیازی عمل میں ہے (The value of a person lies in excellence)
میں نے کہا کہ اس قول کی روشنی میں میں آپ کو زندگی کی کامیابی کا ایک سادہ فارمولا دیتا آپ اس کو اختیار کر لیں تو آپ زندگی میں کبھی ناکام نہ رہیں گے۔ وہ فارمولا یہ ہے کہ: بہتر کرو اور بہتر پاؤ (Do your best and find the best)
تقریر کے بعد کثرت سے سوالات کئے گئے۔ یہ سوالات زیادہ تر طلبہ کی طرف سے کئے گئے عجیب بات ہے کہ تمام سوالات سنجیدہ سوالات تھے۔ میرے جواب کے بعد کسی نے بھی کر اس کو نشچن نہیں کیا۔ جلسہ گاہ میں کافی لوگ موجود تھے مگر پوری کارروائی نہایت پر سکون طور پر ہوئی ۔ مسٹر عبدالرحمن چاؤش نے سوال کیا کہ دعوت الی اللہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ۔ میں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فرض عین اور فرض کفایہ کی اصطلاح قرآن وحدیث میں نہیں ہے۔ اصطلاح بعد کو فقہ میں وضع ہوئی ہے۔ تاہم جہاں تک دعوت الی اللہ کا تعلق ہے، میرے نزدیک وہ اس تقسیم کے دائرہ میں نہیں آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہر حال میں فرض ہے۔ وہ کسی بھی حال میں اور کسی بھی شخص سے ساقط نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ مسائل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک غیر استمراری مسئلہ اور دوسرا استمراری مسئلہ۔ فرض کفایہ کا اصول غیر استمراری مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے۔ استمراری مسئلہ میں فرض علی الکفایہ کا اصول قابلِ انطباق نہیں۔ اور دعوت الی اللہ کا کام اسی استمراری نوعیت سے تعلق رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک بستی میں کنواں نہیں ہے۔ لوگ پیاسے پڑے ہوئے ہیں اور سخت
ضرورت ہے کہ وہاں کنواں کھودا جائے۔ اب اگر کچھ لوگ کنواں کھود کر پانی کا انتظام کردیں تو انہوں نے گویا سب کی طرف سے فرض کفایہ ادا کردیا۔ اب اس کا فریضہ دوسروں کے اوپر نہیں رہے گا۔ طرح اگر بستی میں ایک مسلمان کی موت آجائے اور اس کا مردہ جسم لاوارث پڑا ہوا ہو تو اس کی تجہیز و تکفین اس وقت تک ساری بستی پر فرض رہے گی جب تک کہ وہ عملاً نہ ہو جائے۔ لیکن اگر کچھ لوگ اس کی تجہیز و تکفین کردیں تو گویا انہوں نے دوسروں کی طرف سے ان کا فرض ادا کردیا۔ اب دوسروں کے اوپر سے اس کی ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔ مگر دعوت الی اللہ کا کام ایک استمراری نوعیت کا کام ہے۔ دعوت کا تعلق انسانوں سے ہے اور انسان ہر روز مرتے ہیں اور ہر روز نئے پیدا ہوتے ہیں۔ دعوت کی ضرورت ہر جگہ اور ہر وقت جاری رہے گی۔ اس کا تعلق کسی محدود وقت سے نہیں ہے کہ اس محدود وقت میں اس کام کو کر دیا جائے تو اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
جلسہ کے بعد طلبہ اور طالبات کی طرف سے جو سوالات کئے گئے ان کی کل تعداد ۴۲ تھی۔ میں نے ہر سوال کا جواب دیا۔ یہاں کچھ منتخب سوالات اور ان کے جوابات درج کئے جاتے ہیں: سوال: اسلام میں دینی علم و دنیاوی علم میں تفریق ہے کہ نہیں۔ علم نافع اور علم غیر نافع میں کیا فرق ہے۔ جواب: دینی علم اور دنیاوی علم میں فرق نیت کے اعتبار سے ہے نہ کہ خود علم کے اعتبار سے۔ ہر علم ایک جائز علم ہے بشرطیکہ اس کو صحیح مقصد کے لیے حاصل کیا جائے۔ اسی طرح علم کا نافع ہونا یا غیر نافع ہونا خود علم کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اس کے استعمال کے اعتبار سے ہے۔ استعمال کسی علم کو نافع بناتا ہے اور غلط استعمال اس کو غیر نافع بنا دیتا ہے۔ سوال: ایسا کہا جاتا ہے کہ ہر انسان کی ترقی کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آپ کی ترقی کے پیچھے کس کا
جواب: میرے لیے یا میرے مشن کے لیے ترقی کا لفظ کوئی درست لفظ نہیں۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ خدا کی ایک بے حد خصوصی مدد تھی کہ مجھے افکار کے جنگل میں صحیح فکر کی دریافت ہوئی اور پھر یہ بھی خدا کی خصوصی مدد تھی کہ انتہائی غیر موافق حالات میں مجھے یہ ہمت ہوئی کہ میں
بے آمیز سچائی کے لیے کھڑا ہوں اور غیر مصالحتی انداز میں اس کے لیے کام کروں۔ بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک باب ہے۔
سوال: اکثر کہا جاتا ہے کہ ماں باپ کی فرماں برداری کرو۔ اگر ماں باپ نے تعلیم حاصل کرنے سے منع کر دیا تو یہ سننا ضروری ہے یا نہیں۔
جواب: قرآن میں ہے کہ ماں باپ اگر توحید سے روکیں تو تم ان کی بات نہ مانو۔ میں سمجھتا ہوں کہ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے علم بھی اس میں شامل ہے۔ کیوں کہ علم کے بغیر آدمی خدا کی سچی معرفت حاصل نہیں کر سکتا۔ ایک فارسی شاعر نے درست طور پر کہا ہے: