دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
Al-Risala, April 2005, pp. 23–29
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں، قرآن و حدیث کے بعد، فقہ کو شریعت کا تیسرا مآخذ سمجھا جاتا ہے۔ تا ہم فقہ ایک استنباطی یا اجتہادی علم ہے نہ کہ مبنی بروحی علم۔ فقہ کی تدوین رسول اور اصحاب رسول کے بعد عباسی خلافت کے زمانہ میں ہوئی۔ اس دور کے فقہاء نے قرآن و حدیث سے استنباط کر کے جو نئی اصطلاحیں وضع کیں ان میں سے تین اصطلاحیں یہ تھیں— دارالاسلام، دارالکفر اور دارالحرب۔ فقہاء نے اپنے مخصوص مزاج کے مطابق، دار الاسلام، دار الکفر اور دارالحرب کی ذیلی تقسیمات بھی کی ہیں اور اس طرح ہر ایک دار کو کئی دار کی صورت میں بیان کیا ہے۔ مگر یہ ذیلی تقسیمات ہمارے نزدیک اضافی ہیں۔ ہم نے ذیلی تقسیمات سے قطع نظر کرتے ہوئے اس مقالہ میں صرف بنیادی تقسیم کو سامنے رکھا ہے اور اس سہگانہ تقسیم کے اعتبار سے ہر ایک کے شرعی احکام بیان کئے ہیں۔ عباسی دور کے جن فقہاء نے یہ اصطلاحیں بنائیں ان میں سے ہر فقیہ کو بعد کے علماء نے مجتہد مطلق کا درجہ دے دیا تھا۔ اس لیے پچھلے ہزار سال میں کسی نے ان اصطلاحات کی صحت پر سوال لیکن اگر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فقہاء کی یہ اصطلاحات یقینی طور پر روح اسلام کے مطابق نہ تھیں۔
فقہاء کی بنائی ہوئی یہ اصطلاحیں قرآن و سنت میں موجود نہ تھیں۔ فقہاء نے اپنے حق اجتہاد کو استعمال کرتے ہوئے بطور خود ان اصطلاحوں کو وضع کیا۔ مگر یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اجتہاد کی کچھ جائز اجتہاد وہی ہے جس میں یہ شرطیں پوری طرح پائی جاتی ہوں۔ جس اجتہاد میں یہ شرطیں نہ پائی جائیں وہ یقینی طور پر غلط اجتہاد قرار پائے گا۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ: المجتہد يخطی ويصیب (مجتہد کا اجتہاد صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی)۔
اجتہاد شریعت کا ایک اصول ہے۔ علماء نے عام طور پر مانا ہے کہ اجتہاد کے اصول کا شرعی ماخذ وہ حدیث ہے جو صحابی رسول معاذ بن جبل کے حوالہ سے نقل ہوئی ہے۔ وہ حدیث یہ
: عن معاذ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بعثه إلى اليمن فقال كيف تصنع إن عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال اجتهد رائی ولا آلو قال فضرب رسول الله صدری ثم قال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول الله (ابوداؤد، كتاب الأقضية، الترمذی، کتاب الأحکام، النسائی، کتاب القضاة، ابن ماجه، کتاب المناسک، مسند احمد ۵ / معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو اُن سے کہا کہ اگر تمہارے سامنے کوئی معاملہ پیش آئے تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا کہ اگر تم خدا کی کتاب میں نہ پاؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ کی سنت کی رُو سے فیصلہ کروں گا۔ فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ کی سنت میں نہ پاؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کُمی نہیں کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی، جس پر اللہ کا رسول راضی ہے۔
علماء اور فقہاء کے نزدیک یہی حدیث اصولِ اجتہاد کا بنیادی ماخذ ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عالم کے لیے اجتہاد کرنا کب جائز ہے۔ وہ اُس وقت جائز ہے جب کہ خدا کی کتاب اور رسول خدا کی سنت میں زیر بحث مسئلہ کے بارے میں کوئی رہنمائی موجود نہ ہو۔ کتاب و سنت میں متعلقہ مسئلہ کے بارہ میں واضح رہنمائی موجود ہو تو اجتہاد کرنا جائز نہ ہوگا۔ طور پر قرآن سے ثابت ہے کہ روزہ رمضان کے مہینہ میں مقرر کیا گیا ہے۔ اب روزہ کے مہینہ کے بارہ میں کسی کے لیے کوئی نیا اجتہادی حکم وضع کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ فرض نمازیں ایسی حالت میں کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ فرض نمازوں کی تعداد کے بارہ میں اجتہاد کر کے اِس میں کمی یا بیشی کرے۔
