ناشکری کا فتنہ
Al-Risala, May 2005, pp. 24–29
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ جولائی ۲۰۰۴ کی شام کو دہلی کے ای ٹی وی (Eenadu TV) کے اسٹوڈیو میں ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس کا موضوع ہندوستانی مسلمان اور ریزرویشن تھا ۔ اس میں میرے سوا دہلی کے چار معروف مسلم دانشور شریک تھے۔ یہ ڈسکشن ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔
مذکورہ چاروں مسلم دانشوروں کی رائے زیر بحث موضوع پر تقریباً ایک جیسی تھی ۔ ہر ایک کا یہ خیال تھا کہ ہندوستانی مسلمان ایک پچھڑی ہوئی کمیونٹی (backward community) بن گئے ہیں اور اب مسلمانوں کو ملک کے دوسرے فرقوں کے برابر لانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دیا جائے۔ ریزرویشن کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک ہندوستانی مسلمانوں کی پسماندگی کی بات محض ایک افسانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں نے اس ملک میں تقریباً سوگنا زیادہ ترقی کی ہے حتی کہ اقتصادی اعتبار سے آج وہ مغل حکومت کے زمانہ سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ آپ کسی بھی شہر یا گاؤں کا سروے کر کے اس حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ آپ ایک ملک گیر سروے کریں اور مسلمانوں سے صرف ایک سوال پوچھیں ۔ وہ یہ کہ ۱۹۴۷ میں تمہارے خاندان کی جو اقتصادی حالت تھی اس کے مقابلہ میں آج تمہارے خاندان کی حالت کیا ہے۔ تقریباً ہر ایک سے آپ کو یہی جواب ملے گا کہ ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج ہم بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ پہلے اگر ہمارے پاس کچا مکان تھا تو اب ہمارے پاس پکا مکان ہے۔ پہلے اگر ہمارے پاس کوئی سواری نہیں تھی تو آج ہمارے پاس جدید سواری موجود ہے۔ پہلے ہمارے پاس بجلی اور ٹیلی فون جیسی چیزیں موجود نہ تھیں مگر آج ہم کو یہ سب چیزیں حاصل ہیں۔ پہلے ہمارے بچے صرف معمولی تعلیم حاصل کر سکتے تھے۔ آج ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ آپ ایک آسان جائزہ لیجیے۔ ملک میں ایسی بہت سی جماعتیں اور ادارے
موجود ہیں جو اپنے آپ کو ہندوستانی مسلمانوں کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ آپ ان نمائندہ جماعتوں اور اداروں کا سروے کیجئے اور دیکھئے کہ آج ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں ان کی حالت کیا ہے۔ جماعت، جمعیۃ علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند، دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنو، دارالعلوم، دیوبند، جامعہ دار السلام، عمر آباد، مدرسۃ الاصلاح، اعظم گڑھ، وغیرہ۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور آپ بھی تحقیق کے ذریعہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ جماعتیں اور ادارے ۱۹۴۷ میں بالکل معمولی حالت میں تھے۔ ان کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اب وہ کم از کم سو گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ مالیات، بلڈنگ، کار، ٹیلی فون اور دوسری سہولتیں جو ۱۹۴۷ میں ان میں سے کسی کے پاس موجود نہ تھیں، آج ان میں سے ہر ایک کے پاس اس قسم کی سہولتیں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ایسی حالت میں پسماندگی کی بات کہنا صرف ناشکری کی زبان بولنا ہے نہ کہ حقیقت واقعہ کا اظہار۔
ہندوستان میں روزنامہ دینک جاگرن کے سروے کے مطابق، اس وقت ۲۲ کروڑ مسلمان یہ صحیح ہے کہ ان میں سے ہر شخص یکساں درجہ میں خوش حال نہیں۔ ان میں سے کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ مگر اس فرق یا نابرابری کا تعلق کسی ملک یا حکومت سے نہیں۔ تمام تر فطرت کے قانون کی بنا پر ہے۔ وہ خود خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ہے۔ اس بنا پر یہ فرق مسلمانوں میں اور دوسری قوموں میں ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔
اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن زکوۃ ہے۔ زکوۃ و صدقات کے بارے میں پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ: تؤخذ من اغنیاء کم و ترد إلى فقرائکم (صدقات تمہارے امیروں سے لیے جاتے ہیں اور وہ تمہارے غریبوں کی طرف لوٹا دیئے جاتے ہیں)۔ اس شرعی حکم کے مطابق ، سماج میں ہمیشہ امیر اور غریب دونوں قسم کے لوگ موجود رہتے ہیں۔ فرق کی یہ حالت پیغمبر اسلام کے بنائے ہوئے نظام میں بھی موجود تھی ۔ اس کے بعد خلافت راشدہ، اموی سلطنت، عباسی سلطنت، فاطمی سلطنت، ایوبی سلطنت، مغل سلطنت، عثمانی سلطنت اور اپینی سلطنت، غرض ہر دور میں یہ صورت حال موجود رہی ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ علمائے اسلام نے اعلان کیا ہو کہ اب سماج میں فقراء باقی
نہیں رہے ہیں اس لیے زکوٰۃ و صدقات کے احکام اب منسوخ قرار پاگئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پچھلے چودہ سو برس کے دوران ہر زمانہ میں اور ہر ملک میں مسلم معاشرہ کا اقتصادی اعتبار سے وہی حال رہا ہے جو آج ہندوستان میں پایا جاتا ہے۔ مگر اسلامی تاریخ کی طویل مدت میں کبھی علمائے اسلام نے یہ اعلان نہیں کیا کہ مسلمان ایک پس ماندہ ملت بن چکے ہیں۔ بدعت پہلی بار ہندوستان کے نام نہاد رہنماؤں نے نکالی ہے اور اس کی حقیقت ایک سطحی سیاست کے سوا اور کچھ نہیں۔
آج کی دنیا میں ۵۷ مسلم ممالک ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں خود مسلمانوں کی اپنی حکومت لیکن ہر جگہ وہی اقتصادی فرق پایا جاتا ہے جو ہندوستان میں موجود ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میں ہر دور میں اور ہر ملک میں یہ فرق موجود رہا۔ اس فرق کو مٹانا سرے سے ممکن نہیں۔ نئی دہلی کے مذکورہ ڈسکشن میں میں نے مزید کہا کہ ’’غریبی‘‘ کوئی برائی نہیں، غریبی ایک چیلنج ہے اور چیلنج ہی واحد چیز ہے جس کے ذریعہ تمام ترقیات ظہور میں آتی ہیں۔ چیلنج نہیں تو ترقی بھی نہیں۔ میں نے کہا کہ بڑی کامیابی حاصل کرنے والے تمام لوگ غریب خاندانوں میں پیدا ہوئے۔ اچیور (super achiever) کبھی کسی بل گیٹ (Bill Gate) کے محل میں پیدا نہیں ہوا۔ ملک میں جواہر لال نہرو کو چھوڑ کر تمام لیڈر غریب فیملی ہی میں پیدا ہوئے۔ اس کی ایک زندہ مثال صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام ہیں۔
اوپر میں نے مسلم دانشوروں کے بارے میں جس تجربہ کا ذکر کیا، وہ کوئی ایک تجربہ نہیں۔ کے باہر اور ملک کے اندر ہر جگہ میں نے مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ سے اسی قسم کی بات سنی مسلمانوں کے اخبارات اور میگزین، مسلمانوں کے جلسے، مسلمانوں کی کتابیں، غرض ہر جگہ پسماندگی کی اسی مفروضہ کہانی کو دہرایا جارہا ہے۔ ہر مسلم زبان اور ہر مسلم قلم یکساں طور پر مسلمانوں کی مظلومی اور پسماندگی کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مشغول ہے۔
میں نے اس مسئلہ پر بہت زیادہ غور کیا۔ میں نے جاننا چاہا کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ اس معاملہ کا
سب سے زیادہ عجیب پہلو یہ ہے کہ جو مسلم عالم یا دانشور مسلمانوں کی بدحالی پر لکھتے یا بولتے ہیں وہ خود تقریباً بلا استثناء ایک خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔ کم از کم میں نے اپنی لمبی عمر میں جس شخص کو بھی مسلمانوں کے مسائل پر لکھتے یا بولتے ہوئے دیکھا وہ اس کی مثال تھا۔ یعنی وہ اپنے باپ دادا کے زمانہ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں کی مفروضہ حالت پر مرثیہ خوانی کر رہا تھا۔
ایک بار میں نے دیکھا کہ ہندوستان کے ایک نوجوان عالم ایک عرب ملک میں گئے ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں (مسلموا الھند بین فکی الرحی) یہ مسلمان عالم ماشاء اللہ فربہ جسم کے تھے۔ ان کے لباس اور ان کے چہرہ پر خوش حالی نمایاں تھی ۔ ان کے لہجہ میں بھی سکون اور اعتماد جھلک رہا تھا۔ میں نے کہا کہ میرے بھائی، آپ بھی تو ایک ہندوستانی شہری ہیں پھر کیسے آپ اس عام تباہی سے بچ گئے اور اگر آپ کے پاس ایسا کوئی نسخہ ہے جس کے ذریعہ آدمی تباہی کی عمومی حالت میں بھی شاندار زندگی حاصل کر سکے تو آپ بر بادی کی داستان بتانے کے بجائے مسلمانوں کو یہی ذاتی نسخہ بتائیے۔ غوروفکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہر زمانہ میں ایک عمومی فتنہ برپا کرتا ہے۔ کسی انسان کا سب سے بڑا ٹسٹ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس عمومی فتنہ سے اپنے آپ کو بچا سکے۔
