ہلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد
Al-Risala, April 2005, pp. 15–22
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد و انقلاب کے نام پر اٹھنے والی ان سیاسی تحریکوں نے ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں کو نفرت کا موضوع بنا دیا۔ ان کی سوچ نفرت کی سوچ بن گئی۔ تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان نفرت کی زبان میں کلام کرنے لگے۔ اس طرح ساری دنیا کے مسلمانوں نے یہ صلاحیت کھودی کہ وہ غیر مسلم قوموں کو خدا کے دین کا پیغام پہنچا سکیں ۔
مگر خدا کا انتباہی نظام (warning system) رکنے والا نہ تھا۔ خدا جس طرح سورج کے ذریعہ مادی روشنی دنیا والوں کو پہنچا رہا ہے۔ اسی طرح خدا کو یہ مطلوب ہے کہ دعوت اسلام کے ذریعہ سچائی کی روشنی بلا انقطاع دنیا والوں تک پہنچتی رہے۔ چنانچہ جب مسلمان اپنی منفی نفسیات کی بنا پر دعوت کے کام کے لیے نااہل ہو گئے تو وہ واقعہ ہوا جس کو مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر انسان چپ رہیں تو پتھر چلا اٹھیں گے :
I tell you that if these should keep silent, the stones would immediately cry out. (Luke, 19:40)
واقعات بتاتے ہیں کہ ۱۹ ویں صدی اور ۲۰ ویں صدی میں مسلمانوں نے دعوت کا عمل
پوری طرح چھوڑ دیا۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی مدعو قوموں کو اپنا دشمن سمجھ لیا۔ وہ ان کو ہلاک کرنے کے در پے ہو گئے ۔ ان کی مسجدوں میں مدعو قوموں کے خلاف ہلاکت اور تد میر دیار کی بد دعائیں ہونے ان کے نوجوان مدعو قوموں کے خلاف ہر ممکن تشدد کرنے لگے۔ اس طرح دعوتی عمل کے لیے مسلمانوں کی نا اہلی آخری طور پر ثابت ہو گئی۔ اس بنا پر مسلمانوں کے ساتھ خدا کا معاملہ وہ ہوا جس کو بائبل کے ایک پیغمبر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: وہ مردود چاندی کہلائیں گے کیوں کہ خداوند نے ان کو رد کر دیا ہے:
People will call them rejected silver, because the Lord has rejected them. (Jeremiah, 6:30)
اب دعوتی عمل کا وہ دور شروع ہوا جس کو ہم نے تیسرا دور کہا ہے۔ اب خدا نے یہ کیا کہ خود تاریخ انسانی میں دعوت کے کام کو ایک پراسس(process) کے طور پر داخل کر دیا۔ یہ پراسس اس دور میں شروع ہوا جس کو دوسرے الفاظ میں ما بعد سائنسی دور (post-scientific era) کہا جاتا ہے۔ اس تاریخی عمل کا اشارہ حدیث میں ان الفاظ میں پایا جاتا ہے:
لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا ادخله الله كلمة الاسلام (مسند احمد ۴/ یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا مگر یہ کہ خدا اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
اس حدیث میں کلمہ اسلام کی عمومی اشاعت کے عمل کو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے جب کہ دعوت کے پہلے دور میں اس کو رسولوں کی طرف اور اس کے دوسرے دور میں اس کو امت محمدی کی طرف منسوب کیا گیا تھا۔ گویا انسانی زبان میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دعوت کے تیسرے دور میں خدا دعوتی عمل کا چارج خود اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ مذکورہ حدیث میں اس بات کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ جب ایسا ہوگا تو دعوتی عمل کی رفتار بھی بہت تیز ہو جائے گی۔
موجودہ زمانہ میں یہ تیسرا دعوتی منصوبہ پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ
مسلمانوں کی طرف سے کسی دعوتی کوشش کے بغیر اسلام اپنے آپ نہایت تیزی سے پورے کرہ ارض میں پھیل رہا ہے۔ مسلمان اپنی منفی سیاست کی بنا پر اپنی مسجدوں میں غیر مسلم قوموں کے لیے (اللهم اهلكهم، اللهم دمر ديارهم کی بد دعائیں کر رہے تھے۔ مگر خدا اس کے برعکس غیر مسلموں کے دل میں دین حق کی آواز پہنچارہا تھا۔ یہاں تک کہ یہ غیر مسلم قومیں تیزی سے اسلام کی طرف مائل
مذہب کے حوالے سے حال میں جو عالمی جائزے شائع ہوئے ہیں ان کے مطابق، اس وقت صرف امریکا میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ (100,000) لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ جائزوں کے مطابق، اسلام اس وقت ہر دوسرے مذہب کے مقابلہ میں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہا چنانچہ ان رپورٹوں میں اس قسم کے الفاظ پڑھنے کو ملتے ہیں:
