Malaysia's Anwar is a free man after six years.
Al-Risala, March 2005, pp. 23–47
By Maulana Wahiduddin Khan
انور ابراہیم سے میری ملاقات ملایشیا کے سفر (جولائی ۱۹۸۳) میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہ ملایشیا میں ڈپٹی پرائم منسٹر تھے۔ پھر وہ پرائم منسٹر مہاتیر محمد کے حریف بن گئے اور ان پر کھلی تنقید کرنے لگے۔ کے بعد انہیں جیل میں بند کر دیا گیا۔ جیل کے اندر ان پر اتنی زیادہ سختیاں ہوئیں کہ اس کے بعد وہ وہیل چہر پر رہنے لگے۔ اب جب کہ وہ حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھے تو انہیں رہا کر دیا گیا: Anwar, broken and beaten, confined to a wheel chair and constrained by a neckbrace, probably isn't a political threat anymore to the ruling United Malay Nationalist Organisation, which has ruled Malaysia since it became independent (p. 9)
میرے نزدیک اس معاملہ میں مہاتیر محمد کا کیس اگر ظلم کا کیس ہے تو انور ابراہیم کا کیس نادانی کا کیس۔ اورنگ آباد کا انگریزی اخبار لوک مت ٹائمس کا شمارہ ۴ ستمبر ۴۰۰۴ میں ایک رپورٹ گرو گرنتھ صاحب کے بارے میں تھی۔ یہ گرنتھ ۲۰۰ سال پہلے مرتب کیا گیا تھا۔ اس میں ۳۰ لوگوں کے کلام ہیں جن میں ۷ مسلمان ہیں۔ سکھ عقیدہ کے مطابق، گرو گرنتھ صاحب صرف ایک گرنتھ نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک زندہ گرو کی ہے۔ سکھوں کے آخری اور دسویں گرو، گرو ارجن سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ اب سکھوں میں کوئی گرو نہیں آئے گا۔ یہ گرنتھ ہی ان کے لیے زندہ گرو ہوگا: ان کے الفاظ یہ (Guru Maneo Garanth) تھے ہاتھ سے لکھے ہوئے ایک گرنتھ کو زندہ گرو ماننا بڑا عجیب ہے۔ مگر اس عقیدہ سے سکھ فرقہ کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔ اگر سکھوں میں گرنتھ کو زندہ گرو ماننے کا عقیدہ نہ ہوتا تو ان کی وحدت اور اجتماعیت مشکل ہو جاتی۔ یہاں انگریزی کی ایک ضخیم کتاب دیکھی۔ یہ با تصویر کتاب ۷۳۶ صفحات پر اس کتاب کا نام یہ تھا:
Encyclopaedia of Modern Bodybuilding by Arnold Schawarzenegger جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کتاب میں باڈی بلڈنگ کے طریقے تفصیل کے ساتھ بتائے موجودہ زمانہ میں باڈی بلڈنگ ایک مستقل فن بن گیا ہے۔ اس پر کثیر تعداد میں چھوٹی اور
بڑی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ اس جدید ذہن کے نتیجہ میں یوگا کو نئی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ ساری دنیا میں یوگا کے سنٹر بنے ہوئے ہیں۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ سلام ومصافحہ کے بعد انہوں نے کہا: آپ نے مجھ کو پہچانا کہ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ جملہ آداب ملاقات کے خلاف ہے۔ والے کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہے جس سے دوسرے کو شرمندہ ہونا پڑے۔ آپ کے سوال پر اگر میں یہ کہوں کہ میں نے نہیں پہچانا تو یہ میرے لیے بھی اور آپ کے لیے بھی شرمندگی (embarassing) کی ایک بات ہوگی۔ میرے لیے اس بنا پر کہ میں لوگوں کو یاد نہیں رکھتا۔ آپ کے لیے اس بنا پر کہ گویا آپ اتنے اہم نہیں ہیں کہ کوئی آپ کو یاد رکھے۔ آپ کو چاہیے کہ اس قسم کا جملہ سرے سے نہ بولیں یا خود ہی پوچھے جانے سے پہلے اپنا تعارف بتادیں۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پرانا مثل ہے: سفر نمونہ سقر (سفر جہنم کا نمونہ ہے) میں نے کہا کہ یہ مثل ایک غلط مفروضہ پر قائم ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ سفر یا تو پر راحت ہوگا یا پر مشقت۔ مگر زیادہ صحیح تقسیم یہ ہے کہ اس کو تجربہ کے اعتبار سے لیا جائے۔ سفر کو تجربہ کے معیار سے جانچا جائے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سفر ہر حال میں مفید ہے۔ کیوں کہ سفر میں ایسے تجربات ہوتے ہیں جو گھر پر رہ کر نہیں ہوتے۔ سفر سے اگر آپ کو سبق اور تجربہ ملے تو سفر کامیاب ہے، خواہ آپ کا سفر آرام کے ساتھ طے ہوا ہو یا تکلیف کے ساتھ۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں بہت دنوں سے الرسالہ پڑھتارہا ہوں۔ مگر اب آپ کے الرسالہ میں سفر نامہ اور خبر نامہ بہت زیادہ آنے لگا ہے۔ اس سے میری دلچسپی کم ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی بات وہی لوگ کر سکتے ہیں جو الرسالہ کو تفریح کے لیے پڑھتے ہوں۔ الرسالہ محض ایک ماہنامہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک مشن ہے۔ سفرنامہ اور خبرنامہ مشن کی رفتار کو بتاتے ہیں۔ جولوگ الرسالہ کو ایک مشن سمجھتے ہوں وہ سب سے پہلے سفر نامہ ہی پڑھتے ہیں۔ کیوں کہ اس سے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح یہ مشن پھیل رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ الرسالہ میں اگر خبر نامہ اور سفر نامہ نہ ہو تو وہ صرف عام
قسم کا ایک ماہنامہ بن جائے گا۔ مشن کے اعتبار سے اس کی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ کی ایجنسی چلاتا ہوں۔ پہلے میرے پاس الرسالہ کے ۵۰۰ خریدار تھے اب ان کی تعداد گھٹ کر ۱۵۰ ہوگئی۔ میں نے پوچھا کہ ۵۰۰ کی تعداد میں ایسے لوگ کتنے تھے جو پابندی کے ساتھ وقت پر اس کی قیمت ادا کرتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہی ڈیڑھ سو جو کہ اب باقی ہیں۔ بقیہ لوگ بہت زیادہ دوڑاتے تھے اور مشکل سے اس کی قیمت ادا کرتے تھے۔ نے کہا کہ پھر حقیقی خریدار یہی ڈیڑھ سو ہیں۔ باقی لوگ غیر سنجیدہ تھے۔ پھر اس میں تعجب کی کیا بات۔ دو انگریزی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ میری باتوں کا غیر سنجیدہ انداز میں جواب دے وہ بار بار موضوع سے ہٹ کر بولنے لگتے تھے۔ یہ بات اردو میں ہو رہی تھی۔ پھر میں نے انگریزی میں بولنا شروع کیا۔ میں نے بتایا کہ آرٹ آف تھنکنگ کیا چیز ہے۔ اس کے بعد دونوں کا لہجہ اچانک بدل گیا۔ اکبر الہ آبادی نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ انگریزی اخبار کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں: بات وہ ہے جو پائیر میں چھپے ۔ یہ ذہن آج تک موجود ہے۔ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتے ہیں کہ باوزن بات وہ ہے جو انگریزی زبان میں کہی جائے۔ ایک اجتماع میں ہندو اور مسلم دونوں شریک تھے۔ یہاں مجھے مسلمانوں کی فیملی لائف کے بارے میں آدھ گھنٹہ بولنا تھا۔ مجھ سے پہلے ایک بزرگ عالم نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کچھ حدیثیں سنائیں ۔ ان میں سے ایک حدیث یہ تھی: تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الامم (مشکوة المصابیح ، رقم الحدیث ۳۰۹۱)
یہ حدیث اکثر خطبات میں سنائی جاتی ہے۔ مگر درایت کے نقطہ نظر سے مجھے اس حدیث میں ایک یہ کہ کسی خاتون کے بارے میں پیشگی طور پر یہ جاننا ممکن نہیں کہ وہ زیادہ بچہ پیدا کرنے دوسرے یہ کہ اگر یہ کوئی واقعی اصول ہو تو خود پیغمبر نے نعوذ باللہ اپنے مقرر کئے ہوئے اصول کے خلاف عمل فرمایا۔ کیوں کہ خدیجہ کے سوا آپ کی تمام بیویاں بشمول عائشہ بے اولاد تھیں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں پہلے الرسالہ پڑھتا تھا۔ اس سے مجھے بہت فائدہ تھا۔
