Leche, Milk
Al-Risala, January 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے ایک ساتھی اس کو گلاس میں لے کر آئے اور کہا کہ یہ لیچی کا ملک ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ لیچی سے بنا ہوا دودھ ہے۔ یہ بات بڑی عجیب تھی۔ پھر میز پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے بتایا کہ یہ لفظ لیچی نہیں ہے بلکہ لٹھے ہے۔ اسپینی زبان میں اس کا مطلب دودھ ہوتا ہے۔ دودھ کے اس برتن پر انہوں نے ایک طرف اسپینی زبان میں لٹھے لکھ دیا اور دوسری طرف انگریزی زبان میں ملک۔ ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس چھوٹی سی مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمیاں کس طرح پیدا ہوتی ہیں۔ میں اپنے تجربہ کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ زندگی میں اکثر اختلاف اور ٹکراؤ اور دشمنی کے واقعات صرف غلط فہمی کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید انسان کے دین اور عقل دونوں کا
سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ غلط فہمی کے مواقع پر اپنے آپ کو غلط فہمی کے شکار ہونے سے بچا سکے۔ میرے نزدیک صرف دو قسم کے لوگ غلط فہمی کی مہلک برائی سے بچ سکتے ہیں۔ ایک وہ مومن جو خدا کی پکڑ کا خوف رکھتا ہو اور اس بنا پر وہ معاملات میں بے حد محتاط ہو گیا۔ ایسا آدمی دوسرے کے بارے میں بری رائے قائم کرنے سے اپنے کو بچائے گا تاکہ اس کو آخرت میں خدا کی طرف سے سزا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے اندر پورے معنوں میں ذہنی بیداری آ چکی ہو۔ شعور اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہو کہ وہ جو کچھ سنے یا دیکھے اس کو وہ فوراً مان نہ لے بلکہ وہ اس کا عقلی تجزیہ وہ واقعہ کی اصل حقیقت تک پہنچ کر اپنی رائے بنائے۔ میرے تجربہ کے مطابق ، آج ننانوے فی صد لوگوں کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک صفت بھی نہیں پائی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بیشتر لوگ نہایت آسانی سے غلط فہمی کا شکار بن جاتے ہیں۔
مجھے اپنی ذات کے معاملہ میں بار بار یہی تجربہ ہوا ہے۔ میرے بارے میں لوگوں کے اندر عجیب و غریب قسم کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کوئی شخص جب مجھ سے دہلی میں ملاقات کرتا ہے تو وہ یہ کہہ کر واپس جاتا ہے کہ ہم تو آپ کے بارے میں اخباروں کو دیکھ کر عجیب قسم کا تصور رکھتے تھے۔ حالاں کہ آپ اسی طرح اسلام کے ایک عالم ہیں جس طرح دوسرا کوئی قابل احترام عالم۔
میرے بارے میں ان غلط فہمیوں کا ذریعہ صرف ایک ہے اور وہ اخبارات ہیں۔ مزاج یہ ہے کہ جب کوئی شخص نیوز میں آ جائے تو وہ اس کے بارے میں سنسنی خیز قسم کی باتیں چھاپتے کیوں کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ ان کے قارئین دلچسپی کے ساتھ انہیں پڑھیں گے۔ دین اور عقل دونوں کا تقاضا ہے کہ میرے بارے میں رائے قائم کرنے والے میری اپنی تحریروں کی روشنی میں رائے قائم کریں نہ کہ اخباری رپورٹوں کی روشنی میں۔ کسی کو مزید تحقیق درکار ہو تو اس کو میرے پاس آ کر مجھ سے پوچھنا چاہیے۔ مگر لوگوں کے اندر نہ دینی سنجیدگی ہے اور نہ عقلی بصیرت۔ اس لیے وہ بے بنیاد طور پر غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کچھ لوگ میرے بارہ میں محض قیاس کی بنا پر ایک عجیب و غریب قسم کی غلط فہمی میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ الرسالہ میں سفر نامے اس لیے چھاپے جاتے ہیں کہ الرسالہ کے مرتب کے پاس مضامین کی کمی ہو گئی ہے۔ چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے الرسالہ میں سفر نامے چھاپے جا رہے ہیں۔ یہاں میں دو باتیں کہوں گا — اللہ کے فضل سے الرسالہ کے دفتر میں مضامین کی کمی نہیں، بلکہ برعکس طور پر مضامین کی افراط ہے۔ اس وقت بھی دفتر میں اللہ کے فضل سے اتنے زیادہ غیر مطبوعہ مضامین موجود ہیں جو انشاء اللہ کئی سال کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ الرسالہ کا سفر نامہ محض سفر نامہ نہیں ہوتا۔ وہ خود متنوع مضامین کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کوئی شخص الرسالہ میں چھپے ہوئے کسی بھی سفر نامہ کو دیکھے اور قلم کا غذ لے کر اس کے موضوعات کو نوٹ کرے تو انشاء اللہ وہ پائے گا کہ اُس کے ہر صفحہ پر ایک نیا مضمون ہے۔ در حقیقت سفر نامہ اور دیگر مضامین دونوں اسلوب کے فرق کے ساتھ ایک ہی چیز ہیں۔ سفر نامہ بھی مضامین کا مجموعہ ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کا اسلوب بدلا ہوا ہے۔ جو بات عام مضامین میں کتابی مطالعہ کے حوالہ سے لکھی جاتی ہے، وہی بات سفر نامہ میں سفری تجربات کی نسبت سے کہی جاتی ہے۔
۱۴ دسمبر کی صبح کو کانفرنس کا رسمی افتتاح ہوا۔ یہ افتتاح اشبیلیہ کی ایک نو تعمیر عمارت میں ہوا۔ وسیع اور عالی شان عمارت مراکو کے کنگ کے تعاون سے بنائی گئی ہے۔ اس میں جدید طرز کا بہت بڑا ہال بلڈنگ کے چاروں طرف ہرے بھرے لان اس کی خوبصورتی کو بڑھارہے ہیں۔ عمارت مسلم عہد کے اسپینی طرزِ تعمیر پر بنائی گئی ہے۔ اس عمارت کا نام یہ ہے: کنگ حسن ثانی پویلین۔ ۱۴ دسمبر کو افتتاح کے بعد گروپ ڈسکشن ہوئے۔ میں جس گروپ ڈسکشن میں شریک ہوا وہ مختلف مذاہب میں وزڈم (wisdom) کے تصور پر تھا۔ میں نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ قرآن میں وزڈم کا تصور کیا ہے۔ قرآن میں وزڈم کو بہت اونچا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم قرآن کے مطابق، انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس غور و فکر کے لیے جو فریم ورک ہے وہ محدود ہے نہ کہ لا محدود۔ اس فطری حقیقت کو ماننے کے بعد ہی انسان وزڈم کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ سکتا ہے۔
جو لوگ اس حقیقت کو نہ مانیں وہ صرف کنفیوژن تک پہنچیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس دنیا میں صحیح معنوں میں عقلی ارتقاء مقدر نہیں۔
۱۴ دسمبر کو اشبیلیہ میں کنگ حسن ثانی پولین میں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے یروشلم کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ یہودی الون (Alon Goshen-Gottstein) تھے۔ ان سے اسلام کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ وہ اتنے ذہین تھے کہ چند جملوں میں پوری بات سمجھ جاتے تھے۔ میں نے کہا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھیں: You have to differentiate between Islam and Muslims. پھر انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ مسلمان اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہے ہیں تو اب مسلمانوں کے ریفارم کے لیے آپ کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ وہی فارمولا ہے جس کو حدیث میں احیاء (revival) کہا گیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کے اندر دوبارہ اصل اسپرٹ پیدا کرنا۔ مزید گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں کا یہ ظاہرہ دراصل ڈی جنریشن (de-generation) کا ظاہرہ ہے جو ہر مذہبی گروہ میں پیش آتا ہے۔ خود یہودیوں میں بھی پیش آچکا تاریخ بتاتی ہے کہ ہر مذہبی گروہ کی پہلی نسل میں مذہب اپنی پوری اسپرٹ کے ساتھ زندہ رہتا پھر نسل در نسل زوال شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ مذہب اپنی اصل روح سے الگ ہو جاتا ہے۔ صرف ایک کلچر بن کر رہ جاتا ہے۔ اس وقت مسلمان (اور اسی طرح یہودی اور عیسائی بھی اپنے اصل مذہب پر نہیں ہیں بلکہ بعد کے دور میں بنے ہوئے کلچر پر ہیں۔ ان میں فارم تو ہے مگر اصل روح گم ہو چکی ہے۔
