آسان تدبیر
Al-Risala, May 2005, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اپنی ڈائری (۱۷ فروری ۲۰۰۴) میں یہ الفاظ لکھے ۔ جب بھی مجھے کسی سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو میں اس معاملہ میں خود اپنی غلطی دریافت کر لیتا ہوں ۔ اس کے بعد وہ شکایت اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا نا خوشگوار باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ آدمی کو اپنی پسند کے خلاف باتوں کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ ایسی ایک نا موافق دنیا میں آدمی کس طرح زندگی گزارے ۔ وہ نا خوش گوار تجربات کے درمیان کس طرح اپنے لیے ایک خوش گوار زندگی کی تعمیر اس کا فارمولا صرف ایک ہے اور وہ ہے : نا خوش گواری کو خوش گواری میں بدل لینا ۔ اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا سب سے بڑا راز مثبت سوچ ہے۔ تمام ترقیاں اسی مثبت سوچ کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ منفی تجربات کے درمیان مثبت سوچ کو کس طرح برقرار رکھا اس کا سب سے آسان فارمولا یہ ہے کہ شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی اس کو ڈیفیوز کرکے ختم ڈیفیوز کرنے کے لیے آدمی اگر یہ طریقہ اختیار کرے کہ جس سے شکایت ہوئی ہے اُس سے بحث کر کے اُس کو قائل کرے تو اس طرح کی کوشش میں کامیابی تقریباً صفر کے برابر ہے۔ حالت میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ آدمی خود اپنے اندر شکایت کا سبب دریافت کرے۔ اس طرح وہ ایک لمحہ کے اندر اپنے آپ کو معتدل بنا سکتا ہے، وہ کسی تاخیر کے بغیر اپنے اندر مثبت سوچ کا عمل دوبارہ جاری کر سکتا ہے۔
اس تدبیر کی معنویت یہ ہے کہ آدمی کو دوسروں کے اوپر تو کوئی اختیار نہیں۔ مگر ہر آدمی خود اپنے آپ پر پورا اختیار رکھتا ہے۔ شکایت کو رفع کرنے کے لیے دوسروں سے آغاز کرنا گویا ممکن سے اس کے مقابلہ میں شکایت کو رفع کرنے کے لیے خود اپنے آپ سے آغاز کرنا گویا ناممکن سے آغاز کرنا ہے۔ اور جب ممکن سے آغاز کرنے کا راستہ کھلا ہوا ہو تو کوئی نادان ہی ایسا کر سکتا ہے کہ وہ ناممکن سے آغاز کرنے کی ناکام کوشش کرے ۔