میرے گھر کے جھگڑے ختم ہو گئے ۔ میرے بزنس میں ترقی ہوئی ۔ مگر اب میں الرسالہ نہیں پڑھ رہا انہوں نے بتایا کہ کاروبار بڑھنے کے بعد میری مصروفیت بڑھ گئی اور اب پڑھنے کا وقت نہیں میں نے کہا کہ جب آپ کو الرسالہ سے فائدہ ہوا اور اس کے ذریعہ آپ کے معاملات درست ہوئے تو اب آپ کو اس کے شکرانے کے طور پر یہ کرنا چاہیے کہ دوسرے بہت سے لوگ جن کے کام بے اصولی اور بے شعوری کی وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں ان کے نام الرسالہ جاری کروائیں ۔ یہ تو ایک غیر انسانی بات ہے کہ آپ اس کو مفید سمجھنے کے باوجود نہ پڑھیں اور نہ دوسروں کو پڑھوائیں ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک غیر مسلم ہیں جو اسلام کی بہت تعریف کرتے ہیں اور اپنے کو مسلمان بتاتے ہیں ۔ مگر انہوں نے اپنا نام نہیں بدلا ۔ ایسے لوگوں کا انجام آخرت میں کیا ہوگا ۔ نے کہا کہ آپ کو نام نہ بدلنے والوں کی فکر ہے مگر جو لوگ مسلمان جیسا نام رکھے ہوئے ہیں مجھے تو ان کا معاملہ زیادہ مشتبہ نظر آتا ہے ۔ کیوں کہ جس نے نام نہیں بدلا وہ کم از کم منافق نہیں ۔ لیکن جو لوگ مسلم نام رکھ کر اسلام کے خلاف عمل کرتے ہیں ان کا کیس تو منافقت کا کیس ہے ۔ اور قرآن میں آیا ہے کہ ان المنافقین في الدرك الاسفل من النار (النساء، ۱۴۵)
۵ ستمبر کی شام کو ناندیڑ سے نلنگا کے لیے بذریعہ کار روانگی ہوئی ۔ یہ ضلع لاتور کا ایک ٹاؤن میرے نواسے صہیب چاؤش کی یہاں شادی تھی ۔ اس سلسلہ میں نلنگا جانا پڑا ۔ راستہ میں پہلا تجربہ یہ ہوا کہ سڑک کے دونوں طرف ہری بھری دنیا تھی ۔ مگر اس کے درمیان جو سڑک تھی وہ کافی خراب چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر تین گھنٹہ میں طے ہوا ۔ سڑک کے دونوں طرف ہرا بھرا ماحول بتا رہا تھا کہ خدا نے ہندوستان کو اپنی نعمتوں سے نوازنے میں کمی نہیں کی ۔ مگر سڑک کے ہچکولے بتاتے تھے کہ انسانی کرپشن نے اس خوبصورت دنیا کو صرف بدصورت بنانے کا کام کیا ہے ۔
ہماری گاڑی کے ڈرائیور کا نام دیوانند مندے تھا ۔ اس نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں ۔ کہا کہ ایک بار ایک لیڈر ان کی گاڑی پر سفر کر رہے تھے ۔ جب کبھی کوئی گڑھا آتا اور گاڑی کو جھٹکا لگتا تو وہ کہتے : سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ۔
ڈرائیور نے بتایا کہ ایک بار ایک لیڈر ابو عاصم اعظمی میری گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ میں ٹول برج کی چوکی آئی۔ یہاں اسمبلی کے ممبروں کو ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ لیکن چوکی والوں نے نہیں ڈرائیور نے کہا کہ اس پر ابو عاصم اعظمی سفر کر رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہم نہیں جانتے، ابو عاصم اعظمی کون ہیں۔ اس پر ابو عاصم اعظمی باہر آئے۔ انہوں نے چوکی والوں سے کہا کہ کیا تم بال ٹھاکرے کو چوکی والوں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے کہا کہ میں بال ٹھاکرے کا باپ ہوں۔ اس پر چوکی والے گھبرا گئے اور کہا کہ جاؤ، جاؤ۔
راستہ میں ڈرائیور نے چائے پینے کے لیے ایک جگہ گاڑی روکی۔ یہاں ایک ٹوٹی پھوٹی دکان اس پر لکھا ہوا تھا گولڈن ڈھابہ۔ میں نے کہا کہ جب لکھنا ہی تھا تو فائیو اسٹار ڈھابہ لکھ دیا یہ نام ایک علامت تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل لوگ بڑے بڑے نام رکھنا چاہتے ہیں، بڑے بڑے کام کرنے کا شوق ان کے اندر نہیں۔
تقریبا تین گھنٹہ کے سفر کے بعد ہم لوگ تلنگا ٹاؤن پہنچے۔ یہاں میرے قیام کا انتظام گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ یہ ایک ہری بھری دنیا میں بنایا گیا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ ملاقات کے لیے اکٹھا ہو گئے ۔ ہم لوگ گیسٹ ہاؤس کے لان پر بیٹھ گئے اور وہاں دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ گفتگو کے دوران ایک بات میں نے یہ کہی کہ تلنگا (ضلع لاتور) کا ایک حصہ ہے۔ ضلع پہلے نظام اسٹیٹ میں شامل تھا۔ قاسم رضوی کا تعلق اسی علاقہ سے تھا۔ غالبا ابھی بھی ان کا مکان موجود ہے۔ قاسم رضوی نے یہ تحریک چلائی کہ حیدر آباد اسٹیٹ انڈین یونین میں شامل نہ ہو بلکہ اس کو ایک آزاد مسلم اسٹیٹ کی حیثیت دی جائے۔
یہ کوئی نظریہ نہ تھا بلکہ وہ ایک سیاسی رومانیت تھی جو عملاً ممکن ہی نہ تھی۔ مگر حیدر آباد کے تقریباً تمام مسلمان قاسم رضوی کے حامی بن گئے۔ اور جب آزاد حیدر آباد نہ بن سکا تو سارے مسلمانوں نے اس کی ذمہ داری سابق ہوم منسٹر سردار پٹیل پر ڈال دی۔ میرے علم کے مطابق ، اس وقت مسلمانوں میں سے کوئی بھی شخص نہ اٹھا جو یہ کہے کہ آزاد حیدر آباد کا نہ بننا در اصل مسلمانوں کے سیاسی غبارہ کا ٹوٹنا تھا۔
اس کے لیے یہی مقدر تھا کہ وہ ایک دن ٹوٹ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ احتساب خویش کا معاملہ ہے نہ کہ احتجاج غیر کا معاملہ۔
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں بہت زیادہ تکرار ہوتی آپ ایک ہی بات کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسی قسم کے ایک قاری سے میری انہوں نے الرسالہ میں تکرار کی شکایت کی۔ میں نے مثال پوچھی تو وہ کوئی مثال نہ دے پھر میں نے الرسالہ کے ایک سال کے شمارے ان کے سامنے رکھ دیے اور کہا کہ آپ بتائیے کہ اس میں کون سی بات تکرار والی ہے۔ وہ تکرار کی ایک مثال بھی پیش نہ کر سکے۔ اصل یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر اعتراف کا حوصلہ نہیں ہوتا وہ ہمیشہ اس قسم کا شوشہ نکالتے مثلاً الرسالہ ۱۹۷۶ء سے ایک ہی شخص کی تحریروں کے ذریعہ نکل رہا ہے۔ یہ صحافت کی تاریخ میں ایک استثنائی مثال ہے۔ اب جو لوگ اس بات کا اعتراف نہیں کرنا چاہتے وہ بطور خود اپنے ذہن میں ایک مفروضہ قائم کر لیتے ہیں۔ وہ یہ کہ صاحب الرسالہ کے پاس چند باتیں ہیں اسی کو وہ بار بار دہراتے وہ اپنے خیالی مفروضہ کو ایک واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ہمیشہ پائے گئے حتیٰ کہ قرآن کے بارے میں بھی اس قسم کی بات کہنے والے قدیم عرب میں موجود تھے۔ کہا کہ جب بھی کوئی شخص تنقیدی بات کہے تو آپ فورا اس سے مثال پوچھیں۔ اگر وہ اپنے دعویٰ کی کوئی مثال پیش کرے تو اس کے دعویٰ کو درست سمجھیں اور اگر وہ اپنے دعویٰ کے حق میں کوئی مثال پیش نہ کر سکے تو سمجھ لیجیے کہ وہ مریضانہ ذہنیت کا شکار ہے۔ وہ دلیل اور مفروضہ کے فرق کو نہیں سمجھتا۔ تلنگانہ میں میرے نواسے عبد السمیع چاؤش (صہیب) کی شادی ڈاکٹر خورشید صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی۔ نکاح کی تقریب میں بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے جس میں کئی ہندو بھی شامل مہاراشٹر کے سابق چیف منسٹر بھی اس میں شرکت کے لیے بمبئی سے آئے تھے۔ اس موقع پر مجھ سے تقریر کی فرمائش کی گئی۔ میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ تقریر کی جس میں بتایا کہ اسلام کے مطابق، کامیاب زندگی کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اجتماعی زندگی میں، خواہ وہ فیملی کے اندر ہو یا فیملی کے