انہوں نے اس تجزیہ سے اتفاق کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا مشن اس سلسلہ میں کیا کر رہا میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا کہ ہمارا مشن یہی احیاء اسلام (revival of Islam) کا ہم پچھلے چالیس سال سے یہی کام کر رہے ہیں۔ خدا کے فضل سے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں ایک نیا انقلاب آیا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں میں بھی ہم نے بڑے پیمانہ پر یہ
کوشش کی ہے کہ انہیں اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ گفتگو کے آخر میں مسٹر الون کو ہمارے یہاں کی چند کتابیں دی گئیں۔
In Search of God Ideology of Peace Spirituality in Islam Tell Me About Prophet Musa اس کانفرنس میں ونسنٹ کارنیل (Vincent J. Cornell) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک مسیحی گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ انہوں نے اسلام اور قرآن کا صرف نام سنا ہے، انہوں نے اس کا مطالعہ نہیں کیا۔ اسلام کے بارے میں ان کی معلومات صرف ان پروگراموں تک محدود ہیں جو انہوں نے کبھی کبھی ٹی وی میں دیکھے ہیں۔
میں نے کہا کہ میں نے تو اسلام کے ساتھ مسیحیت کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ مسیحیت کے اوپر کئی مضامین بھی لکھے ہیں۔ اس سلسلہ میں میرا ایک مضمون وہ ہے جس کا عنوان ہے: کرسچینیٹی اینڈ اسلام (Christianity and Islam)۔ یہ مضمون دہلی سے چھپنے والی ایک کتاب میں یہ کتاب ۱۴۸ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا نام یہ ہے :
Pilgrims to the Light (2000) Edited by Valson Thampu انہوں نے کہا کہ جب آپ پختہ مسلمان ہیں تو آپ نے مسیحیت کا مطالعہ کیوں کیا۔ کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ ایک ڈسپلن کو صحیح طور پر جاننے کے لیے دوسرے ڈسپلن کو بھی جاننا پڑتا ہے۔ اسی طرح ایک مذہب کو درست طور پر سمجھنے کے لیے دوسرے مذاہب کو سمجھنا ضروری ہے۔ تعلیم کے مطابق، میں مسیح کو خدا کا پیغمبر مانتا ہوں۔ پھر جب میں نے مسیحی لٹریچر میں پڑھا کہ مسیحی لوگ حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں تو اس تقابل کے بعد مجھے یہ موقع ملا کہ میں اپنے عقیدہ کو زیادہ واضح طور پر ایک شعوری حقیقت کے طور پر دریافت کروں۔ انہوں نے میری بات غور سے سنی اور کہا کہ میں
بھی آئندہ اسی طرزِ مطالعہ کو اختیار کروں گا۔ یہی مذہبی مطالعہ کا صحیح طریقہ ہے۔ اسپین کے سفر میں کئی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کو مقامی مسلمان کہا جاسکتا ہے۔ میں سے ایک ابو بكر اشبیلی تھے۔ ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ اسپین میں تین قسم کے مسلمان پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو بزنس یا روزگار کے تحت یہاں کچھ مدت کے لیے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کو نو مسلم کہا جاسکتا ہے۔ اسپین میں کوئی قابلِ ذکر دعوتی کام تو غالباً نہیں ہے مگر مختلف اسباب سے کچھ اسپینی باشندے مسلمان ہوگئے ہیں اور ہوتے رہتے تیسری قسم ان مسلمانوں کی ہے جو مسلم دور سے چلے آرہے ہیں۔ پچھلی صدیوں میں خوف کی بنا پر انہوں نے اپنے دین کو چھپا رکھا تھا مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ یہاں مذہبی آزادی آگئی ہے، اس لیے قدیم مسلمان بھی اب کھلے طور پر اپنی شناخت کو بتانے لگے ہیں۔ تاہم لباس اور ظاہری وضع کے اعتبار سے ان مسلمانوں اور عام اسپینیوں میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔ موجودہ اسپین میں ایسے اسپینی اسکالر پیدا ہورہے ہیں جو اپنی تقریر و تحریر میں اسلام کا غیر متعصبانہ اعتراف کرتے ہیں۔ ایک میگزین دیکھا جس میں تحمل (Patience) پر مختلف اقوال درج تھے۔ ان میں سے کچھ اقوال یہاں نقل کئے جاتے ہیں: