Al-Risala · May 2005

یہ بدعت ہے

Al-Risala, May 2005, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۰ اگست ۲۰۰۴ کو ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے روز دہلی کے ایک آڈیٹوریم میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس میں ایک مسلم رہنما کی تقریر ہوئی۔ وہ مسلمانوں میں کامیاب مقرر سمجھے جاتے ہیں۔ مسلم نوجوان نے بتایا کہ پورا آڈیٹوریم مسلمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ شاندار تقریر کے دوران مسلسل تالیاں بجتی رہیں۔ تالیوں کی کثرت سے ہال گونج اٹھا۔ میں نے مذکورہ مسلم نوجوان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں مسلمانوں کو خطاب فرماتے تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے درمیان کیا ان مواقع پر سامعین تالیاں بجاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ خلفائے راشدین بار بار مسلم اجتماعات میں خطاب کرتے تھے۔ کیا ان مواقع پر یہ مسلمان تالیاں انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ صحابہ اور تابعین بار بار مسلمانوں کے اجتماعات میں تقریر کرتے تھے۔ کیا وہ لوگ تقریر کو سن کر تالیاں بجاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ حدیث کے مطابق، ابتدائی زمانہ کے تین دوروں کو قرون مشہود لہا بالخیر کہا یہ تین دور ہیں۔ رسول اللہ کا دور، صحابہ کا دور اور تابعین کا دور۔ ان تینوں دوروں کے بارہ میں ثابت ہے کہ اُس زمانہ میں مسلم ذمہ دار مسلم اجتماعات میں تقریریں کرتے تھے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ مسلم سامعین تقریر سن کر تالیاں بجائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جلسہ یا اجتماع میں تقریر کو سن کر تالیاں بجانا ایک بدعت ہے۔

بدعت کے بارہ میں حدیث کی کتابوں میں نہایت سخت وعیدیں آئی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من احدث فی امرنا هذا ما ليس فيه فهو رد (الصحیح للبخاری، کتاب الصلح، صحیح مسلم، کتاب الأقضیۃ، ابن ماجہ، مقدمہ، مسند احمد) یعنی جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالے جو کہ اُس میں نہ ہو تو وہ رد ہے۔

اس طرح کی اور بھی کئی روایتیں کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً ایک طویل روایت میں یہ الفاظ ہیں : وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة و أن كل بدعة ضلالة ( صحيح مسلم، کتاب الجمعة، سنن ابی داؤد، کتاب السنة، سنن النسائی، کتاب العیدین، سنن ابن ماجہ، مقدمہ، سنن الدارمی، مقدمہ، مسند احمد) یعنی تم دین میں نئی چیز نکالنے سے بچو، کیوں کہ ہر نئی چیز گمراہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہ عام رواج ہے کہ مقررین پر جوش تقریریں کرتے ہیں اور سامعین پر جوش تالیاں بجاتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی بلاشبہ بدعت کی تعریف میں آتا ہے۔ یہ بھی انہی مہلک چیزوں میں سے ہے جس کو حدیث میں بدعت کہا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ اضافہ بدعت حسنہ نہیں ہے بلکہ یہ بدعت سیئہ ہے۔ یہ سطحیت اور بے حسی کا مظاہرہ ہے جو خدا کے دین میں محمودنہیں۔ اکثر لوگوں کا احساس یہ ہوتا ہے کہ یہ تو چھوٹی چیزیں ہیں اور اس قسم کی چھوٹی چیزوں میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ مگر یہ طرزِ فکر خود دینی اعتبار سے ایک ہلاکت خیز طرِ ز فکر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بھی بچو ایاکم ومحقرات الذنوب ۔ ایک روایت کے مطابق، ایک صحابی نے بعد کے زمانہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: انكم لتعملون عملاً هي ادق فى اعينكم من الشعر، ان كنا لنعدها على عهد النبی صلى الله عليه وسلم من الموبقات ( صحيح البخاری، کتاب الرقاق، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد) یعنی تم ایک ایسا عمل کرتے ہو جو عمل تمہاری نگاہوں میں بال سے بھی زیادہ ہلکا ہوتا ہے۔ مگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسی چیزوں کو تباہ کن عمل سمجھتے تھے۔

اصل یہ ہے کہ کسی عمل کے بُرا یا بھلا ہونے کا تعلق صرف اس کے ظاہر سے نہیں ہے بلکہ اس سے ہے کہ وہ کس جذبہ کے تحت کیا گیا۔ ایک بظاہر چھوٹا عمل اگر بے حسی اور آخرت فراموشی کے جذبہ سے کیا جائے تو وہ ایک بُرا عمل قرار پائے گا۔

مثلاً اسلام کے نام پر ایک اجتماع ہوتا ہے۔ اُس میں ایک مقرر شاندار تقریر کرتا ہے۔ پھر اُس کو سُن کر سامعین تالیاں بجاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار

سے وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ جو مقرر شاندار تقریر کر رہا ہے وہ اپنی اس تقریر کے ذریعہ بتا رہا ہے کہ وہ احتساب خویش کی نفسیات سے خالی ہے۔ اس کو اس حقیقت کا شعور نہیں جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد ۔ اُس کو یہ احساس نہیں کہ وہ اسٹیج پر کھڑا ہو کر جو الفاظ بول رہا ہے وہ انسانوں تک پہنچنے سے پہلے خداوندِ عالم تک پہنچ رہے ہیں۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات میں جی رہا ہو اس کی تقریر کا انداز بالکل بدل جائے گا۔ اُس کی زبان سے وہ الفاظ ہی نہیں نکلیں گے جس کو سن کر لوگ جوش میں آئیں اور تالیاں بجائیں۔ اس کی تقریر احساسِ ذمہ داری کو بڑھانے والی ہوگی، نہ کہ احساسِ فخر کو بڑھانے والی۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں تقریر پر تالیاں نہیں بجائی جاتی تھیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی بات ہی نہیں کرتے تھے جس کو سن کر لوگ جذبات میں آجائیں اور تالیاں بجائیں۔

یہی معاملہ سامعین کا ہے۔ سامعین کا تقریر کو سن کر تالیاں بجانا دراصل اس بات کا مظاہرہ ہے کہ اُن کا سینہ احساسِ ذمہ داری سے خالی ہے۔ اگر سامعین کا یہ حال ہو کہ وہ آخرت کی جواب دہی کے احساس میں جیتے ہوں تو مقرر کی ہر بات اُنہیں خدا اور رسول کی یاد دلائے گی۔ وہ ان کے اندر جنت اور جہنم کے بارہ میں دینی احساس کو بیدار کرے گی۔ مقرر کی بات ان کے ربانی احساسات کو جگائے گی۔ جو لوگ اس قسم کی نفسیات میں جیتے ہوں اُن کا ہاتھ کبھی تالیاں بجانے کے لیے نہیں اُٹھے گا۔ آپ کو خدا کے حضور میں محسوس کرنے لگیں گے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ کبھی تالیاں نہیں بجا سکتے۔ کی تقریر اُن کو مجبور کرے گی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سوچیں، وہ اپنی کوتاہیوں کو سوچ کر آنسو بہائیں۔ ایسے لوگ کبھی اس قسم کا سطحی فعل نہیں کر سکتے جس کو تالیاں بجانا کہا جاتا ہے۔ سچی تقریر وہ ہے جو احتسابِ خویش (introspection) کا جذبہ ابھارے، جو آدمی کو خود اپنی اصلاح کے لیے فکر مند بنادے۔ جو آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس جگائے۔ اس کے برعکس وہ تقریر جھوٹی تقریر ہے جو آدمی کے اندر فخر یا احتجاج کا جذبہ ابھارے۔ ایسے مقررین کے لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ بے فائدہ طور پر اسٹیج سے اپنے لفظی کرتب کا مظاہرہ کریں۔

Printed page