باہر، ہمیشہ لوگوں کے اندر اختلافات (differences) پیش آتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے بلکہ اختلاف کو منیج (manage) کرنا ہے۔ اس مسئلے کا فارمولہ ایک لفظ میں یہ ہے: Art of difference management. ۵ ستمبر کی شام کونلنگا سے ناندیڑ کے لیے واپسی ہوئی۔ راستہ میں بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ میں نے سوچا کہ بارش کا نظام بھی کیسا عجیب ہے۔ خدا نے پانی کی بہت بڑی مقدار بنائی اور اس کو سمندروں میں ذخیرہ کر دیا جو کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ سمندر کے اس پانی کو فطری طور پر کھاری بنا دیا۔ یہ کھاری پن پانی کو خراب ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ انسان اس کھاری پانی کو کیسے استعمال کرے۔ خدا نے اس مقصد کے لیے پانی کو ہلکا اور نمک کو بھاری بنا دیا۔ چنانچہ جب سمندر کے اوپر سورج کی گرمی پڑتی ہے تو اس گرمی سے پانی بھاپ بن کر اوپر اٹھتا ہے اور اس کا نمک کا حصہ بھاری ہونے کی وجہ سے نیچے رہ جاتا ہے۔ اوپر جا کر بادل کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور مختلف اسباب کے تحت دوبارہ بارش بن کر زمین پر برستا اس فطری نظام کے تحت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کھاری پانی کے بجائے میٹھا پانی انسان کو اپنے استعمال کے لیے ملے۔ شام کو ہم لوگ واپس ہو کر مغرب بعد ناندیڑ پہنچے۔ شام کو یہاں اس وقت کوئی پروگرام میں نے کچھ دیر سفرنامہ لکھوایا اور اس کے بعد عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر سو گیا۔ ۶ ستمبر کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد دوبارہ حسب معمول ملاقات وغیرہ کا پروگرام جاری رہا۔ کے 11 بجے تک میں اپنی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں اخبارات دیکھے اور سفرنامہ مرتب کیا۔ ۶ ستمبر کو 11 بجے عبد القيوم صاحب کی رہائش گاہ پر جانا تھا۔ انہوں نے دوپہر کے کھانے پر کئی لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ ان لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ میں نے حاضرین کو آداب زندگی سے متعلق کئی حدیثیں سنائیں۔ انہوں نے ان حدیثوں کو بہت پسند کیا۔
ایک بات میں نے کہی کہ کامیاب زندگی کے لیے لچک بہت ضروری ہے۔ اس معاملہ میں امریکا کے صغیر اسلم صاحب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان سے جب کسی کے ساتھ اختلافی معاملہ پیش
آتا ہے تو وہ اس کو زیادہ بڑھنے نہیں دیتے ۔ یہ کہہ کر وہ اس کو ختم کر دیتے ہیں کہ: چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر بنسر اج اور دوسرے لوگوں نے اس فارمولے کو بہت پسند کیا۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ اکثر دعوہ ورک کا ذکر کرتے ہیں۔ دعوہ ورک کیا ہے۔ نے کہا کہ دعوہ ورک دراصل یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کیا خدا نے ایک معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت ہے۔ اس کے بعد خدا نے موجودہ زمین پر انسان کو آباد کیا۔ خدا کے نقشہ کے مطابق ، زمین ایک مقام امتحان (testing ground) ہے۔ کی پوری زندگی یہی امتحان ہے۔ امیری اور غریبی ، مشکل اور آسانی سب امتحان کے پرچے ہیں۔ امتحان میں جو لوگ کوالیفائی کریں ان کو موت کے بعد جنت میں رہنے کا سرٹیفکٹ دیا جائے گا جہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں سے بھری ہوئی زندگی گزاریں گے۔ خدا کے اس تخلیقی منصوبہ سے لوگوں کو باخبر کرنے کا نام دعوت ہے۔ دعوہ ورک کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں۔
ظہر کی نماز عبد القيوم صاحب کی مسجد میں پڑھی۔ یہ ایک خوبصورت مسجد ہے جو عبد القيوم صاحب نے اپنے گھر کے پاس بنائی ہے۔ میں نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں کے اندر مسجد کی صورت میں عبادت کا ایک نظام قائم ہے اسی طرح دعوت کا بھی ایک باضابطہ نظام ہونا چاہیے۔ دعوت کا کام اسی طرح منظم انداز میں کرنے کی ضرورت ہے، جس طرح عبادت کو منظم انداز میں ادا کیا جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسپتال بنانا ، تعلیمی ادارے بنانا، سماجی فلاح کے کام کرنا، اور اسی طرح کے دوسرے کام دنیوی معنی میں انسان کی خدمت ہیں۔ وہ انسان کی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہیں۔ مگر اس قسم کے تمام کام صرف سکندری حیثیت رکھتے ہیں۔ بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر شعوری بیداری (intellectual awakening) لائی جائے۔ کے اندر روحانی ترقی (spiritual development) پیدا کیا جائے۔ انسان کی اندرونی شخصیت (innerpersonality) کو ربانی شخصیت بنایا جائے۔ یہی وہ عمل ہے جو موت کے بعد کی دنیا میں کام بقیہ تمام کام دنیوی کام ہیں۔ وہ اسی دنیا میں رہ جانے والے ہیں۔
ایک صاحب نے میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج بنانے کی بات کی۔ میں نے کہا کہ یہ کام کا سر سید ماڈل ہے جو بدقسمتی سے آج تک مسلمانوں کے ذہن پر حاوی ہے۔ سرسید ماڈل یہ تھا کہ مسلمانوں کی یونیورسٹی بنائی جائے مگر اس ماڈل میں اچھی اسکولنگ کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم کا گنبد تو بن گیا مگر اس کا فائدہ مسلمانوں کو بہت کم ملا۔ کیوں کہ مسلم طلبہ اسکولنگ میں کمزور ہونے کی وجہ سے اگلے ٹسٹ میں پورے نہ اتر سکے۔ اس کے مقابلہ میں کرسچین ماڈل زیادہ صحیح ہے۔ لوگوں نے اسکولنگ کی اہمیت کو سمجھا۔ سارے انڈیا میں انہوں نے بہترین اسکول کھول دیے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اسکولوں میں پڑھے ہوئے طلبہ کالج اور یونیورسٹی میں چھا گئے۔ ناندیڑ کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اندازہ یہ ہوا کہ یہاں کے لوگ سادہ مزاج کے لوگ ہیں ۔ وہ اختلافی بات پر زیادہ بحث نہیں کرتے۔ نہایت آسانی سے اپنی رائے کے خلاف بات کو مان لیتے ہیں۔ یہاں کے لوگ گویا کہ’’چلو یہ بھی ٹھیک ہے‘‘ کے مزاج پر ڈھلے ہوئے پیدا ہوئے ہیں۔
ایک سوال پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل ہر آدمی کی زندگی کا مرکز و محور صرف ایک ہے، اور وہ ہے پیسہ کمانا۔ اور وہ پیسہ بھی کس کے لیے، صرف اپنی اولاد کے لیے۔ گویا کہ ہر آدمی اپنی اولاد کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے۔ ہر آدمی خود تو محنت و مشقت سے پیسہ کماتا ہے مگر اپنی اولاد کے لیے وہ یہ چاہتا ہے کہ کسی محنت کے بغیر اس کو سب کچھ مل جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ اولاد کے ساتھ دشمنی ہے۔ بلا محنت کا پیسہ (easy money) آدمی کو بگاڑتا ہے۔ محنت کی روزی سب سے اچھی روزی ہے۔ کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو محنت کی وراثت دیں نہ کہ آرام و راحت کی وراثت ۔ ۶ ستمبر کی شام کو ڈاکٹر ہنسراج ملاقات کے لیے آئے ۔ ان کے ساتھ تقریباً ۱۵ آدمی تھے، ہندو بھی اور مسلمان بھی۔ ان لوگوں سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ وارانہ نفرت ہے۔ یہ بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ کی تحریک انگریزوں سے نفرت کی بنیاد پر اٹھی اور محمد علی جناح کی تحریک ہندوؤں سے نفرت کی بنیاد پر