1. Islam is the fastest growing religion in the world. 2. Islam is world's fastest growing religion. 3. The religion of Islam is growing faster than any other religion in the world. (Radiance weekly, New Delhi, 19-25 Dec. 2004)
اسلام کی یہ تیز رفتار اشاعت اتفاقی نہیں ہے۔ وہ مسلمانوں کی کسی دعوتی کوشش کا نتیجہ بھی وہ مکمل طور پر خدا کی منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا ہے۔ یہ واقعہ خدا کے اس قانون کے تحت ظاہر ہوا ہے جس کو مذکورہ حوالہ کے مطابق بائبل میں اس طرح کہا گیا تھا کہ انسان اگر نہ بولیں تو پتھر بولیں گے (If man failed to speak, stones would speak)۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے دوسری قوموں کو قابل نفرت سمجھ کر ان کو اسلام کی طرف بلانا چھوڑ دیا تو "پتھر" خدا کی طرف سے بولنے اس تاریخی عمل کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کی کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں غالباً پہلی تبدیلی وہ ہے جس کو پرنٹنگ پریس کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں ۔ یہ ایک بہت دیر طلب کام تھا۔ کیوں کہ لمبی مدت کے بعد صرف چند کتابیں ہاتھ سے لکھ کر تیار کی جاسکتی تھیں ۔ پرنٹنگ پریس کی دریافت نے اس کو ممکن بنادیا کہ کسی کتاب
کا ایک صحیح نسخہ لکھا جائے اور پھر بہت کم مدت میں اس کی لاکھوں کاپیاں تیار کر لی جائیں۔ چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعہ اشاعتِ اسلام کا عمل سیکڑوں گنا زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہو گیا۔ کتابوں کے مطالعہ کے ذریعہ لاکھوں لوگ اپنے آپ اسلام کے قریب آئے۔ مثلاً ہنگری کے مستشرق ڈاکٹر عبد الکریم جر مانوس نے اسی طرح کتابوں کے ذریعہ سے اسلام کو جانا اور اس کو قبول کر لیا۔ موجودہ زمانہ میں نئی قسم کی تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں، اسٹیم شپ، ریلوے ٹرین، موٹر کار، ہوائی جہاز، وغیرہ۔ ان نئی سواریوں کی ایجاد کے بعد سفر بہت زیادہ بڑھ گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ دنیا میں اختلاط (interaction) میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ لوگ دنیا کے ہر حصہ میں آنے اور جانے لگے۔ اس طرح انسانی اختلاط کے دوران براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دعوت کا عمل ہونے لگا۔ اس کی ایک مثال آسٹریا کے لیو پولڈ اسد کی ہے۔ وہ جرنلسٹ کے طور پر سعودی عرب وہاں لوگوں سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے اسلام کو دریافت کیا اور پھر بطور خود اسلام میں داخل ہو گئے۔
موجودہ زمانہ میں ٹیلی ویژن نے اتنا زیادہ پھیلاؤ حاصل کیا ہے کہ ہر جگہ اور ہر گھر میں ٹی وی سیٹ پہنچ گیا ہے۔ ٹی وی نے جس طرح دوسری خبروں کو نشر کیا اسی طرح اسلام کے متعلق خبروں کو بھی وہ روزانہ نشر کرنے لگا۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے شاہ فیصل کو جب گولی ماری گئی تو آخر وقت میں ان کی زبان سے نکلا اشهد ان لا اله الا الله وأشهد ان محمدا عبده و رسوله۔ اس واقعہ کو ساری دنیا میں ٹیلی ویژن اسکرین پر باتصویر انداز میں دکھایا گیا۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات ہیں جو ہر دن ٹی وی اسکرین پر آتے رہتے ہیں اور اس طرح اسلام کا پیغام کسی نہ کسی صورت میں ہر گھر میں پہنچ رہا ہے۔ میرے ذاتی علم کے مطابق، دہلی کے ایک بڑے تاجر رام رتن کپلاٹی وی کے پروگراموں کو دیکھ کر اسلام سے متعارف ہوئے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔
سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانہ میں جو نئی چیزیں پیدا ہوئیں اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو روح تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی نئی نئی دریافتوں نے لوگوں کے
اندر بہت بڑے پیمانہ پر تجسس کی روح جگادی۔ یہ تجس مادی دنیا کے مطالعہ سے شروع ہوا اور پھر وہ تمام شعبوں تک پھیل گیا۔ چنانچہ اس کے زیر اثر مذاہب کا مطالعہ بھی بہت بڑے پیمانہ پر کیا جانے لگا۔ انسانی تاریخ میں یہ ایک نیا ظاہر ہ تھا۔ اس کے نتیجہ میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اسلام سے متعارف مثال کے طور پر بنگال کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیای اسی طرح اسلام کے قریب پہنچے اور پھر وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔
قدیم زمانہ میں مذاہب کا مطالعہ متعصبانہ انداز میں کیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ چیزوں کو سائنٹفک نقطہ نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اس کے نتیجہ میں مذاہب کا غیر متعصبانہ مطالعہ مطالعہ کا یہ سلسلہ اسلام تک بھی پہنچا۔ چنانچہ میرے ذاتی علم کے مطابق، موجودہ زمانہ میں اسلام کے موضوع پر لکھی جانے والی اکثر بہترین کتابیں وہ ہیں جو غیر مسلموں نے لکھی ہیں۔ سے چند کے نام یہ ہیں :
1. Prof. T. W. Arnold, The preachings of Islam. 2. Dr. Mourice Bukaue, Bible, The Science and Qur'an. 3. Dr. Michael H. Hart, The 100 4. Karen Armstrong, Mohammad سائنسی تحقیقات کے تحت جو چیزیں دریافت ہوئیں وہ اصلاً سیکولر تحقیق کا نتیجہ تھیں ۔ کے ذریعہ سے بہت سے ایسے حقائق سامنے آئے جو قرآن کے عقائد کی سائنسی تصدیق کے ہم معنیٰ ان حقائق کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک تحقیق کا حوالہ دیا جاسکتا ہے، وہ ہے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ۔
جدید دور میں بنو فکری انقلابات آئے ان میں سے ایک اہم انقلاب وہ تھا جس کو مذہبی آزادی (religious freedom) کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ آج انسان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوئی۔ جب تک کوئی شخص تشدد نہ کرے اس کو مذہب کی مکمل آزادی حاصل رہے اسی آزادی نے اس قدیم برائی کو ختم کیا جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج مسیحی دنیا میں اتنے بڑے بڑے اسلامی مراکز قائم ہیں جو مسلم ملکوں میں بھی اس تبدیلی نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی اشاعت کے تمام بند دروازے کھول دیے۔ بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اقوام عالم کی عالمی تنظیم (U.N.O) کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے سرکاری طور پر یہ اعلان کیا کہ ان کے ملکوں میں لوگوں کو کامل مذہبی آزادی حاصل رہے گی۔ کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ کسی کی مذہبی آزادی میں رکاوٹ ڈالے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام کا پیغام ہر جگہ پہنچنے لگے۔
۸- جدید دور میں سائنسی مطالعہ نے ایک کام یہ کیا ہے کہ اُس نے شرک کی نظریاتی جڑ کاٹ قدیم زمانہ میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں جب کئی طرح کی چیزیں ہیں تو خداؤں کی تعداد بھی کئی اسی کے زیر اثر شرک (polytheism) کا عقیدہ پیدا ہوا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ بظاہر مختلف ہونے کے باوجود تمام چیزوں کی اصل بالآخرا یک ہے۔ اور وہ ایک برقی لہر ہے جس کو الکٹران (electron) کہا جاتا ہے۔ اسی لیے ایک سائنسداں نے کہا ہے کہ: The world is nothing but a mad dance of electrons. اس طرح جدید دریافت نے شرک کو بے بنیاد ثابت کیا اور توحید کے حق میں ایک نظریاتی بنیاد فراہم
۹- موجودہ زمانہ میں جونئی چیزیں وجود میں آئی ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جس کو ادارے (institutions) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں انسانی سماج میں صرف ایک ہی ادارہ ہوا کرتا تھا، اور وہ سیاسی ادارہ تھا جس میں صرف بادشاہ کو سپریم حیثیت حاصل ہوتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں سیاست کا دائرہ محدود ہو گیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ غیر سیاسی ادارے قائم کر کے وہ سب کچھ آزادانہ طور پر کیا جاسکے جس کو پہلے صرف سیاسی ادارہ کے تحت ہی ممکن سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار سیاسی اقتدار کا مرکزی رول ختم ہو گیا۔ اب سیاسی اقتدار کے بغیر سب کچھ کرنا ممکن ہو گیا۔ اس عموم میں بلاشبہ مذہب کی آزادانہ اشاعت بھی شامل ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللهم لا عيش الا الآخرة (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب ما جاء فى الرقاق، وأن لا عيش إلا عيش الآخرة) ۔ یعنی عیش (pleasure) دنیا میں نہیں، وہ صرف آخرت میں ہے۔ اس اعتبار سے اس حقیقت کا نہایت گہرا تعلق دعوت کے عمل سے ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں یہ حقیقت زیادہ تر عقیدہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں اس کی حیثیت ہر ایک کے لیے ذاتی تجربہ کی ہوگئی ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کو خدا نے ایک معیار پسند (perfectionist) مخلوق کی حیثیت سے پیدا مگر ہر ایک کو موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں موجودہ دنیا میں رہنا پڑتا ہے، اور یہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ طالب اور مطلوب کے درمیان یہی وہ تضاد ہے جس کی بنا پر دنیا کا ساز وسامان کسی کو حقیقی طور پر خوشی نہیں دیتا۔ موجودہ دنیا کی یہ صورت حال ایک خاموش پیغام ہے کہ اے انسان، تو اگر اپنی مطلوب خوشی کو پانا چاہتا ہے تو اس کو موت کے بعد کی دنیا میں تلاش کر۔ کیوں کہ موت سے پہلے کی دنیا میں وہ تجھ کو ملنے والی ہی نہیں۔ اسلامی دعوت کے اعتبار سے یہ بات بہت زیادہ اہم ہے۔ مگر قدیم زرعی دور میں صرف بڑے بڑے مالکانِ زمین (landlords) ہی کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اس عظیم حقیقت کو ذاتی تجربہ کے تحت چنانچہ فصد عوام اقتصادی ذرائع سے محروم ہونے کی بنا پر اس حقیقت کا ذاتی تجربہ کرنے کی پوزیشن ہی میں نہیں تھے۔ وہ شعوری طور پر اس حقیقت سے غافل رہ کر صرف اس حسرت میں جیتے تھے اور مر جاتے تھے کہ اگر ہمارے پاس دولت ہوتی تو ہم بھی دنیا کے اچھے سامان حاصل کرتے اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے۔
موجودہ زمانہ میں صنعت اور ٹیکنالوجی میں جو ترقی ہوئی ہے اُس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اقتصادی مواقع کے عمومی پھیلاؤ نے مال کو ہر آدمی کی دسترس تک پہنچا دیا ہے۔ اب ہر آدمی کے لیے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ
اچھے سامان حیات کے درمیان رہ سکے۔ اقتصادی تو سیع کے اسی ظاہر ہ کو حدیث جبریل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : أن ترى الحفاة العراة يتطاولون في البنيان (صحيح البخاری)۔ موجودہ زمانہ کو کنزیومرزم (consumerism) کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس زمانی تقاضے کے نتیجہ میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع ملا کہ وہ دنیا کی خوش نما چیزوں کو حاصل کر سکے اور ان کے درمیان جئۓ۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ لوگ ان خوش نما چیزوں کے ملنے سے پہلے جتنے غیر مطمئن تھے، اتنے ہی غیر مطمئن وہ اُن کے ملنے کے بعد بھی رہے۔ اس طرح مذکورہ حدیث میں بیان کی جانے والی حقیقت موجودہ زمانہ میں ہر عورت اور مرد کا ذاتی تجربہ بن گئی۔
اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ جب لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے تو یہ بات ہر ایک کے لیے ایک قابل فہم بات ہو۔ ہر ایک اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر یہ سمجھ سکے کہ اسلام میں جنت کی دعوت بلا شبہ ایک حقیقی دعوت ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت میں دبے ہوئے جذبات کے تحت اپنے لیے ایک آئیڈیل دنیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کا یہ کہنا ہے کہ یہ آئیڈیل دنیا موت سے پہلے کی زندگی میں مل وہ صرف موت کے بعد کی زندگی میں بشرط استحقاق ملے گی۔ اسلام کی یہ دعوت قدیم زمانہ میں زیادہ تر ایک عقیدہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں وہ ذاتی تجربہ کے تحت ہر انسان کے لیے ایک معلوم حقیقت بن چکی ہے۔
دور جدید میں ظاہر ہونے والے ان واقعات نے اسلام کی دعوت واشاعت کے لیے انتہائی وسیع نئے امکانات کھول دیے ہیں۔ یہ امکانات اتنے زیادہ طاقتور ہیں کہ وہ اپنے آپ لوگوں تک اسلام کو پہنچانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ مسلمانوں نے اگر چہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام چھوڑ دیا تھا مگر مذکورہ قسم کے نئے واقعات کی بنا پر دعوت کا کام خود خدائی انتظام کے تحت جاری ہو گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ خود اپنے زور پر اپنے دین کا پیغام ساری دنیا میں ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچا رہا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ کوئی بھی عورت یا مرد اس پیغام سے بے خبر نہ رہے اور تمام انسانوں کے اوپر خدا کی حجت تمام ہو جائے۔