Al-Risala · April 2005
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
Al-Risala, April 2005, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر بعد کو اقبال نے موجودہ مسلمانوں کے بارے میں یہ شعر تحریر کیا: تیرے محیط میں کہیں جو ہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف اصل یہ ہے کہ موجودہ مسلمان فطرت کے قانون کے مطابق اپنے دورِ زوال میں ہیں۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ کے اسلام کا آغاز حق کی معرفت (المائدہ ۸۳) سے ہوتا ہے۔ پھر بعد کی نسلوں میں اس کا زوال (degeneration) شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ حالت آجاتی ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فطال علیهم الأمد فقست قلوبهم (الحدید ۱۶) یعنی لمبی مدت گزرنے پر بعد کی نسلوں میں قساوت پیدا ہو جانا۔ یہ قساوت کیا ہے۔ چیز ہے جس کو یہود کی زبان سے دوسرے مقام پر غلف (البقرۃ ۸۸) کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے: