Al-Risala · May 2005

کامیاب ازدواجی زندگی

Al-Risala, May 2005, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر عورت اور مرد کے ذہن میں شادی سے پہلے آئیڈیل شوہر اور آئیڈیل بیوی کا تصور بسا ہوا مگر شادی کے بعد دونوں محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے جس کو اپنی زندگی کا ساتھی بنایا ہے وہ ان کے آئیڈیل سے کم ہے۔ یہی احساس مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کا انتخاب درست نہ تھا۔

اس احساس کے آتے ہی دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ دو میں سے ایک کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تلخ ازدواجی زندگی یا طلاق۔ مگر یہ دونوں ہی یکساں طور پر غلط اور غیر فطری ہیں۔

اصل یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ دونوں کا انتخاب غلط اس کا سبب صرف یہ ہوتا ہے کہ دونوں فطرت کی ایک حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ وہ یہ کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے، وہ کسی خاص عورت یا کسی مرد کا حصہ نہیں۔

یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ عورت اور مرد دونوں اگر یہ سمجھ لیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کی بنا پر پیش آرہا ہے، نہ کہ اُن کے غلط انتخاب کی بنا پر۔ اگر دونوں اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ازدواجی زندگی کا مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

خالق نے خود اپنے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، ہر دو انسان کے درمیان فرق رکھا ہے۔ اس مسئلہ کا حل فرق کو مٹانا نہیں ہے بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ انسان اس ہنر کو جانے جس کو آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ (art of difference management) کہا جاسکتا ہے۔ ڈیفرنس کو مٹانے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ ڈیفرنس کے ساتھ جینا سیکھیے اور پھر آپ کی زندگی کامیاب ازدواجی زندگی بن جائے گی۔ خاندانی زندگی ہو یا سماجی زندگی، دونوں میں اختلافات پیدا ہونا فطری ہے۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا۔

Printed page