میرے نزدیک قدیم زمانہ کا فتنہ شرک تھا۔ اس زمانہ میں شیطان نے فکر وعمل کے تمام نقشوں کو اسی طرح شرک کے رنگ میں رنگ دیا تھا کہ ہر عورت اور مرد اس کے اثر میں آگئے ۔ ہر ایک نے مشرکانہ کلچر کو اختیار کر لیا ۔ یہ صورت حال جاری رہی، یہاں تک کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا فتنہ ناشکری کا فتنہ ہے جو یقینی طور پر شیطان کا پیدا کردہ ہے۔ شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ حالات کا غلط مطالعہ کراتا ہے اور اس طرح لوگوں کو بے
بنیاد طور پر غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ ایک ایسے واقعہ کو سمجھنے سے بھی قاصر رہتے ہیں جو ان کے قدموں کے نیچے موجود ہو۔
مثال کے طور پر دہلی میں ایک بار میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی ۔ غریب خاندان میں پیدا ہوئے مگر آج وہ دہلی میں ایک شاندار مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس موٹر کار اور دوسری جدید سہولیات موجود ہیں۔ اُن کے بچے مہنگی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر وہ بے تکان اس روایتی قول کو دہرارہے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اقتصادی اعتبار سے بدحالی کا شکار ہو رہے میں نے کہا کہ آپ بھی تو ایک ہندوستانی مسلمان ہیں۔ مگر آپ راجدھانی میں ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر آپ اپنے ذاتی تجربہ سے سبق کیوں نہیں لیتے ۔
پھر میں نے کہا کہ دہلی کا ہمدرد دواخانہ ۱۹۴۷ میں کرایہ کے ایک معمولی مکان میں تھا ۔ ہمدرد دواخانہ ایک ایمپائر بن چکا ہے ۔ انہوں نے فوراً کہا کہ آپ ہمدرد دواخانہ کا تقابل ڈابر کمپنی سے کیوں نہیں کرتے جو ہمدرد دواخانہ کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ایک غیر منطقی بات کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ آپ حضرات کا یہ کہنا ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا کی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا اس لیے وہ بدحالی کے شکار ہو گئے ۔ اس لیے اصل سوال کی نسبت سے ہم کو مسلمانوں کی ۱۹۴۷ کی اپنی حالت کا مقابلہ آج کے مسلمانوں کی اپنی حالت سے کرنا ہوگا اس پر وہ خاموش ہو گئے۔
اصل یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ کسی دوسرے کے ظلم کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے غلط مزاج کا ہے اور وہ مزاج ناشکری کا مزاج ہے۔ اسی مزاج کی بنا پر آج یہ حالت ہے کہ ہر مسلمان ناشکری کی زبان بول رہا ہے، خواہ وہ ایسی شاندار زندگی گزار رہا ہو جس کا اس کے باپ دادا نے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔
مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بڑی بڑی جماعتیں اور ادارے قائم ہوئے مگر کسی بھی جماعت یا ادارہ میں شکر خداوندی کا چر چا نہیں ۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت میں تعلیم
کے لیے ایک ضخیم کتاب تبلیغی نصاب یا فضائل اعمال کو عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں کئی چیزوں کے فضائل پر ابواب موجود ہیں مگر اس میں فضائل شکر کا کوئی باب نہیں۔ میں (اسلام کے مکمل نظام) پر بہت سی کتابیں چھاپی گئی ہیں۔ مگر شکر خداوندی پر ان کے یہاں کوئی کتاب موجود نہیں۔ یہی حال دوسرے تمام اداروں کا ہے۔ مسلمانوں کے جلسوں میں دوسرے موضوعات پرجوشیلی تقریریں ہوتی ہیں۔ مگر میرے علم کے مطابق، شکر خداوندی کے موضوع پر کوئی تقریر نہیں ہوتی۔
میں اپنے تجربہ کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے سب سے بڑی چیز جو اٹھ گئی ہے وہ شکر خداوندی کی اسپرٹ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی محرومی یہی ہے۔ کا یہ نتیجہ ہے کہ اب ان کی زبان سے شکر کے کلمات نہیں نکلتے، ہر ایک بس ناشکری کے الفاظ بول رہا یہ بلاشبہ ایک بے حد خطرناک علامت ہے۔ ہماری اصلاحی کوششوں کا نشانہ یہی داخلی کمزوری ہونا چاہیے نہ کہ کوئی بیرونی خطرہ۔