ہندو اور مسلمان دونوں اسی منفی مزاج کو لے کر آزاد ہندوستان میں داخل ہوئے۔ اب پہلے والا نشانہ موجود نہیں۔ لیکن مزاج وہی ہے۔ چنانچہ اب ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں اور مسلمانوں میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح ہندوستان میں نفرت کی بنیاد بہت گہری ہے اور اس کو گہری بنیادوں پر ختم کرنا ہوگا۔ میں کئی جرنلسٹ موجود تھے۔ ان میں سے دو کے نام یہ ہیں: رام پرشاد کھنڈ موال اور وجے نلگیر ان لوگوں سے دیر تک ملکی اور قومی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک اخباری نمائندہ نے یہ سوال کیا کہ نیشنل انٹیگریشن کی فیلڈ میں آپ کافی کام کرتے رہے نیشنل انٹیگریشن کے لیے آپ کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جب بھی مختلف گروپ کسی سوسائٹی میں رہیں گے تو وہاں اختلافات (differences) آئیں گے۔ پہلے لوگوں کا فارمولا یہ تھا کہ اختلاف مٹاؤ تا کہ اتحاد قائم ہو۔ میں نے کہا کہ یہ ایک غیر عملی فارمولا ہے۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹانا ممکن ہی صحیح فارمولا یہ ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ اختلافات کو میچ (manage) کرنا جانیں۔ لوگوں کو وہ حکمت بتاتا ہوں جس کو میں نے یہ نام دیا ہے:
Art of difference management. یعنی اختلاف کو برداشت کرو تا کہ اتحاد قائم ہو۔
ایک سوال بابری مسجد کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کو پوری طرح کورٹ کے حوالہ کر دینا چاہیے۔ اگر بالفرض موجودہ حالات میں کورٹ یہ فیصلہ دے کہ بابری مسجد کو ری لوکیٹ کر دیا جائے تو مسلمانوں کو اس پر راضی ہو جانا چاہیے۔ عرب ملکوں میں سٹی پلاننگ کے تحت سیکڑوں مسجدوں کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ہے۔
۶ ستمبر کی شام کو اسلام پسند حلقہ کے کئی لوگ ملاقات کے لیے آ گئے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تصویر (image) ساری دنیا میں خراب ہو گئی ہے۔ ساری دنیا میں مسلمان ایکسٹریمسٹ، تشدد پسند اور جنگجو سمجھے جاتے ہیں۔ اس امیج کو
باقی رکھتے ہوئے کوئی بھی مثبت کام نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کی سب سے اہم ذمہ داری دعوت ہے۔ کشیدگی کے ماحول میں دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ پھر میں نے کہا کہ مسلمانوں کی امیج بگاڑنے کی ذمہ داری میڈیا پر نہیں ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری خود ہمارے علماء اور رہنماؤں پر ہے۔ یہ انہی لوگوں کی غلط رہنمائی ہے جس نے یہ مسئلہ پیدا کیا۔
ثنا اسکول ناندیڑ کا ایک معیاری اسکول ہے۔ اس کی خاتون پرنسپل مسز معراج النساء نے ایک انہوں نے بتایا کہ ان کے اسکول کی ایک خاتون ٹیچر، امت المتین نے بتایا کہ ان کی والدہ ریگولر طریقہ سے اپنے بیٹے کو الرسالہ پڑھواتی تھیں۔ ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ الرسالہ انسان کو اعتدال پسند بناتا ہے۔ اور اعتدال پسندی اس دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔
پرنسپل معراج النساء نے اپنے بارے میں کہا کہ میں الرسالہ برابر پڑھتی ہوں۔ اس کو پڑھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ برائی کوئی ابدی چیز نہیں، برائی کو اچھائی سے بدلا جاسکتا ہے۔ الرسالہ کے بارے میں اس قسم کے تاثرات کئی لوگوں نے بتائے۔ میں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف کچھ لوگ الرسالہ کو برا بھلا کہتے ہیں، حتیٰ کہ بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ الرسالہ مسلم دشمنوں کا آلہ کار ہے۔ آخر یہ دو متضاد اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی قسم کی رائے ان لوگوں کی ہے جو الرسالہ کے بارے میں رائے بنانے کے لیے خود الرسالہ کو دیکھتے ہیں۔ وہ براہ راست الرسالہ کو پڑھ کر اس کے بارے میں اپنی رائے دوسری رائے ان لوگوں کی ہے جو سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اخباری رپورٹوں کو پڑھتے ہیں اور اس کو الرسالہ کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ رائے قائم کرنے کا یہ دوسرا انداز انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اس معاملہ میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ وہ خود الرسالہ کے مضامین سے اپنی رائے بنائے یا وہ اس بارے میں بالکل خاموش رہے۔ کچھ تعلیم یافتہ نو جوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آج کل جہاد کے نام پر جو تشدد جگہ جگہ ہو رہا ہے اس کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔
ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے اسلام کا یہ تصور دیا کہ اسلام سیاسی اقتدار چاہتا ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کا سیاسی اقتدار قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ کہ ضرورت ہو تو وہ جنگ تک جا سکتے ہیں۔ اس قسم کے نظریات جو موجودہ زمانہ میں چلائے گئے اس کا براہ راست نتیجہ موجودہ تشدد کلچر ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یا تو ہمیں اسلامی اقتدار قائم کرنا ہے، یا اسی راہ میں لڑ کر مر جانا ہے۔ میں نے کہا کہ جن لوگوں نے مذکورہ قسم کا سیاسی نظریہ پیش کیا انہیں اور ان کے پیروؤں کو یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ ہم نے اسلام کی جو سیاسی تشریح کی وہ غلط تھی۔ پھر میں نے کہا کہ یہ مسلمان آج کل ایک تضاد میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے عقیدہ کے تقاضے کے تحت گولی اور بم کا کلچر چلاتے ہیں۔ اور جب فریق ثانی زیادہ بڑی طاقت کے ساتھ ان کو اپنی جوابی کارروائی کا نشانہ بناتا ہے تو وہ ہیومن رائٹس کا حوالہ دے کر احتجاج کرنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ اگر ان کا نظریہ درست ہے تو جو کچھ ان کے ساتھ پیش آرہا ہے وہ ان کے اپنے نظریہ کی قیمت پھر انہیں اس قیمت کو خوشی کے ساتھ قبول کرنا چاہیے نہ کہ وہ اس کے خلاف احتجاج کرنے لگیں۔ ٦ ستمبر کی شام کو کلامندر کے ہال میں پروگرام تھا۔ یہاں کافی لوگ آئے۔ یہاں تقریر کا موضوع یہ تھا: اسلام کا پیغام انسانیت کے نام۔ یہ جلسہ مولانا مفتی سید تمیز الدین صاحب قاسمی کی صدارت میں ہوا۔ اس کے علاوہ اسٹیج پر نان ڈیر کے حسب ذیل افراد بیٹھے ہوئے تھے : ڈاکٹر ہنس راج ویدیہ صاحب، پروفیسر مورے، مسز کنشن پنیل۔ میں نے اپنی تقریر میں قرآن وحدیث کے حوالے سے بتایا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، تمام انسان ایک خدا کی عیال ہیں۔ تعلیم یہ ہے کہ دشمن کو بھی حسن سلوک سے اپنا دوست بناؤ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سماج میں تم نفع بخش بن کر رہو یا کم از کم یہ کرو کہ تم دوسروں کے لیے بے ضرر بن جاؤ۔
٧ ستمبر کی شام کو مہاتما پھلے ہال میں پروگرام تھا۔ یہ پروگرام ساڑھے سات بجے ختم ہوا۔ کے بعد میں واپس اپنی رہائش گاہ پر آ گیا۔ میں اوپر کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ نیچے سے پیغام آیا کہ ایک اسٹوڈنٹ ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ابھی تو میں مصروف ہوں، میں فوراً نہیں مل سکتا۔
کچھ دیر سے بعد معلوم ہوا کہ وہ نوجوان خواتین کے اصرار کرنے لگا کہ مجھے مولانا سے ملنا ہے۔ میرا اپائنٹمنٹ طے ہو چکا ہے۔ خواتین کو شک ہوا اور انہوں نے اس کو لوٹنا چاہا مگر وہ لوٹنے کے لیے تیار نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میں ایک منٹ کے لیے اوپر جاؤں گا۔ اتنے میں مسٹر عبدالرحمن ان کو دیکھ کر وہ اسٹوڈنٹ کچھ نرم پڑا۔ عبدالرحمن صاحب نے پوچھا کہ تم ایک منٹ کے لیے کیوں ملنا چاہتے ہو۔ وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکا۔ چنانچہ عبدالرحمن صاحب نے اس کو لوٹا دیا۔ ناندیڑ میں ایک ہندو پروفیسر نے اپنی ایک کتاب بطور تحفہ دی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا: Islam: Maker of the Muslim Mind by Prof. Sheshrao More اس کتاب میں عمومی طور پر اسلام کی صحیح تصویر پیش کی گئی ہے۔ مگر اس میں بعض خطرناک غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ اگر چہ یہ غلطیاں وہی ہیں جو خود مسلم مصنفین کے یہاں موجود ہیں۔ کتاب میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مسلمان آج کل مختلف مقامات پر اپنے مادی حقوق کے لیے جو متشددانہ لڑائی لڑ رہے ہیں، وہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ اسلام ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم ناانصافی کو برداشت نہ کرو:
Since Islam teaches its votaries not to tolerate injustice and persecution, the religion was naturally perceived as the inspiration for the community's hostile attitude. (p. 1)
مگر یہ بات صحیح نہیں۔ حدیث میں مومن کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: مفتاح للخير مغلاق للشر (خیر کا دروازہ کھولنے والا اور شر کا دروازہ بند کرنے والا)۔ اس قسم کی تعلیم جو اسلام میں دی گئی ہے وہ انسانیت عامہ کے تعلق سے ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کے تعلق سے۔ یہ صحیح ہے کہ انسانیت عامہ کے معاملہ میں مومن کو حساس ہونا چاہیے۔ مگر جہاں تک ذاتی نقصان کا تعلق ہے، اس میں اہل ایمان کو صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
آج کل مسلمان مختلف مقامات پر جو متشددانہ جہاد کر رہے ہیں وہ انسانیت عامہ کے مفاد کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ خود اپنے مادی حقوق کے لیے ہے۔ اور اسلام میں جس جہاد کی تعلیم دی گئی ہے وہ
جہاد فی سبیل اللہ ہے، وہ ملک و مال کی ذاتی لڑائی کے لیے نہیں۔ موجودہ قسم کی لڑائی قومی لڑائی ہے، وہ ہرگز اسلامی جہاد نہیں۔
ناندیڑ میں ایک مسلم تنظیم قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے: شاہ ولیفیر اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی۔ سوسائٹی کے تحت شاہہائی اسکول اور جونیئر کالج قائم ہے۔ دونوں کامیابی کے ساتھ اعلیٰ معیار پر چلائے جا رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے ساتھ انگریزی وغیرہ علوم کو شامل کیا ہے۔ کے پڑھے ہوئے طلباء، ہر سال اچھے نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیں۔ ۲۰۰۲ میں پرائمری بورڈ کے امتحان میں جماعت چہارم کی طالبہ فاطمہ محمد یوسف نے ضلع میں پہلا مقام حاصل کیا۔ اس ادارہ کی پرنسپل معراج النساء صاحبہ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس ادارہ کی ترقی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ ۷ ستمبر ۲۰۰۲ کو اس ادارہ نے میرے خطاب کا پروگرام رکھا تھا۔ ایک بڑے ہال میں تمام طلباء اور اساتذہ اکھٹا ہوئے۔ یہاں میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جدید علوم اسلام کے دشمن نہیں ہیں بلکہ وہ اسلام کے معاون ہیں۔ قدیم علوم اور جدید علوم میں یہ فرق ہے کہ قدیم علوم قیاسات اور مفروضات پر مبنی تھے۔ اس لیے یہ ممکن تھا کہ ان میں اسلام دشمن باتیں شامل ہو جائیں۔ جدید علوم کا معاملہ اُن سے مختلف ہے۔ جدید علوم، دوسرے لفظوں میں، علوم فطرت ہیں۔ یعنی خدا کی تخلیقات میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرنا اور اُن کی بنیاد پر علوم کی تشکیل و تدوین کرنا۔ ایسی حالت میں اس کا کوئی امکان ہی نہیں کہ جدید علوم اسلام دشمن علوم بن جائیں۔ ان علوم کے درمیان وہی نسبت ہے جو خالق اور تخلیق کے درمیان ہے۔ ظاہر ہے کہ خالق اور تخلیق کے درمیان تضاد ممکن نہیں۔ اسی طرح اسلام اور جدید سائنسی علوم کے درمیان تضاد نہیں ہوسکتا۔ آج کل مدارس میں عصری علوم کے نام سے شعبے کھولے جا رہے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں لوگوں کے درمیان ایک غلط فہمی ہے۔ وہ کمپیوٹر جیسی کچھ چیزوں کے لیے کلاس کھولتے ہیں اور اس کو عصری علوم سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ یہ عصری میتھڈ ہے، نہ کہ عصری علم۔ عصری طریقوں کو مدارس میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے ۔ لیکن کچھ عصری طریقوں کو مدارس میں رائج کرکے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عصری
علوم کو مدارس کے تعلیمی نظام میں شامل کر لیا گیا۔
تقریر کے بعد لوگوں کی طرف سے سوالات آنے لگے۔ یہاں تک کہ سوالات کی بھر مار ہو گئی۔ تقریباًسو کے قریب لکھے ہوئے سوالات آئے۔ ناظم جلسہ نے منتخب سوالات پڑھ کر سنائے اور میں نے ان کا جواب دیا۔ عجیب بات ہے کہ ان میں سے شاید کوئی سوال بھی منفی انداز کا نہ تھا۔ سوالات مثبت انداز کے تھے۔ ان میں سے کچھ سوال اور ان کے جواب یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ سوال: مدنی دور اور مکی دور کا نمایاں فرق کیا ہے۔
جواب: اصل یہ ہے کہ قرآن کا نزول حالات کے اعتبار سے ہوا۔ مکی حالات کے لحاظ سے مکی سورتیں نازل ہوئیں اور مدنی حالات کے لحاظ سے مدنی سورتیں نازل ہوئیں۔ اگر آپ دونوں قسم کی سورتوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ دونوں دوروں میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے دعوت اور تعمیر ذہن کی پر امن جدوجہد۔ مدنی دور میں بنیادی طور پر دو چیزوں کا اضافہ ہوا۔ ایک ہے مسلم معاشرہ کی باقاعدہ تنظیم، اور دوسری چیز ہے جارحانہ حملوں کے مقابلہ میں دفاعی یہ دفاعی کوشش زیادہ تر اعراض کی صورت میں ہوئی۔ البتہ چند بار مسلح ٹکراؤ کی صورت بھی پیش آگئی۔
سوال: مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کے اسباب اور حل پر مختصر روشنی ڈالیے۔ جواب: میرے نزدیک اس پس ماندگی کی تمام تر ذمہ داری مسلم رہنماؤں کے اوپر ہے۔ یہ لوگ موجودہ حالات کے مقابلہ میں منفی ردعمل کا شکار ہو گئے۔ وہ مسلمانوں کے اندر مسلسل طور پر شکایت اور احتجاج کا مزاج پیدا کرتے رہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسائل کے خلاف الجھایا مگر انہوں نے مسلمانوں کو مواقع (opportunities) کی نشاندہی نہ کی۔ حتی کہ انہوں نے جدید تعلیم کو مغربی قوموں کی سازش کا نام دے دیا۔ اسی منفی ذہن سازی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمان تعلیم کے میدان میں پوری توجہ کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکے۔
سوال: حدیث کا مفہوم ہے کہ ظالم اور مظلوم کی مدد کی جائے۔ صحابہ نے پوچھا، مظلوم کی مدد تو سمجھ میں
ظالم کی مدد کے کیا معنی۔ حضور نے کہا، اس کو ظلم سے روکو۔ جواب: ’’ظلم سے روکو‘‘ کا مطلب ہے کہ اس کو ظلم سے رکنے کی نصیحت کرو۔ اس کے لیے تنہائیوں میں اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کر کے اس کے دل کو بدلنے کی کوشش کرو۔ یہ مطلب نہیں کہ ظالم کے خلاف احتجاج کی مہم چلاؤ۔ اس کے خلاف تشدد کی کارروائی کرو۔ سوال: اسلام میں ردعمل یا بدلہ کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں۔
جواب: اگر کوئی شخص آپ کے خلاف برائی کرے تو آپ منھ سے بول کر الفاظ کی صورت میں اس کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں مگر انتقام یا عملی کارروائی کا حق کسی فرد کو نہیں۔ حق صرف عدالت کو ہے۔ باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی کسی شخص کے اوپر عملی سزا کا نفاذ کیا جا سکتا ہے۔
سوال: آپ کے نظریہ کے مطابق، ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ دار صرف مسلمان ہیں، برائے کرم اس پر تبصرہ کیجئے۔
جواب: میرا یہ نظریہ نہیں کہ ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ دار ہیں۔ میرا نظریہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں نے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف صرف بطور خود احتجاج کا طریقہ انہوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ قرآن میں اس مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ میں نے بار بار اپنی تحریروں میں بتایا ہے کہ قرآن میں اس مسئلہ کا واضح حل موجود ہے۔ اور وہ حل صبر اور تقویٰ ہے (آل عمران ۱۲۰)
سوال: مسلمانوں کو موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا قدم اٹھانا چاہیے۔ کیا مسلمانوں کو خود کی اصلاح کرنا ضروری ہے، اگر ہے تو کیا۔
جواب: قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو صرف اپنے عمل کے بقدر نتیجہ ملتا ہے۔ انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کے لیے اس نے کوشش کی۔ اس پرانے اصول کے مطابق، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے جو کچھ کھویا ہے وہ خود اپنے بے عملی کی بنا پر کھویا ہے۔ اب وہ صرف اپنی عملی
جدوجہد کے ذریعہ ہی اپنے لیے کوئی نیا مستقبل بنا سکتے ہیں۔
سوال: کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ دنیا میں خلافت طرزِ حکومت ہونی چاہیے، یعنی دنیا کے مسلمانوں کا ایک امیر ہو۔ اس کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔
جواب: امارت کا تعلق سیاسی حکومت سے نہیں ہے بلکہ اطاعت کی رضا کارانہ اسپرٹ سے ہے۔ مسلمان اگر امیر کی اطاعت کو اپنے اوپر فرض سمجھے تو حکومت کے بغیر ہی ان کے درمیان امارت کا نظام قائم ہو جائے گا اور اگر اطاعت کی اسپرٹ نہ ہو تو حکومت کی موجودگی میں بھی انارکی کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ جیسا کہ حضرت علی کے زمانہ خلافت میں پیش آیا۔ سوال: آپ کی انگریزی بہت اچھی ہے۔ اسے سیکھنے کا آسان طریقہ کیا ہے۔ جواب: انگریزی زبان یا کسی بھی علم کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ محنت ہے۔ حقیقت کو ایک عربی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے_ من جد وجد _ سوال: معلم (ٹیچر) میں کیا اوصاف ہونے چاہئیں۔
جواب: میرے نزدیک معلم کے اندر سب سے بڑی صفت جو ہونی چاہیے وہ یہ کہ وہ طالب علموں کا خیر اگر معلم کے اندر اپنے طالب علموں کے لیے سچی خیر خواہی ہو تو اپنے آپ وہ ایک کامیاب معلم بن جائے گا۔
سوال: انگریزوں کے خلاف علماء نے جہاد کا فتویٰ دیا تھا۔ اگر وہ غلط تھا تو اس میں جان دینے والوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
جواب: آخرت میں کس کا انجام کیا ہوگا، یہ مکمل طور پر خدا کا معاملہ ہے۔ اس کے بارے میں کوئی انسان کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ البتہ جہاں تک جہاد کے فتویٰ کا تعلق ہے، خواہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ ہو یا موجودہ زمانہ میں مفروضہ دشمنوں کے خلاف فتویٰ، یہ سب کے سب شرعی اعتبار سے غلط فتوے ہیں۔ اس معاملہ میں زیادہ سے زیادہ جو چیز ممکن ہے وہ یہ کہ بشرط اخلاص ان فتووں کو اجتہادی خطا کا درجہ دے دیا جائے۔
سوال: قرآن اور حدیث کو سمجھنے اور سمجھانے کا طریقہ کیا ہے۔
جواب: اس کا طریقہ صرف یا ہے کہ ضروری علوم حاصل کرنے کے بعد قرآن اور حدیث کے متن پر غور کیا جائے اور مسلسل دعا کی جاتی رہے کہ خدا علم صحیح کی توفیق دے اور ذہنی گمراہی سے بچائے۔ سوال: آپ کی نظر میں اردو کی سب سے بہترین تفسیر کون سی ہے۔
جواب: کوئی تفسیر سب سے بہتر تفسیر نہیں ہوتی۔ ہر تفسیر کسی اعتبار سے مفید ہوتی ہے۔ اسی ذہن کے ساتھ تفسیروں کو پڑھنا چاہیے۔
سوال: دینی اور دنیاوی علم کے اعتبار سے آپ ایک بہت بڑے اسکالر ہیں۔ آپ کی کامیابی کا راز کیا کیا کوئی ایسی دعا ہے جس کے پڑھنے کے بعد چیزیں جلدی یاد ہوں اور پھر وہ نہ بھولیں ۔ جواب: دعا کچھ رٹے ہوئے الفاظ کا نام نہیں ہے۔ دعا دل کی تڑپ کا نام ہے۔ دل کی تڑپ کے ساتھ دعا ضرور پوری ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا: مانگو تو پاؤ گے۔ سوال: سیکولر نظام تعلیم میں جو بھگوا کرن کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں اس میں آپ کی کیا رائے ہے۔ جواب: میرے نزدیک بھگوا کرن کا خطرہ ایک مفروضہ خطرہ ہے، اس سے مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچنے مسلمانوں کے لیے اصل خطرہ مغربی کرن ہے۔ مغربی کرن یا ویسٹرنائزیشن نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کو بلکہ ساری مسلم دنیا کے مسلمانوں کو اپنی زد میں لے چکا ہے۔ ملکوں میں بھی داخل ہو چکا ہے جن کو خوش فہم رہنما اسلام کا قلعہ بتاتے تھے۔ یہ یہ کہتے تھے کہ وہ اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔
۷ ستمبر کو ۱۱ بجے مدینۃ العلوم کالج میں خطاب کا پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع تھا'' عصری تعلیم کی اہمیت‘‘ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ عصری تعلیم کی اہمیت صرف جاب کے لیے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ علوم اسلام کے حق میں تائیدی علوم ہیں۔ ان کو اسلام کا جدید علم کلام کہا جا سکتا ہے۔ کے ذریعہ بتایا کہ کس طرح جدید علوم اسلام کی تعلیمات کو خالص سائنسی بنیادوں پر مدلل کر رہے ہیں۔ ۷ ستمبر کی دوپہر کو عبدالقیوم صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ دو کام ایک دوسرے
سے بالکل الگ ہیں ۔ دعوۃ ورک اور کمیونٹی ورک ۔ کمیونٹی ورک ہر قوم میں اور ہر جگہ ہو رہا ہے ۔ تک دعوۃ ورک کا تعلق ہے وہ اس وقت کہیں بھی صحیح طور پر انجام نہیں پا رہا ہے ۔ پھر میں نے کہا کہ کمیونٹی ورک اور دعوۃ ورک میں یہ فرق ہے کہ کمیونٹی ورک کا مقصد ہوتا ہے ، اپنی کمیونٹی کو بچانا ، اور دعوۃ ورک کا مقصد ہوتا ہے ، انسانیت کو بچانا ۔
ایک پروگرام میں ایک صاحب نے ایک کاغذ پر یہ لکھ کر بھیجا :
اکثر مساجد کے امام وعلماء ہی نفرت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے اللہ کے معصوم بندے جذبات میں آ کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ ان امام وعلماء کے نام ایک ایک کتاب لکھئے ( نعیم خاں ، بمعرفت حاجی واجد علی خاں ، ایچ ۔ پیر برہان نگر ، ناندیڑ میں نے کہا کہ یہ صرف علماء اور ائمہ کی بات نہیں ہے ۔ بلکہ یہی تمام لوگوں کا حال ہے ۔ جو لوگ ’’ نفرت مٹاؤ ، دیش بچاؤ ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں وہ بھی عملاً یہی کر رہے ہیں ۔ ان کے اخباروں اور رسالوں میں مستقل طور پر دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی باتیں چھپتی رہتی ہیں ۔ وہ یہ تصور دیتے ہیں کہ دنیا ہمارے حق میں ظالم ہو گئی ہے ۔ اس قسم کی باتیں گویا نفرت کا جنگل اگانے کے ہم معنی اور جب نفرت کا یہ جنگل آگ آتا ہے تو اس کے بعد وہ نفرت ختم کرو کی مہم چلاتے ہیں ، صرف اس لیے تاکہ وہ نفرت کی کھیتی اگانے کے جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ کر سکیں ۔
انڈین یونین مسلم لیگ کی ناندیڑ شاخ کے کنوینر کی طرف سے ان کے لیٹر ہیڈ پر دو صفحہ کی تحریر مجھے دی گئی ۔ اس تحریر کا ایک حصہ کسی تبدیلی کے بغیر بعینہ یہاں نقل کیا جاتا ہے : محترم المقام مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ بعد از سلام آپ کی خدمت میں بذریعہ تحریر اپنے خیالات کا اظہار کرنے جا رہا ہوں ، امید کہ آپ غور کریں گے ۔ میں گذشتہ کئی برسوں سے آپ کا تحریر کردہ ’’ الرسالہ ‘‘ کا قاری ہوں ۔ آپ کی تحریر کے ایک ایک لفظ میں طلسم ہے ۔ آپ کا دانشورانہ انداز بیان لا جواب ہے ۔ لیکن آپ کی تحریر میں منفی
انداز فکر کا تسلسل ہے۔ عام مسلمانوں کا خیال ہے کہ آپ کی تحریر سے مسلم مخالف طاقتوں کو تحریک ملتی ہے اور مسلمانوں کو مایوسی۔ یہ بات مسلمانوں کے لیے تکلیف دہ ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے فسادات کے ذمہ دار صرف مسلمانوں کو ہی کہا جائے۔ مسلمان تو ظلم و ستم کا شکار ہو کر تکلیف سے کراہ وہ رد عمل کبھی نہیں کرتا۔ ہندوستانی مسلمان تو انتقام لینے کے قابل ہی کہاں ہے۔ رد عمل تو طاقت ور لوگ کرتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمان دو وقت کی روٹی اور اپنے بچوں کی تعلیم میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ وہ دیگر مسائل کو بھول چکا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ چاروں جانب سے یلغار ہے۔ سیاسی، معاشی، تعلیمی، ہر محاذ پر منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو پیچھے کیا جا رہا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں پر پاکستان، کشمیر، اور طالبان کے نام پر مسلسل ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور اس پر ستم یہ ہے کہ آپ بھی مسلسل مسلمانوں پر ہی تنقید کرتے اکثر اوقات آپ کی تحریر میں سنگھ پر یوار کا عکس نظر آتا ہے۔ آپ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ مسلمانوں سے دور اور آرایس ایس کے قریب نظر آتے ہیں۔
اس خط کا مختصر جواب یہ ہے کہ انڈیا کے بارے میں مذکورہ شکایتیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے یہاں کے ہندوؤں نے ہندو مہا سبھا بنائی اور یہاں کے مسلمانوں نے مسلم لیگ قائم کی۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کو اتنی آزادی ملی کہ ابھی تک ان کے یہاں مسلم لیگ بدستور قائم ہے اور اپنا کام کر رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں یہ ناممکن ہے کہ وہاں کے ہندو لوگ وہاں ہندو مہا سبھا کے نام سے اپنی تنظیم قائم کریں اور اس کے نام پر الیکشن لڑیں۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان کے ہندوؤں کے مقابلہ میں ہندوستان کے مسلمان سو گنا زیادہ بہتر ہیں۔ حالاں کہ مسلم لیگ کے قائد نے تقسیم سے پہلے کہا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو قربان کر کے پاکستان بنوائیں گے۔ یہی فرق اس پورے معاملہ کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ بشرطیکہ آدمی کے اندر سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
مسٹر عبد الرحمن چاؤش کے چھوٹے بھائی عبد العزیز چاؤش کی عمر ۱۲ سال ہے۔ ان کا سوال یہ
تھا: اچھا مسلمان بننے کے لیے کسی شخص کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اچھا مسلمان بننے کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ آدمی اچھا انسان بنے۔ اچھا انسان گویا وہ زرخیز زمین ہے جس پر اچھے مسلمان کا درخت اگتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: خیارکم فی الجاهلية خياركم فی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی فطری صفات کے اعتبار سے اچھا انسان ہوتا ہے وہی دین اسلام کے اعتبار سے اچھا مسلمان بنتا ہے۔ جس آدمی کے اندر انسانی اوصاف نہ ہوں اس کے اندر اسلامی اوصاف بھی پیدا نہیں ہوتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اخلاقیات کی زمین پر اسلامیات کا باغ اگتا ہے۔
ایک مسلم اسکول کے پرنسپل سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں تعلیمی ادارہ قائم کرنا گویا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا: خیر گر چاہتا ہے خیر کے اسباب بنا پل بنا چاہ بنا مسجد و تالاب بنا صدقہ جاریہ کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر ایک کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں تعلیمی ادارہ قائم کرنا صدقہ جاریہ کا ایک اہم شعبہ ہے۔ بلکہ شاید وہ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ اہم شعبہ ہے۔ کیوں کہ تعلیم کے ذریعہ آدمی سوچنے سمجھنے کے قابل بنتا ہے، اور بلاشبہ اس دنیا میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آدمی سوچنے کے قابل ہو جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو تعمیر شعور کہا جاتا ہے۔ ۸ ستمبر کو پربھنی میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب کا انتظام یہاں کی مسجد میں کیا گیا تھا۔ مولانا جہانگیر صاحب نے اس کو کنڈکٹ کیا۔ مولانا جہانگیر صاحب ایک سنجیدہ عالم ہیں۔ پروگرام کو نہایت خوبی کے ساتھ چلایا۔ میرے اس خطاب کا موضوع تھا: اسلام کا پیغام انسانیت کے اس موضوع پر میں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مفصل تقریر کی۔
اس جلسہ میں کچھ مقامی ہندو بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر موہن مولگے (Dr. Mohan Mawlage) تھے۔ وہ پربھنی کے مشہور ڈاکٹر اور سرجن ہیں۔ وہ تقریر سے کافی متاثر ہوئے اور اس کے بعد وہ اصرار کر کے مجھے اپنے اسپتال لے گئے۔ یہاں ہمارے تمام ساتھی بھی موجود
تھے انہوں نے کہا کہ آپ کی باتیں ہمیں بہت پسند آئیں۔ اب ہم زیادہ بڑے پیمانہ پر پربھنی میں آپ کا پروگرام کرنا چاہتے ہیں۔
۸ ستمبر کو بڑھنی کی ایک مجلس میں میرے سامنے عبد اللہ صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ وہ موبائل پر کسی سے بات کرنے لگے۔ کی بات ختم ہوئی تو میں نے ان کا موبائل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ موبائل آپ کا انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ یہ موبائل ایک علامت ہے جو بتاتا ہے کہ آپ مسلم بادشاہوں اور مسلم نوابوں سے بھی زیادہ اچھی حالت میں ہیں۔ کیوں کہ ماضی کے وہ لوگ جن کو مسلم بادشاہ اور مسلم نواب کہا جاتا ہے ان میں سے کسی کے پاس بھی موبائل ٹیلی فون نہ تھا۔ اسی طرح بہت سی چیزیں ہیں جو آج عام مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ جب کہ پچھلے زمانہ میں وہ حکمرانوں کو بھی حاصل نہیں ایسی حالت میں آپ کو چاہیے کہ آپ ہر وقت خدا کا شکر ادا کریں۔ آپ کی زبان سے کبھی ناشکری کا کلمہ نہ نکلے۔ پھر میں نے کہا کہ کم از کم اپنے تجربہ میں میں نے دیکھا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہر مسلمان شکایتی بولی بولتا ہے، کوئی بھی مسلمان حقیقی معنوں میں شکر ادا کرنے والا نہیں۔ ۸ ستمبر کی دوپہر کا کھانا بڑھنی میں محمد مشتاق احمد، ڈپٹی انجینئر کے گھر پر کھایا۔ یہاں کھانے پر بہت سے لوگ موجود تھے۔ یہاں میں نے کئی موضوع پر سوالات کی وضاحت کی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ مگر صبر کب تک۔ بابری مسجد توڑی گئی اس پر ہم نے صبر کیا، مسجد میں بم پھٹا اس پر ہم نے صبر کیا۔ پھر صبر کا یہ سلسلہ کب تک رہے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ صبر کرتے تو آپ مجھ سے یہ سوال ہی نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ”بس جواب مل گیا۔ محمد مشتاق احمد صاحب نے جلد ہی ایک نرسری اسکول کھولا ہے۔ فی الحال وہ اپنے وسیع گھر کے ایک حصہ میں اس کو چلا رہے ہیں۔ ایک خاتون اس کی پرنسپل ہیں۔ میں نے اس کو دیکھا۔ میں نے کہا کہ اچھی تعلیم کے لیے اچھی اسکولنگ بہت ضروری ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اچھی اسکولنگ کا تصور مسلمانوں میں بہت دیر میں آیا ہے۔ جب کہ دوسروں میں وہ بہت پہلے آچکا تھا۔ اچھی اسکولنگ نہ ہونا
ہی مسلمانوں کی تعلیمی پچھڑے پن کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اب اس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی
اس علاقہ کے اخبارات میں برابر میرے خطابات اور پروگراموں کی رپورٹنگ آتی رہی۔ یہاں ان کی تفصیل دینا ممکن نہیں۔ اورنگ آباد سے چھپنے والا مراہٹی اخبار دیک لوک مت کے شمارہ ۷ ستمبر ۲۰۰۴ میں میری ایک تقریر کی رپورٹ شائع ہوئی۔ اخبار نے اس کا جو عنوان قائم کیا اس کا ترجمہ یہ ہے:
اسلام میں غیر حکومتی گروپ کو ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں میں نے مراہٹی جاننے والے ایک صاحب سے اس رپورٹ کو پڑھوا کر سمجھا۔ یہ تقریباً صحیح میں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا تھا وہی اخبار والے نے شائع کیا تھا۔ جب کہ اردو اخبارات کے بارے میں میرا تجربہ اس سے مختلف ہے۔ اردو اخبار والوں کا حال یہ ہے کہ میں کچھ کہتا ہوں اور اردو اخبارات اس کو کسی اور ڈھنگ سے چھاپتے ہیں۔ اس فرق کا راز کیا ہے۔ غالباً اس فرق کا راز یہ ہے کہ پروفیشنل جُرنلزم (professional journalism) کا تصور ابھی تک اردو اخبارات میں
پربھنی میں ۹ ستمبر کو ایک بڑا جلسہ رکھا گیا تھا۔ مگر مجھے بعض اسباب سے ۸ ستمبر کو واپس آنا پڑا۔ چنانچہ پربھنی کا پبلک جلسہ نہ کیا جا سکا۔ البتہ یہ طے ہوا کہ ناندیڑ سے اورنگ آباد جاتے ہوئے درمیان میں کچھ دیر کے لیے میں پربھنی میں رکوں اور وہاں ایک پروگرام کیا جائے۔ اسی فیصلہ کے تحت پربھنی کی مسجد میں خطاب کا ایک پروگرام رکھا گیا۔ پربھنی سے فارغ ہو کر اورنگ آباد کے لیے روانگی ہوئی۔ تقریباً ۴ گھنٹہ کا سفر تھا۔ سڑک نسبتاً اچھی تھی اور سڑک کے دونوں طرف مسلسل سرسبز مناظر تھے۔ طرح کے ماحول میں سفر کرتے ہوئے ساڑھے چار بجے شام کو اورنگ آبادائر پورٹ پر پہنچے۔ سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ فلائٹ اورنگ آباد سے ساڑھے پانچ بجے شام کوروانہ ہوتی ہے اور بمبئی ہوتے ہوئے نئی دہلی آتی ہے۔
یہاں کے جلسوں میں تقریر کے بعد کثرت سے سوالات کئے گئے۔ بلکہ ہر جگہ سوالات کی بھر مار ہوگئی۔ میں ٹھنڈے طریقہ سے ہر سوال کا جواب دیتا رہا۔ اس درمیان سامعین کی طرف سے ایک کاغذ ملا جس پر یہ لکھا ہوا تھا :
ابھی تک کئے گئے سوالوں میں سے کچھ سوال یہ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی بات کبھی بھی سمجھ قرآن میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ اس کے باوجود آپ ان کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ لوگ کبھی سدھریں گے۔
میں نے کہا کہ کسی انسان کے دل میں سچائی کا اتر نا میری تقریر یا میرے جواب سے نہیں ہوتا بلکہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے۔ خدا جب دیکھتا ہے کہ سوال کرنے والا اپنے سوال میں سنجیدہ ہے، وہ واقعی طور پر حق کو جاننا چاہتا ہے تو خدا کی توفیق سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ بات کو سمجھے اور اس کو اپنے دل میں بٹھالے۔ مجھ کو یا کسی کو کسی انسان کے دل کا حال معلوم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہم پیشگی طور پر کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہم کو یہی کرنا ہے کہ جب کوئی شخص سوال کرے تو ہم اس کا جواب دیں اور پھر دعا کریں کہ خدا سچی بات کو اس کے دل میں اتار دے۔ ایک حق پرست انسان بن جائے۔
تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ابتدا میں بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص بات کو ماننے والا نہیں ہے۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ اس شخص نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے سچائی کو مان لیا اور اپنی زندگی کو سچائی کے راستے پر ڈال دیا۔
اورنگ آباد سے دہلی کے لیے سفر کرتے ہوئے کچھ چیزیں مطالعہ میں آئیں۔ کا فلائٹ میگزین سواگت (Swagat) کا شمارہ ستمبر ۲۰۰۲ برائے مطالعہ جہاز کے اندر موجود تھا۔ میں اپنے سفروں میں اکثر فلائٹ میگزین کی کوئی چیز نقل کرتا ہوں ۔ اس کو دیکھ کر کئی لوگوں کے خط ہمارے پاس آئے کہ ہمیں پتہ بتائیے تا کہ ہم فلائٹ میگزین اپنے لیے حاصل کر سکیں۔ واضح ہو کہ یہ
میگزین جہازوں میں ان فلائٹ ریڈنگ کے لیے ہوتے ہیں وہ کھلے بازار میں دستیاب نہیں۔ مذکورہ میگزین میں بتایا گیا تھا کہ چراغ دہلی کے علاقہ میں ایک غیر حکومتی تنظیم (NGO) قائم کی گئی ہے۔ اس کے بانی وجے جھا اور نند تا بخشی ہیں۔ اس تنظیم کا نام یہ ہے: Bisnouli Sarvodaya Gramodyog Sewa Sanstha یہ تنظیم غریب طبقہ کے لیے ہے۔ وہ تین سال پہلے قائم کی گئی ہے۔ اس کا مانٹو اپنی مدد آپ ہے اور باعزت زندگی حاصل کرنا اُن کا نشانہ ہے:
Self help is their motto, and a life of dignity their goal. (p. 86) اس تنظیم میں اب تک تین سو سے زیادہ خواتین شامل ہو چکی ہیں۔ اُن میں ایک مسلم خاتون نظر آئیں ۔ اُن کا نام رخسانہ (۲۰ سال) بتایا گیا تھا۔ یہ خواتین مختلف قسم کے کاموں کی تربیت حاصل کر رہی ہیں ۔ مثلاً ٹیلرنگ، کمپیوٹر، انگریزی بولنا، وغیرہ۔ اس طرح کے کام موجودہ حالات میں بے حد اہم ہیں اور ان کی سخت ضرورت ہے۔ نزدیک عطیات دینا یا مدد پہنچانا زیادہ مفید چیزیں نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تعلیم و تربیت کی جائے کہ وہ اپنی روزی خود کمانے کے قابل ہو جائیں۔ ۱۰ ستمبر ۲۰۰۳ء کی شام کو دہلی واپسی ہوئی۔
یہ کتاب سیرت رسول کا ایک سادہ اور واقعاتی اس کتاب میں پیغمبر اسلام کی زندگی کو تاریخ وار انداز میں کسی تشریح یا تعبیر کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔ یہ پیغمبر اسلام ﷺ کی پوری زندگی کی ایک تاریخی تصویر ہے۔ یہ معلوماتی اُسلوب میں سیرت رسول کا ایک جامع تعارف ہے۔ کتاب اسی بیانیہ اسلوب میں لکھی گئی ہے۔