Was he not a human being.
Al-Risala, April 2005, pp. 30–35
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ واقعہ صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب من قام لجنازۃ یہودی کے تحت آیا ہے۔ اسلام کا یہ عمل واضح طور پر بتاتا ہے کہ ہر انسان عزت اور احترام کے قابل ہے، خواہ اس کا مذہب کچھ بھی اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا یہ طریقہ ہے کہ ہر انسان کو اپنے جیسا انسان انسان کو دیکھ کر یہ یاد کرو کہ جس خدا نے مجھ کو پیدا کیا ہے اسی خدا نے اس دوسرے انسان کو بھی پیدا کیا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ انسان کو دیکھ کر خدا کے تخلیقی کرشموں کو یاد کرے ۔ کسی انسان کا مشاہدہ اس کے لیے خدا سے تعارف کا ذریعہ بن جائے۔
یہ روایت بلاشبہ احترام انسانیت کے بارہ میں پیغمبر اسلام کی سنت کو بتاتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ حدیث کے شارحین میں سے کسی کو اس واقعہ میں احترام انسانیت کا سبق نہیں ملا۔ اس کے برعکس لوگوں نے اس سنت رسول کی تشریح میں عجیب وغریب باتیں لکھی ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ
کھڑے ہو گئے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جنازہ کے ساتھ بخور کی بو کی وجہ سے آپ بطور کراہت کھڑے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ اس لیے کھڑے ہو گئے کہ جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے نہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ وقتی بیان جواز کے لیے کھڑے ہوئے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابتداء میں آپ نے قیام فرمایا تھا مگر بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اب وہ مسلمانوں سے مطلوب نہیں، (ابن حجر العسقلانی، فتح الباری، جلد ۳، صفحه ۲۱۴-۲۱۶)
یہ تشریحات بلاشبہ نادرست ہیں۔ مگر مخصوص محل بحث کی بنا پر شارحین کو اس کا احساس نہیں ہوا کہ وہ سنت رسول کی ایسی تشریح کر رہے ہیں جو نعوذ باللہ سنت کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔ یہ سلسلہ آج تک بدستور جاری ہے ۔ موجودہ زمانہ میں پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے بعد مسلمانوں کے درمیان بے شمار نئی سرگرمیاں جاری ہوئیں ۔ کتابوں اور جرائد کے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعہ مسلمانوں نے ان گنت سرگرمیاں جاری کیں ۔ مگر یہ تمام سرگرمیاں براہ راست یا بالواسطہ طور پر سابق روش کا امتداد (continuation) تھیں ۔ ان سرگرمیوں سے مسلمانوں کے اپنے قومی ذہن کو تو غذا ملی مگر غیر مسلموں کے لیے ان میں کوئی مثبت مواد موجود نہ تھا۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں میں ایک تازہ مثال نقل کروں گا ۔ حال میں ایک مسلم ملک میں ایک قرآن ٹی وی قائم ہوا ہے جس کو عام طور پر کیوٹی وی (QTV) کہا جاتا ہے ۔ یہ کیوٹی وی یا قرآن ٹی وی مسلمانوں کے درمیان بہت مقبول ہوا ہے ۔ یہ ٹی وی اگرچہ قرآن کے نام پر قائم کیا گیا ہے مگر حقیقتاً وہ صرف مسلم کمیونٹی کی نفسیات کو غذا پہنچانے والا ہے، وہ غیر مسلم ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کا کمیونٹی ٹی وی ہے نہ کہ قرآن ٹی وی۔ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمنز (۴ دسمبر ۲۰۰۳) میں انڈیا کے معروف صحافی
مسٹر خوشونت سنگھ کا تبصرہ اس موضوع پر چھپا ہے جس کا عنوان ہے : Spreading Islamophobia۔
اس عنوان کے تحت مسٹر خوشونت سنگھ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے :
About the most disturbing phenomenon of the past decade is the widening divide between the Islamic and non-Islamic world…… I looked forward to the Pakistani channel, Q (Qur'an) TV, to take the lead in this direction. I made it a point to tune in every afternoon to see and hear how it was going about its mission. I was sorely disappointed. I expected it would address itself to non-Muslim audiences among which wrong notions about Islam persist. I found it focused intirely on Muslims to assure them that their faith was better than any other and anyone who disagreed is an ignoramus. (p. 10) انڈین جرنلسٹ کے مذکورہ الفاظ تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں پر صادق آتے ہیں۔ بعد کے زمانہ میں بننے والا یہ مزاج واحد سبب تھا جس کی بنا پر مسلمانوں کے اندر دعوت کا نشانہ سرے سے مفقود ہو گیا۔ مسلم اور ریفنڈ تھنکنگ مسلمانوں کو مسلم فرینڈلی بناتی ہے۔ جب کہ انسان اور ریفنڈ تھنکنگ مسلمانوں کو انسان فرینڈلی بنانے والی ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوا کہ مسلمان دعوہ ورک اور کمیونٹی ورک کے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وہ کمیونٹی ورک کرتے ہیں اور اس کو دعوہ ورک کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہت پہلے سے چلا آرہا ہے۔ فقہ احکام وشریعت کا بیان ہے۔ فقہ کے موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔ مگر ان کتابوں میں دعوت اور تبلیغ کا باب سرے سے موجود نہیں۔ اسی طرح الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، جمال الدین افغانی، محمد اقبال اور دوسرے تمام مسلم مصنفین کی کتابیں دعوت کے تصور سے خالی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ فقہی تصور کے مطابق، مسلمانوں کے لیے غیر مسلم عملاً جہاد کا موضوع بن گئے، وہ اُن کے لیے سرے سے دعوت کا موضوع نہ بن سکے۔ اس غیر فطری طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم امت ایک طرف فکری جمود کا شکار ہوگئی اور دوسری طرف وہ دوسری قوموں کے لیے صرف ایک حریف گروہ بن کر رہ گئی۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان
داعی اور مدعو کا تعلق ختم ہو گیا۔ اس کے بجائے دونوں کے درمیان حریف اور رقیب کا تعلق قائم ہو گیا۔ فقہاء نے دار کی جو تقسیم کی ہے اس کے مطابق انہیں دکھائی دیا کہ کوئی ملک یا تو دار الاسلام ہوگا یا دار الحرب ہوگا۔ اس معاملہ میں ان کی یہ تقسیمی سوچ اس حد تک پہنچی کہ اکثر فقہاء نے یہ کہا کہ غیر مسلم حکومت میں اگر اسلام کے احکام پر عمل کرنے کی آزادی ہو تب بھی وہ دار الحرب ہی رہے ان فقہاء کے اندر اگر دعوت و تبلیغ کا شعور ہوتا تو وہ جانتے کہ یہاں ایک تیسری مطلوب صورت بھی موجود ہے، اور وہ دار الدعوہ ہے۔
دار الحرب کا لفظ غیر مسلموں کے لیے ایک قابل اعتراض لفظ ہے۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ میں دار الحرب کا تصور لے کر مسلمان کسی سماج میں معتدل انداز میں نہیں رہ سکتے۔ یہ عجیب و غریب صورت اس لیے پیش آئی کہ قدیم فقہاء صرف دو قسم کے دار سے واقف تھے۔ اگر وہ اسلام کی دعوتی تعلیمات کو سمجھتے تو وہ بہت آسانی سے جان لیتے کہ دوسرے ممالک مسلمانوں کے لیے دار الدعوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیوں کہ دوسرے ملکوں میں ہمیشہ دعوت کے مواقع موجود رہتے ہیں۔ حتی کہ کوئی ملک اگر قدیم مکہ کی طرح اہل توحید کا مخالف بن جائے تب بھی وہ بدستور دار الدعوہ بنارہے گا۔ کی کوئی بھی حالت اس کی دار الدعوہ کی حیثیت کو ختم نہیں کرتی، جیسا کہ قرآن میں انبیاء کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے۔
اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ ساری دنیا انسانی قیام گاہ کے اعتبار سے دار الانسان ہے اور اسلامی مشن کے اعتبار سے دار الدعوہ ۔ جن ملکوں کو دار الاسلام کہا جاتا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے دار المسلمین تو ہو سکتے ہیں مگر دار الاسلام نہیں۔
قرآن میں پیغمبر کو ناصح (الاعراف ۶۸) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنی مخاطب قوم کا خیر خواہ۔ پیغمبر ناصح (خیر خواہ) ہے اور اس کی مخاطب قوم منموح ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کی خیر خواہی کی جائے۔ اسی تعلق کو قرآن میں شاہد اور مشہود (البروج (۳) کہا گیا ہے۔ اس تعلق کو دوسرے الفاظ میں داعی اور مدعو کہہ سکتے ہیں۔
