کہ بے علم نتواں خدا را شناخت
Al-Risala, March 2005, pp. 18–22
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال: اعلیٰ تعلیم کا مطلب موجودہ دور میں صرف ڈاکٹر اور انجینئر بننا ہی کیوں سمجھا جاتا ہے۔ جواب: تعلیم کو اگر پروفیشنل تعلیم کے معنی میں لیا جائے تو یہ خیال درست ہوگا۔ مگر میرے نزدیک اعلیٰ تعلیم اعلیٰ شعور ہے۔ میرے نزدیک اعلیٰ تعلیم یافتہ وہ ہے جس کو اس کی تعلیم نے اعلیٰ شعور تعلیم کے بارے میں اس قسم کی سوچ کا سبب یہ ہے کہ لوگ تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ کے فرق کو نہیں سمجھتے۔
سوال: آپ اپنی زندگی کا کوئی ایسا یادگار واقعہ بتائیے جس سے طالب علم کوئی نصیحت حاصل کر سکے۔ جواب: غالباً ۱۹۲۰ میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جو میری پوری زندگی کے لیے ایک رہنما واقعہ یہ واقعہ میں نے اپنی کتاب دین وشریعت (صفحہ ۱۴۰۔ ۱۴۱) میں درج کیا ہے۔ طرح اپنی زندگی کے ابتدائی دور ہی میں میرے اندر وہ چیز پیدا ہوگئی جس کو روح تجسس (spirit of inquiry) کہا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ روح تجسس کی حیثیت علمی ترقی میں بہت بنیادی ہے۔ چنانچہ میری بعد کی زندگی میں اس واقعہ کا دخل بہت زیادہ ہے۔ سوال: کیا یہ فتویٰ صحیح ہے کہ اگر کوئی مسجد ہے تو قیامت تک وہ مسجد ہی رہے گی۔ اگر یہ صحیح ہے تو آپ نے یہ کیوں کہا کہ مسلمانوں کو بابری مسجد سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔
جواب: میں نے مسجد سے دست برداری کی بات نہیں کہی تھی بلکہ مسجد کے اشو پر احتجاجی سیاست کو چھوڑنے کی بات کہی تھی۔ جہاں تک علماء کے فتوئی کا تعلق ہے وہ بجائے خود درست ہے۔ بھی درست ہے کہ ہر کلیہ کا ایک استثناء ہونا ہے۔ فقہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ : تتغیر الأحكام بتغير الزمان والمكان ، اور یہ کہ الضرورات تبيح المحظورات اس بنا پر میری رائے ہے کہ اگر ضرورت شدید پیش آجائے تو مسجد کے مقام کی تبدیلی (relocation) جائز عرب ملکوں میں سینکڑوں مسجدوں کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے۔
سوال: آپ کے تعلیم حاصل کرنے میں والدین کا کیا کردار تھا۔
جواب: میرے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا جب کہ میری عمر صرف پانچ سال تھی۔ البتہ میری تعلیم میں میرے چچا صوفی عبدالحمید کا بہت بڑا حصہ ہے۔ میرے خاندان میں انگریزی تعلیم کا خاندانی ماحول کے اعتبار سے غالباً میں کسی اسکول میں داخل کر دیا جاتا اور پھر میری زندگی کا رخ بالکل دوسرا ہوتا۔ مگر میرے چچا صوفی عبد الحمید صاحب نے دینی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنے ذاتی خرچ پر مجھے مدرسہ میں داخل کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اعتبار سے میری زندگی میں صوفی عبدالحمید خاں مرحوم کا بہت بڑا حصہ ہے۔
سوال: معلوماتی فلم دیکھنا کیا اسلام میں جائز ہے۔
جواب: میرے نزدیک معلوماتی فلم کو دیکھنا جائز ہے۔ اسلام میں سب سے بڑی نا جائز بات یہ ہے کہ ہر بات کو جائز اور نا جائز کا مسئلہ بنایا جائے۔ اس معاملہ میں فقہ کا یہ اصول ایک مستقل رہنما کی حیثیت رکھتا ہے کہ: الأصل فى الأشياء الإباحة ۔ چیزوں میں اصل ان کا جائز ہوتا یعنی جس چیز کو قرآن وحدیث میں نا جائز نہ بتایا گیا ہو وہ اصولا جائز قرار پائے گی ۔ سوال: ایک پختہ انسان کے لیے کون سی صفات درکار ہیں۔
