Al-Risala · April 2005

Surely it is for God to guide mankind.

Al-Risala, April 2005, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مقصد کے لیے خدا نے ایک قابلِ اعتماد انتباہی نظام (warning system) قائم کیا۔ انتباہ کے لیے خدا نے یہ کیا کہ انسان کی تاریخ کے آغاز ہی سے اپنے پیغمبر انسان کے پاس بھیجنا شروع قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے (النسا ١٦٥) قرآن میں مزید بتایا گیا ہے کہ خدا کے یہ پیغمبر بلا وقفہ لگاتار بھیجے جاتے رہے (المؤمنون ۴۴) پیغمبروں کے اس سلسلہ کی آخری کڑی محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب تھے۔ ۶۳۲ ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ خدا کے فیصلہ کے مطابق، آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ نبوت کے کام کی ضرورت بدستور باقی ہے۔ خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد لوگوں کو آگاہ کرنے کا یہ کام آپ کی امت کے ذریعہ انجام دیا جائے۔ خدا کے اس فیصلہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: تا کہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو (الحج ۷۸)

اس خدائی انتظام کے تحت یہ ہوا کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد حق کی پیغام رسانی کا کام آپ کی

امت کے ذریعہ ہونے لگا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف آخر سے لے کر اٹھارویں صدی کے نصف اول تک یہ کام بذریعہ امت مسلسل جاری رہا۔ اس کے بعد خدا نے اپنے خصوصی انتظام کے تحت دعوت کے اس کام کو خود انسانی تاریخ میں ایک عمل (process) کے طور پر داخل کر دیا۔ اس طرح اس انتہا ہی نظام کے تین دور قرار پاتے ہیں۔

رسولوں کے ذریعہ آغاز انسانیت سے ساتویں صدی کے نصف اول تک۔

امت محمدی کے ذریعہ ساتویں صدی کے نصف ثانی سے لے کر اٹھارویں صدی کے نصف اول تک۔

تاریخی عمل کے ذریعہ اٹھارویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بعد کے زمانہ تک۔ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کو دنیا کے بڑے رقبہ میں سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا۔ اقتدار کے زمانہ میں مسلمان نسل در نسل کم وبیش دعوت کے عمل کو انجام دیتے رہے۔ اس پر امن دعوتی عمل کی تفصیل ٹی ڈبلیو آرنلڈ کی ۵۰۸ صفحہ کی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The preachings of Islam (1896)

اٹھارویں صدی میں یہ ہوا کہ یورپ کی نو آبادیاتی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر اٹھیں اور انہوں نے پوری مسلم دنیا پر سیاسی غلبہ قائم کر دیا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، مسلمانوں کے لیے یہ داخلی احتساب (introspection) کا وقت تھا مگر مسلم رہنما رد عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ نے اس وقت مسلمانوں کو شکایت اور احتجاج میں مبتلا کر دیا۔ وہ غالب قوموں کے خلاف نفرت اور انتقام کی نفسیات میں جینے لگے۔

یہ منفی ذہن ابتدا ء یورپی قوموں کے خلاف پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ پھیلتا رہا یہاں تک کہ وہ تمام غیر مسلم قوموں تک پہنچ گیا۔ یورپی، امریکی، عیسائی، یہودی، ہندو، غرض دنیا کی تمام قومیں مسلمانوں کے لیے نفرت کا موضوع بن گئیں۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دعوت الی اللہ کے کام کے لیے پوری طرح نا اہل ہوگئے۔ انسانی خیر خواہی (human interest) ان کا کنسرن (concern)

وہ اپنی قوم اور غیر قوم کی ٴ" بہانہ تقسیم میں جینے لگے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلمانوں کی ۷۵ آزاد حکومتیں بن گئیں۔ مگر مسلمانوں کی نفرت اغیار بدستور باقی ہے۔ کیوں کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اپنی کوتاہی کا الزام دوسروں کو دینا چاہتے تھے۔

اب مسلمانوں میں دعوتی تحریکوں کے بجائے جہادی تحریکیں جاری ہوگئیں۔ پرامن دعوتی تحریک کی علامت تھے۔ اب یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا میں سیاسی تحریکیں مسلح جہاد کی علامت بن کر ابھر آئیں ۔ صوفیاء کا مزاج صلح کل (peace with all) کے اصول پر قائم تھا۔ لیکن ردعمل کے تحت اٹھنے والی سیاسی تحریکوں کا نعرہ یہ ہوگیا کہ آؤ ہم جنگ کریں، آؤ ہم جنگ کریں، کیوں کہ جنگ ہی کامیابی کا راستہ ہے:

Printed page