Al-Risala · April 2005

وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا

Al-Risala, April 2005, pp. 29–30

By Maulana Wahiduddin Khan

حالاں کہ قرآن کی اس آیت میں خیر امت سے مراد کوئی نسلی گروہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد

صفاتی گروہ ہے۔ اس آیت میں ’’خیر‘‘ کی بشارت ان افراد کو دی گئی ہے جو اس کی مطلوب صفات سے چنانچہ عمر فاروق نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: من فعل فعلہم کان مثلہم (القرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۴ / ۲۰۷ ۱) یعنی جو ان کے جیسا عمل کرے گا وہ اُن کے مانند ہوگا۔ گویا خیر امت کا مدار کردار پر ہے، نہ کہ کسی نسلی گروہ پر۔

اسی طرح سورہ الفاتحہ میں الضالین اور المغضوب علیہم کا مصداق عیسائیوں اور یہودیوں کو قرار دے دیا گیا۔ حالاں کہ یہ شخصی کردار کی بات ہے اور اس کا تعلق تمام انسانوں بشمول مسلمانوں سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی گروہ سے۔

حدیث کی شرحوں میں بھی اس کا اثر پوری طرح دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر روایات میں آیا ہے کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔ آپ اس وقت بیٹھے جنازہ کو دیکھ کر آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ نے فرمایا کہ: الیست نفساً۔ یعنی کیا وہ انسان نہیں:

Printed page