جواب: میرے تجربہ کے مطابق، پختگی (maturity) کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ مثلاً یہ فرق کہ کسی مقصد کو نظریاتی طور پر بیان کرنا ہو تو
آئیڈیلیزم کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ لیکن جب کسی مقصد کے لیے اقدام کرنا ہو تو عملی صورت حال (practical situation) کو دیکھنا پڑتا ہے۔ یعنی نظری وضاحت کے وقت آدمی آئیڈیل ہو سکتا ہے مگر عملی کارروائی کے وقت اس کو پریکٹیکل بننا پڑتا ہے۔ سوال: ۱۱ ستمبر کے بعد ہر جگہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ گجرات میں جو کچھ ہوا اور کچھ دن پہلے مساجد میں بم بلاسٹ ہوئے ہیں۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے۔
جواب: ۱۱ ستمبر کو نیو یارک میں تشدد کا جو بھیانک واقعہ ہوا اس کو ثابت شدہ طور پر مسلمانوں نے کیا تھا۔ ایک حالیہ ٹیپ کے مطابق، اسامہ بن لادن نے خود یہ کہا ہے کہ لبنان کی تباہ شدہ مسلم عمارتوں کو دیکھ کر ان کے ذہن میں یہ انتقامی جذبہ آیا کہ نیو یارک ورلڈ ٹاور کو تباہ کیا جائے۔ لیکن یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ساری مسلم دنیا میں واحد مسلمان تھا جو اس غیر اسلامی فعل پر تڑپا اور اس کی مذمت کی۔ غالباً مسلم دنیا میں کوئی ایک شخص نہ تھا جو کھلے الفاظ میں اس غیر اسلامی فعل کو یہ صحیح ہے کہ دوسری قوموں کے لوگ بھی تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں مگر دوسروں کا تشدد مسلمانوں کو یہ جواز فراہم نہیں کرتا کہ وہ بھی تشدد کرنے لگیں۔ سوال: ”علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے“ کیا یہ حدیث صحیح ہے۔ اگر صحیح ہے تو کون سے علم کے بارے میں ہے۔ کیوں کہ دینی علم کے سر چشمہ خود اللہ کے رسول تو یثرب میں موجود تھے۔ جواب: قول رسول کے اعتبار سے یہ جملہ زیادہ مستند نہیں ہے۔ مگر قول فطرت کے اعتبار سے وہ بالکل اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا تقاضا ہے کہ علم جہاں بھی ملے اس کو حاصل اسی طرح فطرت کا تقاضا ہے کہ علم دین کے ساتھ علم دنیا کو بھی پوری توجہ کے ساتھ حاصل کیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تھے اس زمانہ میں آپ نے علم حرب سیکھنے کے لیے دو صحابی کو شام کی طرف بھیجا تھا۔
سوال: موت کا ایک دن مقرر ہے اور موت وقت سے پہلے واقع نہیں ہوتی۔ جس کی موت جیسی لکھی گئی ہے ویسی ہی ہوتی ہے۔ پھر جب کسی کی موت قتل سے ہوتی ہے تو قاتل کو سزا کیوں ہوتی
ہے جبکہ اس کی موت قتل سے لکھی گئی تھی۔ اور اگر کوئی خودکشی کرلیتا ہے اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو اسے سزا کیوں ہے۔ حالاں کہ اس کی موت خود کشی سے ہی ہوئی تھی۔ جواب: اسلام میں اعمال کا دار ومدار نیت (intention) پر ہے۔ قاتل کو سزا کسی کی موت پر نہیں دی جاتی بلکہ اس پر دی جاتی ہے کہ اس نے کسی کو مارڈالنا چاہا اور اپنے شعوری ارادہ کے تحت اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اسی طرح خود کشی میں اصل جرم کسی کا مر جانا نہیں ہے بلکہ اصل جرم یہ ہے کہ ایک شخص خدا کی رحمت سے اتنا زیادہ مایوس ہوا کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر دینے کا ارادہ دونوں حالتوں میں شرعی حکم کا تعلق داخلی نیت پر ہے نہ کہ کسی خارجی واقعہ پر۔ سوال: پڑھائی کہاں ختم ہوتی ہے۔
جواب: اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پڑھائی کہیں ختم نہیں ہوتی۔ علم کی دنیا لامحدود ہے، اس لیے علم کا سفر بھی لامحدود رہے گا۔ اسی کو ایک عربی مقولہ میں کہا گیا ہے کہ بچپن سے لے کر موت تک علم حاصل کرو (اطلبوا العلم من المهد الی اللحد)
سوال: آپ نے اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاست میں حصہ کیوں نہیں لیا۔ جواب: ہندوستان جیسے ملک میں عمل کا آغاز الیکشن سیاست نہیں ہے بلکہ ذہن اور کردار کی تعمیر ہے۔ موجودہ حالت میں عملی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں۔ انڈیا میں مہاتما گاندھی نے اور پاکستان میں محمد علی جناح نے عملی سیاست کو نقطہ آغاز سمجھا۔ دونوں نے ہنگامہ خیز سیاست چلائی مگر مثبت نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کی تحریکیں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شخص کو دوبارہ اس غلطی کا تجربہ کرنا چاہیے۔
سوال: مولا نا صاحب! آپ نے جو اتنی کامیابی پائی ہے۔ آپ پڑھائی کس طرح کیا کرتے تھے۔ جواب: پڑھائی کا کوئی لگابندھا طریقہ نہیں۔ اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آپ پڑھنا شروع کردیں اور ہر دوسرے تقاضے کو ثانی حیثیت دے کر بس پڑھتے ہی رہیں۔ ایک اسکالر کے الفاظ میں، پڑھنے کے تین اصول ہیں، پڑھنا، پڑھنا، اور آخر میں پھر پڑھنا۔
سوال: ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمیشہ اندھیرے میں بیٹھتے ہیں ، کیوں۔
جواب: میرا اصول یہ ہے کہ رات کے وقت اگر مجھ کو پڑھنا ہو تو میں اپنے کمرہ کی روشنی جلاتا ہوں اور اگر پڑھنا نہ ہو تو میں روشنی پسند نہیں کرتا ۔ کیوں کہ غور وفکر یا عبادت کے وقت روشنی ایک قسم کے خلل (distraction) کی حیثیت رکھتی ہے۔
سوال: موجودہ دور میں جو مسلمانوں پر مظالم ہورہے ہیں اس سلسلہ میں طالب علموں کو کیا کرنا چاہئے۔ جواب: اس معاملہ میں طالب علم اور عالم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ہر ایک کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ دعا کرے اور اس کے بعد دونوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملہ کو قرآن کی روشنی میں سمجھیں ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے ، میں نے پایا ہے کہ قرآن کے مطابق ، یہ مظالم کسی غیر کا ظلم نہیں بلکہ وہ خود مسلمانوں کی اپنی نادانیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے اس معاملہ میں اصل کام اپنی نادانی کو ختم کرنا ہے نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنا۔
۴ ستمبر کی شام کو دواردو اخباروں کے نمائندوں نے مشترک طور پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ نواب (رہنمائے دکن ذیلی) اور محمد تقی (ورق تازہ) ان لوگوں کے سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں تیزی سے ایک تبدیلی آرہی اس تبدیلی کو کوئی نام دینا ہو تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ جذباتی انداز فکر سے ہٹ کر تعمیری طرزِ فکر پیدا ہونا۔ اس تبدیلی کی ایک مثال یہ ہے کہ گنیش چترتھی کے ہندو جلوس پر مسلمان پہلے بھڑکتے تھے اور اس کے روٹ بدلنے پر اصرار کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں ہر سال فساد ہوتا تھا۔ اب چند سال سے ایسا ہورہا ہے کہ مسلمان گنیش چترتھی کے جلوس پر نہیں بھڑکتے۔ حتیٰ کہ وہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ اب اس سوال پر ہندو۔ مسلم جھگڑا بھی ختم ہوگیا ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (پونہ ایڈیشن) کا شمارہ ۳ ستمبر ۲۰۰۳ میں ایک رپورٹ ملیشیا کے انور ابراہیم کے بارے میں تھی۔ اس کا عنوان یہ تھا: