Follow one and respect all
Al-Risala, May 2005, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
زی ٹی وی (نئی دہلی) اور اسٹارٹی وی نے ۴ فروری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ موضوع ایک تھا۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ کی بلڈنگ سے قریب کی ایک مسجد کے بارے میں حکم جاری کیا تھا کہ ظہر اور عصر کی نماز کے لیے وہاں لاؤڈاسپیکر پر اذان نہ دی جائے کیوں کہ اس کی آواز سے ہائی کورٹ کے کام میں خلل اس پر پٹنہ کے مسلمانوں نے مظاہرے کیے۔ اس مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ انڈیا یا ایک سیکولر کنٹری ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کو یہاں کے قانون کی اسی طرح پابندی کرنا چاہیے جس طرح وہ دنیا کے دوسرے سیکولر ملکوں میں قانون کی پابندی کرتے ہیں۔ اولا تو اذان کے لیے لاؤڈاسپیکر کا استعمال اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور اگر بالفرض وہ ضروری ہو تو اس کا نفاذ مسلم ملکوں میں کیا جانا چاہیے نہ کہ سیکولر ملکوں میں۔ جے پور میں ۱۲۔ ۱۳ فروری ۲۰۰۵ کو ایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ اس کا انعقاد مائی ہندوستان اے پیس موومنٹ (My Hindustan A Peace Movement) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس سیمینار کا موضوع امن اور فرقہ وارانہ اتحاد اور حب الوطنی کو فروغ دینا تھا۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں خصوصی مقرر کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ مگر بعض اسباب سے وہ اس میں شریک نہ ہو سکے۔ البتہ انہوں نے ایک پیغام بھیج دیا جو سیمینار میں پڑھ کر سنایا گیا۔ وہ پیغام یہ تھا:
میرے نزدیک بھارت کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ Separatist Tendency یہ tendency ٹونیشن تھیوری کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔ مہاتما گاندھی نے اس بات کو بھر پور طور پر محسوس کیا تھا۔ چنانچہ آزادی کے وقت انہوں نے کہا تھا:
Hindus and Musalmans should learn to live together in peace and harmony. Otherwise I should die in the attempt میں نے اپنی زندگی کو اسی مشن کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی ہر سنس تھا کو چاہیے کہ وہ اس کو پوری اہمیت کے ساتھ لے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں میل ملاپ سارے معاملے کی جڑ ہے۔ میں مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ وہ negative thinking کو مکمل طور پر ختم کردیں اور صد فی صد positive thinking کو یہی مسلمانوں کے لیے اچھا ہے۔ یہی تمام فرقوں کے لیے اچھا ہے اور یہی ملک کے لیے اچھا ہے۔ مستقبل سب سے زیادہ جس چیز سے جڑا ہوا ہے وہ یہی ہے۔ اسی سوچ سے سچی حب الوطنی پیدا ہوگی۔ اسی سوچ سے سارے معاملات درست ہوں گے۔ (۱۱ فروری ۲۰۰۵)
جاپان فاؤنڈیشن کے تحت ۱۷۔ ۲۰ فروری ۲۰۰۵ کو بنارس میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ انڈیا اور جاپان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر ڈسکشن کا موضوع یہ تھا: Changing Dynamics of Hinduism and Islam صدر اسلامی مرکز کو اس سیمینار میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر وہ بعض وجوہ سے اس میں شریک نہ ہو سکے۔ البتہ موضوع پر دو صفحہ کی ایک تحریر انہیں بھیج دی گئی جس کو سیمینار میں پڑھ کر سنایا گیا۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۰ فروری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ۱۰ محرم کو لکھنؤ میں تعزیہ کے جلوس کے سلسلہ میں شیعہ۔ سنی جھگڑا ہو گیا۔ اس میں کچھ افراد مارے گئے۔ یہ انٹرویو اسی کے بارے میں تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ تعزیہ کے جلوس کے سوال پر اکثر فساد ہوتا ہے۔ یہ سراسر غیر اسلامی ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ جلوس کو بند کرنے یا اس کی روٹ بدلنے کا مطالبہ کیا جائے۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ اس سے اختلاف رکھتے ہیں وہ اس پر صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کریں۔
ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمس (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر بندھیر کمار نے ۲۲ فروری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوال و جواب کا تعلق زیادہ تر صوفی ازم سے تھا۔ بتایا گیا کہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ بڑھانے کی تدبیر یہ ہے کہ یہاں صوفی کلچر کو زندہ کیا جائے۔ صوفی کلچر صلح کل پر مبنی صوفی تعلیمات یہ ہیں کہ ہر ایک کے ساتھ محبت اور رواداری کا معاملہ کیا جائے۔ صوفی کلچر کا ایک چھوٹا سا نمونہ اب بھی صوفیوں کے مزار پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں آج بھی ہندو اور مسلمان دونوں کے درمیان میل ملاپ کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ اسی میل ملاپ کو پورے ملک میں عام کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو پنجاب میں خالصہ تحریک کے مقابلہ میں اختیار کیا گیا۔ یعنی لوگوں کی سوچ کو بدل کر ان کے اندر سے علیحدگی کا رجحان ختم کرنا۔
صدر اسلامی مرکز کی تقریروں کے کچھ ویڈیو کیسیت تیار کیے جا رہے ہیں۔ فی الحال دو ویڈیو کیسیت تیار ہوا ہے۔ ایک کا عنوان ہے، حج کی حقیقت اور دوسرے کا عنوان ہے، نماز کی حقیقت۔ اسی طرح دوسرے اسلامی موضوعات پر بھی ویڈیو کیسٹ انشاء اللہ تیار کیے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیل دفتر سے معلوم کی جا سکتی ہے۔
چند نئی کتابیں تیار ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک نشان منزل ہے۔ دوسو آٹھ صفحہ کی یہ کتاب زیر طبع ہے۔ کتاب راز حیات اور کتاب زندگی کے انداز پر لکھی گئی ہے۔
Discovering Islam from its Original Sources By Maulana Wahiduddin Khan This book seeks, as its title suggests, to present Islam as it is, by drawing on original sources, rather than leaving it to be judged by latter-day interpretations and commentaries, or the practices of present- day Muslims in different parts of the world. This method of evaluation brings out the distinction between Islam as presented to the world by the Prophet Muhammad and his Companions (information about which is available to us in the Qur'an and the sunnah) and Islam as mirrored in the lives of later Muslim generations. 1, Nizamuddin West Market, New Delhi-13, Tel. 2435 5454 Fax: 2435 7333, e-mail: info@goodwordbooks.com, www.goodwordbooks.com