And they say: Our heart are covered
Al-Risala, April 2005, pp. 40–44
By Maulana Wahiduddin Khan
عقل پر غلاف ہونا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا معاملہ ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو وہ حالت پیدا ہوتی ہے جس کو انگریزی میں کنڈ یشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: کل مولود يولد علی الفطرة فابواه
یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ (ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں)۔
اس حدیث میں یہودی یا مسیحی یا مجوسی کا لفظ حصر کے معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ علامتی معنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ خدائی فطرت پر ہوتا ہے۔ مگر اس کا گھر، اس کا ماحول، اس کا معاشرہ، اس کے ادارے، اس کے ذہن کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن کے اوپر پیاز کی طرح پردے پڑ جاتے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ بے آمیز انداز میں یا فطرت ربانی کے انداز میں سوچ سکے۔ اس طرح ہر انسان کنڈیشننگ کا ایک کیس جب تک اس کنڈیشننگ کو ختم نہ کیا جائے اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھ سکے۔
تصحیح ذہن کے اس عمل کو ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جا سکتا ہے۔ یہ ڈی کنڈیشننگ ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ غالباً اسی ڈی کنڈیشننگ کے عمل کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ان اللہ یبعث علی راس کل مائة سنة من يجدد لها دينها (اللہ ہر سو سال کے سرے پر امت میں ایک شخص کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا)۔ میرے نزدیک یہاں تجدید سے مراد ابتدائی طور پر یہی ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یعنی ہر اگلی نسل میں جب کہ لوگوں کے ذہن میں کنڈیشننگ کا مسئلہ پیدا ہوگا اور اس کی وجہ سے دین فطرت ان کے لیے اجنبی بن جائے گا تو اس وقت خدا ایسے مجدد پیدا کرے گا جو لوگوں کے ذہن سے مصنوعی پردے ہٹائے اور ان کو اس قابل بنائے کہ وہ دین کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھ سکیں۔
پچھلے سو سال کے درمیان مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے خیال کے مطابق، مسلم ملت کے احیاء نو کا کام کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ ساری کوششیں بے نتیجہ ثابت اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ان لوگوں نے اپنا کام اس مفروضہ کے تحت شروع کیا کہ مسلم ملت بالفعل موجود ہے اور اب ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس ملت کو جوش دلا کر اس کو اقدام پر آمادہ کریں۔
اسی بات کو اقبال نے اس طرح بیان کیا ہے:
نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی مگر یہ مفروضہ بجائے خود درست نہ تھا۔ ان رہنماؤں کا پہلا کام یہ تھا کہ وہ مسلم ملت کے افراد کی ڈی کنڈیشننگ کر کے اس کے اندر اسلام کی معرفت پیدا کریں۔ وہ اسلام کو ان کے لیے ری ڈسکوری (rediscovery) بنادیں۔
مثال کے طور پر انہوں نے کلمہ پڑھنے کو کافی سمجھا۔ حالاں کہ اصل ضرورت یہ تھی کہ وہ ہر شخص کے اندر کلمہ کا شعور پیدا کریں، وہ قائل کلمہ کو عارف کلمہ بنادیں۔ اسی طرح انہوں نے دشمنی کے حوالہ سے مسلمانوں کو ابھار کر انہیں دشمن کے خلاف جہاد کے لیے کھڑا کیا۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق، جہاد (بمعنی قتال) کا تعلق دشمنی سے نہیں ہے بلکہ حملہ کے وقت دفاع سے ہے۔ انہوں نے فضیلت نماز کی کہانیاں سنا کر مسجدوں کو مسلمانوں سے بھر دیا۔ حالاں کہ پہلا کام یہ تھا کہ لوگوں کے اندر نماز کی اسپرٹ پیدا کی جائے جس کو قرآن میں خشوع کہا گیا ہے۔
اسی طرح انہوں نے اتحاد کے نام پر بڑے بڑے جلسے کر کے یہ سمجھا کہ وہ ملت کے اندر اتحاد پیدا کر رہے ہیں۔ حالاں کہ اتحاد کا راز شعور اتحاد ہے، یعنی لوگوں کے اندر یہ ذہن پیدا کرنا کہ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے فضائل قرآن کے نام پر لوگوں کو قرآن کی تلاوت کرنے والا بنایا۔ حالاں کہ پہلا کام یہ تھا کہ لوگوں کے اندر قرآن کی نسبت سے تدبر کا مزاج پیدا انہوں نے اسٹیٹ کو اسلامائز کرنے کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں۔ حالاں کہ اصل کام یہ تھا کہ افراد کو اسلامائز کرنے کی کوشش کی جائے، وغیرہ۔
موجودہ زمانہ میں ہر رہنما مسلمانوں کے زوال کی شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر لوگوں کو نہ تو یہ پتہ ہے کہ زوال کا حقیقی سبب کیا ہے اور نہ ان کو یہ معلوم ہے کہ اس زوال کو ختم کرنے کا نقطہ آغاز کیا میرے نزدیک اس کا نقطہ آغاز ذہن سازی ہے، نہ کہ عملی اقدام۔ اور ذہن سازی کا کام فرد کے ذہن کو ایڈریس کرنے سے ہوتا ہے، بھیڑ کو ایڈریس کرنے سے اس کام کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔
اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ یہ شکےیت کر رہے ہیں کہ غیر مسلم قومیں ان کے اوپر ظلم کر رہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اپنی زیادتی کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ مسلمان ان غیر مسلم طاقتوں کی سازش میں گھر گئے ہیں۔ باتوں کے نتیجہ میں موجودہ زمانہ کا مسلمان اس ذہنیت کا شکار ہو گئے ہیں جس کو محصور ذہنیت (besieged mentality) کہا جاتا ہے۔ مگر میں اس سوچ کو خلاف واقعہ سمجھتا ہوں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم قوموں کے مقابلہ میں حفاظت کا معاملہ تمام تر دعوت پر قرآن کے الفاظ میں، عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ زمانہ کے مسلمان غیر مسلم قوموں کی طرف سے جس مغلوبیت کا شکار ہیں اس سے نکلنے کی صورت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ مسلمان غیر مسلم قوموں کے اوپر دعوت الی اللہ کا فرض انجام دیں۔ یہ غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور مدعو گروہ کے مقابلہ میں صرف ایک چیز مطلوب ہے، اور وہ پر امن دعوت ہے۔ یہ معاملہ قرآن میں حضرت یونس کی مثال سے واضح ہوتا ہے۔ میں رسول کو مخاطب کرتے ہوئے امت محمدی سے کہا گیا ہے کہ : ولا تکن كصاحب الحوت (القلم ۴۸) یعنی تم مچھلی والے کی مانند نہ بننا ورنہ تمہارا حال بھی وہی ہو گا جو مچھلی والے (یونس) کا ہوا۔ مچھلی والے سے مراد حضرت یونس ہیں۔ ان کو خدا کا پیغام دینے کے لیے عراق کے قدیم شہر نینویٰ بھیجا گیا۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں کو خدا کی طرف بلایا مگر ان کی طرف سے جلد مثبت رد عمل نہ ملنے کی وجہ سے وہ، قرآن کے الفاظ میں، ان سے غصہ ہو گئے اور ان کو چھوڑ کر نینویٰ سے باہر چلے گئے۔ خدا کو ان کی یہ روش پسند نہ آئی اور خدا کے حکم سے وہ ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے جس کو قرآن میں ظلمات (الانبیاء ۸۷) کہا گیا ہے۔ یعنی شدید تاریکی۔
قرآن کے مطابق، حضرت یونس اس تاریکی کے اندر سے صرف اس وقت باہر آئے جب کہ انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اس کے لیے تیار ہوئے کہ وہ دوبارہ اپنی مدعو قوم کی طرف جائیں اور انہیں خدا کا پیغام پوری طرح پہنچائیں۔ ابتدائی طور پر قرآن میں اس معاملہ کو ایک فرد
(حضرت یونس) کی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس کو عام کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وكذلك ننجی المومنین (الانبیاء ۸۸)
اس عموم سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہی معاملہ تمام اہل ایمان کا ہے۔ تمام اہل ایمان کا یہی حکم ہے کہ اگر وہ اپنی دعوتی زندگی کو چھوڑ دیں تو اس کے بعد وہ مسائل کی اندھیری دنیا میں ڈال دئے جائیں مسائل و مصائب کی اس اندھیری دنیا سے نکلنا ان کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوگا جب کہ وہ ترک دعوت کے معاملہ میں اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کریں اور اپنی روش کو بدل کر دوبارہ دعوت کے میدان میں سرگرم ہو جائیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کیس یہی ہے۔ وہ موجودہ زمانہ کی غیر مسلم قوموں سے "غصہ" ہو گئے اور ان کے خلاف نفرت اور تشدد کی مہم چلانے لگے۔ یہ خدا کی سنت کے چنانچہ وہ مسائل و مصائب کے اندھیرے میں ڈال دئے گئے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بڑی تعداد میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ تمام سرگرمیاں کمیونٹی درک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی سرگرمی دعوہ درک نہیں۔ دعوت کے نام پر تقریر و تحریر کے ذریعہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قومی مناظرہ ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوبارہ زندگی دینے کے لیے دو نکاتی فارمولا یہ ہے--(۱) ان کے ساتھ وہ عمل کیا جائے جس کو قرآن میں یا ایھا الذین آمنوا آمنوا (آل عمران ۱۳۶) کہا گیا ہے۔ یعنی اے وہ لوگو جو کلمہ پڑھ کر مومن ہوئے ہو، شعوری دریافت کی سطح پر مومن بنو۔ (۲) یہ کہ مسلمان حقیقی معنی میں داعی بنیں اور دوسری قوموں کے ساتھ مدعو فرینڈلی تعلق وہ مدعو قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دیں۔ احیائے ملت کی یہی دو شرطیں ہیں۔ ان دو شرطوں کو چھوڑ کر دوسری کوئی بھی سرگرمی مسلمانوں کو نئی زندگی دینے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