Al-Risala · April 2005

نئی دہلی، ۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء دعا گو وحید الدین

Al-Risala, April 2005, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر داؤد اعظمی افغانی نے ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو ۱۶ دسمبر ۲۰۰۲ کو ریکارڈ کیا گیا۔ روس نے ۲۵ دسمبر ۱۹۷۹ کو افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دی تھیں۔ اس کے بعد روسی فوجوں اور افغانی مجاہدین کے درمیان لمبی لڑائی ہوئی۔ آخر کار روسی فوج کو واپس جانا پڑا۔ کا تعلق زیادہ تر اسی مسئلہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ روس کے خلاف افغانیوں کی جنگ ایک قومی جنگ تھی، وہ اسلامی جہاد نہ تھا۔ اسی طرح طالبان نے افغانستان میں جو اسلامی حکومت قائم کی وہ بھی اسلامی حکومت نہ تھی بلکہ ایک قسم کی قبائلی حکومت تھی۔ افغانیوں کی اصل کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی سیاسی نظام کی ماتحتی قبول نہیں کرتے۔ سے وہ بار بار خود اپنے حکمرانوں سے لڑتے رہے ہیں۔ اسی مزاج کی بنا پر افغانی سردار آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔ افغانی قوم اپنے روایتی مزاج کے اعتبار سے ایک جنگجو قوم ہے۔ روس کے خلاف یا امریکہ کے خلاف افغانیوں کی جنگ اسی جنگ جوئی کے مزاج کا نتیجہ تھی، وہ اسلامی اسپرٹ کا نتیجہ نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لمبی لڑائیوں کے باوجود افغانستان کو اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں ملا۔ افغانیوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ انہیں تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔

پر بھات پرکاشن (نئی دہلی) کے زیراہتمام ۲۲ پور میں ۱۸-۱۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک عوامی پروگرام ہوا جس میں ہندو۔ مسلمان دونوں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت اس کی رپورٹ سفر نامہ کے تحت ماہنامہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

اخبار سہارا سے (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر سنیل کمار نے ۲۰ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی اس میں ۱۹۷۳ سے لے کر اب تک کے دور میں مسلم مسائل پر اظہار خیال کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ۱۹۷۳ کے بعد کچھ دنوں تک مسلمانوں کے درمیان تعطل کی فضا تھی۔ اب پچھلے برسوں سے مسلمان کافی بیدار ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ آئی ہے۔ اب وہ ہر شعبہ میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) کے بورڈ روم میں ۲۱ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک اجتماع ہوا جس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پروفیسر حضرات شریک ہوئے ۔ پروگرام کے مطابق، امریکہ کے ایک سینئر پروفیسر تھیوڈور رائٹ (Theodore P. Wright) کا یہ مقالہ ویسٹ ایشیا میں امریکی پالیسی سے متعلق تھا۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا : U.S. Intervention in South Asia and the Middle East اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو مسئلہ ہے اس کا حل کیا ہے۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اس کا حل قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اس کے مطابق ، اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ پر تشدد طریقہ کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کو اختیار

کیا جائے اور صلح کے اصول کو اپنایا جائے ۔ اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ مسئلہ قرآن کا سادہ فارمولا اس کے حل کے لیے کافی نہیں۔ اس سوال کا تفصیل سے جواب دیا گیا۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ تعلق مجوزہ ماڈل نکاح نامہ کے مسئلہ سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ حالت میں یہ ایک بے فائدہ کام ہے۔ کیوں کہ کوئی بھی ماڈل نکاح نامہ موجودہ حالت میں عملاً چلنے والا نہیں۔ اس قسم کا ماڈل نکاح نامہ دو صورت میں چل سکتا ایک یہ کہ اس کے پیچھے سیاسی اقتدار کی طاقت ہو۔ ظاہر ہے کہ یہاں وہ موجود نہیں ۔ دوسری چیز ہے، سماجی اس وقت مسلم سماج اتنی زیادہ انتشار کی حالت میں ہے کہ وہ کسی ماڈل نکاح نامہ کو عمومی طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں کرنے والوں کو وہ کام کرنا چاہیے جو نتیجہ خیز ہو۔ مثلا مسلم سماج کے اندر شعوری

جین ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۶ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق ماڈل نکاح نامہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس قسم کا ماڈل نکاح نامہ صرف ایک کاغذی کارروائی ہے، وہ کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ عمل میں آنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کی پشت پر سیاسی طاقت ہو جو کہ اس وقت موجود نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مسلم معاشرہ رضا کارانہ طور پر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ اور یہ دوسری شرط بھی اس وقت معاشرہ کے اندر نہیں پائی جاتی۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ ماڈل نکاح نامہ عملاً رائج تو نہ ہوگا۔ بے فائدہ قسم کی اختلافی بحثوں کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا۔

اسلامی مرکز کے تحت ہونے والے ہفتہ وار کلاس (۳۱ دسمبر ۲۰۰۳) میں دوسرے حضرات کے علاوہ پروفیسر عبد اللہ احمد النعیم شریک ہوئے ۔ وہ سوڈان میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب وہ امریکا کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ اُن کی خواہش کے مطابق، اس موقع پر اسلام اور سیاست کو موضوع بنایا گیا ۔ اسلامی مرکز نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اسلام میں سیاست کا درجہ کیا ہے ۔ پروفیسر موصوف پوری طرح مطمئن گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کا نشانہ اسلامائزیشن آف مین ہے نہ کہ اسلامائزیشن آف اسٹیٹ ۔ اس سے پورا اتفاق کیا۔ پروفیسر موصوف کو کئی عربی اور انگریزی کتابیں ہدیہ میں دی گئیں۔ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کیرلا (کوچن) کا سفر ہوا۔ یہ پروگرام جنوری ۲۰۰۵ کے پہلے ہفتہ اس کا موضوع تھا۔ امن اور روحانیت۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں سفرنامہ کے تحت شائع کر دی

چند نئی کتابیں زیرطبع ہیں ۔ حکمتِ اسلام، نشانِ منزل، وغیرہ۔ چھپ کر تیار ہونے کی اطلاع بعد کو دی

Printed page