Al-Risala · May 2005

لڑے بغیر مقابلہ

Al-Risala, May 2005, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عباس کا ایک قول ہے : ادفع بحلمك جهل من يجهل عليك (تم برداشت کے ذریعہ اس شخص کا مقابلہ کرو جو تمہارے ساتھ جہالت کرے)۔ یہ زندگی کا ایک اہم ترین اصول ہے۔ اس کے مطابق، برداشت بھی ایک طاقت ہے، نہ لڑنا بھی لڑنے کی ایک کامیاب تدبیر ہے۔

ہر آدمی کی زندگی میں ایسے مواقع پیش آتے ہیں جب کہ کسی کی بات پر اس کو غصہ آجائے۔ کا قول سن کر وہ مشتعل ہو جائے۔ کسی کی ایک ناپسندیدہ کارروائی پر اُس کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک کسی کے تشدد کے خلاف آدمی کے اندر جوابی تشدد کار رجحان پیدا ہو جائے۔ اس قسم کا موقع ہر آدمی کے لیے بے حد نازک موقع ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر ہر آدمی وقتی جذبہ کے تحت فریق ثانی سے لڑائی شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسی ہر لڑائی بے نتیجہ انجام پر ختم ہوتی ہے۔ ایسی ہر لڑائی ہمیشہ نقصان میں مزید اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ اگر آدمی ایک لمحہ ٹھہر کر سوچے تو وہ کبھی جوابی کارروائی کی غلطی نہ کرے۔

نادان کی زیادتی کے خلاف جوابی زیادتی کرنا خود اپنے آپ کو بھی نادان ثابت کرنا ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص نادانی کر کے آپ کو مشتعل کر دے تو آپ اس مقام سے ہٹ جائیں اور تھوڑی دیر کے لیے اپنے ذہن کو منفی تاثر سے آزاد کر کے نتیجہ کے بارہ میں سوچیں۔ آپ ٹھنڈے ذہن کے ساتھ یہ غور کریں کہ نتیجہ کے اعتبار سے جوابی کارروائی کرنا مفید ہے یا معاملہ کو نظر انداز کر کے چپ ہو جانا زیادہ مفید۔

اگر آپ غیر متاثر ذہن کے تحت سوچیں تو یقیناً آپ اس رائے پر پہنچیں گے کہ اشتعال کے مواقع پر سب سے زیادہ کامیاب پالیسی یہ ہے کہ آپ مشتعل ہونے سے بچیں۔ آپ جوابی اشتعال کے بجائے تحمّل کے ساتھ صورت حال کا مقابلہ کریں۔

Printed page