اس اصول کی روشنی میں دیکھیے تو دارالاسلام اور دارالکفر اور دارالحرب کی اصطلاحوں کے بارے میں کتاب وسنت میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ ایسی حالت میں کسی عالم یا فقیہ کے لیے یہ درست نہیں کہ اس رہنمائی کے باوجود وہ اس معاملہ میں اجتہاد کر کے بطور خود نئی اصطلاحیں
فقہاء نے جن حالات کی نشاندہی کر کے ان کے تسمیہ (nomenclature) کے لیے یہ تین بنیادی اصطلاحیں وضع کی ہیں وہ حالات مبینہ طور پر دور نبوت میں موجود تھے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات کے لیے فقہاء جیسی اصطلاحیں مقرر نہیں فرمائیں۔ حالت میں اصطلاح سازی کا یہ معاملہ اجتہادی اجازت سے خارج قرار پائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں عین اسی نوعیت کے حالات تھے جن حالات کے حوالہ سے بعد کو فقہاء نے دارالکفر کی اصطلاح وضع کی ۔ فقہاء کی تقسیم کے مطابق، بعثت سے لے کر ہجرت تک کا مکہ حکماً دار الکفر کی حیثیت رکھتا تھا۔ قرآن میں اور نہ حدیث میں ایسا کوئی حوالہ موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ قبل از ہجرت (pre-migration) کے لیے دارالکفر کی اصطلاح مقرر کی گئی۔
رسول اللہ کی ہجرت کے بعد اہل مکہ نے کھلے طور پر آپ کے خلاف مسلح کارروائی شروع اس طرح ہجرت کے بعد مسلمان اور اہل مکہ ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ (at war) ہو گئے ۔ گویا ہجرت کے بعد (post-migration) مکہ میں عین وہی حالت پیدا ہو گئی جس کو ایک نام دینے کے لیے بعد کے فقہاء نے دارالحرب کی اصطلاح وضع کی۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، قرآن وحدیث میں بعد از ہجرت مکہ کے لیے کبھی ایسی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی۔ نہ قرآن میں اعلان کیا گیا کہ مکہ اب دارالحرب ہو چکا ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اُس وقت کے مکہ کے لیے دارالحرب کا لفظ استعمال فرمایا۔
جیسا کہ معلوم ہے، ہجرت کے بعد مدینہ میں پیغمبر اسلام کی سربراہی میں مسلمانوں کی وہ
اجتماعی تنظیم قائم ہوگئی جس کو اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں عین وہی حالت پیدا ہوگئی جس کو بتانے کے لیے فقہاء دار الاسلام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ مگر اب بھی ایسا نہیں ہوا کہ قرآن میں اُس وقت کے مدینہ کے لیے دارالاسلام کا لفظ استعمال کیا جائے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کے مدینہ کو کبھی دار الاسلام کا لقب عطا فرمایا۔ قرآن میں جنت کے لیے دار السلام (یونس ۲۵) کا لفظ آیا ہے مگر کسی زمینی خطہ کے لیے دارالاسلام یا دار الایمان کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اسی طرح قرآن میں منکرين حق کی اخروی قیام گاہ کو دارالبوار (ابراہیم ۲۸) کہا گیا مگر کسی زمینی خطہ کو قرآن میں دار الكفر يا دار الكفار نہیں کہا گیا۔ گویا کہ فقہاء کی تقسیم کے مطابق ، دار الاسلام ، دار الكفر اور دار الحرب جیسے حالات کی موجودگی کے باوجود یہ جائز نہیں کہ ان کو بتانے کے لیے دار الاسلام ، دار الحرب یا دار الكفر کے الفاظ استعمال کیے جائیں ۔ یہ اصطلاح سازی ایک بدعت ہے، نہ کہ سنت۔
مذکورہ تجزیہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ فقہاء نے جن ارضی تقسیمات کو بتانے کے لیے دار الاسلام اور دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں وضع کیں، وہ تقسیمات خود زمانہ نبوت میں عملاً ظہور میں آچکی تھیں۔ مگر ان کو بتانے کے لیے کتاب وسنت میں ان سہگانہ اصطلاحوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ عباسی دور کے فقہاء نے ان اصطلاحوں کو وضع کرنے میں حدود اجتہاد سے تجاوز کیا۔ فقہاء نے ایک ایسے معاملہ میں اجتہاد کیا جس کے لیے انہیں شرعی طور پر مجاز نہیں کیا گیا تھا۔
ایسی حالت میں محفوظ طور پر صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقہاء کی یہ اصطلاح سازی اجتہادی خطا کا ایک واقعہ تھا، وہ یقینی طور پر اجتہادی صحت کا واقعہ نہ تھا۔ ایسی حالت میں اسلام کے ایک اسٹوڈنٹ کو جائز طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس اجتہاد کو تسلیم نہ کرے ۔ اگر شرعی زبان استعمال کی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ ایک اصطلاحی بدعت تھی اور وہ بہر حال اس قابل ہے کہ اس کو رد کر دیا جائے۔ کہ حدیث میں واضح طور پر آیا ہے کہ: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
(البخاری، مسلم) یعنی جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی چیز نکالے جو اس میں نہیں ہے تو وہ قابلِ رد ہے۔ دار الاسلام اور دار الکفر اور دار الحرب کی اصطلاحات بطور خود وضع کرنے کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو عالمی طرزِ فکر (world view) سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے ذہنی رخ کو متعین کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کی پوری سوچ کی تشکیل کرنے والا ہے۔ وہ مسلمانوں کے اندر شعب اللہ المختّار (chosen people) کا ذہن بناتا ہے۔ ذہن کسی قوم کے تنزل کی علامت ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے، یہ ذہن یہودیوں میں اس وقت پیدا ہوا جب کہ وہ تنزل کا شکار ہو چکے تھے۔
قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا انسانی معاشروں کو دار الاسلام اور دار الکفر اور دار الحرب میں تقسیم کر کے نہیں دیکھتا۔ خدا تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور ایک ہی اصول کی روشنی میں وہ تمام انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے والا ہے۔ چنانچہ قرآن میں مسلمانوں کے اس ذہن کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں خدا کے زیادہ محبوب بندے ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے یہاں کسی شخص کی قدر و قیمت نسلی تعلق سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذاتی عمل سے متعین ہوتی ہے (النجم ۳۹) قرآن میں مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ بریکٹ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: ليس بأمانيكم ولا أماني أهل الكتاب من يعمل سوء ا یجز بہ (النساء ۱۲۳) یعنی نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ بھی برا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ گروہی فضیلت یا گروہی نجات کا تصور قرآن میں ایک اجنبی تصور ہے۔ سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کافی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو کوئی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے (البقرہ ۶۲) یعنی مسلم گروہ، مسیحی گروہ، یہودی گروہ سب گروہی
اعتبار سے خدا کے نزدیک یکساں ہیں۔ خدا کی عدالت میں کامیابی کا فیصلہ گروہی تعلق کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ حقیقی کردار کی بنیاد پر ہوگا۔
اس طرح کے قرآنی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ صحیح اسلامی نقطہ نظریہ ہے کہ انسانوں کو خدا کی نسبت سے (God vs man) دیکھا جائے نہ کہ مسلم و رُسزنانِ مسلم (Muslim vs non-Muslim) کی نسبت سے۔ کسی کا جو مقام خدا کی نسبت سے متعین ہو، وہی اس کا مقام ہے، دنیا میں بھی اور آخرت مسلمانوں کی نسبت سے دوسرے انسانوں کا مقام (status) متعین کرنا ایک قومی نقطہ نظر ہے، اس کا قرآن یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف کیوں کہ خدا نے یہ دنیا سارے انسانوں کے لیے بنائی ہے، نہ کہ صرف مسلمانوں کے لیے۔ قرآن میں خدا جب لوگوں کو خطاب کرتا ہے تو وہ بار بار ایہا الانسان اور ایہا الناس جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کی روشنی میں دار کا تعین کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ ساری دنیا دار الانسان ہے۔ ایک طرف خدا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔
مذکورہ اصطلاح سازی کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر وہ تفریقی نظریہ پیدا ہوا جس کو ہم اور وہ (we and they) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت مسلمان انسانی تاریخ کو صرف اپنے ریفرنس میں دیکھنے لگے۔ وہ اپنی نسبت سے دوسروں کا درجہ متعین کرنے لگے۔ ایک کو انہوں نے مسلم قوم کہا اور دوسرے کو انہوں نے کافر قوم قرار دیا۔ اب یہ ہوا کہ جو لوگ ان کے اپنے ہم مذہب (co-religionist) تھے ان کو انہوں نے اپنا سمجھا اور جو لوگ دوسرے مذہب پر قائم تھے ان کو انہوں نے غیر (other) کی حیثیت دے دی۔ اپنے سوا جو دوسرے لوگ تھے وہ ان کے لیے یا تو کافر بن گئے یا امکانی دشمن (potential enemy)۔ قرآن کی ساری بشارتیں انہوں نے اپنے خانہ میں لکھ لیں اور قرآن کی ساری وعیدیں انہوں نے دوسروں کے خانہ میں ڈال دیں۔
انسانیت کا درجہ مسلمانوں کے حوالے سے مقرر کرنے کا یہ طریقہ سراسر قرآن کے خلاف تھا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن انسانیت کا درجہ خدا کی نسبت سے متعین کرتا ہے۔
نے دار کی جو تقسیم کی اس نے تاریخ بشری کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر پیدا کیا۔ اس کے مطابق، سارا معاملہ مسلم ورسس نان مسلم کا معاملہ بن گیا۔ مگر قرآن کے مطابق، یہ معاملہ خدا اور کس انسان کا
بعد کے زمانہ میں دار کی نسبت سے بننے والی اس غلط تقسیم نے مسلمانوں کے طرز فکر کو نہایت گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے بعد بننے والی پوری مسلم تاریخ میں جو کتابیں لکھی گئیں وہ تقریباً سب کی سب مسلم اور بینڈ سوچ کے تحت لکھی گئیں۔ سید رشید رضا کی کتاب لما ذا تأخر المسلمون و تقدم غيرهم اور سید ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين کے ٹائٹل اسی طرز فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔
میرے علم کے مطابق، ہزار سال کی مسلم تاریخ میں عبد الرحمن ابن خلدون کی کتاب (مقدمہ ابن خلدون) کو چھوڑ کر غالباً کوئی بھی کتاب ایسی نہیں جو حقیقی معنوں میں انسان اور بینڈ سوچ کے تحت لکھی گئی ہو۔ اس مدت میں غیر مسلموں کو وائیڈریس کرنے کے لیے جو کتابیں لکھی گئیں وہ سب مناظرہ کے اصول پر لکھی گئیں۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ کی کتاب ”الجواب الصحيح لمن بدل دین المسيح“ اور مولانا قاسم نانوتوی کی کتاب اظہار الحق، وغیرہ۔ بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ انسانیت عامہ مسلمانوں کا کنسرن ہی نہیں۔ بعد کے زمانہ میں قرآن اور حدیث کی جو شرحیں لکھی گئیں وہ بھی بعد کو پیدا ہونے والی اس فکر سے متاثر نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں خیر امت (آل عمران ۱۱۰) کا لفظ آیا ہے۔ بعد کی تفسیروں میں اس لفظ کو مسلم کمیونٹی کا گروہی لقب سمجھ لیا گیا۔ چنانچہ یہ کہا جانے لگا کہ مسلمان خیر الامم ہیں : انهم خير الامم (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱/ اسی بات کو حالی نے اس طرح نظم کیا ہے: