اسپین کا سفر
Al-Risala, January 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
اسپین کے شہر اشبیلیہ (Seville) میں ورلڈ ریلیجس لیڈرس کی کانفرنس تھی۔ یہ کانفرنس ۱۴ دسمبر سے ۱۸ دسمبر ۲۰۰۳ تک جاری رہی۔ اس انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام تین اداروں کی طرف سے کیا گیا حکومت اندلس، یونیسکو اور ایلیا اسکول (Elijah School)۔
اس کی دعوت پر اسپین کا سفر ہوا۔ ۱۱ دسمبر کی رات کو دہلی سے روانگی ہوئی اور ۱۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو سفر سے واپسی ہوئی۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
نظام الدین سے نکل کر ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوا تو سڑک کے دائیں طرف مغل حکمراں ہمایوں کا مقبرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اور آگے بڑھاتو سڑک کے بائیں طرف صفدر جنگ کا مقبرہ تھا اور دائیں طرف ابراہیم لودھی کا مقبرہ۔ اس سے کچھ فاصلہ پر دہلی کا مشہور لال قلعہ کھڑا ہوا تھا جس کے بارے میں ۱۹۷۴ میں ایک شاعر نے اپنی نظم میں یہ شعر شامل کیا تھا:
اے قلعۂ سرخ اے اثر شاہ جہانی بر باد شدہ عظمت ماضی کی نشانی اس طرح کی یادوں کے ہجوم میں میری گاڑی آگے بڑھ رہی تھی اور دہلی کا قدیم زمانہ یاد آرہا تھا جب کہ یہاں مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم تھا۔ یہ غلبہ عملاً بہت پہلے ختم ہونا شروع ہو گیا تھا تا ہم ۱۸۵۷ میں وہ آخری طور پر ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ایک اردو شاعر نے ایک لمبی نظم لکھی جس کا ایک شعر یہ تھا:
تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہر گز تاریخ کا یہ تصور مجھے نہایت محدود نظر آتا ہے کہ صرف حکمرانوں کے حوالے سے تاریخ کو پڑھا اور سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کسی حکمراں یا حکمراں خاندان سے بہت زیادہ وسیع موجودہ زمانہ میں ان غیر سیاسی پہلوؤں کی وسعت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ (وفات ۱۴۰۶ء) نے اپنے مقدمہ میں اس پہلو کی طرف نہایت وضاحت کے ساتھ نشاندہی کی تھی۔
مگر مسلم علماء اور دانشوروں میں یہ تاریخی تصور کبھی رائج نہ ہوسکا۔ اسی طرزِ فکر کا نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمان یہ دریافت نہ کر سرکے کہ آج وہ قدیم مسلم حکومت کے دور کے مقابلہ میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ حتیٰ کہ سیاست کے اعتبار سے بھی۔
ایرپورٹ پہنچا تو مسافروں کی بھیڑ دکھائی دی۔ اس کو دیکھ کر بظاہر کوئی شخص یہ رائے قائم کرے گا کہ انڈیا میں ہوائی جہاز کا سفر بہت بڑھ گیا ہے۔ حالاں کہ اسی ایرپورٹ پر اگر کوئی شخص دن کے وقت آئے تو اس کو یہاں سناٹا دکھائی دے گا۔ جب کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں معاملہ اس کے برعکس وہاں دن کے اوقات میں مسافروں کی بھیڑ ہوتی ہے اور رات کے وقت سناٹے کا عالم ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مغربی ملکوں کے لوگ ہوائی جہازوں کے شور سے اپنی نیند کو خراب کرنا گوارا نہیں اس لیے انہوں نے اپنے ائرپورٹ پر نائٹ کرفیو (night curfew) لگا رکھا ہے۔ غیر ترقی یافتہ ملک اس کی قیمت اس طرح ادا کرتے ہیں کہ ان کے یہاں بین الاقوامی پروازیں زیادہ تر رات کو اترتی ہیں اور روانہ ہوتی ہیں۔
ائرپورٹ کے اندر ایک جگہ کاؤنٹر پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
اسپیشل ہینڈلنگ (special handling)
یہ ونڈو ان لوگوں کے لیے تھی جو اپنی کسی معذوری کی بنا پر وہیٖل چیئر پر بٹھا کر جہاز تک لے جائے جاتے گویا معذور لوگوں کے لیے خصوصی مدد کا انتظام ہے۔ اس دنیا میں معذوری بھی ایک پلس پوائنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ سفر ترکش ائرلائنس کی فلائٹ نمبر 1071 TK کے ذریعہ ہوا۔ دلی سے اس کا مقرر وقت ساڑھے ۴ بجے تھا۔ آدھا گھنٹہ لیٹ ہو کر جہاز ۵ بجے صبح دہلی سے روانہ ہوا۔ دہلی سے استنبول کا سفر بغیر کے ہوئے سات گھنٹہ کا تھا۔ راستہ میں نیند آتی رہی اور سفر آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ ہموار (smooth) تھی۔
راستہ میں ۱۲ دسمبر ۲۰۰۳ء کے بعض اخبارات دیکھے۔ ایک اخبار میں ایک آرٹیکل کے تحت
مشہور کوہ پیمائسر ایڈمنڈ ہیلری کا تذکرہ تھا۔ وہ کئی بار نا کام ہونے کے بعد مئی ۱۹۵۳ میں ہمالیہ کی چوٹی پر ایک نا کامی کے بعد اس نے اپنی مٹھی بلند کی اور پہاڑ سے کہا: ’’تم نے مجھے ہرایا ہے مگر میں دوبارہ آؤں گا اور تم کو ہراؤں گا۔ کیوں کہ تم اور زیادہ بڑے نہیں ہو سکتے مگر میں ہو سکتا ہوں‘‘: You have defeated me but I will return and I will defeat you because you can not get any bigger but I can. دہلی سے سات گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز استنبول کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ یہ ہوائی اڈہ کافی اچھا بنا ہوا تھا۔ وہ ایک یورپی ہوائی اڈہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دہلی کے انٹر نیشنل ائر پورٹ اور استنبول کے ائر پورٹ میں کوئی مقابلہ نہیں۔
استنبول کے شاندار ائر پورٹ پر میں نے دیکھا کہ وہاں کے طویل رن وے پر ایک کے بعد ایک جہازوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ یہاں ہر وقت یا تو کوئی جہاز اترتا ہے یا کوئی جہاز اڑ کر فضا میں داخل ہوتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ مسلمان سوسال سے ترکی کی عثماں خلافت کے خاتمہ پر سوگ منا رہے ہیں۔ شبلی نعمانی (وفات ۱۹۱۴) کا یہ شعر اس معاملہ میں مسلم نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے:
زوال دولت عثمانی زوالِ شرع و ملت ہے عزیز و فکر فرزند وعیال و خانماں کب تک جب کہ حال یہ ہے کہ آج کا ترکی پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ایک عظیم خدائی نعمت کا ظہور تھا۔ مگر اخبار اور کتاب دونوں کے ذریعہ پریس کا جو استعمال ہوا وہ ایسا تھا کہ اس نے مسلمانوں کو کھوئی ہوئی عظمت سے تو مبالغہ آمیز طور پر باخبر کیا مگر ملی عظمت سے ان کو بالکل بے خبر رکھا۔ چنانچہ مسلمان عظمت ماضی کے تصور میں اتنا زیادہ گم رہے کہ وہ حال کی عظمت سے بالکل بے خبر ہو گئے ۔
استنبول کا قدیم نام قسطنطنیہ (Constantinople) تھا۔ یہ ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ شہر پہلے باز نطینی ایمپائر کی راجدھانی تھا۔ اس کے بعد وہ عثمانی خلافت کی راجدھانی بنا۔ قدیم شہر کی
دیوار ابھی تک یہاں موجود ہے۔ استنبول کی تاریخ ۲۵۰۰ سال پیچھے تک پھیلی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یونانیوں نے ۶۵۷ قبل مسیح میں استنبول کی بنیاد رکھی۔ موجودہ استنبول دو حصوں میں بٹا ہوا ہے— قدیم شہر اور جدید شہر۔ قدیم شہر میں تنگ گلیاں ہیں اور وہی ماحول ہے جو دہلی کے پرانے علاقہ میں دکھائی دیتا ہے۔ البتہ جدید استنبول ماڈرن یورپ کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ استنبول میں ایک مشہور اسلامک رائٹر رہتے ہیں ۔ ان کا نام مسٹر ہارون یحییٰ ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم انہوں نے اسلام پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ کتابیں انہوں نے ترکی زبان میں لکھی پھر ان کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوا۔ ان کا ایک بڑا ادارہ استنبول میں ہے۔ ہارون یحییٰ کے ادارہ کی ایک ذمہ دار خاتون سسٹر بانو ڈیرن (Sister Banu Derin) کی طرف سے مجھے دہلی میں ٹیلی فون پر یہ پیغام ملا تھا کہ میں استنبول میں کچھ وقت کے لیے ٹھہروں اور ان کے ادارہ کو دیکھوں ۔ مجھے خود اس کا شوق تھا۔ مگر پہلے سے اس کے مطابق پروگرام نہ بن سکا۔ چنانچہ میں استنبول میں نہ ٹھہر سکا اور معمول کے مطابق، استنبول ایرپورٹ سے دوسرے جہاز کے ذریعہ آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
مز پریا ملک نے ہارون یحییٰ کی اکثر کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے ان سے ہارون یحییٰ کی کتابوں کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا: Harun Yahya tries to increase faith through scientific reasoning. But the only problem is that he becomes too technical in his scientific description which at times makes it difficult to comprehend. (Priya Malik)
استنبول سے ہمیں میڈ رڈ کے لیے اگلا جہاز لینا تھا۔ وقت بہت کم تھا۔ مگر ہوائی اڈہ کے عملہ نے ساری کارروائی اتنی تیزی سے انجام دی کہ ہم وقت پر ہوائی جہاز کے اندر پہنچ گئے ۔ استنبول سے میڈ رڈ کی پرواز ساڑھے تین گھنٹہ کی تھی۔ راستہ میں ٹرکش ایرلائن کی فلائٹ میگزین اسکائی لائف (Skylife) کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۳ دیکھا۔ اس کے مضامین ٹرکش اور انگریزی
دونوں زبانوں میں تھے۔ اس کا ایک مضمون بڈاپسٹ (Budapest) کے بارے میں تھا۔
جیسا کہ معلوم ہے، بڈاپسٹ ایک زمانہ میں ترکوں کی عثمانی سلطنت کے تحت تھا۔ میں بتایا گیا تھا کہ اب بھی عثمانیوں کے آثار شہر میں ترکی کے غسل خانوں کی صورت میں موجود ہیں جو کہ پورے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ دریائے دانوب (Danube) کے کنارے اب بھی گل بابا کا مزار موجود ہے جس کو یحییٰ پاشانے سولہویں صدی میں اس گلاب پسند درویش کی یادگار میں بنایا تھا: میڈرڈ اسپین کی راجدھانی ہے۔ ۱۲ دسمبر کی صبح کو میں یہاں کے ائر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ میڈرڈ ائرپورٹ نہایت وسیع اور شاندار ہے۔ یہاں مسافروں کی سہولت کے لیے ہر قسم کا اعلیٰ انتظام جب میں میڈرڈ کے شاندار ائر پورٹ پر چل رہا تھا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ جو چیز کھوئی گئی وہ اعتراف اور انسانیت کی خیر خواہی ہے۔ اگر ان کے اندر یہ صفت موجود ہوتی تو وہ اس واقعہ پر تڑپ اٹھتے۔ یہاں آکر ان لوگوں سے کہتے کہ ہم آپ کے کارناموں کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہم نے انسانی قافلہ کو روایتی ترقی کے دور تک پہنچایا تھا، آپ نے اپنی محنت سے انسانیت کو سائنسی ترقی کے دور تک پہنچا دیا اور تاریخ میں پہلی بار ایک خوبصورت دنیا تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آئیے ہم دونوں مل کر خالق کا شکریہ ادا کریں۔ تاکہ ہم دونوں خدا کی زیادہ بہتر دنیا میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں۔ دنیا جس کی صرف ایک جھلک خدا نے آج کی دنیا میں رکھی ہے تا کہ ہم بعد کی زیادہ بہتر دنیا کا پیشگی تعارف حاصل کر سکیں ، یعنی وہ دنیا جس کا نام جنت ہے۔
ایک مسلم شاعر نے کہا ہے کہ ہر ملک ہمارا ہے، کیوں کہ وہ ہمارے خدا کی ملکیت ہے: ہر ملک ملکِ ما است که ملکِ خدائے ما است
اس شعر میں مجھے سیاسی توسیع کی بو آتی ہے۔ اس لیے وہ مجھے پسند نہیں۔ اس کے مقابلہ میں میرا ذوق یہ ہے کہ میں ہر ترقی کو اپنی ترقی سمجھتا ہوں، کیوں کہ وہ انسان کی ترقی ہے جس کا میں بھی ایک اسی انسانی ذہن کو میں داعیانہ ذہن سمجھتا ہوں۔ داعی تمام انسانوں کو ایک فیملی کے روپ میں دیکھتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: الخلق عیال الله۔ اس سے عمومی خیر خواہی کا وہ ذہن بنتا ہے جس کو قرآن میں نصح کہا گیا ہے۔ دعوت کا عمل دوسرے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کا عمل ہے، نہ کہ دوسرے انسانوں کے اوپر اپنی برتری قائم کرنے کا عمل۔
میڈ رڈ ملک کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ وہ اسپین کی راجدھانی ہے۔ ۱۰۸۳ تک میڈ رڈ میں مسلمانوں کی سلطنت تھی۔ اس سال الفانسوششم (Alfonso VI) نے اس کو مسلمانوں سے چھین کر اپنی سلطنت میں داخل کیا۔ ۱۳۲۹ میں یہاں پارلیمنٹ قائم ہوئی اور اس کو باقاعدہ طور پر اسپین کی راجدھانی کی حیثیت ملی۔ ۱۵۶۱ میں فلپ دوم نے یہاں اپنا قلعہ بنایا۔ میڈ رڈ کے بارے میں ایک سیاح نے لکھا ہے کہ میڈ رڈ ایک ایسا شہر ہے جہاں رنگ کے مقابلہ میں روشنی اور خوبصورتی کے مقابلہ میں مہربانی زیادہ اہمیت رکھتی ہے:
Madrid is a city in which light is more important than colour, grace more than beauty. کہا جاتا ہے کہ میڈ رڈ کے لوگ ایک قسم کے رومانی خیالات میں جیتے ہیں۔ اس کے بارے میں ایک فرانسیسی مشاہد نے لکھا ہے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ میڈ رڈ عظمتوں اور مسرتوں کا مرکز ہے: They believe Madrid to be the very centre of all glory and happiness. مذکورہ فرانسیسی مشاہد نے مزید لکھا ہے کہ میڈ رڈ والوں کے نزدیک جنت کا راستہ میڈ رڈ سے جاتا ہے اور جنت میں ایک کھڑکی ہے جس سے میڈ رڈ کو دیکھا جاسکے:
...... From Madrid to Heaven, and in Heaven a little window from which to look at Madrid.
میڈرڈ میں اب بھی وہ محل موجود ہے جس کو مسلم عہد میں بنایا گیا تھا۔ اس کا نام القصر تھا، اس کو اب الکیز ر(Alcazar) کہا جاتا ہے جو القصر کے لفظ کی اسپینی صورت ہے۔ فلپ سوم (Philip III) نے میڈرڈ کو اپنی راجدھانی بنایا۔
میڈرڈ ملک کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ وہ ۱۶۰۷ء میں راجدھانی بنایا گیا ۔ اس وقت وہاں بادشاہ کی حکومت تھی۔ کسی ملک کی راجدھانی عام طور پر کسی بڑے دریا کے کنارے ہوتی ہے یا کسی تجارتی مگر اسپین کے جائے وقوع کے بارے میں اس قسم کا کوئی سبب موجود نہیں۔ میڈرڈ ایرپورٹ پر ہر کاؤنٹر کے آگے ایک جملہ لکھا ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مستعدی ہمارا مقصد ہے جس کا فائدہ آپ کو بھی ملے گا اور ہم کو بھی:
Punctuality is our aim. You will benefit so will we all. وقت کی پابندی (punctuality) کی اہمیت زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ انسان کو جو وقت ملا ہے وہ بہت محدود ہے۔ وقت کی پابندی کا مطلب دراصل وقت کا صحیح اور بھرپور استعمال ہے۔ یہ ہے کہ وقت کسی انسان کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ جو انسان اپنے اس خزانہ کو درست طور پر استعمال کرنا جان لے، اس کی کامیابی کے لیے صرف یہی خزانہ کافی ہو جائے گا۔ یہ خزانہ اس کی ہر دوسری کمی کی تلافی بن جائے گا۔
دہلی سے استنبول تک کا سفر ترکش ایرلائنس کے ذریعہ ہوا تھا۔ میڈرڈ سے اشبیلیہ کا سفر آئیبیرین ایرلائنس کے ذریعہ طے ہوا ۔ آئیبیرین ایرلائنس کا ٹکٹ ہمارے پاس انٹرنیٹ کے ذریعہ بھیجا گیا تھا۔ اس کو الیکٹرانک ٹکٹ کہتے ہیں ۔ وہ ایک سادہ کا غذ پر ایک ٹائپ شدہ خط جیسا ہوتا ہے۔ اس طریقہ نے سفر میں بہت سہولت پیدا کر دی ہے۔ الیکٹرانک ٹکٹ کا طریقہ تقریباً چھ ماہ پہلے شروع ہوا اور تیزی سے مقبول ہوتا جا رہا ہے۔
میڈرڈ سے اشبیلیہ (Seville) کا سفر اس علاقہ کے اوپر سے ہوا جو کبھی مسلم سلطنت کا حصہ جب ہمارا جہاز اس علاقہ کے اوپر سے گزر رہا تھا تو میں نے سوچا کہ مسلمان جب اس علاقہ میں
آئے تو وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے تھے۔ آج میں اسی علاقہ کے اوپر ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کر رہا میرا ذہن سوچنے لگا کہ قدیم اور جدید کے اس فرق میں کیا سبق ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مسلمان گھوڑے کی سواری کے دور میں دنیا میں غالب حیثیت رکھتے تھے اور ہوائی جہاز کی سواری کے دور میں وہ مغلوب ہو کر رہ گئے۔
پھر میں نے سوچا کہ یہ طرز فکر درست نہیں۔ تاریخ کا سفر خود اپنے قوانین کے تحت ہوتا ہے۔ اس کو مسلم اور غیر مسلم کے خانوں میں بانٹ کر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کو انسانیت کی تاریخ کے طور پر مسلم اور غیر مسلم کے خانوں میں بانٹ کر تاریخ کو دیکھا جائے تو اس سے متعصبانہ ذہن لیکن جب تاریخ کو انسانیت عامہ کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اس سے ایجابی ذہن پیدا ہو گا۔ اور یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ تاریخ کی ترقیوں کو انسانی قافلہ کے سفر کے طور پر دیکھنا ہی مطالعہ تاریخ کا صحیح طریقہ ہے۔
اشبیلیہ کے ائر پورٹ پر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے جب ہم آخری چیکنگ کا کاؤنٹر پر پہنچے تو یہاں کچھ آدمی کھڑے تھے جو ہر مسافر کے بیگ کو کھول کر دیکھ رہے تھے۔ میرے ساتھی نے میرا بیگ ٹیبل پر رکھا تو ائر پورٹ کے آدمی نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا سے۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے کہا کہ بہت خوب۔ میں بھی انڈیا جانا چاہتا ہوں۔