مسلمان ختم نبوت کے بعد، ذمہ داری کے اعتبار سے نبی کے قائم مقام (الحج ۷۸) ہیں۔ لیے ان کا معاملہ بھی دوسری قوموں کے مقابلہ میں ناصح اور منسوح یا داعی اور مدعو کا ہے۔ مسلمانوں کے اخلاقی کردار کی تشکیل کرتی ہے۔ داعیانہ نفسیات کا تقاضہ ہے کہ مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر حسن کردار کی پابندی کریں۔ حتیٰ کہ وہ مدعو اقوام کی ایذاؤں پر صبر کریں۔ تا کہ دونوں کے درمیان دعوت کا ماحول باقی رہے۔
یہ داعیانہ کردار بلا شرط مطلوب ہے۔ اس یکطرفہ کردار کا تعلق جس طرح عوام سے ہے اسی طرح اس کا تعلق حکومت کے ذمہ داروں، پارٹیوں کے لیڈروں، میڈیا کے افراد اور دوسرے تمام سماجی طبقوں سے بھی ہے۔ مگر فقہ کی مذکورہ طبقاتی تقسیم نے اس تعلق کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور نفرت کے جذبات بھر گئے۔ جب کہ مدعو ہونے کی حیثیت سے اُن کے ساتھ شکایت اور نفرت کا تعلق رکھنا اُن کے لیے جائز ہی نہ تھا۔ یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس پورے معاملہ کا از سر نو جائزہ (re-examine) از سر نو جائزہ سے کم تر کوئی چیز اس مسئلہ کا حل نہیں بن سکتی۔ یہ بلا شبہ ایک بے حد مشکل مسئلہ ہے۔ جب مسلم کمیونٹی کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہو جائے تو اس کے ساتھ بہت سے کمرشیل انٹرسٹ جڑ جاتے ہیں۔ اب ایک وسیع مسلم مارکیٹ وجود میں آجاتا ہے جس طرح یورپین مارکیٹ اور ایشین مارکیٹ جیسے مارکیٹ بنے ہوئے ہیں۔ مرحلہ میں پہنچ کر وہ مواقع پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں یہود کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: لا تشتروا بآیاتی ثمناً قلیلاً (البقره ۴۱)۔
موجودہ زمانہ میں مسلم دنیا اسی قسم کا ایک وسیع مارکیٹ بن چکی ہے۔ تسبیح اور مصلیٰ سے لے کر لٹریچر اور اسٹیج سب اس میں قیمتی سامان فروخت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو لوگ بھی مسلمانوں کے قومی جذبات کو فیڈ کریں وہ ان کے اندر اپنا عظیم بزنس ایمپائر کھڑا کر سکتے ہیں۔
طویل مدت کے اندر بنے ہوئے اس ذہن کی تصحیح دراصل تجدید (revival) کا کام ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: من أحيا سنة اميتت بعدي فله اجر مأة شہید (جس نے میرے بعد میری کسی مردہ سنت کو زندہ کیا تو اس کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ سو بار لڑ کر شہید ہونا جتنا مشکل کام ہے اتنا ہی مشکل کام یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر ایک ایسی سنت رسول کو دوبارہ زندہ کیا جائے جو صدیوں کے عمل سے گم ہوگئی ہو۔ اس کے لیے نہایت وسیع علم، دوررس منصوبہ بندی، گہری معرفت، حکیمانہ تدبیر، دانش مندی اور صبر کی وافر مقدار ضروری ہے۔ ان شرطوں کو پورا کئے بغیر اس قسم کا تجدیدی کام نہیں کیا جاسکتا۔
یہ کام وہ ہے جس کو تجدید دین کہا جاتا ہے۔ تجدید کے اس کام کو مؤثر طور پر انجام دینا لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو توڑنے کے ہم معنی ہے۔ یہ کنڈیشنڈ ذہنوں کی ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو تاریخ کو ری پراس کرنے کا طالب ہے۔ یہ ہزار سالہ تاریخ کو حذف کر کے اسلام کے دور اول کی طرف لوٹنا ہے اور اسلام کا مطالعہ دوبارہ اس فریم ورک میں کرنا ہے جو اسلام کے دور اول میں تشکیل پایا امت کی نشاۃ ثانیہ کے لیے یہ کام بلاشبہ انتہائی حد تک اہم ہے۔
اس صورت حال نے امت کی اصلاح فکر کے کام کو بے حد مشکل بنا دیا ہے۔ جو لوگ اصلاح فکر کے اس مشن کو لے کر اٹھیں ان کو غیر مقبولیت کی قربانی دے کر یہ کام کرنا ہوگا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: بدأ الاسلام غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء ( صحیح مسلم بحوالہ مشکوۃ المصابیح رقم الحدیث (۱۵۹) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور وہ دوبارہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ شروع کے وقت تھا۔ تو مبارک ہیں وہ لوگ جو اس طرح اجنبی